صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

مستحقین زکوٰۃ


مستحقین زکوٰۃ

وَ اَمَّا مَنْ وَجَبَتْ لَہُ فَالْاَصْنَافُ الثَّمَانِیَۃُ الْمَذُکُوْرَۃُ فِیْ قَوْلِہِ تَعَالٰی إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
جن کیلئے زکوٰۃ دیناواجب ہے وہ آٹھ اقسام ہیں جو اس فرمان الہی میںمذکور ہیں۔ بیشک صدقات فقراء، مساکین، صدقات کیلئے کام کرنیوالے، دلوںمیںالفت پیدا کرنے کیلئے ،غلام کو آزاد کرنے کیلئے، مقروضوں کا قرض اتارنے کیلئے ‘اللہ کے راستے میںاور مسافروں کیلئے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے واجب ہے اور اللہ بہت علم او ر حکمت والاہے۔

 فقرا ء اور مساکین

اَمَّا الْفُقَرَائُ وَ الْمَسَاکِیْنُ فَھُمَا الْمُفْلِسُوْنَ الَّذِیْنَ لَا یَکُوْنُ لَھُمْ شَیْیٌٔ اَوْ یَکُوْنُ وَلَا یَفِیْیُٔ بِمَؤُنَتِھِمْ وَ مَؤُنَۃِ عِیَالِھِمْ مُدَّۃَ سَنَۃٍ۔
فقر اء اور مساکین وہ لوگ ہیںجن کے پاس یاتوکوئی چیزموجود نہ ہو اوراگرہیں بھی اپنے اور اہل وعیال کے سال کے خرچہ کیلئے کافی نہیں۔

عاملین

وَاَمَّا الْعَامِلُوْنَ فَھُمُ السَّاعُوْنَ فِیْ جَمْعِ الصَّدَقَاتِ وَ حِفْظِھَا۔
عاملین وہ لوگ ہیںجو صدقات جمع کرنے اور ان کی حفاظت کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔

 دلوں کی تالیف والے

وَ اَمَّا الْمُؤَلَّفَۃُ قُلُوْبُھُمْ فَھُمُ الَّذِیْنَ بِرِعَایَتِھِمْ یَنْتَفِعُ الْمُسْلِمُوْنَ وَ یُقَوّٰی الْاِسْلَامُ وَ بِتَرْکِ الرِّعَایَۃِ اَلْعَکْسُ فَکُلُّ مَنْ کَانَ کَذَالِکَ فَھُوَ مِنْھُمْ کَافِرًا کَانَ اَوْ غَیْرَہُ۔

دلوںکی تالیف والے وہ ہیںجن کو رعایت دینے سے مسلمانوںکوفائدہ پہنچتا ہو اور اسلام کو تقویت ملتی ہو ۔ اگر مدد ترک کردی جائے توبرعکس نتیجہ نکلتاہو، پس ہرایسا شخص انہی اصحاب تالیف میںشمار ہوگا ،چاہے کافرہویا کوئی اور ہو۔

غلام آزاد کرانا

وَ اَمَّا فِی الرِّقَابِ فَکُلُّ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ اَوْ وَلَدَہُ اَوْ زَوْجَتَہُ اَوْ مَنْ بِالْمَشَقَّۃِ ابْتُلِیَ مِنْ مَّوْلَا ہُ وَ الثَّمَنُ فِیْ ذِمَّتِہِ۔

فی الرقاب سے مراد وہ غلام ہے جو اپنے آپ کو ،اپنی اولاد کو یا اپنی بیوی کوخریدے ۔ یا وہ شخص جو مالک کی جانب سے مشقت میں مبتلاہو اوراسکی قیمت اسکے اپنے ذمے ہو۔

قرضدار

وَ اَمَّا الْغَارِمُوْنَ فَکُلُّ ذِیْ قَرْضٍ لَا یَقْدِرُ عَلٰی اَدَائِہِ لِقِلَّۃِ الْمَالِ وَ کَثْرَۃِ الْعِیَالِ وَ تَتَاَدّٰی الزَّکٰوۃُ اِنْ کَانَ لِلْمُتَصَدِّقِ عَلَیْہِ دَیْنٌ بِبَرَائَۃِ ذِمَّتِہِ۔

غارموں سے ہر وہ مقروض مراد ہے جو مال کی قلت اور اہل وعیا ل کی کثر ت کے باعث واپسی سے قاصر ہو۔ اگر زکوٰۃدینے والے کاقرضہ ایسے مقروض کے ذمے واجب ہو تو اس کا ذمہ بری کرنے سے اسکی زکوٰۃاداہوجائیگی ۔

 

فی سبیل اللہ

وَ اَمَّا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَمَنْ جَاھَدَ جِھَادًا کَبِیْرًا اَوْ صَغِیْرًا اَوْ بَنٰی مَسْجِدًا فِیْ قَرْیَۃٍ لَا مَسْجِدَ فِیْھَا اَوْ حَوْضًا اَوْ رَبَاطًا فِی الْقِیْعَانِ اَوِ الْبُلْدَانِ وَ یَحْتَاجُ النَّاسُ اِلَیْھَا ضَرُوْرَۃً۔

فی سبیل اللہ سے مراد وہ شخص ہے جو جہاد اکبر یا جہاد اصغر کی صورت میںجہاد کرتا ہو یا ایسی بستی میں مسجدبنائے جہاں مسجد نہ ہو یا تالاب بنائےیا بیابانوں اور شہر وں میں جہاں لوگوںکوضرورت ہو، مسافر خانہ بنائے ۔

مسافر

وَاَمَّا اِبْنُ السَّبِیْلِ فَکُلُّ مَنْ کَانَ فَقِیْرًا فِیْ سَفَرِہِ وَ لَوْ کَانَ غَنِیًّا فِیْ حَضَرِہِ وَ الضَّیْفُ اَیْضًا مِنْھُمْ۔

مسافر وہ شخص ہے جوسفر میں تنگدست ہو : اگرچہ وہ اپنے گھر میں مالدارہی کیوںنہ ہو مہمان بھی اسی زمرے میںآتاہے۔

مستحقین صدقہ کی شرط

وَ فِیْ کُلِّ ھٰؤُلَائِ الْمُسْتَحِقِّیْنَ لِلصَّدَقَۃِ یُشْتَرَطُ اَنْ لَّا یَکُوْنُوْا مِنَ الْاَشْرَارِ وَلَوْ کَانُوْا مِنَ الْاَخْیَارِ فَطُوْبٰی لِلْمُتَصَدِّقِ الْمُوَفِّقِ لِذَالِکَ الْخَیْرِ الْخَطِیْرِ۔
صدقہ کے ان تمام مستحقین کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ شریر لو گوں میں سے نہ ہو اور اگر یہ مستحقین اچھے لوگوںمیں سے ہوںتواس عظیم نیکی کی توفیق ہونیوالے زکوٰۃ دہندہ کیلئے خوشخبری ہے ۔