قضا کی ادائیگی صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

قضا کی ادائیگی


وَ اَمَّا قَضَائُ صَوْمِ شَھْرِ رَمَضَانَ فَیَجُوْزُ مُتَوَالِیًا وَّ مُتَفَرِّقًا وَ التَّوَالِیْ اَفْضَلُ اِنْ لَّمْ یَکُنْ مُّضْعِفًا وَ مَعَ الضُّعْفِ اَلتَّفَرُّقُ اَوْلٰی وَ کُلُّ مَا فَاتَ مِنَ الصَّوْمِ اِنْ کَانَ وَاجِبًا کَانَ قَضَائُہُ وَاجِبًا وَ اِنْ کَانَ تَطَوُّعًا کَانَ قَضَائُہُ تَطَوُّعًا وَ اِنْ لَّمْ یَتَطَوَّعْ لَا بَأْسَ بِہِ ۔

رمضان کے قضا روزے پے در پے رکھنا اور الگ الگ دونوں جائز ہیں ۔پے درپے بجا لانا افضل ہے بشرطیکہ یہ طریقہ کمزور کرنیوالانہ ہو اور کمزوری کی صورت میں متفرق طریقے سے روزہ رکھنا بہتر ہے ۔فوت شد ہ روزے اگر واجب ہوں تو قضا واجب اور اگر مسنون ہوں تو قضا بھی مسنون ہے سنت روزے کی قضا بجا نہ لائے تو کوئی حرج نہیں ۔