صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

مسنون روزے


وَ اَمَّا الصَّوْمُ الَّذِیْ فِی الْاِسْتِحْبَابِ فَفِی الْاُسْبُوْعِ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَ یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَ فِی الشَّھْرِ الْاَیَّامِ الْبِیْضَ وَ ھِیَ یَوْمُ الثَّالِثِ عَشَرَ وَ الرَّابِعِ عَشَرَ وَ الْخَامِسِ عَشَرَ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَ فِی السَّنَۃِ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَ یَوْمَ تَاسُوْعَا وَ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَ سِتَّۃَ اَیَّامٍ مِّنْ شَوَالٍ مِّنْ غَیْرِ تَعْیِیْنٍ وَّ تَوَالٍ وَ التَّوَالِیْ اَفْضَلُ۔
وہ روزے جو سنت ہیں : ۔۱۔ ہفتے میں پیر اور جمعرات کے روزے رکھنا۔ ۲۔ مہینے میں ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرہ ،چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنا۔ ۳۔ سال میںعاشورہ اور تاسوعا کے روزے رکھنا۔ ۴۔ یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ )اور ۵۔ ماہ شوال کے چھ روزے رکھنا۔ یہ چھ کسی معین دنوں میں مسنون نہیں ہیں نہ ہی پے در پے رکھنا ضروری ہے تاہم مسلسل رکھنا افضل ہے۔
وَ لَا یَجِبُ الصَّوْمُ الْمُسْتَحَبُّ بِالشُّرُوْعِ وَ یَکْرُہُ الْاِفْطَارُ فِیْہِ بَعْدَ الزَّوَالِ بِغَیْرِ سَبَبٍ وَ لَوْ دُعِیَ اِلٰی طَعَامٍ فَالْاِفْطَارُ اَفْضَلُ فَالْمُسَافِرُ وَ الْمَرِیْضُ الْمُطِیْقَانِ لِلصَّوْمِ اِذَا اَفْطَرَا فِی السَّفَرِ وَ الْمَرَضِ فَعَلَیْھِمَا الْقَضَائُ وَاجِبٌ وَ لِکُلِّ یَوْمٍ یَّقْضِیَانِہِ یَسْتَحِبُّ لِکُلِّ مِنْھُمَا فِدْیَۃٌ بِمُدٍّ مِّنَ الطَّعَامِ لِمِسْکِیْنٍ وَ یَکْرَہُ لِلصَّائِمِ الْوِصَالُ بَیْنَ یَوْمَیْنِ وَ لَایَجُوْزُ التَّسَحُّرُوَھُوَ شَاکٌّ فِیْ طُلُوْعِ الصُّبْحِ۔
مسنون روزہ شروع ہونے پر واجب نہیں ہوتا تاہم زوال کے بعد کسی عذر کے بغیر توڑنا مکروہ ہے۔ کھانے کی دعوت دی جائے تو نفلی روزہ توڑنا افضل ہے۔ مسافر اور مریض جو روزہ کی طاقت رکھتے ہو ں انہوں نے سفر میں یا مرض میںاگر روزہ افطار کیا ہو تو اس کی قضاواجب ہے اورقضا کے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کی مقدار کھاناکھلانا مسنون ہے ۔ روزہ دار کیلئے لگاتار دودن (کچھ کھائے بغیر) روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ صبح صادق کے طلوع ہونے میں شک ہو جا ئے تو سحری کھانا جا ئز نہیں ۔