اتحاد بین المسلمین اور اتحاد نوربخشیہ وقت کی ضرورت


تحریر مولانا محمد ابراہیم غزنوی کھرکوی


تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کے عروج وزوال، سربلندی، ترقی و تنزلی، خوشحالی و فارغ البالی اور بدحالی کے تقدم و تخلف میں اتحاد و اتفاق، باہمی اخوت و ہمدردی اور آپس کے اختلاف و انتشار، تفرقہ بازی،اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور آج کے دور میں مسلمان جس قدر ذلیل و خوار اور رسوا ہیں شاید اس سے پہلے کسی دور میں رہے ہوں۔ جتنا کمزور آج کے مسلمان ہیں شاید ہی اتنا کمزور کبھی رہے ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مسلمانوں کی بین الاقوامی طور پر کوئی اہمیت نہیں ہے اور دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں پر پل پڑی ہیں۔ ہر جگہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے، ان کی عزت و ناموس محفوظ نہیں ہے، ان کے املاک تباہی و برباد کئے جا رہے ہیں، بہت سارے ممالک میں انہیں تہہ تیغ کیا جارہا ہے جن میں قابل ذکر فلسطین، افغانستان،عراق، شام ،حلب اور میانمار ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری ایسی درگت کیوں ہو رہی ہے؟، ہمیں ہر طرف سے دبانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟ اس کے اسباب و وجوہات کیا ہیں؟ جب کی اللہ نے مسلمانوں کو ان کے گناہوں اور معصیتوں کے باوجود بہت ساری نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور یہ نعمتیں مختلف انواع و اقسام کے ہیں جیسے اللہ نے مسلمانوں کو زراعتی،حیوانی،آبی، معدنی غرضیکہ ہر قسم کے ثروت و دولت سے نوازا ہے، پیٹرول کا ایک وافر مقدار مسلمانوں کے پاس موجود ہے، مسلمانوں کی تعداد بھی ایک عرب سے زائد ہے،ساٹھ کے قریب اسلامی ممالک ہیں اور ان کا محل وقوع بھی بہت اہم ہے، اہم آبی گزر گاہیں مسلمانوں کے پاس ہیں۔ پھر مسلمان اتنا بے بس، مجبور، کمزور، ذلیل کیوں ہیں ان کے خون کی قیمت پانی سے بھی ارزاں کیوں ہے ؟
ان کے متعدد وجوہات ہو سکتے ہیں مگر ان میں سب سے اہم اور اصل وجہ آپسی اختلاف و انتشار اورتفرقہ بازی ہے یہی وہ بیماری ہے جس نے آج مسلمانوں کو مفلوج کر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے آج اغیار ہم پر غالب ہوتے جارہے ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف سے اتحاد اتفاق اور باہمی یکجہتی کی جو میراث ملی تھی ہم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے اوراس کے بر عکس آج دوسری قومیں متحد و متفق ہو کر اپنے جائز و ناجائز مقاصد کے حصول میں کوشاں نظر آرہی ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
گنواں دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریاسے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
عزیزان گرامی
اس وقت اتحاد،اتفاق عالمِ اسلام اور مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ اور تمام ضرورتوں و ترجیحات پر برتری اور اہمیت رکھتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اتحاد کی ضرورت کو نہیں سمجھتے۔؟موجودہ دور میں مسلمانوں کا اتحاد ایک ناقابل انکار ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ تنگ نظری، گروہی تعصب اور قومی و نسلی امتیازات کی بنا پر معرض وجود میں نہیں آ سکی جبکہ سامراجی ملکوں کی سازشیں بھی مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے میں موثر رہی ہیں۔یہ پیشن گوئی ہمارے پیر طریقت رہبر شریعت جناب سید محمد شاہ نورانی صاحب نے آج سے چودہ سال پہلے جلسہ عام کراچی سے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ مسلمان ایک درخت کی تنے کے مانند ہے اور اس میں موجود تمام مسالک اس درخت کے مختلف شاخوں جیسا ہے اگر تنے کو کچھ ہو گیا تو شاخوں کی کو ئی اہمیت اور بقاء رہنا مشکل ہے اس طرح آپ نے مزید فرمایا کہ مسلمانوں نے اپنی ہاتھوں سے اقوام عالم کے نزدیک تماشا بنا دیا ہے مغربی ممالک اسلام کے خلاف روز با روز نئی سازشیں تیار کر رہے ہیں لہذا اتحاد و اتفاق، جمعیت اسلام وقت کی ضرورت ہے ۔ بے شک حالیہ صدیوں میں مسلمانوں کی عدم پیش رَفت اور پسماندگی کا سبب اختلافات اور آپسی تفرقے ہیں۔ ان کے قومی اور مذہبی اختلافات نے انہیں مختلف قوموں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جب دوسرا عیسوی ہزارہ شروع ہوا تھا تو مسلمان علمی اور سائنسی لحاظ سے سب سے پیش رفت تھے۔ ان کے شہر علم و سائنس و صنعت و تجارت کا مرکز سمجھے جاتے تھے۔ مسلمان علماء اور دانشوروں کو اس زمانے کا راہنما مفکر سمجھا جاتا تھا، عالم اسلام سیاسی، اقتصادی اور علمی و سائنسی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ آج عالم اسلام کی اس شوکت و عظمت کو کیا ہوا؟ مسلمانوں کی وہ یکجہتی کہاں گئی؟ مسلمانوں کی عظمت، عزت و سربلندی سب کچھ اختلافات کی نذر ہو گیا۔ اگر مسلمان تعلیماتِ وحی پر کاربند رہتے ، اگر مسلمان ان کے جانشین حقیقی پر متحد ہوتے ہوئےاور اپنے سیاسی اور سماجی اتحاد کی حفاظت کرتے تو ان کا آج یہ حشر نہ ہوتا۔ آج بھی اگر مسلمان ایک پرچم تلے آ جائیں اور اپنے اختلافات پر بے سود وقت ضایع کرنے کے بجائے تھوڑا سا وقت امت کی فلاح و بہبود کے لیے نکالیں تو آج بھی ایک عظیم طاقت کے طور پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ہمارے علماء اور دانشوروں کا فریضہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
جبکہ قرآن کریم نے ہمیں زمانہ نزول سے ہی یہ سکھا دیا تھا کہ
( ترھبون بہ عدواللہ و عدوکم)(انفال)
یعنی اپنی طاقت کے ذریعہ تم اپنے اور اللہ کے دشمن کو خائف کر سکتے ہو۔ اور قرآن مجید میں مسلمانوں کو متعدد بار اس بات کی تلقین کی گئی کہ آپسی اختلافات کو ختم کرکے متحد و متفق ہو جاؤ ارشاد باری تعالیٰ ہے
(واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا) (ال عمران )
اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اپس میں تفرقہ بازی نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اختلاف اور باہمی انتشار و بد امنی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بد ترین عذاب قرار دیا ہے ۔
(قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم و من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعا و یذیق بعضکم بأس بعض )(انعام )
بتا دیجئے کی اللہ قادر ہے کہ وہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے،تم پر کوئی عذاب مسلط کر دے یا تمہیں فرقہ فرقہ بنا کر ایک فرقے کو دوسرے سے لڑائی کا مزا چکھا دے۔ابن اثیر نے کہا کہ شیعہ سے مراد امت اسلامیہ کیاتفرقہ پھیلانا ہے(النھایہ فی غریب الحدیث ج دوئم )
اللہ رب العالمین نے پیغمبروں کو ایسے لوگوں سے لا تعلقی کا حکم دیا جو آپس میں اختلاف ایجاد کرتے ہیں اور اس پر اصرار بھی کرتے ہیں (ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شئی)(انعام ) جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈلا اور کئی فرقے بن گئے، ان سے آپ کا کوئی سروکا ر نہیں ہے۔
اللہ نے آپسی اختلاف و انتشار اور فخر و غرورکو مشرکوں کا شیوہ قرار دیتے ہوئے فرمایا
(ولا تکونوا من المشرکین من الذین فرقو ادینھم وکانوا شیعا)(روم)
اور ان مشرکوں میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے اپنا دین اللگ کر لیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ جب انسان اتحاد و اتفاق کو طاق نسیاں میں رکھ کر گروہوں اور ٹولیوں میں بٹ جاتا ہے، تو ان کا انجام کیا ہوتا اور کس طرح سے انہیں اس کا نتیجہ ملتا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا
(ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم )(انفال)
اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم لوگ بزدل ہو جاو گیاور تمہاری ہوا اکھڑ جائیگی۔مزید فرمایا
(ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاء ھم البینات والٰئک لھم عذاب علیم )(ال عمران )
اوران لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقے میں بٹ گئے اور روشن دلائل آ جانے کے بعداپس میں اختلاف کرنے لگے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی جانب سے اہل ایمان کے درمیان اتحاد واتفاق کو باقی رکھنے کے لئے متعدد فرامین وارد ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا
’’تری المؤمن فی تراحمھم و تودھم و تعاطفھم کمثل الجسداذا اشتکی عضوا تداعی لہ سائر الجسد بالسھر و الحمیٰ‘(متفق علیہ)
مومنوں کی مثال ایک دوسرے سے رحم کرنے، ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کرنے میں ایک جسم کے مانند ہے جب ان میں سے کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو پورا جسم اس کے لئے درد اور بخار کے ساتھ رات جگائی کرتا ہے۔ اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا
’’المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا ‘‘ ( صحیحین)
ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے عمارت کے مانند ہے جس کا بعض بعض سے تقویت حاصل کرتا ہے۔
آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی حالت زار اس بات کا تقاضہ کررہی ہے کہ تمام مسلمان خصوصا وارثین انبیاءو آئمہ ا تحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی دعوت دینے اور اس کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی پروگرام اور لائحہ عمل بھی بنائیں۔ اج امت اسلامیہ کا ایک عظیم المیہ یہ ہے کہ وہ ایک اللہ ایک رسول اور ایک قرآن کے حامل ہونے کے باوجود افتراق و انتشار کے شکار ہیں اور یہ اختلاف ہمارے بعض عمائدین ملت، علماء د ین اور نام نہاد ملت فروش قائدین نے مسلک و جماعت اور عقیدہ و نظر کے اختلاف کو ہوا دیکر پیدا کیا ہے۔
عموما اتحاد ملت کا ایک نظریہ یوں پیش کیا جاتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مسلک پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہواور بنیادی طور پر تمام مسلک اور فرقوں کی بقاء و تحفظ کے ساتھ ساتھ مسلمان ایک پلیٹ فرم پر جمع ہو جائیں، بظاہر یہ ایک ایسا عمدہ اور خوشنما اتحادی تصور ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کی صفوں میں ا تحاد و اتفاق اور یکجہتی پیدا کی جاسکتی ہے۔ کسی شاعر نے کہا
چاہتے ہو اگر زمانے میں وقار دائمی
سب سے پہلے اتحا باہمی پیداکرو۔
قارئین کرام !
اتحاد ملت کے لئے چند مطلوبہ اوصاف ہیں جن پر عمل کئے بغیر امت اپنے اس مقصد میں کامیاب و کامراں نہیں ہو سکتی وہ مطلوبہ اوصاف یہ ہیں۔
۱۔ شخصی، گروہی اور مسلکی عصبیت سے اجتناب کیا جائے۔
۲۔ اپنوں اور غیروں کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے۔
۳۔ الزام اور طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
۴۔ اختلافی امور میں سختی کے بجائے نرمی و فیاضی کامعاملہ کیا جائے۔
۵۔ بحث و مباحثہ میں احسن طریقہ اختیار کیا جائے۔
اتحاد ملت کے لئے چند علمی وعملی ذرائع :-
۱۔ کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر سے اجتناب کیا جائے۔
۲۔ اختلاف علم کے تمام ممکنہ اسباب کی گہری فہم حاصل کی جائے۔
۳۔ منہج سلف کی پیروی کی جائے۔ ۔
۴۔ اسلام کے اہم مسائل کی جانب خصوصی توجہ دی جائے۔
۵ اختلافی امور میں اعدال کی پیروی اور تشدد سے اجتناب کیا جائے۔
۶۔ محکمات پر توجہ اور مشتبہات سے اجتناب کیا جائے ۔
۷۔ گروہی مفاد پر امت کے مفاد کو ترجیح دی جائے۔
۸۔ متفق علیہ مسائل میں تعاون کیا جائے۔

اتحاد و اتفاق مسلک نوربخشیہ میں
مسلک نوربخشیہ کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کی برقراری کے لیے ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور خاص طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کا لازماً اہتمام کرنا چاہیے۔

1- ذرائع ابلاغ پر نظر مسلک نوربخشیہ کے تمام ذمہ دران کو اپنے ذرائع ابلاغ کو بھی کڑی نگرانی میں رکھنی چاہیے تاکہ ان سے ایسی بات نشر/ ضبط تحریر نہ ہو جس سے ہمارے مسلک کے درمیان منافرت پھیلے۔ بے لگام ذرائع ابلاغ بھی اتحادِ نوربخشیہ کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ہماری براہِ راست ذرائع ابلاغ کے متعلقین اور اربابِ بَست و کشاد سے بھی گزارش ہو گی کہ وہ بھی سنجیدگی سے Freedom of Mediaکی پالیسی کو حقیقی بنیادوں پر استوار کریں۔ جس کی بنیاد ہماری دینی، نظریاتی، اور مِلّی اغراض ہونی چاہیے۔ محض لکیر کا فقیر ہو کر افواہیں پر لبیک کہہ دینا غلط پرپگنڈہ پر یقین کر لینا اور بلا سوچے سمجھے اُسے اپنا لینا ہمارے لیے انتہائی نقصان کا باعث بن سکتا ہے بلکہ بن رہاہے۔

2-دانشوران، مصنفین اور اہل قلم پر نظر
تیسرا قدم مصنفین اور اہل قلم پر بھی نظر رہے۔ ہمارے مسلک کے دانشوروں، مصنفین اور اہل قلم حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے تفرقہ انگیز اقدامات سے آگاہ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ خود تفرقے اور اختلاف کا سبب بن جائیں۔ لہٰذا اہل قلم کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے مقالوں، مضامین اور کتابوں میں ہر طرح کے تفرقہ انگیز مسائل سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بلکہ اتحادِ نوربخشیہ کے حق میں کام کرنا چاہیے۔ البتہ مذہبی مسائل پر تحقیق کرنا ایک الگ مسئلہ ہے جو محقق علماء اور اہل دانش کے حلقے تک ہی محدود رہنا چاہیے اور عوام النّاس کو دقیق علمی موشگافیوں سے دور ہی رکھا جانا چاہیے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنی کم فہمی کی بنا پر خواہ مخواہ ا آپس میں افتراق و انتشار میں پڑ جایا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے علمائے کرام،اہل قلم کو خاص طور پر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

3-منبر و محراب پر نظر
ہمارے مسلک کے ارباب اختیار کی یہ ذمہ داری ہے کہ مساجد کے آئمہ و خطباء پر بھی نظر رکھے۔ کیونکہ آئمہ و خطباء کا افرادِ معاشرہ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور ان کی بات بے حد اثر انداز ہوتی ہے۔
علمائے کرام اور آئمہ عظام مسلم عوام کے دینی رہ نما ہیں۔ انہیں ان کے درمیان عزت و احترام اور اعتبار حاصل ہے۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ جمعہ کے خطبوں اور دیگر مواقع پر اپنے خطبات کے ذریعے عوام کی دینی رہنمائی اور کردار سازی کا کام انجام دیں۔ بجائے اس کے عوام النّاس کو اختلافی موضوعات میں الجھایا جائے۔ فی الحقیقت تمام اختلافی معاملات کا تعلق ہے ہی محض راسخ العلم علماء سے، یہ عام آدمی کے ساتھ کرنے والی باتیں ہی نہیں ہوا کرتیں اس کا خاص فورم ہوا کرتا ہے۔ اور فی زمانہ مسجد و محراب ہر گز ایسے مسائل بیان کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہاں صرف عمومی تعلیم و تربیت ہونی چاہیے۔ اسلام اللہ کا برحق دین ہے، جسے اس نے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے۔ اسے اللہ کے بندوں تک پہچانا اور دیگر باطل افکار و نظریات کے مقابلے میں اس کی حقانیت کو ثابت کرنا امت مسلمہ اور خاص کر علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔

4- انتہا پسندی پر قابو
ہمارے مسلک کے غیور جوانوں کے اوپر بھی فرض ہے کہ انتہا پسند گروہوں پر نظر رکھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ گروہ اپنی غیر معقول کاروائیوں سے ہمارے مسلک میں اختلافات کا سبب بنیں، انتہا پسند گروہوں پر کنٹرول رکھنے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں منافرت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے ہر معاشرے میں ایسے افراد اور گروہ ہوتے ہیں جو اپنے اعتقادی مسائل کی بابت بڑے حساس ہوتے ہیں اور ان کی یہ حساسیت بیشتر اوقات عقل سے دور اور بصیرت سے عاری ہوتی ہے جس کے سبب معاشرے میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

خلاصۂ کلام
بیشک اتحاد و اتفاق کسی بھی قوم کی ترقی اور اعلیٰ اہداف کے حاصل کرنے نیز سربلندی اور کامیابی کے حصول میں معجزانہ کردار رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کا اتحاد بالخصوص مسلک نوربخشیہ کے درمیان اتفاق و اتحاد ایک اہم ترین مسئلہ اور نا قابل ان کار ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں مسلکی عصبیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اس سے کئی اسلامی تعلیمات مجروح ہونے لگی ہیں۔ آج مسلمانانِ عالم بالخصوص مسلک نوربخشیہ طرح طرح کے مسائل میں مبتلا ہیں اور اس کی بنیادی وجہ نا اتفاقی، فرقہ وارانہ منافرت، مسلکی تعصبات،ِّ حق سے عاری ،جاہ و اقتدار کی جنگ، حسد، بغض اور دوسرے مادی مفادات، عدم برداشت اور عدم اتحاد ہے۔ مسلمانوں کی عظمت و عزت و سربلندی سب کچھ اختلافات کی نذر ہو گیا۔ اسلام کے دشمن متحد ہیں اور اُن کا اتحاد اسی نکتے کی افادیت سے بخوبی آگاہی کی بنا پر ہے۔ اور وہ مختلف سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ تاریخی حقائق کلام۔پاک،احادیث نبوی، اقوال ائمہ اور ہمارے مسلک کے موجودہ رہبر پیر طریقت رہبر شریعت جناب سید محمد شاہ نورانی صاحب کی پیشن گوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف پیدا کرنا یہود و نصاریٰ کا پرانا طریقہ ہے۔
قرآن کریم ہمیں یہود و نصاریٰ کی اس نفسیات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ متعدد آیات میں مسلمانوں کو متحد و متفق رہنے کا حکم دیتا ہے، تفرقے و اختلافات سے دور رہنے، غور و فکر سے کام لینے اور صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ آپس کا اتحاد، تقویٰ و اخوت کے اصولوں پر چلنے سے حاصل ہو سکتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس وسعتِ قلبی، حق بات کو تسلیم کرنے کی ہمت اور المسلمو من سلم المسلمون بیدہ و لسانہ مسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان امن میں ہو کا مصداق ہو کیونکہ ’’وحدت و اخوت‘‘ فراخی قلب و ذہن چاہتی ہے۔
حضرات ! اتحاد و اتفاق کے سلسلے میں یہ چند چیزیں تھیں جو میں آپ کے سامنے ذکر کی ہیں اور میرا یقین ہے کہ اللہ نے جو کچھ فرمایا وہی سچ ہے اور اسی پر عمل کرکے ایک بار پھر یہ مسلک سرخرو اور کامیاب ہو سکتی ہے اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت، مجد، شہرت، عزت اور ساکھ کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے اگر ہم اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو ذلت ورسوائی اور بزدلی مزید اس قوم کی مقدر بن جائے گی اس لئے سب سے پہلے ہمیں بیدارہونا ہو گا جب ہم بیدار ہوں گے تو پھر پوری قوم بیدار ہوگی۔ چونکہ اللہ کا ارشاد ہے۔
(ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیرما بانفسھم (سورہ رعد)
شاعر نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے۔ ۔۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے آپ اپنی حالت بدلنے کا

اخیر میں اللہ سے دعا ہیکہ ہم سب کو اتحاد واتفاق سے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مؤدت کرنے کی توفیق دے۔ ۔۔۔آمین

سات صندوقوں میں بھر کردفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت۔