صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

واجب خمس


واجب خمس

وَمَا کَانَ شَرِیْفًا کَالْیَوَاقِیْتِ وَاَصْنَافِ اللَّعْلِ وَالزَّمَرُّدِ وَالْعَقِیْقِ وَالْفِیْرُوْزَجِ وَالْکَھْرُبَائِ وَ الْجَوَاھِرِالْبَحْرِیَّۃِ کَالدُّرَرِ وَ اللَّاٰ لِیْ وَ الْعَنْبَرِ وَ الْمِسْکِ وَ الْمَرْجَانِ وَمِثْلِھَا وَ جَوَاھِرِ الذَّھَبِ وَ الْفِضَّۃِ وَ الرِّکَازِ وَ ھِیَ دَفَائِنُ الْکَفَرَۃِ اِذَا بَلَغَ مَبْلَغَ النِّصَابِ بَعْدَ اِخْرَاجِ الْمَؤُنَاتِ فَفِیْہِ الْخُمُسُ وَاجِبٌ عَلَی الْفَوْرِ کَغَنَائِمِ دَارِ الْحَرْبِ۔
اگر معدنیات میں سے جو قیمتی ہوںمثلاً یاقوت، لعل، زمرد یاعقیق یافیروزہ اور کہرباء کی اقسام اور سمندر ی جواہرات مثلاٌیاقوت موتی ۔عنبر ؛مسک ؛مرجان۔ اوران جیسی چیزیں اورسونا چاندی کے جواہر اور رکاز جو کافروںکے پوشیدہ خزانوںکو کہا جاتاہے اگر یہ چیزیں اخراجات منہا کرنے کے بعد نصاب کو پہنچ جائے تو میدان جنگ کے مال غنیمت کی طرح فو راً خمس کی ادائیگی واجب ہے۔