صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

امیرالمومنین علیہ السلام کے اسماء والقاب


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

امیرالمومنین علیہ السلام کے اسماء والقاب

تحریر:سید بشارت حسین تھگسوی

thagasvi1992@gmail.com
قال الله تعالي : إِنَّما وَلِيُّكُمُ‏ اللَّهُ‏ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ‏
(سورہ مائدہ آیت ۵۵)

ترجمہ:تمہا مددگار تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (پاک) ہے اور ایمان والے ہیں جو صحیح نماز ادا کرتے ہیں اور ذکوٰة دیا کرتے ہیں اور (ہر حال میں ) بار گاہ الہٰی میں جھکنے والے ہیں۔

اہل سنت و الجماعت کے معروف عالم دین علامہ جلال الدین سیوطی نے اس آیت کی تفسیر میں تیرہ رایوں سے نقل کر کے لکھا ہے کہ جب امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ں نے حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی سائل کو عطا کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۸۰۴)

اس سے قبل سیدة النساء العالمین ،دختر رحمت للعالمین جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اسمائے گرامی اور ان کی وجہ تسمیہ سے متعلق حقیر نے ایک ادنیٰ سی کوشش کی تھی ۔اس کے بعد حقیر کا ضمیر مسلسل آواز دیتا رہا کہ کہ ان کے شوھر گرامی نفس رسول ، راکب دوش مصطفیٰ حضرت علی علیہ السلام کہ اگر آپ کے وجود مبارک سے دنیا خالی ہوتی تو رسول خدا کی اس عظیم بیٹی کیلئے کفو (ہمسر) نہ ملتا۔
وَعَنْ اُمِّ سَلْمَةٍ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ لَوْ لَمْ یُخْلَقْ عَلِیّ مَاکَانَ لِفَاطِمَةَ کُفُو۔ (مودۃ القربیٰ مودۃ ۵ حدیث ۱۳)

ترجمہ: اور حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر علی علیہ السلام خلق نہ ہوتے تو فاطمہ سلام اﷲ علیھا کیلئے ہمسر نہ ملتا ۔

اس عظیم ہستی کے بارے میں بھی اپنی علمی کمزوری کا اقرار کرتے ہو ئے قلم اٹھانے کی جسارت کی ہے ۔ جناب امیر کے علمی کمالات ،معجزات و کرامات ،شجاعت و سخاوت اور دیگر حوالے سے ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔لیکن آپ کے اسماء والقابات کے حوالے سے کوئی مسقل کتاب کسی بھی زبان میں ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ۔انشاء اللہ حقیر کی یہ کوشش نزد خداوند مقبول و منظور ہو۔

جس طرح جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے اسماء اور ان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں احادیث و روایات فراوان موجود ہیں اسی طرح جنا ب امیر علیہ السلام کے اسماء کے حوالے سے ایسا نہیں ہے اور کوئی خاص حدیث جس میں سارے نام اور القابات ذکر ہو ، کتابوں کی کافی ورق گردانی کے بعد بھی تلاش کرنے سے قاصر رہا ۔تا ہم مختلف احادیث و روایات کا سہارا لیکر یہ مقالہ ضبط قلم کررہا ہوں۔پہلے مقالے میں عرض کیا تھا کہ معصومین علیہم السلام کے القاب تعارفی نہیں ہیں جسطرح ہم ایک دوسرے کو دیتے ہیں بلکہ ان ذوات مقدسہ کے ہر لقب ان کے خاص صفت پر دلالت کرتے ہیں جو ان کے وجود مبارک میں پائے جاتے ہیں ۔ہمارے آپس میں جو اسم گزاری کرتے ہیں وہ تشریفاتی اور تعارفی ہیں ۔ مثلا حجةالاسلام ،آیة اللہ، شریعت مدار ، نائب امام ،خطیب اعظم ،مفتی اعظم وغیرہ یہ القاب بعنوان عزت و احترام دیئے جاتے ہیں ۔ لیکن ائمہ معصومین علیہم السلام کے القاب اور اسمای گرامی ایک حقیقت اور باسم بہ مسمی ہیں ۔

1۔علی

اس سلسلے میں سب سے اہم اور مشہور نام اصلی آنحضرت یعنی ”علی” ہے ۔اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کچھ روایتیں ملتی ہے ۔
وقد روی عن فاطمه بنت اسد انها قالت :انی دخلت بیت الله الحرام واکلت من ثمار الجنة وارزاقها فلما اردت ان اخرج هتف بیی هاتف : یا فاطمة سمیه علیا فهو علی والله العلی الاعلی یقول : انی شققت اسمه من اسمی وادبته بی ادبیی ووقفته علی غامض علمی وهوالذی یکسر الاصنام فی بیتی ،وهو الذی یوئذن فوق بیتی فطوبی لمن احبه وویل لمن عصاه وابغضه۔ (الصحیح من سیرة الامام علی ج ٢ ص ١٤٢ ، علل الشرائع ج ٣ ص ١٣٦)

ترجمہ :حضرت فاطمہ بنت اسد روایت کرتی ہیں کہ میں بیت اللہ میں داخل ہوئی اور جنت کے میوہ جات اور دیگر رزق کھایا ۔جب میں وہاں سے نکلنا چاہا تو ہاتف غیبی کی طرف سے ایک ندا آئی اے فاطمہ اس (بچے)کا نام علی رکھیں ،بے شک یہ علی ہے اور اللہ علی الاعلیٰ ہے ۔بے شک میں نے اس کا نام اپنے نام سے اشتیاق کیا ہے اور ان کو ادب سکھایا ہے اور اپنے علوم کے سمندر سے اس کو علم دیا ہے ۔یہ وہ (ہستی ) ہے میرے گھر میں موجود بتوں کو توڑیں گے اور یہ وہ (ہستی ہے ) ہے میرے گھر کے اوپر اذان دیں گے ۔پس خوش خبر ی ہے اس شخص کیلئے جو اس سے محبت رکھے اور افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اس سے دشمنی رکھے۔

اس روایت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس دن مولائے متقیان حضرت علی ں دنیا میں تشریف لائے اسی دن سے ان کی مادر گرامی کو اذن الٰہی ہوا کہ اپنے نومولود بچے کا نام علی رکھا جائے ۔

علامہ زمحشری کہتے ہیں :

ان النبی تونی تسمیه
(السیرة الحلبیہ ج١ ص٢٦٨)

ترجمہ : بے شک نبی اکر م نے ان کا نام رکھا ۔

اس بات میں اور پہلی روایت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ نبی اکرم بھی حکم الٰہی کے علاوہ سخن نہیں فرماتے تھے۔

سبط ابن الجوزی کہتے ہیں :

ان حیدر ة وصف لعلی وعلی هو الاسم الاصلی له
. (تذکرة الخواص ج ١ ص ١١٤)

ترجمہ: بیشک حیدر علی کے لئے صفت ہے اور انکا اصلی نام علی ہے۔

اس کے علاوہ یہ مشہور اور طولانی روایت آپ کی وجہ تسمیہ سے متعلق احادیث کی معتبر کتابوں میں مروی ہے ۔

وَعَنْ عَبَّاسِ ابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِیْ تَسْمِیَةِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیًّا قَالَ لَمَّا حَمَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ اَسَدٍ بِعَلِیٍّ وَجَائَ تْ به فَقَالَتْ اَلتَّسْمِیَةُ لِیْ وَقَالَ اَبُوْطَالِبٍ اَلتَّسْمِیَةُ لِیْ وَاحْتَکَمَا اِلی َورَقَةَ ابْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ اِنْ کَانَ ذَکَراً فَالتَّسْمِیَةُ لِلْاَبِ وَ اِنْ کَانَتْ اُنْثی فَالتَّسِمَیةُ لِلْاُمِّ فَلَمَّا وَلَدَتْ ذَکَراً قَالَتْ یَا اَبَا طَالِبٍ سَمِّ ابْنَکَ قَالَ سَمَّیْتُ الْحَارِثَ قَالَتْ مَا اُسَمِّیْ اِبْنِیْ الْحاَرِثَ قَالَ لِمَ۔؟ قَالَتْ لِاَنّه اِسْم مِنْ اَسْمَائِ اِبْلِیْسٍ فَقَالَ هَلُمِّیْ نَعْلَوَا اَبَا قُبَیْسٍ لَیْلاً وَنَدْعُوْا صَاحِبَ الْخَضْرَائِ فَلَعَلّهُ یُنَبِّئْنَا فِیْ ذَالِکَ بِشَیئٍ فَلَمْ اَمْسِیَا وجَنهَا الَّلیْلُ خَرَجَا فَعَلَوَا اَبَاقُبَیْسٍ فَلَمَّا حَصَلاَ عَلَیْهِ اِنْشَائَ اَبُوْ طَالِبٍ یَقُوْلُ۔ شِعْر۔
یَا رَبِّ اِنْعَسَقَ الدُّجی
وَالْفَلَقِ الْمُبْتَلِجِ الْمُضِی
بَیِّنْ لَنَا عَنْ اَمْرِکَ الْمَقْضِی
بِمَا نُسَمِّیْهِ لِذَالِکَ الصِّبِیِّ
فَاِذاً خَشْخَشَة وَجِلَیَة مِنَ السَّمَائِ فَرَفَعَ اَبُوْ طَالِبٍ طَرَفَه فَاِذاً لَوْح مِنْ زَبَرْجَدٍ خَضْرٍ فِیْهِ اَرْبَعَةُ اَسْطُرٍ فَاَخَذَہ اَبُوْ طَالِبٍ بِکِلَتَیْ یَدَیْهِ وَ ضَمَّهُ اِلی صَدْرِہ ضَمًّا شَدِیْداً فَاِذاً مَکْتُوْب فِیْهِ شِعْر۔
خَصِّصْتُمَا بِالْوَلَدِ الزَّکِیِّ
وَالطَّاهِرِ الْمُنْتَجَبِ الرَّضِیِّ
وَاِسْمُهُ مِنْ قَاهِرِ السَمِّی
عَلِیّ اِشْتَقَّ مِنْ الْعَلِیِّ
فَسَرَّاَبُوْطَالِبٍ بِذَالِکَ سُرُوْراً عَظِیْماً وَخَرَّ سَاجِدًا ِﷲِ تَبَارَکَ وَتعَالی وَ عَقَّ عَنْه بِعَشْرَةٍمِّنَ الْاِبِلِ وَ اَوْلَمَ عَلَیْهِ وَلِیْمَةَ وَکَانَ ذَالِکَ اللَّوْحُ مُعَلَّقاً فِیْ بَیْتِ الْحَرَامِ اِفْتَخَرَ بِهِ بَنُوْ هَاشِمٍ عَلی قُرَیْشٍ حَتّی اِقْتَلَعَهُ عَبْدُالْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانِ زَمَانِ قِتَالِ عَبْدِاﷲِ بْنِ زُبَیْرٍ۔

(مودة القربیٰ مودة ٨ح٤ص ٨٧،ینابیع المودة ج٢ ص ٣٠٥)

ترجمہ: اور حضرت عباس ابن عبد المطلب سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو علی کے نام سے موسوم کرنے کے باب میں روایت ہے کہ جب فاطمہ بنت اسد کو علی علیہ السلام حمل تھا تو وہ آئیں اور کہنے لگی کہ نام میں رکھوں گی اور حضرت ابوطالب بولے نام میں رکھوں گا اور دونوں ورقہ بن نوفل کے پاس یہ معاملہ لے گئے تو اس نے کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو نام رکھنا باپ کا حق ہے اور اگر بیٹی ہوئی تو نام رکھنے کا حق ماں کوحاصل ہے۔ جب بیٹا پیدا ہوا تو کہنے لگی اے ابوطالب اپنے نومولود کو نام رکھئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس کا نام حارث رکھا۔ فاطمہ بولی میں اپنے بیٹے کا نام حارث نہیں رکھوں گی۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ تو کہنے لگی کہ حارث ابلیس کے ناموں سے ایک ہے۔ پس حضرت ابوطالب نے کہاکہ آؤ ہم رات کو (کوہ) ابو قبیس پر چڑھیں اور سبز آسمان کے مالک سے دعا کریں۔ شاید وہ خدائے مہربان اس بارے میں ہمیں کچھ بتائے۔ جب شام ہوئی اور رات کی تاریکی چھا گئی تو دونوں میاں بیوی نکلے اور (کوہ) ابو قبیس پر چڑھنے لگے۔ جب اوپر پہنچ گئے تو حضرت ابوطالب نے یہ شعر پڑھا۔

”اے شب تاریک اور روشن ہونے والی صبح کے پروردگار تو ہمیں اپنے مقرر کردہ حکم سے بتا دے کہ ہم اس نومولود بچے کا نام کیا رکھیں؟” اس وقت اچانک آسمان سے ایک خوفناک آواز آئی۔ حضرت ابوطالب نے اس طرف دیکھا تو کیا نظر آتا ہے ایک سبز زبرجد کی تختی ہے اس میں چار لکیریں لکھی ہوئی ہیں۔ حضرت ابوطالب نے اس تختی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لیا اور خوب زور سے اپنے سینے سے لگایا (اور دیکھا تو) اس میں یہ شعر درج تھا۔ ”تم دونوں فرزند نیک’ پاکیزہ’ برگزیدہ اور پسندیدہ سے مخصوص کئے گئے ہو۔ اور اس کا نام خدائے قاہر و بزرگ کی طرف سے علی ہے جو کہ عُلٰی (جو اسم خداوندی ہے) سے مشتق ہے۔” پس حضرت ابوطالب بہت زیادہ خوش ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوگئے اور دس اونٹوں سے اپنے نومولود فرزند کا عقیقہ کیا اور احسن طریقے سے دعوت ولیمہ کھلائی۔ یہ تختی بیت الحرام میں لٹکی ہوئی تھی اور بنی ہاشم اس تختی پر قریش سے فخر کرتے تھے’ یہاں تک عبدالملک بن مروان نے عبد اللہ بن زبیر سے جنگ کے وقت اسے اکھاڑ دی۔

اسی مطلب سے قریب روایت امام سجاد سے بھی نقل ہوئی ہے۔

الامام زین العابدین کان رسول الله ذات یوم جالسا
وعنده علیا وفاطمة والحسن والحسین فقال : والذی بعثنی بالحق بشیراً ماعلی وجه الارض خلق احب الی الله عزوجل والاکرام علیه منا ان الله تبارک وتعالی شق لی اسما ًمن اسمائه فهو محمود انا محمد و شق لک یا علی اسماً من اسمائه فهو الاعلی وانت علی۔

(معانی الاخبار ج ٣ ص٥٥)

ترجمہ :امام زین العابدین روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا تشردف فرما تھے اور ان کے پاس علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین بھی بیٹھے تھے اس وقت آپ (ص) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے روی زمین پر حقیقی بشیر بنا کر مبعوث کیا اور محبوب ترین لوگ ہم میں قرار دیا ۔بی شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے میرے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا ،پس وہ محمود ہے اور میں محمد،اور اے علی آپ کیلئے اپنے نام میں سے ایک نام اشتیاق کیا ہے پس وہ اعلیٰ ہے اور آپ علی۔

۲۔وصی

لغت میں وصی کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے ‘جو شخص دوسرے کسی شخص کی طرف سے اس کے مال اور اہل و عیال کا نگران ہو’

(لغات الحدیث (عربی اردو) ج ٤ ص ٤٩٢)

قال رسول الله ان وصی وموضع سرّی وخیر من اترک بعدی و ینجز عدتی و یقضی دینی علی ابن ابی طالب۔

( کنزالعمال ج ٦ ص ١٥٤)

ترجمہ:پیغمبر اکرم نے فرمایا :بیشک میرے وصی اور میرے اسرار کا جاننے والا اور جو میں چھوڑ کے جاوں گا ان کا مالک اور میرے دین میں فیصلے کرنے والا علی ابن ابی طالب ہے۔

سال سلمان الفارسی رسول الله فقال له من وصیّک ؟ فقال له یا سلمان من کان وصی موسی ؟ قال یوشع قال فانّ وصیّ و وارثی یقضی دینی وینجزی موعدی علی بن ابی طالب
.(الریاض النضرہ ج ٢ ص ١٧٨)

ترجمہ : سلمان فارسی نے رسول خدا سے سوال کیا اور ان سے کہا آپ کے وصی کون ہے ؟ تو آپ (ص) نے فرمایا اے سلمان موسیٰ کا وصی کون تھا ؟ (سلمان نے) کہا یوشع ، تو آ پ نے فرمایا بیشک میر اوصی اور میرا وارث، میرے دین میں فیصلے کرنے والا علی ابن ابی طالب ہے۔

صحابی خزیمة بن ثابت کہتے ہیں :

یا وصی النّبیّ قد اجلت الحرب لنا و سادت الا ضغان

(مو سو عة الامام امیر المومنین علی ج١ ص ٤٨)

ترجمہ :اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصی بیشک ہمارے لئے جہاد اور اضغان پہنچ گیا۔

فضل بن عباس فرماتے ہیں :

الا ان خیر الناّس بعد محمد وصیّ النّبی عندہ ذی الذکر

و اول من صلّی وصنو نبیه و اول من اردی الغواة لدی بدر

(مو سو عة الامام امیر المومنین علی ج١ ص ٤٧)

ترجمہ: آگاہ رہیں اہل ذکر کے نزدیک پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر مخلوق اسکے وصی ہیں ،وہ شخص جس نے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور بدر میں سب سے پہلے جنگ لڑی۔

وَعَنْ بُرِیْدَةٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ لَکُلِّ نَبِیٍّ وَصِیّ وَ وَارِث وَ اِنَّ عَلِیّاً وَصِیِّیْ وَ وَارِثِیْ۔

ترجمہ: اور حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا وصی اور وارث ہوتا ہے اور بے شک علی علیہ السلام میرے وصی اور وارث ہیں۔

(مودة القربیٰ مودة ٤ ح٥ص ٤٧)

وَعَنْ عَتبَةِ بْنِ عَامِرِ الْجُهْنِیِّ قَالَ بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّهِ عَلی قَوْلٍ اَنْ لَّا اِلهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَہ لاَ شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً نَبِیُّهُ وَ عَلِیاًّ وَصِیُّهُ۔ فَاَیُّ مِنَ الثَّلَثَةِ تَرَکْنَاہ کَفَرْنَا۔ وَقَالَ صلعم لَنَا اَحِبُّوْا هَذَا یَعْنِیْ عَلِیًّا فاِنَّ اﷲَ یُحِبُّهُ وَ اسْتَحْیُوْا مِنْهُ فَاِنَّ اﷲَ یَسْتَحْیِی مِنْهُ
۔(مودة القربیٰ مودة ٤ ح٨ص ٤٩)

ترجمہ: حضرت عتبہ بن عامر جہنی سے منقول ہے کہ ہم نے اس بات پر رسول اﷲسے بیعت کی کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں اور علی علیہ السلام ان کے وصی ہیں پس ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی ہم چھوڑدیں گے تو ہم کافر ہوجائیں گے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان (علی ) کو دوست رکھو کیونکہ خدا تعالیٰ بھی اس کو دوست رکھتا ہے اور ان سے حیا کرو کیونکہ خدا تعالیٰ بھی اس سے حیا فرماتا ہے۔

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ اِنَّ اﷲَ جَعَلَ لِکُلِّ نَبِیٍّ وَصِیًّا جَعَلَ شِیْثَ وَصِیَّ آدَمَ وَ یُوْشَعَ وَصِیَّ مُوْسی وَشَمْعُوْنَ وَصِیِّ عِیْسی وَ عَلِیًّا وَصِیِّیِ وَوَ صِیِّیْ خَیْرُالْاَوْصِیَائِ فِی الْبِدَائِ وَاَنَاالدَّاعِیْ وهوَالْمُضِیُّ۔

(مودة القربیٰ مودة ٤ ح٩ص ٤٩)

ترجمہ: اور حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی کیلئے ایک وصی مقرر کیا ہے۔ شیث کو حضرت آدم علیہ السلام کا وصی بنایا اوریوشع کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصی بنایا اور شمعون کو حضرت عیسیٰ کا وصی بنایا اور علی کو میرا وصی بنایا ہے اور میرے وصی ابتدا سے ہی تمام اوصیاء سے افضل ہیں اور میں مخلوق الٰہی کو اللہ کی طرف دعوت دینے والا ہوں اور وہ (علی ) نور دینے والا ہے۔

۳۔صدیق

لغت میں یوں تعریف کی ہے “زیادہ سچ بولنے والا ، وہ شخص جس کا عمل گفتار کے مطابق ہو”

(فرہنگ جدید(عربی ،فارسی) ص ٣٠٣)

قال انا صدیق الاکبر ،یقول مالک الاشتر مخاطباً له انت الصدیق الاکبر

(مو سو عة الامام امیر المومنین علی ج١ ص٤٧)

ترجمہ : آپ (ع) نے فرمایا میں صدیق اکبر ہوں ۔مالک اشتر آپ کو اسی طرح مخاطب ہوتے تھے ”آپ صدیق اکبر ہیں ”

آپ کے القا ب میں سے ایک صدیق ہونے کے بارے میں محب طبری کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :

اماما ورد من تلقبیه بالصدیق الاکبر فمن ذالک ما ردا عنه انّ هذا اوّل من آمن به واوّل من یصافحنی یوم القیامة وهو الصدیق الاکبر وهذافاروق هذه الامة یفرق بین الحق والباطل و هذا یعسوب الدین ۔

(ریاض النضرہ ج ٢ ص ١٥٥، علی امام البررہ ج١ ص ٢١٦)

بہر حال آپ کے القاب میں سے جو وارد ہوئے ہیں ان میں سے ایک صدیق الاکبر ہے اسی لئے روایت میں وارد ہوا ہے کہ آپ وہ (ہستی) ہیں جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لایا اور قیامت کے دن رسول خدا سے سب سے پہلے ملاقات کرنے والا ہے اور آپ صدیق اکبر اوراس امت میں فاروق ہیں جو حق اور باطل میں فرق کریں گے اور یہ دین کے سردار ہیں ۔

قال علی :انا عبدالله واخو رسوله وانا الصدیق الاکبر وانا الفاروق الاعظم لا یقولها بعدی الّا کاذب مفتر ولقد صلّیت قبل النّا س سبع سنین
۔(سنن ابن ماجہ ج١ ص ٤٤)

ترجمہ: علی نے فرمایا :میں اللہ کا بندا اور اس کے رسول کا بھائی ہوں اور میں صدیق اکبر (سب سے زیادہ سچ بولنے والا)اور فاروق اعظم (حق اور باطل میں فرق کرنے والا ) ہوں ۔میرے بعدجھوٹا شخص کے علاوہ یہ دعویٰ نہیں کریگا ، بیشک میں نے باقی تمام لوگوں سے پہلے اپنی سات سال کی عمر میں نماز پڑھی۔

۴۔یعسوب الدین

یعنی دین کے سردار(لغات الحدیث (عربی اردو) ج ٤ ص ٦٠٩)

ان النبی قال له انت یعسوب الدین والمال یعسوب الطمعة
(اہل البیت من کتاب الشیعہ ج٢ ص ٢٠)

بے شک نبی اکرم نے ان (علی) کیلئے فرمایا :بیشک تو دین کا سردار ہے اور مال لالچی لوگوں کا سردار ہے.

روی ابو سعد قال دخلت علی علی و بین یدیه ذهب فقال انا یعسوب المومنین وهذا ای ذهب یسوب المنافقین ثم قال بی یلوذالمومنون و بهذا یلوذالمنافقون ۔

(کنز المعال ج٦ ص ٣٩٤، الصواعق المحرقہ ص ٧٥ا)

ترجمہ: حضرت ابو سعد روایت کرتے ہیں کہ میں علی کے پاس گیا تو اس وقت آپ کے سامنے سونا موجود تھا پس آپ نے فرمایا میں مومنوں کا سردار ہوں اور یہ یعنی سونا منافقین کا سردار ہے پھر آپ نے فرمایا مجھ مومنین پناہ حاصل کرتے ہیں اور اس (سونے) سے منافقین پناہ لیتے ہیں۔

قال علی انا یعسوب المومنین والمال یعسوب الکفار

(لغات الحدیث ج ٤ص ٦٠٩)

ترجمہ:علی نے فرمایا :میں مومنوں کا سردار ہوں اور مال کافروں کا سردار ہے۔

اماما ورد من تلقبیه بالصدیق الاکبر فمن ذالک ما ردا عنه انّ هذا اوّل من آمن به واوّل من یصافحنی یوم القیامة وهو الصدیق الاکبر وهذافاروق هذہ الامة یفرق بین الحق والباطل و هذا دیعسوب الدین ۔

(ریاض النضرہ ج ٢ ص ١٥٥، علی امام البررہ ج١ ص ٢١٦)

بہر حال آپ کے القاب میں سے جو وارد ہوئے ہیں ان میں سے ایک صدیق الاکبر ہے اسی لئے روایت میں وارد ہوا ہے کہ آپ وہ (ہستی) ہیں جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لایا اور قیامت کے دن رسول خدا سے سب سے پہلے ملاقات کرنیوالے ہیں اور آپ صدیق اکبر اوراس امت میں فاروق ہیں جو حق اور باطل میں فرق کریں گے اور یہ دین کے سردار ہیں ۔

۵۔ہادی

لغت میں ہادی ہدایت کرنے والے کو کہتے ہیں ۔(فرھنگ جدید(عربی ،فارسی) ص ١١)

محب طبری کہتے ہیں کہ جناب امیر کے القاب میں سے ایک ہادی بھی ہے ۔(ریاض النضرہ ج١ ص ١٥٥)

فرمان باری تعالیٰ ہے۔

و إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
(سورہ الرعد آیت ۷)

اس آیت میں نذیر سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ہادی سے مراد علی ہیں.

(تفسیر طبری ج١٣ ص٦٠٩،حوالہ :لغات الحدیث ج ٤ص٥٦٨)

رسول اکرم نے فرمایا:

انا نذیر هذہ الامة وعلی هادیها

(مودة القربیٰ مودة ٧ ح ٢٠ ص ٨٣)

میں اس امت کا نذیر (ڈرانے والے ) اور علی ہادی (ہدایت کرنے والے ) ہیں۔

اسی آیت کی ذیل میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بھی ہے ۔

انا لمنذر وعلی الهادی وبک یا علی دهتدی المهتدون

(نور الابصار فی مناقب آل النبی الاطہار ص٣٠٠،مشارب الاذواق ص 55)

ترجمہ :میں منذر (ڈرانے والے) اور اے علی آپ ہادی (ہدایت کرنے والے ) ہیں اور آپ کے ذریعے ہدایت پانیوالے ہدایت پائینگے۔

۶۔امیر المومنین

امیر کے معنی حاکم ،فرمانرواکے ہیں ۔امیر المو منین یعنی مومنین کے امیر

(فرھنگ جدید(عربی ،فارسی) ص ١١)

عن جابر ابن یذید عن ابی جعفر قلت له جعلت فداک لم سمّی امیر المومنین، امیر المومنین ؟ قال له لانّه یمیرھم العلم ،اما سمعت کتاب الله عزوجل و نمیر اهلنا
.(معانی الاخبار ج٣ ص ١٣)

ترجمہ:جابر ابن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابی جعفر(امام باقر) سے عرض کی کہ میں آپ پر قربان جائوں۔ امیر المومنین (علی) کو امیر المومنین کیوں کہا جاتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کیونکہ وہ علم سے لبریز ہیں ۔کیا تم نے کتاب اللہ (قرآن ) میں نہیں سنا کہ

” ونمیر اهلنا”
وَعَنْ حُذَیْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ لَوْ عَلِمَ النَّاسَُ اَنَّ عَلِیًّا مَتٰی سُمِیَّ اَمِیْرُالْمُوْمِنِیْنَ مَاانْکَرُوْا فَضْلَهُ سُمِیَّ اَمِیْرُالْمُوْمِنِیْنَ وَ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔

(مودة القربیٰ مودة٤ ح ٦ ص ٤٨)

ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ جانتے کہ علی علیہ السلام کو امیر المومنین کے نام سے کب موسوم کیاگیا ہے تو ان کے فضائل کا کبھی انکار نہ کرتے۔ علی علیہ السلام اس وقت امیرالمومنین کے نام سے موسوم ہوئے جبکہ آدم علیہ السلام روح اور بدن کے درمیان تھے۔

۷۔فاروق

لغت میں حق اور باطل میں فرق کرنے والے کو کہتے ہیں ۔

( لغات الحدیث (عربی اردو) ج ٣ ص ٣٠٣)

و عَنْ اِبیْ لَیْلی الْغَفَّاِریِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ سَتَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ فِتْنَة فِاِذَا کَانَ ذَالِکَ فَاَلْزِمُوْا عَلِیّاً فَاِنَّهُ الْفَارُوْقُ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ کَذَافِی الْفِرْدَوْسِ۔

(مودة القربیٰ مودة ٦ ح٥ ص ٦٤)

ترجمہ: ۔اور حضرت ابو لیلیٰ غفاری سے مروی ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا کہ بہت جلد میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا اور جب وہ فتنہ برپا ہوگا تو تم سب علی علیہ السلام کی تابعداری کو اپنے اوپر لازم کرو کیونکہ وہ حق اور باطل کے درمیان خوب فرق کرنے والے ہیں ۔ فردوس میںبھی اسی طرح ہے۔

قال علی :انا عبدالله واخو رسوله وانا الصدیق الاکبر وانا فاروق الاعظم لا یقولها بعدی الّا کاذب مفتر ولقد صلّیت قبل النّا س سبع سنین ۔

(سنن ابن ماجہ ج١ ص ٤٤)

ترجمہ: علی نے فرمایا :میں اللہ کا بندا اور اس کے رسول کا بھائی ہوں اور میں صدیق اکبر (سب سے زیادہ سچ بولنے والا)اور فاروق اعظم (حق اور باطل میں فرق کرنے والا ) ہوں ۔میرے بعدجھوٹا شخص کے علاوہ یہ دعویٰ نہیں کرے گا ۔اور میں نے باقی تمام لوگوں سے قبل اپنی سات سال کی عمر میں نماز پڑھی۔

۸۔خیر البشر

قال رسول الله من لم یقل علی خیر البشر فقد کفر.

(مستدرک الحاکم ج٣ ص ١٢٤، کنز العمال ج٦ ص ١٥٧)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے علی کو خیر البشر نہیں کہا بیشک اس نے کفر کیا۔

اسی طرح آپ کو خیر البشر کہنے کے حوالے سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں اور امیر کبیر ، حضرت شاہ ہمدان نے مودة القربیٰ میں مندرجہ ذیل تین روایات نقل کی ہیں ۔

پہلی حدیث

وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ سُئِلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَلِیٍّ قَالَتْ ذَالِکَ خَیْرُالْبَشَرِلَایَشُکُّ اِلَّا کَافِر۔

ترجمہ: ۔ عطاء سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے علی علیہ السلام سے متعلق سوال کیا۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ وہ تمام بشر(انسانوں) سے افضل ہیں۔ کافر کے علاوہ کوئی بھی اس میں شک نہیں کرے گا۔

دوسری حدیث

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ لِیْ اَنْتَ خَیْرُالْبَشَرِ مَاشَکَّ فِیْهِ اِلَّا کَافِر۔

ترجمہ: امیرالمؤمنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے علی تم خیرالبشر ہو اس میں کافرکے سوا کوئی شک نہیںکرے گا۔

تیسری حدیث

وَعَنْ حُذَیْفَةَقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ عَلِیّ خَیْرُالْبَشَرِ مَنْ اَبٰی فَقَدْ کَفَرَ۔

ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ علی علیہ السلام خیرالبشر ہیں جس نے انکار کیا گویا اس نے کفر کیا۔

(مودة القربیٰ مودة ٢ ح١،٢،٣ ص ٣٩)

اور اسی لئے مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے بزرگان نے اذان میں بھی “محمد و علی خیر البشر “پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

(دعوات صوفیہ امامیہ ص 86)

۹۔حیدر

حیدر کے لغوی معنٰی شیر کے ہیں۔

(لغات الحدیث (عربی اردو) ج ١ ص ٥٤٢)

خیبر کے دن جب مرحب امیر المومنین کے مقابلے میں آیا تو اس نے اپنا تعارف کرتے ہو ئے کہا:

قد علمت خیبر انی مرحب شاک سلاحی بطل مجرّب

المض احیاناً و حینا اضرباذا اللیوث اقبلت تلتهب

ترجمہ :خیبر والے جانتے ہیں میں مرحب ہوں ،میں جنگ کا ماہر اور مسلح ہوں ۔جب میں کسی پر وارکرتا ہوںتو وہ بچتا نہیں۔جب شیر میرے مقابلے میں آتا ہے تو وہ بھی فرار ہوتا ہے ۔

جواب میں مولا علی نے ان الفاظ میں اپنا تعارف کرایا:

انا الّذی سمتنی امّی حیدرة ضرغام آجال ولیث قسورة

علی الاعادی مثل ریح صر صره اکیلکم بالسیف کیل السندره

ترجمہ: میں وہ شخص ہوں میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے ۔میں دشمنوں پر شیر بن کر تند ہوا کی طرح کر برس پڑتا ہوں ۔میں تلوار کے ذریعے مار دیتا ہوں۔

(بحار الانوار ج٤١ ص ٦٨،ج ٣٩ ص ١٤،ج ٢١ ص ١٥،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ج۱ ص ۱۱مقدمہ)

۱۰۔المرتضیٰ

شیخ شبلنجی کے مطابق مرتضیٰ بھی مولائے متقیان امام علی ابن ابی طالب کے القاب میں سے ہے ۔

(نور الابصار ص٩٤)

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَةٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ یَقُوْلُ سُمِّیَ النَّاسُ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَجْلِ عَلِیٍّ وَ لَوْ لَمْ یُوْمِنْ عَلِیٍ لَمْ یَکُنْ مَوْمِن فِیْ اُمَّتِیْ وَسُمِّیَ مُخْتَاراً لِاَنَّ اﷲَ اِخْتَارَہ وَسُمِّیَ الْمُرْتَضی لِاَنَّ اﷲَ اِرْتَضَاہ وَ سُمِّیَ عَلِیًّالِاَنَّهُ لَمْ َیسُمَّ اَحَداً قَبْلَهُ بِاِسْمِهِ وَسُمِّیَتْ فَاطِمَةُ بَتْوْلاً لِاَنَّهَا َتبَتَّلَتْ کَلَّ لَیْلَةٍ مَعْنَاہ تَرْجِعُ کُلَّ لَیْلَةٍ بِکْراً وَ سُمِّیَتْ مَرْیَمُ بَتُوْلاً لِاَنَّهَا وَلَدَتْ عِیْسی بِکْراً۔

(مودة القربیٰ مودة٨ ح ٣ص ٨٦)

ترجمہ: حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ علی علیہ السلام کی وجہ سے مومنین کے نام سے موسوم ہوئے ہیں۔ اگر علی ایمان نہ لاتے تو میری امت میں سے کوئی بھی ایمان نہ لاتا اور علی مختارکے نام سے موسوم ہوئے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں منتخب فرمایا اور علی ‘ مرتضیٰ کے نام سے موسوم ہوئے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں برگزیدہ بنایا اور علی کے نام سے موسوم اس لئے ہوئے اللہ نے اس سے پہلے کبھی کسی کو علی کے نام سے موسوم نہیں کیااور فاطمہ کا نام بتول اس لئے ہوا کہ وہ ہر رات بتول یعنی باکرہ ہوجاتی تھی اور حضرت مریم کو بتول اس لئے نام دیا گیا کہ حالت بکر میں عیسیٰ علیہ السلام کو جنا۔

۱۱۔انزاع البطین

لغوی معنی یہ ہے کہ ” وہ شخص جو کبھی بھی کھانے کے پیچھے نہیں جاتے ”

(فرھنگ جدید(عربی ،فارسی) ص ٥٣٠،٥٧٤)

شیخ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام علی کے القاب میں سے ایک انزاع البطین بھی ہے ۔

(نور البصار ص٩٤)

قال رسول الله :یا علی ان الله عزوجل قد غفرلک و لاهلک ولشیعتک ولمحبیّ شیعتک فانّک الانزاع البطین المنزوع من الشرک.

(موسوعة علی ابن ابی طالب فی الکتاب والسنّة والتاریخ ج١ ص٨٥)

رسول خدا نے فرمایا اے علی بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو ،آپ کے اہل وعیال کو ،آپ کے چاہنے والے گروہ کو اور ان کے چاہنے والوں کو بخش دے گا ۔بیشک آپ انزاع البطین ہے اور شرک سے پاک ہے۔

خاتمہ

قال علی : انا اسمیّ فی الانجیل ”الیا” وفی التوراة ”بریئ”و فی الزّبور ”اریّ” وعند الہند ”کبکر” و عند الرّوم ”بطریسا” و عند الفرس ”جبر” و عند الترک ”بشیر” و عند الزنج ” حیتر” و عند الکهنه ”بوی” و عند امّی ”حیدرہ” و عند ظئرد ”میمون” و عند العرب ”علی” و عند الارمن ”فریق”۔

(موسوعة علی ابن ابی طالب فی الکتاب والسنّة والتاریخ ج١ ص٧٨)

علی نے فرمایا:مجھے انجیل میں ”الیا” اور تورات میں ”بری”اور زبور میں ”اری ” اور ہندوں کے نزدیک ”کبکر”اور رومیوں کے نزدیک ”بطریسا”اور اہل فارس والے ”جبر” اور ترکی ”بشیر”اور زنجیون کے ہاں”حیتر ”اور کاہن لوگ ”بوی”اور میرے ماں ”حیدر ”اور ظئری ”میمون ” اور عرب والے ”علی” اورارمستان والے ”فریق ”کہتے ہیں ۔

قال رسول الله :اذا کان یوم القیامة ینادون علی ابن ابی طالب بسبعة اسمائٍ یا صدیق ، یا دال ، یا عابد، یا هادی ، یا مهدی ، یا فتی ، یا علی ،ادخل انت و شیعتک فی الجنة بغیر الحساب۔

(المناقب للخوارزمی ص ٣١٩،٣٢٣)

ترجمہ :رسول خدا نے فرمایا:قیامت کے دن ہاتفان غیبی علی ابن ابی طالب کو سات ناموں سے ند ا دیں گے اے صدیق ، اے دال ،اے عابد، اے ہادی ،اے مہدی ، اے نوجوان، اے علی آپ اور آپ کے چاہنے والے گروہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائیں ۔

اس کے علاوہ آپ کے القاب میں سے ”سب سے زیادہ جاننے والا،بہترین فیصلہ کرنے والا ، سب سے پہلے اسلام لانے والا ، سب سے پہلے نماز پڑھنے والا ،خیر البشر، امیر المومنین ، امام المتقین ، سیّد المسلمین ، یعسوب الدین ، عمود الدین ، سیّد الشہدا ، سیّد العرب ، رایة الہدیٰ ، باب الہدیٰ ، المرتضیٰ ،ولی اور وصی ہیں ۔

(موسوعة علی ابن ابی طالب فی الکتاب والسنّة والتاریخ ج١ ص٨٤)

اس مقالے کے آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جناب امیر المومنین کے دیگر فضائل و مناقب کی طرح آپ کے اسماء اور القابات کے پہلو بھی بے انتہا وسیع ہے اور اس پر مکمل تحقیق کے لئے ایک کتاب درکار ہے او ر مورخین اور محققین کو اس موضوع پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ میری دعا ہے کہ پروردگار ہمیں اس دنیا میں انہی ہستیوں کے محبت دل میں رکھ کر انکے سیرت طیبہ پر چل کر ان کو راضی کرنے اور قیامت کے دن کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا ء فرما۔(آمین)

منابع و مآخذ

قرآن مجید

١۔الریاض النضرہ،احمد ابن عبداللہ محب الدین طبری

٢۔السیرة الحلبیہ ، علی ابن برہان شافعی ،مطبعہ مصطفی محمد مصر

٣۔الصحیح من سیرة الامام علی ،سید جعفر مرتضیٰ عاملی ،المرکز الاسلامی للدرسات بیروت ،٢٠٠٩م

٤۔الصواعق المحرقہ،احمد ابن محمد ابن ہیثمی ،مکتبہ القاہرہ بیروت لبنان

٥۔المناقب للخوارزمی،موفق ابن احمد ابن محمد المکی خوارزمی ،موسسہ نشر اسلامی ١٤١١ھ

٦۔المستدرک علیٰ الصیحین،حافظ عبداللہ الحاکم نیشابوری ،دارلمعرفت بیروت لبنان

٧۔اہل البیت من کتاب اعیان الشیعہ ،سید محسن امین عاملی ،مجمع جہانی اہلبیت ٢٠١١م

٨۔بحار الانور ،تالیف :ملا باقر مجلسی ،ناشر :دارالوفا بیروت لبنان

٩۔تذکرة الخواص ،سبط ابن الجوزی ،موسسہ آل البیت بیروت لبنان

١٠۔خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالب ،امام ابی عبد الرحمن احمد ابن شعیب نسائی ،مکتبہ العصریہ بیروت ،١٤٢٨ھ

١١۔الدر المنثور فی تفسیر الماثور ،امام جلال الدین سیوطی ،ضیا القرآن پبلی کیشنز کراچی پاکستان،نومبر ٢٠٠٦م

١٢۔جامع البیان عن تاویل ایی القرآن ،ابی جعفر محمد ابن جریر طبری ،دارالفکر بیروت ،١٤٢١ھ

١٣۔سنن ابن ماجہ ،حافظ ابی عبداللہ محمد بن یزید القزوینی ابن ماجہ ،ناشر دار احیاء التراث العربی بیروت ،١٣٩٥ ھ،١٩٧٥م

١٤۔شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید معتزلی،دار احیا التراث العرنی بیروت لبنان ،١٤٣٠ھ

١٥۔علل الشرائع،شیخ صدوق ،مکتبہ الداوری قم ایران

١٦۔علی امام البررہ ،آیة ا۔۔۔سید ابو القاسم الخوئی ،دارالہادی بیروت ،٢٠٠٣م

١٧۔فرھنگ جدید عربی بہ فارسی ، تالیف : فواد ام البستانی ، ترجمہ : محمد بندریگی ‘ ناشر : انتشارات اسلامی تہران ایران ،سنہ اشاعت١٣٨٣ق

١٨۔کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال ،تالیف :علامہ علی متقی ہندی ‘ناشر:موسسة الرسالہ بیروت لبنان ،سنہ اشاعت ١٤٠٥ھ

١٩۔لغات الحدیث،علامہ وحید الزمان ،نعمانی کتب خانہ لاہور پاکستان،اگست ٢٠٠٥م

٢٠۔المودة القربیٰ ،تالیف : شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی ‘ترجمہ :آخوند محمد تقی حسینی ‘ناشر : جامعہ باب العلم سکردو ،سنہ اشاعت٢٠١٢ئ

٢١۔معانی الاخبار ،شیخ صدوق ،مکتبہ مفید قم ایران

٢٢۔مو سو عة الامام امیر المومنین علی،باقر شریف قریشی ،موسسہ الکوثر للمارف الاسلامیہ

٢٣۔موسوعة علی ابن ابی طالب فی الکتاب والسنّة والتاریخ،محمد ری شہری ،دارالحدیث قم ایران

٢٥۔نور الابصار فی مناقب آل النبی الاطہار،شیخ مومن شبلنجی ،ذوالقربیٰ قم ایران،١٣٨٤ق

٢٦۔ینابیع المودة ، تالیف : شیخ سلیمان ابن ابراہیم البلغی قندوزی ‘ناشر : موسسة الرسالہ بیروت لبنان