صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حج تمتع کی نیت و طریقہ


وَاَمَّا التَّمَتُّعُ فَنِیَّتُہُ اَنْ یَّقُوْلَ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ ثُمَّ الْحَجَّ فَیُحْرِمَ مِنَ الْمِیْقَاتِ لِلْعُمْرَۃِ وَیَجِبُ عَلَیْہِ الْھَدْیُ فَیَسُوْقَ الْھَدْیَ مِنَ الْمِیْقَاتِ وَیُشْعِرَہُ وَیُقَلِّدَہُ وَیَدْخُلَ مَکَّۃَ وَیَطُوْفَ وَیَسْعٰی لِعُمْرَتِہِ وَیَحْلِقَ اَوْ یُقَصِّرَ لِلتَّحْلِیْلِ مِنْ عُمْرَتِہِ وَیُحْرِمَ ثَانِیًا یَوْمَ التَّرْوِیَہِ مِنْ مَکَّۃَ لَا مِنَ الْمَوَاقِیْتِ الْخَارِجَۃِ وَیَمْشِیَ اِلٰی مِنًی وَیُفِیْضَ اِلٰی عَرَفَاتٍ وَیَفْعَلَ مَا فَعَلَہُ الْمُفْرِدُ وَالْقَارِنُ وَیَذْبَحَ ھَدْیَہُ بِمِنًی اِنْ کَانَ لَہُ ھَدْیٌ وَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلَا ثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعَ ۔
حج تمتع کی نیت یہ ہے ’اے اللہ! میںعمرہ پھر حج کا ارادہ کرتاہوں الخ پھر میقاتِ عمرہ سے احرام باندھے ۔ اس پر قربانی واجب ہے لہٰذا میقات سے قربانی لے جائے اور اسے اشعار کرے ‘ قلادہ لٹکائے اور مکہ میں داخل ہو، طواف کرے اور عمرہ کیلئے سعی کرے، بال مونڈ ڈالے یا چھوٹا کرائے تاکہ احرامِ عمرہ سے نکل سکے۔ مکہ سے ہی یوم ترویہ (آٹھویں ) کو دوبارہ احرام باندھے۔ باہر کے میقاتوں سے نہیں ۔ پھر منیٰ کی طرف جائے اور عرفات کی طرف چلے اور ہر وہ عمل بجالائے جو حج افراد اور قران والے بجالاتے ہیں۔ منی میںقربانی ذبح کرے بشرطیکہ قربانی ساتھ لایاہو اگر قربانی کا جانورنہ ملے تو تین دن روزے حج کے دوران رکھے اور باقی سات واپسی پر رکھے ۔
فَیَحْلِقَ اَوْ یُقَصِّرَ بَعْدَ الذَّبْحِ فَیَعُوْدَ اِلٰی مَکَّۃَ وَیَطُوْفَ طَوَافَ الزِّیَارَۃِ وَھُوَ رُکْنٌ عَظِیْمٌ فَلَا یَتِمُّ الْحَجُّ اِلاَّ بِہِ فَیَسْعٰی فَیَعُوْدَ اِلَی الْمَسْجِدِ فَیَطُوْفَ طَوَافَ النِّسَائِ وَیُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ وَلَاحَاجَۃَ اِلَی السَّعْیِ فَیَعُوْدَ اِلٰی مِنًی لِاِتْمَامِ سَائِرِ الْمَنَاسِکِ فِیْ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ مِنَ الْجَمَرَاتِ۔
ذبح کے بعد بال مونڈوائے یا چھوٹے کرائے پھر مکہ لوٹ آئے او ر طواف زیارت بجالائے طواف زیارت حج کا بڑا رکن ہے اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں۔ پھر سعی کرے اور مسجد حرام کی طرف واپس آئے پھر طواف نساء بجالائے ‘ دو رکعت نماز پڑھے ‘ دوبارہ سعی کی ضرورت نہیں پھر منیٰ کیطرف لوٹے تاکہ ایام تشریق میں جمرات کو کنکر مارنا سمیت دیگر تمام مناسک کو مکمل کیا جاسکے۔