صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

اقسام و موجبات حج


اقسام حج
اَلْحَجُّ الْمَرْضِیُّ عَلٰی نَوْعَیْنِ وَاجِبٌ وَّمُسْتَحَبٌّ وَغَیْرُ الْمَرْضِیِّ عَلٰی نَوْعَیْنِ حَرَامٌ وَّمَکْرُوْہٌ۔
مقبول حج کی دو قسمیں ہیں ۱۔واجب ۲۔مستحب ۔ اسی طرح غیر مقبول حج کی بھی دو قسمیں ہیں ۱۔ حرام ۲ ۔مکروہ۔

حرام حج
وَحَرَامٌ عَلٰی تَارِکِ الصَّلٰوۃِ وَالصَّوْمِ وَغَیْرِھِمْ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ اِلَّا شُہْرَۃً بَیْنَ النَّاسِ
نماز چھوڑنے والوں ،روزہ توڑنے والوں اور ان لوگوں پر جو لوگوں میں صرف شہرت چاہتے ہیں ، حج حرام ہے ۔

و مکروہ حج
وَمَکْرُوْہٌ لِمَنْ لَّمْ یَحْصُلْ لَہُ اَسْبَابُ الْوُجُوْبِ کَالزَّادِ وَالرَّاحِلَۃِ وَغَیْرِھِمَا وَھُوَ یَتَوَکَّلُ عَلٰی اَطْعِمَۃِ الْقَافِلَۃِ وَیَمْشِیْ۔

حج اس شخص کیلئے مکروہ ہے جس کے پاس وجوب حج کے اسباب مثلا راستے کے اخراجات ،سواری وغیرہ حاصل نہ ہوں اور وہ قافلہ کے کھانوں پر بھروسہ کرکے حج کوچلے ۔

واجب حج اور موجبات حج
اَمَّا مُوْجِبَاتُہُ فَالْبُلُوْغُ وَالْعَقْلُ وَالْاِسْلَامُ وَالْحُرِّیَّۃُ وَاَمْنُ الدَّرَبِ وَالْوَقْتُ الْمُعَیَّنُ لَہُ وَالْاِسْتِطَاعَۃُ کَالزَّادِ وَالرَّاحِلَۃِ وَنَفَقَۃِ الْعِیَالِ ذِھَابًا وَّ اِیَابًا وَالْقُدْرَۃُ عَلَی السَّفَرِ کَالصِّحَۃِ وَعَدَمِ الْمَوَانِعِ فَھُوَ وَاجِبٌ عَلٰی مَنْ حَصَلَ لَہُ ھٰذِہِ الْاَشْیَائُ وَ مُسْتَحَبٌّ لِمَنْ کَانَ فِیْ سَفَرِہِ قُرْبٌ اِلَی الْکَعْبَۃِ اَوْ وَصَلَ اِلَیْھَا وَھُوَ مِنَ الْفُقَرَائِ الْاَتْقِیَائِ وَلَمْ یَجِبْ عَلَیْہِ لِعَدَمِ التَّمَوُّلِ۔

موجبات حج :
۱۔بالغ ہونا۔
۲۔عقلمندہونا۔
۳۔مسلمان ہونا۔
۴۔آزاد ہونا ۔۵
۔راستے کا پر امن ہونا
۶۔حج کامعین وقت کاآنا۔
۷۔استطاعت کا ہونا مثلا جانے اور آنے کیلئے زاد راہ، سواری ، اہلخانہ کے اخراجات، سفر کی طاقت ہو مثلا صحتمند ہو اور دیگررکاوٹیں نہ ہوں تو حج اس شخص پر واجب ہے جو مذکورہ سہولتوں کا حامل ہو۔

مستحب حج
مستحب ہے جو کعبہ کے قریب سے سفر کرےیا وہ کعبہ تک پہنچے جبکہ وہ پرہیزگار تنگدستوںمیںسے ہو اور مالدار نہ ہونے کی وجہ سے حج واجب نہیں ۔