صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

خیر وشر پر اعتقاد کی نو عیت


وَمَنْ اَضَافَ السَّیِئَاتِ اِلٰی نَفْسِہِ رَعٰی صُوْرَۃَ اَدَبٍ وَھُوَ مُحِقٌّ مِنْ وَجْہٍ اِنْ لَمْ یَکُنْ مَفْرِطًا فِیْ جَھْلِہٖ مُتَعَصِّبًا مُکَفِّراً لِمَنْ یَقُوْ لُ کَلِمَۃًمُحَقِّقَۃً مُطَابِقَۃً لِلْوَاقِعِ فَمَنْ یَقُوْلُ اِنَّ الْخَیْرَ وَالشَّرَّ مِنْکَ وَمَنْ یَقُوْلُ مِنَ اللَّہٖ وَمَنْ یَقُوْلُ مِنْکَ وَمِنْہٗ فَفِیْ الْمِثَالِ یَتَبَیَّنَ اَنَّ الْاِخْتِلَافَ لَفْظِیٌّ وَمِثَالُہٗ انک کبستان اشجار ونجوم ومایفیض علیک من اللہ کنھرماء یسری فیھا فمن قال حلاوۃ الفواکہ ومرارتھا من الماء لان الماء ان لم یسر فیھا لایحصل شئی من الثمار صدق ومن قال الماء ذوطعم واحد والاثمارذات حلاوۃ و مرارۃ و حموضۃ وھذاالصفات لیست فی الماء والماء منزہ عنھا وھذہ الصفات من الاشجارصدق ومن قال ان لم یسرالماء فیھا لم تجد شیئامن الھلاوۃ والحمو ضۃ وان لم تجد ایضا شیئا من الحلاوۃ والحمو ضۃ عرفنا ان ھذہ الصفات من کلیھما صدق ’’قل الحق وان کان مرا‘‘ وفی القران وردکلھا مرۃ یقو ل ’’مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتا ب من قبل ان نبرئھا ان ذالک علی اللہ یسیر‘‘ و یقو ل ایضا ’’قل لن یصیبنا الاماکتب اللہ لنا ھو مولینا وعلی اللہ فلیتوکل المومنون‘‘ و مرۃ یقو ل ’’وان لیس للانسان الاماسعی‘‘ و مرۃ یقول من عمل ’’صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا‘‘ ومرۃ یقول ’’وما تو فیقی الا باللہ علیہ توکلت وھورب العر ش العظیم‘‘
اگر کوئی برُائیوں کی نسبت اپنی طرف کرے تواس مودبانہ صورت کی رعایت کی وہ ایک طرف سے حق گو ہے بشرطیکہ وہ اپنی جہالت میں تفریط کا شکارنہ ہو ۔نہ ہی تعصب کرنے والا ہو اورنہ ہی واقع کے عین مطابق کلمہ محققہ کہنے والے کو کفر کی طرف نسبت دینے والا ہو پس جوشخص کہتا ہوکہ خیروشر تمھاری طرف سے ہے اور جو کوئی کہے کہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اگر کوئی کہے کہ بند ہ اور اللہ دونوں کی طرف سے ہیں مثال سے واضح ہو جاتاہے کہ یہ اختلافات لفظی ہیں اس کی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ تم درختو ں اور پودوںسے بھر ے ایک باغ کی طرح ہے اور اللہ کی طرف سے تم پر جو جونشانی ہوئی ہے وہ باغ کی نہر ہے جو ا س باغ میں چلتی ہے اگر کوئی کہے کہ پھلوںمیںمٹھاس اور کڑواہٹ پانی کی وجہ سے ہے کیونکہ اگر پانی میں سر ایت نہ کر جاتا توپھلوں کا حصول ہی نہ ہو تا۔ تواس نے سچ کہا (اسی طرح)اگر کوئی کہے کہ پانی توایک ہی ذائقہ رکھتا ہے جبکہ پھلوںمیں مٹھاس ،کڑ اوہٹ ،کٹھاس دونوںہیں اور یہ تینوں صفات پانی میںنہیں ہیںاور پانی ان تینوںصفات سے دورہے اورپھلوں میں یہ تینوں صفات اپنی پھلوںکی وجہ سے ہیں تواس نے (بھی)سچ کہا (اسی طرح)اگرکوئی کہے کہ اگر باغ میںپانی جاری نہ ہوتاتوپھلوں میں نہ مٹھاس پایاجاتانہ ہی کٹھاس اسی طرح اگر یہ پھلدار درخت نہ ہو تے اور پانی کسی نالے میںبہہ رہا ہوتا توبھی پھلوںمیںمٹھاس اورکٹھاس کاوجود نہ ہوتا چنانچہ اس مثال سے واضح ہواکہ یہ صفات دونوں کی طرف سے ہیں تواس نے بھی سچ کہاحق کہو اگر چہ وہ کڑوا ہی کیوںنہ ہو قرآن پاک میں یہ تمام صورتیںوارد ہو ئی ہیںایک جگہ فرمایا ’’مصائب میںسے جو کچھ تم زمین میںیا اپنے نفسوںمیںپائے کہویہ سب کتاب مبین (لوح محفوظ ) میں موجو د ہیں قبل اس کے کہ ان مصائب کاوجود ہو بے شک یہ امر اللہ کیلئے بہت آسان ہے ایک جگہ یوںفرمایا’’میر ے حبیب کہہ دیجئے کہ ہمیں جو کچھ مصائب کا سامنا ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالی ہی کا لکھا ہے پس مومنوںکو چاہئے کہ اللہ تعالی پر مکمل توکل کرے ایک جگہ یوںفرمایا وان لیس للانسا ن الاماسعی بے شک انسا ن کے لئے وہی ہے جس کے لئے وہ محنت کریایک جگہ یوںفرمایا من عمل مالھا جس نے نیک عمل کیا وہ اسی کے لئے ہے جس نے برُائی کی وہ اسی کیلئے ہی وبال ہے ایک جگہ یوںفرمایا ’’اللہ ہی پربھروسہ کرکے ہمیں توفیق حاصل ہوتی ہے اسی پر میںنے توکل کیا اوروہ عرش عظیم کارب ہے ‘‘