قربانی کا حکم صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

قربانی کا حکم


قربانی کا حکم

وَ اَمَّا الْاُضْحِیَّۃُ فَھِیَ مُسْتَحَبَّۃٌ وَمَکَانُھَا مِنًی وَزَمَانُھَا یَوْمُ النَّحْرِ وَثَلَا ثَۃٌ بَعْدَہُ وَھُوَ لِمَنْ کَانَ بِمِنًی وَفِی الْاَمْصَارِ یَوْمُ النَّحْرِ وَیَوْمَانِ بَعْدَہُ وَاَمَّاسَائِرُ الدِّمَائِ فَلَا تَتَقَیَّدُ بِیَوْمِ النَّحْرِوَلَا بِاَیَّامِ التَّشْرِیْقِ بَلْ حَیْثُ اتَّفَقَ وَلٰکِنْ لَا یَجُوْزُ اِلاَّ فِی الْحَرَمِ وَلَاالتَّصَدُّقُ بِمَالٍ اِلاَّ فِیْہِ ۔وَیَکْرَہُ اَنْ یُخْرِجَ مِنْ اُضْحِیَّتِہِ شَیْأً مِنْ مِنًی وَلَابَأْسَ بِالسَّنَامِ وَمِمَّا یُضَحِّیْہِ غَیْرُہُ۔

قربانی دینا سنت ہے اور اس کامقام منیٰ ہے اور وقت یوم نحر اور اس کے بعد تین دن تک ہے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو منیٰ میں موجود ہو۔ گرد و نواح والوں کے لیے یوم نحر او ر اس کے بعد دودن تک ہے ۔ دیگر قربانیاں یوم نحر یا ایام تشریق کیساتھ مقید نہیں بلکہ جہاں اتفاق ہوجائے تاہم یہ قربانی اور صدقہ حرم کی حدود کے سوا کہیںجائز نہیں ہے ۔ منیٰ سے قربانی کے گوشت سے کسی چیز کو نکالنا مکروہ ہے تاہم اُونٹ کے کوہان کو نکالنے میں کوئی حرج نہیںاور نہ ان اونٹوں کا کوہان جس کی دوسروں نے قربانی دی ہو ۔

وَیَکْفِیْ ھَدْیُ التَّمَتُّعِ عَنِ الْاُضْحِیَّۃِ وَلَوْجَمَعَ بَیْنَھُمَا کَانَ اَفْضَلَ وَلَوْ لَمْ یَجِدِ الْاُضْحِیَّۃَ تَصَدَّقَ بِثَمَنِھَا وَلَایَجُوْزُ الْمَعِیْبُ لِلْھَدْیِ وَالْاُضْحِیَّۃِ کَمَقْطُوْعِ الْیَدِ وَالرِّجْلِ وَالْاُذُنِ وَالشَّفَۃِ وَالذَّاھِبَۃِ الْعَیْنِ وَالْعَجْفَائِ وَالْعَرْجَائِ وَالْعَوْرَائِ وَالشَّوْلَائِ وَالْجَرْبَائِ الَّتِیْ لَاتَمْشِیْ اِلٰی الْمَنْسَکِ۔
حج تمتع کی قربانی عام قربانی کے لیے کافی ہے اگر ایک ساتھ دونوں قربانیاں دی جائے توافضل ہے۔ اگر کوئی قربانی نہ پاسکے تو اس کی قیمت صدقہ کرے۔ ہدیہ اور قربانی کیلئے عیب والا جانور جائز نہیں مثلا ہاتھ، پیر ، کان ، ہونٹ کٹاہو ا ہو ، بینائی نہ ہو ،کمزور ہو، لنگڑا ہو یا کانا ہو ،اعضاء شل ہوں یا خارش زدہ ہو ،اتنا کمزور ہوجو قربان گاہ تک نہ جاسکے۔
وَیَنْبَغِیْ اَنْ یَّکُوْنَ اَمْلَحَ اَقْرَنَ مَوْجُوئً ا وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ یُضَحِّیْ اَقْرَنَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ وَالْاَقَلُّ اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْمَعْزِ ذُوْسَنَتَیْنِ وَمِنَ الضَّأْنِ وَالشَّاۃِ ذُوْسَنَۃٍ وَمِنَ الْاِبِلِ ذُوْثَلَاثِ سِنِیْنَ وَیَکْرَہُ اَنْ یُّعْطِیَ اُجْرَۃَ الْجَزَّارِ مِنْھَا۔
مناسب ہے کہ جانور خوبصورت ہو، سینگ دار ہو اور بھرپور گوشت والاہو ۔ رسول اللہ ﷺ دو سینگ دار اور پرُ گوشت جانوروں کی قربانی دیا کرتے تھے ۔کم از کم صورت یہ ہے کہ گائے اور بکرا دوسال کا ہو۔ بھیڑ ،بکری ایک سال کی ہو جبکہ اونٹ تین سال کا ہو ۔ اور قربانی کے گوشت سے ہی قصائی کو اجرت دینا مکروہ ہے۔