صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

زکوٰۃ الفطر کامسئلہ


وَ اَمَّا زَکٰوۃُ الْفِطْرِ فَوَجَبَتْ عَلٰی کُلِّ بَالِغٍ عَاقِلٍ مُّسْلِمٍ حُرٍّ غَنِیٍّ غِنَاہُ یَکْفِیْہِ لِنَفْسِہِ وَ لِعِیَالِہِ سَنَۃً اَنْ یُّخْرِجَھَا عَنْ نَفْسِہِ وَ عَنْ عِیَالِہِ مُسْلِمًا کَانَ اَوْ کَافِرًا حُرًّا کَانَ اَوْ عَبْدًا صَغِیْرًا کَانَ اَوْ کَبِیْرًا وَ لَوْ کَانَ فَقِیْرًا یُخْرِجُھَا کَانَ تَبَرُّعًا وَ تَجِبُ النِّیَۃُ عِنْدَ اِخْرَاجِھَا اَوْ اِیْصَالِھَا اِلَی الْمُسَتَحِقِّ

زکوٰۃفطرہ ہربالغ ، عاقل ، مسلمان ،آزاد ،عقلمند ،مالدار جس کی مالداری اپنے اور اہل وعیال کے ایک سال کیلئے کافی ہو، اپنے نفس اوراہل وعیال چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر ،آزاد ہو یا غلام،چھوٹا ہویابڑا سب کی طرف سے اداکرنا واجب ہے ۔ اگروہ تنگدست ہوتو اس کیلئے فطرہ کی ادائیگی مستحب ہے۔ فطرہ نکالتے وقت یا مستحق کو پہنچاتے وقت نیت کرنا واجب ہے۔

فطرہ کب واجب ہوگا ؟

وَھِیَ وَجَبَتْ حَیْنَ رُؤْیَۃِ ھِلَالِ شَوَّالٍ فَلَوْ اَسْلَمَ کَافِرٌ اَوْ بَلَغَ صَبِیٌّ اَوِ اسْتَغْنٰی فَقِیْرٌ قَبْلَ رُؤْیَۃِ الْھِلَالِ وَجَبَتْ ھٰذِہِ الزَّکٰوۃُ عَلَیْھِمْ وَلَوْ وُلِدَ وَلَدٌ اَوْ تَمَلَّکَ عَبْدًا فَعَلٰی مَنْ وَجَبَتْ نَفْقَتُھُمَا عَلَیْہِ وَجَبَتْ زَکٰوتُھُمَا وَ لَوْ کَانَ بَعْدَ رُؤْیَۃِ الْھِلَالِ لَمْ تَجِبْ لٰکِنِ اسْتَحَبَّتْ اِنْ کَانَ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْعِیْدِ
فطرہ ماہ شوال کاچاندنظرآتے ہی واجب ہوجاتا ہے۔ پس رؤیت ہلال سے قبل کوئی کافرمسلمان ، کوئی بچہ بالغ یا کوئی فقیر امیر ہوجائے تویہ زکوٰۃ ان پر واجب ہے۔ اگرکوئی بچہ پیدا ہو جائے،یاکوئی کسی غلام کا مالک بن جائے توجس پران دونوںکی کفالت واجب ہے اس پر انکا فطرہ واجب ہے۔ اگر چاندنظر آنے کے بعد اور نماز عید سے قبل ایسا ہوا ہو توواجب نہیں البتہ مستحب ہے ۔
فقیر کا فطرہ
وَ یَسْتَحِبُّ لِلْفَقِیْرِ اِخْرَاجُھَا عَنْ نَفْسِہِ وَ عَنْ عِیَالِہِ مِنْ مَّا قَبِلَھَا وَ مَعَ الْحَاجَۃِ اَنْ یُّدِیْرَ عَلٰی عِیَالِہِ صَاعًا ثُمَّ یَتَصَدَّقَ بِہِ عَلٰی غَیْرِھِمْ۔

تنگدست کیلئے بھیک کے مال سے اپنی اور اہلخانہ کی جانب سے فطرہ نکالنامستحب ہے ضرورتمندی کی صورت ایک صاع اہلخانہ پر پھراکردیگر لوگوںپر صدقہ کرے۔

فطرہ میں کیا چیز دی جائے؟

وَ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃُ یَنْبَغِیْ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْاَقْوَاتِ الْغَالِبَۃِ فِی الْبَلَدِ کَالْحِنْطَۃِ وَ الشَّعِیْرِ وَ التَّمَرِ وَ الزَّبِیْبِ وَ الْاَرُزِّ وَ الْاِقْطِ وَ اللَّبَنِ وَ التَّمَرُاَفْضَلُ ثُمَّ الزَّبِیْبُ ثُمَّ مَا یَغْلِبُ عَلٰی قُوْتِ الْبَلَدِ وَ ھِیَ مِنْ جَمِیْعِ مَا تُخْرَجُ صَاعٌ تَامٌّ وَاَتَمُّ مَقَادِیْرِہِ تِسْعَۃُ اَرْطَالٍ بِالْعِرَاقِیِّ وَ یُجُوْزُ ثَمَانِیَۃٌ اَوْ اَقَلُّ اِلٰی خَمْسَۃِ اَرْطَالٍ وَّ ثُلُثٍ وَھُوَبِالْوَزْنِ سِتٌّ مِائَۃِ دِرْھَمٍ وَّ ثَلَاثَۃٌ وَّ تِسْعُوْنَ دِرْھَمًا وَّ ثُلُثُ دِرْھَمٍ تَقْرِیْبًا وَ یَجُوْزُ اَدَائُ قِیْمَتِھَا السُّوْقِیَّۃِ وَ اِخْرَاجُ الْجِنْسِ اَفْضَلُ
یہ صدقۂ فطرہ شہر میںزیادہ کھائی جانیوالی اجناس میں سے ہونا چاہئے۔مثلاً گندم، جو، کھجور، کشمش ، چاول، پنیر، دودھ ، کھجور سب سے بہتر ہے پھر کشمش اور پھر وہ چیز جو شہرمیں زیادہ کھائی جاتی ہو ۔ فطر جس سے بھی نکالاجائے اس کی مقدار ایک مکمل صاع ہے۔ ایک صاع کی مکمل مقدار نو عراقی رطل ہے ۔تا ہم آٹھ رطل بھی جائز ہے اورپانچ اور ثلث رطل سے کم نہ ہواور یہ مقدار وزن کے حساب سے چھ سو ترانوے (۶۹۳) اور ایک تہائی درہم کے لگ بھگ ہے ان چیزوںکی بازاری قیمت بھی نکالنا جائز ہے تاہم جنس کانکالنا افضل ہے۔

فطرہ کے مصارف

وَ اَنَّ مُسْتَحِقِّیْھَا الْاَصْنَافُ الثَّمَانِیَۃُ الْمَذْکُوْرَۃُ وَ لَا یَجُوْزُ اَنْ یُّوْتِیَھَا مَنْ وَّجَبَتْ نَفَقَتُہُ عَلَیْہِ کَالْوَالِدَیْنِ وَ الْاَجْدَادِ وَالْاَوْلَادِ وَ الْاَحْفَادِ وَ لَوْ تَوَغَّلُوْا فِی الْعِلْوِ وَ السِّفْلِ۔

اس کے مصارف مذکورہ آٹھ مستحقین ہیں، فطرہ ان افراد کو دیناجائز نہیںجن کی کفالت اس کی ذمہ داری ہو مثلاًوالدین اور اجداد ، اولاد ،پوتے پوتیاںاگرچہ یہ رشتہ داری جتنی اوپر یا نیچے کو جائے ۔
فطرہ کسی اور شہر میں نہ دیا جائے
وَ لَا یَجُوْزُ نَقْلُ الصَّدَقَۃِ مِنَ الْعُشْرِ وَ الْخُمْسِ وَ سَائِرِھَا اِلٰی بَلَدٍ اٰخَرَ اِلَّا لِضَرُوْرَۃٍ کَفَقْدِ الْمُسْتَحِقِّ اَوْ مَصْلَحَۃِ قَرَابَۃٍ اَوْ حَقِّیَّۃٍ اُخْرٰی۔
عشر ، خمس یادیگر میں سے کسی بھی صدقے کو کسی دوسرے شہر کی طرف کسی ضرورت کے بغیر منتقل کرناجائز نہیں مثلاًمستحق نہ ملے، قرابتداری کی مصلحت ہو یا زیادہ حقدار ہو۔

فطرہ کب اداکیا جائے

وَکَانَ وَقْتُ اِخْرَاجِھَا مِنْ اَوَّلِ لَیْلَۃِ الْعِیْدِ اِلٰی صَلٰوتِہِ وَ یَجُوْزُ تَقْدِ یْمُھَا فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ وَلَا یَجُوْزُ تَاخِیْرُھَا عَنِ الصَّلٰوۃِ اِلَّا لِضَرُوْرَۃٍ کَاِنْتَظَارِ الْمُسْتَحِقِّ وَ غَیْرِہِ وَ لَوْ تَاَخَّرَتْ وَجَبَ الْقَضَائُ وَ لَا یُعْطٰی الْفَقِیْرُ اَقَلَّ مِنْ صَاعٍ اِلَّا اَنْ یَجْتَمِعَ کَثِیْرٌ مِّنَ الْفُقَرَائِ وَ لَا یَتَّسِعَ لَھُمْ وَ یَسْتَحِبُّ اَنْ یُّخَصَّ بِھَا الْاَقَارِبُ ثُمَّ الْجِیْرَانُ اِنْ کَانُوْا مُسْتَحِقِّیْنَ ۔
فطرہ دینے کا وقت عید کی رات کی ابتدا سے لیکر نماز عیدکی ادئیگی تک ہے ،عید سے قبل رمضان کے مہینے میں بھی جائزہے ۔ بلاضرورت نماز عیدسے تاخیرجائز نہیں مثلاً کسی مستحق کاانتظار وغیرہ، اگر تاخیر ہو تو قضا بھی واجب ہے۔ ایک فقیرکو ایک صاع سے کم نہ دیا جائے مگر کئی فقیر جمع ہو جائیں اور اس کی گنجائش نہ ہو ۔فطرہ دینے کے معاملے میں پہلے اپنے رشتہ داروںپھر پڑوسیوںکو مخصوص کرنا مستحب ہے اگر وہ مستحق ہوں۔