صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

احصار کیا ہے ؟


اَمَّا الْاِحْصَارُ فَھُوَ الْاِمْتِنَاعُ لِلْمُحْرِمِ مِنْ اَدَائِ مَنَاسِکِہِ بِاَیِّ سَبَبٍ کَانَ اِمَّا مِنْ عَدُوٍّ اَوْ مَرَضٍ اَوْ مِثْلِھِمَا فَیَجُوْزُ التَّحْلِیْلُ لِلْمُحْصَرِ مِنْ اِحْرَامِہِ وَاَمَّا اِذَ ا تَحَلَّلَ الْمُحْصَرُ فَعَلَیْہِ دَمٌ فَلَوْ قَدَرَ عَلٰی اَنْ یَّبْعَثَ ھَدْیَہُ اِلٰی مِنًی وَیُؤَخِّرَ تَحَلُّلَہُ حَتّٰی یَصِلَ ھَدْیُہُ فَیَذْبَحُوْہُ کَانَ اَفْضَلَ وَاِنْ لَّمْ یَقْدِرْ عَلٰی ذَالِکَ یَجُوْزُ ذَبْحُ ھَدْیِہِ حَیْثُ اُحْصِرَ اَوْ حَیْثُ اتَّفَقَ فَیَنْبَغِیْ عَلٰی کُلِّ حَالٍ اَنْ یَّتَحَلَّلَ بَعْدَ ذَبْحِہِ وَیَجُوْزُلِلْمُحْصَرِ وَلِغَیْرِہِ اِنْ یَّقْدِرْاَنْ یُّبَاشِرَ الْمَنَاسِکَ بِنَفْسِہِ وَیَجُوْزُ اَنْ یَّسْتَنِیْبَ مُسْلِمًا عَدْلًا رَجُلًا کَانَ اَوِ امْرَأَۃً اِنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَّسْتَاْجِرَہُ لِیَحُجَّ لَہُ وَالْاَجِیْرُ یَنْبَغِیْ اَنْ یَّکُوْنَ صَرُوْرَۃً وَلَوْ کَانَ صَرُوْرَۃً وَلَا یَجِبُ عَلَیْہِ الْحَجُّ لَا بَأْسَ بِہِ۔
محرم کیلئے کسی وجہ سے مناسک کی ادئیگی میں رکاوٹ کا نا م احصار ہے ‘چاہے کسی دشمن کی وجہ سے ہو یا مرض کی وجہ سے یا ان جیسے کوئی اور وجہ در پیش ہو ۔پس حصار کا شکا ر شخص کو احرام سے نکلنا جائزہے او ر جب وہ احرام سے باہر نکلے تو قربانی ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی قربانی منیٰ تک بھجوا سکے اور اس کے وہاں پہنچنے تک تحلل کو تاخیر کرسکے اور دوسرے اسے ذبح کر سکیں تو افضل صورت ہے اور اگر اتنی بھی قدرت نہ ہوتو جب بھی احصار کا سامنا ہو یا جیسے اتفاق ہو جانور کو ذبح کرناجائز ہے ۔ ہر حال میں قربانی کے بعد ہی احرام سے نکلے ۔ احصار کا شکار وغیرہ اگر قادر ہوتو مناسک خود ادا کرے۔ کسی عادل مسلمان مرد یا خاتون کونائب مقرر کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کے حج کی اجرت کی استطاعت رکھتاہو۔مناسب ہے کہ اجرت پر لینے والاشخص صرورہ (۱) ہواور اگر صرورہ ہو اور اس پر حج واجب نہ ہو تو ایسے شخص کو نائب بنانے میں حرج نہیں ۔