مزار ات مقدسہ کی زیارت کا ثواب صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

مزار ات مقدسہ کی زیارت کا ثواب


مزار ات مقدسہ کی زیارت کا ثواب

عام قبرستان میں زیارت کے لئے جانے اور درود اکبر پڑھنے کا اتنا زیادہ ثواب ہے تو انبیاء عظام ؑ اور ائمہ معصومین ؑ ودیگر بزرگان دین کے مزارات مقدس پر جانا اور نماز زیارت پڑھنے کا ثواب حد سے زیادہ ہے۔ ان مزارات مقدسہ کی زیارت کی فضیلت کے سلسلے میں کثیر تعدا د میں احادیث مروی ہیں۔ چنانچہ امیر کبیرسید علی ہمدانیؒ نے مودۃ القربیٰ میں حضرت ؔعائشہ ؓسے مروی یہ حدیث روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا کہ جو کوئی شہر طوس (مشہد) میں جا کر میرے فرزند کی زیارت کرے گا اس کو یہ ثواب ہو گا کہ گویا اس نے ایک حج خانہ کعبہ کا کیا۔ عائشہؓ نے متعجب ہوکر عرض کی کہ ایک حج کا ثواب ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا بلکہ دو حج کا ثواب ملے گا۔ عائشہ ؓ نے پھر تعجب سے عرض کی دوحج کا ثواب ملے گا؟ حضرتؐ نے فرمایا کہ بلکہ تین حج کا ثواب اس کو ملے گا۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ حضرت ؐ نے فرمایا کہ اے عائشہ اگر تم خاموش نہ ہوتی تو میں ستر حج تک پہنچتا۔ امام
علی رضاؑ کا فرمان ہے کہ جو کوئی قبر حسین ؑکی زیارت کرے گا اللہ اس شخص کیلئے ایک حج کے برابر ثواب لکھ دیتا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیںکہ جو کوئی غریب خراسان امام علی رضاؑ کی قبر کی زیارت کو جائے گا اللہ تعالیٰ اس شخص کو قبل فتح مکہ راہ خدا میں مال خرچ کرنیوالے اور جہاد کرنے والے کے برابر اجر دے گا۔
حضرت علی ں کا فرمان ہے کہ جو کوئی قبر غریب خراسان(امام علی رضاؑ )کی زیارت کرے گا اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے خواہ وہ ستاروں کے برابر یا بارش کے قطروں یا درختوں کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دعوات صوفیہ امامیہ کے قلمی نسخوں میں بھی مخصوص زیارات کی نمازوں کی ادائیگی کا حکم ہے۔ یہاں مومنین کی آسانی کیلئے ان نمازوں کی تفصیل پیش کی جارہی ہے۔
زیارت روضۂـ رسول ؐ و ائمہ معصومین ؑ
روضہ رسول ؐ کی زیارت کا حکم اور طریقہ
فقہ الاحوط میں حضرت میرسید محمد نوربخشؒ کا فرمان ہے کہ حجاج کرام کیلئے حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد روضہ رسول ؐ کی زیارت سنت ہے۔کیونکہ روضہ رسول ؐ بھی حرم ہے۔ مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرنا، صاف کپڑے پہنا، انتہائی عاجزی، انکساری اور خلوص سے مسجد نبوی میں داخل ہوتے وقت یہ دعاپڑھنا مسنون افعال ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ وَ بِا اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَاناً نَصِیْراً ۔
منبر رسول ؐ کے پاس دو رکعت نماز ادا کرے۔ تربت پاک کی زیارت کرے۔ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے قبر رسول ؐ کے روبرو کھڑے ہوکر یوں زیارت پڑھے۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللّٰہِ

اگر کسی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا سلام پہنچانے کی وصیت کی ہوتو اس صورت میں زائر یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنْ فَلَانٍ (سلام بھیجنے کا نام لیا جائے)
بعدازاں جو کچھ چاہے دعا مانگے جب تک مدینہ منورہ میں مقیم ہو حضور اکرم ؐ کی درگاہ شریف میں وقتاً فوقتاً حاضری دینے کو لازم رکھے اور ہر ممکن صورت سے مال کی خیرات کرے۔