ارکان نماز صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

ارکان نماز


نماز کے نو ارکان ہیں

۔۱ : نیت ۲: تکبیرۃ الاحرام ۳: قیام ۴: قرائت ۵: رکوع ۶: سجود ۷: تشہد ۸: سلام ۹: ترتیب

پہلا رکن …نیت

نیت کے اندر کئی واجبات ہیں۔
۱: فرائض کی نیت ہو تو وقت مقررہ کا نام لینا ۲: فرضیت کا ذکر کرنا
۳: قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِکہنا
باجماعت ادا کرنے کی صورت میں بِالْجَمَاعَۃِ کا لفظ کہناواجب ہے۔
۴: خلوص دل۔ ۵: صدق دل

دوسرا رکن … تکبیرۃ الاحرام

نیت کے فوراً بعد اللہ اکبر پڑھتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں کے لو تک اٹھانا تکبیرۃ الاحرام ہے تکبیرۃ الاحرام میں دو واجبات ہیں ۱: تکبیر پڑھنا ۲: نیت کے فوراً بعد پڑھنا ۔

تیسرا رکن … قیام

تمام نمازوں میں قدرت کے ساتھ کھڑا ہونا لازم ہے یہ بھی نماز کے بڑے واجب ارکان میں سے ایک ہے اگر سیدھا کھڑا نہ ہوسکے تو ٹیک لگا کر کھڑے ہوں۔
اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو بیٹھ کر نماز پڑھے اگر اس سے بھی عاجز ہو تو لیٹ کر نماز ادا کرے اگر یہ صورت بھی تکلیف کا باعث ہو تو سر کے اشارے سے یا آنکھ کے اشارے سے یا دل میں تصور کرتے ہوئے ارکان نماز بجالائے۔

چوتھا رکن … قرأت

سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد کسی سورہ کا پڑھنا قرأت کہلاتا ہے۔ سورۂ فاتحہ کے ساتھ کسی بھی ایک سورہ کا پڑھنا فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں واجب ہے۔ قرأت کے اندر چار واجبات ہیں۔
۱: ترتیل یعنی آیات کریمہ کی تجوید کے ساتھ ادائیگی کرنا
۲: آیات کریمہ میں قرآنی ترتیب کا لحاظ رکھنا
۳: موالات یعنی یہ ادائیگی بغیر کسی وقفہ کے ہو۔
۴: جہر واخفا یعنی صبح ‘ مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت بلند آواز کیساتھ اور ظہر وعصر کی نمازوں میں قرأت کو آہستہ (آواز نکالے بغیر) پڑھے۔ کسی بھی رکعت میں الحمد شریف کے بعد ایک سے زائد سورتیں پڑھنا اورواجب سجدہ والی سورتیں پڑھنا اور لمبی سورتیں پڑھنا جن سے وقت فوت ہوجائے ‘جائز نہیں۔ مگر سورہ انشراح (الم نشرح) کے ساتھ سورہ ضحی(والضحیٰ) اور سورہ قریش (لایلٰف قریش) کے ساتھ سورہ فیل (الم ترکیف) معنوی ارتباط کی وجہ سے پڑھی جاسکتی ہیں۔ دوسری رکعت میں قرأت کاملہ کے بعد قنوت پڑھنا سنت ہے۔

پانچواں رکن …رکوع

رکوع بھی نماز کے بڑے بڑے واجبی ارکان میں سے ہے یہ ہر رکعت میں ایک دفعہ واجب ہے۔ یہ بھی نمازی کی قدرت پر موقوف ہے اگر تکلیف سے جھک نہ سکے تو اشارہ پر اکتفا جائز ہے۔ رکوع کی صورت یہ ہے کہ زاویہ قائمہ کی طرح جھک جائے۔ رکوع اور اعتدال میں سات واجبات ہیں۔
۱:رکوع میں جاتے وقت اللہ اکبر کا پڑھنا
۲:رکوع میں پہنچنے کے بعد اطمینان کا سانس لینا
۳:تسبیح کا ایک دفعہ پڑھنا‘ تسبیح یہ ہے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمَ وَبِحَمْدِہِ
۴:رکوع سے سر کا اٹھانا
۵:اعتدال تام میں آکر اطمینان کا سانس لینا
۶:اعتدال میں سمعلہ ( سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ) پڑھنا ۔
۷:سجدے میں جاتے وقت تکبیر پڑھنا ۔

چھٹا رکن …سجدہ

سجدے نماز کے بڑے ارکان میں سے ہے یہ ہر رکعت میں دو مرتبہ واجب ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اعضاء سبعہ کو زمین پر اس طرح رکھے کہ سر پر زیادہ وزن ہو۔ دونوں گھٹنے‘ پیشانی‘ ہتھیلیاں اور پاؤں کی دونوں انگوٹھے اعضاء سبعہ کہلاتے ہیں۔ سجدے اور قعدۂ خفیفہ ملاکر دس واجبات ہیں۔
۱: اعضاء سبعہ کا زمین پر رکھنا
۲: سجدے میں پہنچنے کے بعد اطمینان کا سانس لینا۔
۳: تسبیح کا ایک مرتبہ پڑھنا۔ تسبیح یہ ہے
سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہِ
۴: سر کا سجدے سے اٹھانا۔
۵: سر اٹھاتے وقت تکبیر پڑھنا
۶: قعدۂ خفیفہ میں اطمینان کا سانس لینا
۷: دوسرے سجدے میں جاتے وقت تکبیر پڑھنا
۸: پہلے سجدے کی طرح اطمینان کا سانس لینا
۹: مذکورہ تسبیح پڑھنا۔
۱۰: سر اٹھاتے وقت تکبیر پڑھنا

ساتواں رکن … تشہد

دو رکعت والی نمازوں میں ایک مرتبہ اس سے زائد رکعات والی نمازوں میں دو مرتبہ تشہد کے بیٹھنا لازم ہیں۔ یہ بھی نماز کے بڑے ارکان میں سے ہیں۔
تشہد کے قعود میں چار واجبات ہیں۔
۱: خدا کی وحدانیت کی شہادت یعنی اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہُ کا پڑھنا
۲: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت یعنی اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ کا پڑھنا
۳: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۴: آل محمد علیہم السلام پر درود بھیجنا یعنی اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ کا پڑھنا

مکمل دعائے تشہد

بِسْمِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْاَسْمَائُ الْحُسْنیٰ کُلُّھَا لِلّٰہِ اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَرْسَلَہٗ بِالْحَقِّ بَشِیْراً وَنَذِیْراً بَیْنَ یَدَیِّ السَّاعَۃِ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَہٗ فِیْ اُمَّتِہٖ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ وَقَرِّبْ وَسِیْلَتَہٗ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِجَمِیْعِ الْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَارْحَمْنِیْ وَارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً۔

آٹھواں رکن… سلام

یہ نماز کے واجب ارکان میں سے ہے نماز کے اختتام پر ایک دفعہ سلام پھیرنا واجب ہے۔ اس کی صورت یہ ہے نہ جاہلوں کی طرح حد سے زیادہ گردن موڑے اور نہ بیمار لوگوں کی طرح گردن موڑنے میں کوتاہی کریں۔ بلکہ اس میں میانہ روی اختیار کریں۔ دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے یہ دعا پڑھیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرْکَاتُہٗ
بائیں طرف سلام پھیرتے وقت یہ دعا پڑھیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ

نواں رکن… ترتیب

مذکورہ تمام ارکان کو اسی ترتیب سے بجالانا ۔

 

واجب اور رکن میں فرق

اگر نماز میں واجب چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو کے ذریعے اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔ لیکن کسی رکن کی عمداً یا سہواً زیادتی یا کمی نماز کے باطل ہونے کا موجب بنتی ہے ترتیب کو چھوڑنے سے بھی نماز باطل ہوجاتی ہے۔