صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

سیرت مبارکہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام


سلسلۂ امامت کے چوتھے امام حضرت زین العابدین علیہ السلام کی تاریخ ولادت میں بہت زیادہ اختلافات ہے. بعض مورخین کےمطابق پندرہ جمادی الاول اور بعض کے نزدیک پانچ شعبان المعظم کو آپ کی پیدائش ہوئی.
آپ کے والد گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں والدہ ماجدہ کا نام شہر بانو ہے۔ آپؑ کی والدۂ ماجدہ کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ قطب رواندی نے حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ جب ایران کے آخری باشادہ یزد جرد بن شہر یار کی بیٹی مدینہ میں خلیفۂ دوم کے پاس لائی گئیں۔ تو مدینہ کی تمام لڑکیاں ان کا حسن و جمال دیکھنے مدینہ کی مسجد کے گرد جمع ہو گئیں۔ مدینہ کی مسجد ان کے چہرہ کے نور سے منور ہو گئی۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ لوگوں میں ندا کرو اور اس لڑکی کو بیچ دو تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ باشاہوں کی لڑکیوں کو بیچنا مناسب نہیں ہے۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو بلکہ اس کو آزاد کرو اور اسے اختیار دو تا کہ وہ کسی ایک مسلمان کا انتخاب کر لے اور اس سے شادی کر لے۔ اس کا حق مہر بیت المال میں سے ادا کرو عمر نے حضرت علی کا یہ مشورہع قبول کیا اور کہنے لگا کہ اہل مجلس میں سے کسی کو انتخاب کر لو۔ یہ نیک بخت خاتون آگے بڑھی اور اپنا ہاتھ امام حسینؑ کے کندھے پر رکھ دیا۔ پھر حضرت علی علیہ السلام نے اس کنیز کا نام پوچھا تو اس کنیز نے عرض کیا میران نام جہاں شاہ ہے۔ بعض روایت میں آیا ہے شاہِ زنان ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا آج سے تمہارا نام شہر بانو ہو گا۔ تو اس نیک بخت خاتون نے عرض کیا یہ تو میری بہن کا نام ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت امام حسینؑ کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا اس نیک بخت خاتون کی نگہبانی کرنا اور اس سے نیک سلوک کرنا کیونکہ اس سے اس سے ایسا بچہ پیدا ہو گا جو تمہارے بعد تمام اہل زمین سے بہتر ہو گا اور یہ میری پاک اولاد میں سے اوصیا کی ماں ہے۔ پس حضرت امام زین العابدینؑ ان سے پیدا ہوئے۔
بعض روایتوں نے یوں بیان کیا ہے کہ لشکر اسلام کے ان تک پہنچنے سے پہلے شہر بانو نے عالم خواب میں دیکھا کہ جناب رسول خداؐ ان کے گھر میں امام حسینؑ کے ساتھ داخل ہوئے اور پیغمبر اکرمؐ نے حضرت امام حسینؑ کے لئے اس کی خواستگاری کی اور ان کے اتھ شادی کر دی۔ شہر بانو کہتی ہیں کہ جب صبح ہوئی تو اس نورانی ہستی کی محبت میرے مدل میں بیٹھ گئی اور میں ہمیشہ اسی کے خیال میں رہتی تھی۔ جب دوسری رات آئی تو میں عالم خواب میں حضرت فاطمہ زہراؑ کو دیکھا کہ وہ میرے پاس تشریف لائیں اور مجھے اسلام کی دعوت دی۔ میں نے اس معصومہؑ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت فاطمۃ الزہرا نے فرمایا کہ عنقریب مسلمانوں کا لشکر ایران کو فتح کرے گا اور تم بہت جلد میرے بیٹے حسین تک جا پہنچے گی اور خدا کسی کو تجھ پر دست رازی نہیں کرنے دے گا۔ پھر وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ مجھے مدینہ لایا گیا جب میں نے امام حسینؑ کو دیکھا تو میں پہنچان گئی کہ یہ وہی ہیں جنہیں میں نے خواب میں رسول اللہ ؐکیساتھ دیکھا تھا اور رسول خدا نے اس کے ساتھ میری تزویج فرمائی تھی۔

آپ کی کنیت اور القابات
آپ کا اسم مبارک علی کنیت ابو محمد‘ ابو الحسن اور ابو القاسم تھی آپ کے القابات بے شمار تھے جن میں سے زین العابدین‘ سید الساجدین‘ سجاد‘ عابد اور ذوالثفنات ذیادہ مشہور تھے۔
لقب سجاد کی وجہ تسمیہ
ذہبی نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ حضرت امام زین العابدین کو سجاد اس لئے کہا جاتا تھا کہ آپ ہر کار خیر پر سجدۂ شکر بجالایا کرنے تھے۔ جب آپؑ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے تو سجدہ کرتے جب قرآن کی آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے جب دو آدمیوں کے درمیان صلح کراتے تو سجدہ کرتے۔ اس طرح کثرت سجدہ کی وجہ سے آپؑ کے سجدہ کے اعضاء پر اونٹوں کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے۔ اور ہر سال اسے کٹواتے تھے۔ اس لئے آپ کو ذوالثفنات بھی کہتے تھے۔

آپ کے لقب زین العابدین کی وجہ تسمیہ
کشف الغمہ نے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نماز میں مشغول تھے۔ کہ ابلیس سانپ کی شکل بن کر زمین کے نیچے سے سجدہ گاہ کے پاس باہر آیا جس کے دس سر تھے اور سب دانت نہایت تیز تھے۔ آنکھیں سرخ تھیں۔ پھر سجدہ گاہ کے گرد گھومنے لگا آپؑ کو اس سے کچھ اثر نہیں ہوا اور آپؑ نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تب اس نے پاؤں کی انگلیوں کو منہ میں لے کے کاٹنا شروع کیا مگر آپؑ نے کچھ خیال تک بھی نہ فرمایا اور نہ اپنی جگہ سے پاؤں اٹھایا اور نہ حالت قرائت میں آپؑ کے دل میں کچھ شک اور وہم گزرا۔
اتنے میں ایک شہاب ثاقب آسمان سے شیطان ملعون کی طرف گرا تو وہ چلا کے بھاگا اور اپنی اصلی صورت میں آگیا۔ اور حضرت کے قریب کھڑا ہو کر کہنے لگا اے علیؑ بیشک آپؑ سید العابدین ہیں۔ بروایت دیگر ہاتف غیبی کی طرف سے تین مرتبہ ندا آئی کہ تم زین العابدین ہو اور اسی سبب سے آپؑ کا لقب زین العابدین مشہور ہوگیا۔
اور ابلیس علیہ اللعنہ نے قسم کھائی کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کسی کو بھی ایسی عبادت میں نہیں دیکھا یہ کہہ کر چلا گیا۔

بیان سخاوت حضرت امام سجاد علیہ السلام

عظمت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

اخلاق امام زین العابدین علیہ السلام

حضرت امام زین العابدین ؑ کی سخاوت

اقوال امام زین العابدین علیہ السلام

ورود کربلا سے شہادت حسینؑ تک