صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

سعی


صفا مروہ میں سعی
فَیَخْرُجَ اِلَی الصَّفَا وَیَصْعَدَ عَلَیْہِ بِقَدْرِ قَامَۃٍ اَوْ اَکْثَرَ وَیَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ وَیُکَبِّرَ وَیُھَلِّلَ وَیُصَلِّیَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ وَیَدْعُوَ اللّٰہَ تَعَالٰی لِحَاجَتِہِ ثُمَّ یَنْحَدِرَ نَحْوَ الْمَرْوَۃِ وَیَمْشِیَ عَلٰی ھَیْئَتِہِ فَاِذَا بَلَغَ اِلٰی جَوْفِ الْوَادِیْ سَعٰی بَیْنَ الْمِیْلَیْنِ الْاَخْضَرَیْنِ سَعْیًا حَتٰی یَاتِیَ الْمَرْوَۃَ فَیَصْعَدَ عَلَیْھَا کَمَا صَعَدَ عَلَی الصَّفَا وَیَفْعَلَ کَمَا فَعَلَ وَھٰذَا شَوْطٌ فَیَسْعٰی سَبْعَۃَ اَشْوَاطٍ الْاِفْتِتَاحُ مِنَ الصَّفَا وَالْاِخْتِتَامُ عَلَی الْمَرْوَۃِ لَا غَیْرَ۔

پھر صفا کی طرف نکل جائے اور ایک قد کے برابر یا زیادہ کے مقدار چڑھے قبلہ رخ ہو۔ تکبیر پڑھے، تہلیل پڑھے اور نبی رحمت ﷺ پردرود بھیجے اور اللہ تعالی سے اپنی حاجتیں طلب کرے۔ پھر مروہ اتر آئے اور عام انداز سے چلے اور جب وادی کے درمیان میں پہنچے تو میلین اخضرین کے درمیان دوڑے یہاںتک کہ مروہ تک پہنچے پھر جس طرح پر صفا پر چڑھا تھا اس طرح مروہ پر چڑھے اور وہی عمل بجالائے جو پہلے بجا لایاجاچکا ہے ،یہا ں ایک چکر مکمل ہو گیا۔ اسی طرح سات چکر سعی کرے جو صفا سے شروع اور مروہ پر ختم کوئی اور صورت نہیں ۔
ثُمَّ اِنْ کَانَ مُتَمَتِّعًا یَقْصُرُ مِنْ شَعْرِ رَأْسِہِ وَیَخْرُجُ مِنْ اِحْرَامِ عُمْرَتِہِ فَیَحِلُّ لَہُ کُلُّ مَاحُرِّمَ بِالْاِحْرَامِ ثُمَّ یُحْرِمُ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ لِلْحَجِّ مِنْ مَکَّۃَ وَمِنَ الْمَسْجِدِ کَانَ اَفْضَلَ وَمِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ اَوْ تَحْتَ الْمِیْزَابِ اَفْضَلُ فَیَخْرُجُ مُلَبِّیًا مُتَوَجِّھًا اِلٰی مِنًی فَیَبِیْتُ بِھَا لَیْلَۃَ عَرَفَۃَ وَیُصَلِّیْ بِھَا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فَاِذَا فَرَغَ مِنْ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ عَرَفَۃَ کَبَّرَ عَقِیْبَھَا اِلٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِ مِنْ اٰخِرِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ یَعْنِیْ عَقِیْبَ ثَلَاثٍ وَّعِشْرِیْنَ صَلٰوۃً۔

پھر عاز م حج اگر حج تمتع کرنیوالاہو تو اپنے سر کے بال چھوٹے کرلے اور عمرہ کے احرام سے باہر نکلے ۔ پس احرام کی وجہ سے اس پرحرام تمام امور حلال ہیں پھر حج کیلئےیوم ترویہ (۸ذی الحجہ )کومکہ سے پھر احرام باندھے اور مسجد (الحرام) سے باندھے تو افضل ہے۔ مقام ابراہیم ؑیا پرنالے کے نیچے باندھے تو بھی افضل ہے پھر منیٰ رخ ہوکرتلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے اور عرفہ کی رات یہاں گزارے ‘پانچ وقت کی نماز ادا کرے۔ عرفہ کے دن نماز صبح سے فارغ ہوجائے تو اس کے بعد سے ایام تشریق (یعنی ۱۱ ،۱۲،۱۳ ذلحجہ )کے آخری روز نماز عصر تک تیئس فرض نماز کے بعد تک تکبیر پڑھتارہے۔