حضرت محمد ﷺ


زندگانی چہاردہ معصومین ؑ
سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ
قال اﷲ تعالیٰ فی القرآن الحکیم یا ایھا النبی اناارسلناک شاھد او مبشر او نذیر او داعیا الی اﷲ باذنہ و سراجا منیرا۔ سورہ الاحزاب پ ۲۲ با آیت ۴۵ ۔ ۴۶
ترجمہ:اے نبی ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا اور اﷲ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشنی پہنچانے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے اسی طرح بہت سے اور موقعوں پر خدا تعالیٰ بلا واسطہ محمد مصطفی ؐ سے مخاطب ہوئے ۔
(۲) و ما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا۔ سورہ نساء رکوع ۳ آیت ۲۷ ۔ ۲۸
اور ہم نے تم کو کل آدمیوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے
(۳) و ما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین۔سورہ الانبیاء پ ۲۱ آیت ۱۰۷
اور ( اے رسول ؐ) ہم نے تم کو تمام عالموں کے لئے رحمت ہی کرکے بھیجا ہے ۔
(۴) یٰسین و القرآن الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم۔سورہ یٰسین پ ۳۶ آیت ۱۔ ۴
یٰسین حکمت والے قرآن کی قسم ہے ۔ یقینا تم ان رسولوں میں سے ہوجو صراط مستقیم پرتھے۔
دیکھئے نبی وہ ذات بزرگ ہے جو مرتبہ نبوت کی حامل ہو کبھی اس کو احکام الٰہی دو سروں تک پہنچانے کا حکم ہو تا ہے اور کبھی تبلیغ کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔ اول الذکر کی صورت میں اسے رسول جب کہ آخر الذکر کی صورت میں وہ نبی کہلاتا ہے ۔ آپ تخلیق کائنات سے پہلے ہی نبی تھے اور تمام انبیاء کرام ؑ آپ کاہی کلمہ پڑھتے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے ۔
واذ اخذ اﷲ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ و لتصرنہ قال ء اقررتم و اخذتم علی ذا لکم اصری قالو اقررنا قال فاشھدوا و انا معکم من الشاھدین فمن تولی بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون۔سورہ آل عمران پارہ ۳ آیت ۸۱
ترجمہ: اور جس وقت خدانے پیغمبروں سے عہد لیاتھا کہ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں گا پھر ایک رسول تمہارے پاس والی چیزوں کی تصدیق کرتا ہوا آئے گاتوتم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور با ضرور اس کی مدد کرنا ( پھر خدا نے) فرمایا کہ کیاتم نے میرا یہ بوجھ اپنے ذمے لے لیا ان سب نے کہا کہ ہم نے اقرار کیا ( خدانی) فرمایا کہ اب تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتاہوں پھر جواس عہد سے پھرجائے گا ۔ وہ فاسق میں سے ہونگے ۔
فرمایا اس وقت کو یا د کرو جب زمین و آسمان بنے نہ تھے شمس و قمر کے چراغ جلے نہ تھے دنیا آبادنہ تھی، میں وعدے لے رہاتھا نبی و عدے دے رہے تھے کہ تمہارے بعد ایک نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا اگر تم پھرگئے تو یاد رکھنا مومنوں سے نام کاٹ کر فاسقوں میں لکھ دوں گا ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ باقی نبی امتوں کے نبی تھے اور محمد مصطفی ؑ نبیوں کے نبی ہیں ۔ خاتم النبین سید المرسلین ؐ نبوت کے بار گراں لے کر ہی پیدا ہوئے مگر آپ ؐ کو تبلیغ کی اجازت نہیں تھی اور جس دن کوہ حراپر آواز آئی یا ایھا المدثر قم فانذر بس اے چادر اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ہمارے غضب سے ڈراؤ تو معلوم ہوا کہ یوم بعثت چالیس سال کی عمر میں اظہار کا حکم ہوا اسی دن رسالت ملی لیکن نبی تو آپ پہلے ہی تھے جیسا کہ ارشاد ہو تا ہے ۔
کنت نبیاً وآدم بین الماء وطین۔ شرح گلشن زار ص ۳
یعنی میں نبی تھا جس وقت آدم آب و گل میں تھا۔
آپ اول مخلوق خدا ٗ گنتی کا پہلا عدد اور نور اول ٗ خاتم النبین ؐ ہیں ۔
اول ما خلق اﷲ نوریمصنفات فارسی سمنانی ص ۲ ، ۱۰۸
نور محمد ؐ کی تخلیق کے بعد زمین کافرش بچھا کر آسمان کا شامیانہ لگا کر چاند سورج کی قند یلیں جلا کر رب ذوالجلال نے حضرت آدم ؑ سے کہا کہ جنت سے نکل جائیں افسانہ فلک کا زمین پر سناؤجب کہ نور اول منتظر بیٹھا رہا کہ دیکھئے کب باری آئے عیسیٰ ؑ نے بھی آکربشارت دی کہ نور اول خاتم النبین آرہا ہے اور باری تعالیٰ کی آواز آئی جاؤ میرے ہادی کامل جاؤ او ر
اکملت لکم دینکم۔
کی آواز سناؤ پس عام فیل سترہ ماہ ربیع الاول روز دوشنبہ یا جمعہ کادن تھا بمطابق ۷ مئی ۶۳۳ کو مکہ میں یہ نور اول عالم وجود میں ظہور ہوا۔ بہر حال یہ چراغ میز خلوت کدہ ازل سے عرش و کرسی کی سیر کرتا اصلاب طیبہ میں ہوتا ہوا آغوش آمنہ میں اس طرح آیا کہ قصر شاہی کے در ھلے ایوان کسری کے گنگرے گرے ، فارس کے آتش کدے بجھے کعبہ کے بت جھکے،
لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ؐ
کی صدائیں فضائے عالم میں گو نجیں تو عرش والوں نے کہا عرش کا مکین آیا ٗ انبیاء پکارے خاتم النبین آیاٗ جبرائیل نے کہا صادق و امین آیا ٗ اسلام نے پکار اشہنشاہ دین و دنیا آیا ٗ گناہ گاروں نے کہا شفیع مذنبین آیا اور رب نے کہا رحمت للعالمین آیا۔ خدا تعالی نے محمد مصطفیٰ ؐ کو مینارہ رشد و ہدایت بناکر بھیجا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفیٰ باللہ شہیداً محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ و رضواناً۔ سورہ فتح آیت ۲۸، ۲۹۔
ترجمہ: وہ ہے جس نے اپنا رسول ؐ ہدایت کے ساتھ بھیجا اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر اور اللہ کافی ہے گواہ، محمد اللہ کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں ان کو دیکھئے گا رکوع کرتے ہوئے سجدے کرتے ہوئے کہ چاہتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی رضامندی ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کی نشانیاں ہیں۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔سورۂ آل عمران آیہ ۱۶۴۔
ترجمہ: در حقیقت اہل ایمان پرتو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
جاء الحق و ذھق الباطل ان الباطل کان ذھوقاً۔سورہ بنی اسرائیل پ ۱۵
آگیا حق اور مٹ گیا باطل بے شک باطل نے تو مٹنا ہی تھا۔
زمین و آسمان میں موجود ساری چیزوں نے خدا کی تسبیح پڑھی اور شیطان فریاد کرتے ہوئے بھاگ گیا حضرت آمنہ مادر رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں کہ جب میرے نور بصر روئے زمین پر آیا تو ان کی پیشانی مبارک سے ایک نور سا طع ہوا جس سے زمین و آسمان روشن ہوئے اور اس روشنی میں سے ایک آواز مجھے سنائی دی کہ اے آمنہ اس نوزائیدہ بچے کا نام محمد ؐ جو کہ محمود سے مشتق ہے رکھو۔ تاریخ طبری
غوث المتاخرین سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ہمارے پیارے نبی محمد ؐ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں آپ ؐ کے نبوت پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا گیا اور آپ ؐ کی شریعت پر تمام سابقہ شریعتوں اور شرعی امور کا خاتمہ کیا گیا۔ آپ ؐ منصب نبوت و رسالت پر فائز ہونے کے ساتھ صاحب قرآن اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں۔ (کتاب الاعتقادیہ سید محمد نوربخش ؒ ص ۴۲ )

حضرت خدیجہ ؓ سے شادی
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کے باپ خویلد کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے ان کے چچا عمر و بن اسد نے رسول اللہ ؐ سے ان کی شادی کرائی حضرت ابو طالب ؓ نے جناب خدیجہ ؓ کانکاح پڑھا پانچ سو طلائی درہم مہر مقرر پایا۔ (سیرۃ النبی شبلی نعمانی )
حضورؐ نے مجموعی طور پر بارہ شادیاں کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
۱) حضرت خدیجہ ؓ ۲) حضرت ماریہ قبطیہ ؓ ۳) حضرت عائشہ ؓ ۴) حضرت حفضہ ؓ ۵) حضرت ام سلمہؓ ۶) اسماء ؓبنت نعمان ۷) صفیہؓ بنت حی ۸) جناب سودہ ؓ ۹) حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ ۱۰) حضرت جویریہ ؓبنت حارث ۱۱) ام حبیبہؓ بنت ابوسفیان ۱۲) حضرت زینب ؓبنت حجش

اولاد امجاد
حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ سے حضور ؐ کے دو لڑکے قاسم اور عبد اللہ ان کو طیب اور طاہربھی کہتے ہیں پیدا ہوئے دونوں کا انتقال بچپن ہی میں ہوا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بطن سے خاتون جنت جناب فاطمۃ الزہرا ؑ پیدا ہوئیں جن کی تزویج حضرت علی امام المتقین ؑ سے ہوئی۔ علی ؑو فاطمہ ؑ سے رسول اللہ ؐ کی نسل چلی۔ ایک اور صاحبزادہ ابراہیم نامی جناب ماریہ قبطیہ سے مدینہ میں پیدا ہوا اور وہ بھی ایک سال دس ماہ کی عمر میں فوت ہوئے۔ تاریخ طبری لکھتی ہے آنحضرت ؐ کی باقی دس بیویوں سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ زینب ، ام کلثوم اور رقیہ جو آنحضرت ؐ کی بیٹیاں سمجھی جاتی ہیں وہ حقیقت میں حضرت خدیجہ ؓ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں ہالہ بیوہ ہوگئیں تو حضرت خدیجہ ؓ نے حضور اکرم ؐ کی اجازت سے انہی بچوں سمیت اپنے گھر میں رکھ لیا اور ان کی بیٹیوں کی نہ صرف پرورش کی بلکہ ان کی شادیاں بھی کردیں۔ سرکار دو عالم بھی ان لڑکیوں سے اپنی بیٹی جیسا سلوک فرماتے تھے یہاں تک کہ تینوں آپ ؐ کی بیٹیاں سمجھی جانے لگیں۔ (تاریخ اسلام بشیر انصاری ص ۴۰۶ )

معراج نبی ؐ
اکثر راویوں کا بیان ہے کہ ہجرت سے سولہ ماہ پہلے ستائیس ماہ رجب رسول خدا ؐ کو معراج جسمانی ہوئی ۔ صحیحین میں حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کے پاس جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور اللہ کی جانب سے یہ آیت شریفہ لے کر آئے اور ان کو معراج پر لے گئے۔
سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من اٰیتنا وھو السمیع البصیر۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت ۱ پ ۱۵)
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے عبد کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کی سیر کرائی آسمانوں سے گزرتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو جبرائیل ؑرک گئے مگر آپ ؐ کو عرش معلی تک کی سیر کرائی پھر آپ ؐ آگے بڑھے اور بڑھتے گئے یہاں تک کہ سورہ نجم کی آیات کی روشنی میں اتنے نزدیک آئے کہ وہ کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا پھر اس نے اپنے بندے کی طرف جو وحی کرنا تھی کردی۔
سید ا لعارفین سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ اپنی کتاب الاعتقادیہ میں رقمطراز ہیں کہ
ویجب ان تعتقد ان نبینا ترقی علی المعراج وعبر علی السمٰوٰت بجسد یلیق بالعروج وھو جسد مکتسب لطیف خفیف وبولوجہ مع فتح ابواب السمٰوٰت لایلزم الخرق والالتیام۔ (کتاب الاعتقادیہ سید محمد نوربخش ؒص ۴۴ )
ترجمہ: اس بات پراعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تشریف لے گئے اور آپ ؐ نے عالم بالا کو عروج فرمانے کے لائق و مناسب جسم کے ساتھ جو کہ ایک انتہائی خفیف لطیف اور اکتسابی جسم ہے آسمانوں کو عبور فرمایا۔ معراج پر آپ ؐکا تشریف لے جانا آسمانوں کے دروازوں کے کھولے جانے کے ساتھ ساتھ ہوا ہے۔ اس سے توڑ پھوڑ اور میل ملاپ کامسئلہ لازم نہیں آتا۔ (جوکہ کرۂ سماوی کی ساخت کے علم سے متصادم ہے)
غوث المتاخرین سید محمد نوربخش ؒ اپنی ایک دوسری کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ
’’حکماء اور فقہاء سنی و شیعہ معراج کی حقیقت سمجھنے سے قا صر ہیں‘‘۔ (معراجیہ ص ۳ )

ہجرت نبی ؐ
حضرت ابو طالب ؓ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی وفات کے بعد مکے میں جب قریش کے چالیس چیدہ چیدہ مکار دار الندوہ میں ا کٹھے ہوگئے تو شیطان بھی ان میں شامل ہوا اور کہنے لگا کہ میں ایک نجدی شیخ ہوں اور تمہیں صحیح مشورہ دینے آیا ہوں تو قریش نے اسے اجلاس میں شریک کرلیا۔ عتبہ، شیبہ اور ابوسفیان نے کہا کہ ہم اسے (محمد مصطفی ؐ کو)ملک سے نکال دیتے ہیں ابلیس نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ عرب کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی چن لو اور بنو ہاشم سے ا بو لہب کو اپنے ساتھ ملاؤ سب مسلح ہوکر محمد ؐ کو بسترے میں یکبارگی حملہ کردو اس رائے کو سب نے پسند کیا اور طے ہوا کہ رات کے وقت حملہ کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ساری کارروائی کی اطلاع اپنے حبیب ؐکو دے دی اور ارشاد ہوا :
واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک الخ (سورۂ انفال آیت ۳۱)
ترجمہ: یاد کرو اے رسول ؐ جب کفار قریش تمہارے بارے میں ساز باز کررہے تھے کہ یا تو تمہیں قید کردیں یا قتل کرادیں یا ملک بدر کردیں اور وہ تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ ان کی تدبیریں توڑ دیتا ہے اور اللہ ہی مکاروں کے مکر کو سب سے بہتر توڑنے والا ہے۔
ادھر کفار اپنے ناپاک منصوبے کو بروئے کار لانے کی تیاریاں کررہے تھے اور ادھر سرکار دو عالم ؐ اللہ کی حفاظت و ہدایت کے تحت اپنے بچاؤ کی تدابیر اختیار کررہے تھے۔ آپ ؐ نے اپنے بھائی علی ؑ کو اس ہونے والی کارروائی سے مطلع فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مدینے کی جانب ہجرت کر جاؤں لہٰذا آج رات تم میرے بستر پر سوئے رہنا اور کل صبح لوگوں کی امانتیں ان کو پہنچانا۔ حضرت علی ؑ نے فر مایا آپ ؐ کا حکم سر آنکھوں پر کیامیرے آپ ؐ کے بستر پر سونے سے آپ ؐ محفوظ رہیں گے؟ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہاں! اس پر حضرت علی ؑ نے سجدہ شکر ادا کیا رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں کہ آج رات میرے اور تمہارے امتحان کی رات ہے اور یقین کر و کہ تمہیں تلوار کے نیچے سلانا مجھ پر ابراہیم ؑ کے اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کے لئے لٹانے سے زیادہ مشکل ہے پھر حضور ؐ نے حضرت علی ؑ کو سینے سے لگایا اور گریہ فرمایا علی ؑ بھی فراق رسول ؐ میں رونے لگے غرض رسول خدا ؐ نے علی ؑ کو خدا کے سپرد کردیا اور خود گھر سے باہر نکل گئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ۔ (سورہ بقرہ پ ۲ )
ترجمہ: لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو رضائے خدا کے عوض اپنی جان فروخت کرتا ہے۔
محمد ؐ علی ؑ کو چھوڑ کر حکم خدا کے مطابق غار ثور کی طرف روانہ ہوئے راستے میں حضرت ابو بکر بن قحافہ ملے آپ ؐ نے انہیں بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ معتبر روایات کے مطابق رسول اللہ ؐ بارہ ربیع الاول بعثت کے تیرہویں سال مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے بعد میں اسی سال کو سن ہجری کی ابتداء قرار دیا گیا اور سال ہجری کا آغاز ماہ محرم سے کیا گیا۔ رسول اللہ ؐ جمعہ کے دن مدینے میں داخل ہوئے اور مسجد نبوی میں سو انصار و مہاجرین کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی، اسلام میں یہ پہلی نماز جمعہ تھی۔

سرکار دوعالم ؐ کے مشہور غزوات
۱)… ۲ ہجری ۱۷ ماہ رمضان میں جنگ بدر
۲ )… ۳ ھ ۱۵ ماہ شعبان جنگ احد
۳)… ۵ ھ ماہ رمضان و شوال جنگ خندق
۴)… ۶ ھ کو سرور کونین ؐ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں دعوت اسلام دی۔
۵)… ۶ ھ ماہ ذی القعدہ میں صلح حدیبیہ ہوئی۔
۶)… ۶، ۷ ماہ ذی الحجہ ومحرم میں جنگ خیبر ہوئی۔
۷)… ۸ ھ ماہ جمادی الاول میں جنگ موتہ ہوئی۔
۸)… ۸ ھ ماہ رمضان میں فتح مکہ
۹)… ۸ ھ ماہ رجب میں جنگ تبوک
۱۰)… ۹ھ ماہ شوال میںجنگ حنین
۱۱)… ۱۰ ھ ماہ ذی الحجہ میں بنی نجران سے مباہلہ

حجۃ الوداع و خطبہ غدیر
سرکار دو عالم ؐ ماہ ذیقعدہ کی چھبیس تاریخ کو ہجرت کے دسویں سال آخری حج کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے اور ۹ ماہ ذالحجہ کو میدان عرفات میں حضور ؐ نے ناقہ غضباء پر سوار ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا۔ حج سے فارغ ہوکر آپ ؐ مدینہ کی طرف واپس چلے اور ۱۸ ذالحجہ کے دن غدیر خم کے مقام پر پہنچے جوکہ مکہ ا ور مدینہ کے درمیان واقع ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے ہر علاقہ کو راستہ جاتی ہیں ۔ ۹ ذی الحجہ سے ۱۸ ذی الحجہ تک تین بار اللہ کی طرف سے حکم آتا رہا کہ
یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس۔ (سورۂ مائدہ پ ۶)
ترجمہ: اے رسول تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف جو حکم نازل کیا ہے وہ اسی وقت لوگوں کو پہنچادو اگر تم نے تعمیل نہ کی تو تم نے رسالت کاحق ادا ہی نہ کیا اور فکر نہ کرو اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
خدا کا حکم پہنچتے ہی رسول نے وہیں پڑاؤ لگایا جو لوگ آگے نکل گئے تھے انہیں واپس بلایا اور جو پیچھے سے آرہے تھے انہیں ساتھ ملایا اور کجاوؤں کا منبر بنوایا۔ بلال ؓ کوحکم دیا کہ حی علی خیر العمل کی ندا بلند کر۔ بلال ؓ کی آواز پر میدان غدیر پر میدان عرفات کا گمان ہونے لگا۔ اصحاب موسیٰ ؑ کی تعداد کے مطابق کم از کم ستر ہزار صحابہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرنے کے لئے رسول اللہ ؐ منبر پر تشریف لائے حضرت علی ؑ کو بھی بلاکر اپنی داہیں جانب برسر منبر اونچی جگہ پر بٹھایا۔
حمد کے بعد آپ ؐ نے فرمایا کہ مجھے خداوند عالم کی طرف سے بلاوا آیا ہے جسے قبول کئے بغیر چارہ نہیں وقت آگیا ہے اور میں تم لوگوں سے عنقریب جدا ہوجاؤں مگر غور سے سنو میں تم لوگوں میں د و ایسی گرانقدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں کہ اگر ان دونوںسے تمسک رکھوگے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہونگے وہ دونوں چیزیں کتاب اللہ اور میری عترت ہیں اور یقین کرو کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ دونوں اکٹھے حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائے۔ سنو ان دونوں سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور میرے اہلبیت کو تعلیم نہ دینا کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم کے مالک ہیں۔ (صواعق محرقہ ، تاریخ ابن کثیر )
پھر رسول اللہ ؐ نے استفسار کیا
ایھا الناس الست اولی بکم من انفسکم
اے لوگو ! کیامیں تم سے زیادہ تمہاری جانوں کامالک نہیںہوں؟ قالو بلی
سب نے کہا ہاںاسی وقت حضور ؐ نے علی ؑ کے ہاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا۔
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصر واخذل من خذلہ۔
ترجمہ: جس جس کا میں مولا(امام، رہبر، قائد، حاکم) ہوں تو یہ علی ؑ بھی اس کا مولا ہیں خدا یا جو علی ؑ سے دوستی رکھے اس سے تو بھی دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ اور جو اس کی نصرت کرے تو بھی اس کی نصرت کر اور جو اس سے کنارہ کشی کرے اسے تو بھی چھوڑ دے۔
(خمخانہ وحدت (شرح احوال و مکاتبات) علاؤالدولہ سمنانیؒ ص ۱۴۷۔ ۱۲۳، مصابیح الاسلام شاہ قاسم فیض بخشؒ ص ۷ ، جامع الاسرار ص ۲۵۰، احباب قلمی جعفر بدخشی ص ۵۹، العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ علاؤالدولہ سمنانی ؒ ص ۱۳۳، کشف الحقیقت ج ۵ ص ۴۳، مصنفات فارسی (مکتوبات) علاؤالدولہ سمنانیؒ ص ۲۵۰، مظہر العجائب شیخ عطار ص ۲۶، تفسیر صافی ص ۴۵۶، روضات الجنان ج ۲ ص ۵۸۶، مجالس المومنین ص ۳۰۰، تحفۂ قاسمی سید قاسم شاہ کھرکوی ص ۲۰۳، مودۃ القربیٰ مودت ۵، ریاض السیاحہ شیروانی ص ۲۳۸، فلاح المومنین مولوی حمزہ علی ص ۱۸، ینابیع المودۃ ص ۷۴۲، مجمع البحرین ص ۳۵۷، تفسیر در منثور ج ۲ ص ۲۵۹، تاریخ الخلفاء ص ۱۲۱، سر العالمین امام غزالی ؒ ص ۹، صواعق محرقہ ص ۲۵، ارجح المطالب ص ۴۲، کنز العمال ج ۸ ص ۶۰، صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۶۲۔(
یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے۔
اس کے بعد حضور اکرم ؐ کے حکم پر بلال ؓ نے اذان ظہر دی اور ظہر کی نماز باجماعت پڑھی علی ؑ کے سر پر دستار باندھی اور فرمایا سب سے بیعت لے لیں اور تمام اصحاب کو حکم دیا کہ جاکر علی ؑ کی بیعت کرو ۔
وعن عمران بن حصین قال قال رسول اللہ ؐ علی منی وانا منہ وھو مولای المومن والمومنات۔ (مشکواۃ شریف ج ۳ ص ۲۵۹، صواعق محرقہ ص ۱۲۲، ارجح المطالب ص ۴۶۳، کنز العمال ج ۶ ص ۵۲۶، شرح گلشن راز ص ۱۳۰، ینابیع المودۃ ص ۵۴، سبعین فی فضائل امیر المومنین سید علی ہمدانی ؒ ص ۵۰۹،تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۴۰، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۱، )
ترجمہ: عمران بن حصین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا علی ؑ مجھ سے ہیں اور میں علی ؑ سے ہوں اور وہ تمام مومن اور مومنات کے مولا ہیں۔ بعض کتابوں میں مولا کی جگہ ولی آیا ہے۔
لوگ جوق در جوق آپ ؑ سے بیعت لیتے رہے اس امر میں حضرت عمر سب سے پیش پیش تھے انہوں نے کہا
بخٍ بخٍ یا علی اصبحت مولای و مولی کل مومن ومومنۃ۔ رواہ ابو نعیم وذکرہ ایضاً الشبلی فی کتابہ ۔(مودۃ القربیٰ ص ۸۸ مودۃ ۱۹، سبعین فی فضائل امیر المومنین ص ۱۵۔)
ترجمہ: اے علی ؑ مبارک ہو آج تم میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے ہو۔
مفسرین کااتفاق ہے کہ جب تبلیغ ولایت علی ؑ سے فارغ ہوئے تو قرآن کی یہ آخری آیت نازل ہوئی۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً۔ ((۳)سورہ مائدہ آیت ۴۔ )
ترجمہ: آج ہم نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردیں اور تمہارے دین اسلام کو پسند کردیا ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے غدیر کا جلسہ برخاست فرمایا اسی لئے ہم محبان علی ؑ ذی الحجہ کی ۱۸ تاریخ کو دو رکعت نماز غدیر باجماعت اور ایک خطبہ عظیم ادا کرتے ہیں۔ (دعوت صوفیہ امامیہ سید علی ہمدانی ؒ (

حضور اکرم ؐ کی رحلت
رحلت سے چند دن پہلے حضور اکرم ؐ شدید علیل ہوگئے علالت کی حالت میں ہی امیر المومنین حضرت علی ؑ کو ساتھ لے کر جنت البقیع تشریف لے گئے پھر انہیں اپنی رحلت کی خبر دی اور اپنی تجہیز و تدفین کے بارے میں وصیت فرمائی اور گھر واپس آگئے آپ ؐ کا مرض شدت اختیار کرتا گیا حضرت بلال ؓ نے جب اذان دی تو حضور اکرم ؐ خلاف معمول دیر سے پہنچے کچھ لوگ نماز پڑھنا چاہتے تھے لیکن آپ ؐ نے انہیں پسند نہیں فرماکر خود نماز پڑھائی جب گھر پہنچے تو آپ ؐ نے کچھ اصحاب کو طلب فرماکر ارشاد فرمایا کہ مجھے لکھنے کا سامان لاؤ یعنی ھلمو نی اکتب لک الخ
پوری حدیث مشکواۃ شریف کتاب وفات النبی اور صحیحین میں مرقوم ہے قلم و قرطاس لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے یہ سن کر جب ایک صحابی لکھنے کا سامان لانے کے لئے اٹھا تو کسی نے اسے بیٹھے رہنے کو کہا اور کہا
ان ھذا الرجل لیھجر وان علیہ وجع وحسبنا کتاب اللہ۔
ترجمہ: بے شک یہ آدمی ہذیان کہہ رہا ہے کیونکہ اس پر مرض کا غلبہ ہے اور ہمیں کتاب خدا کافی ہے۔
اس پر کمرے میں موجود لوگوں میں اختلاف کی بناء پرآوازیں بلند ہوئیں اور جھگڑا ہو اتو حضور اکرم ؐ کافی ناراض ہوئے اور فرمایا قوموا عنی میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ (سرالعالمین مقالہ چہارم امام غزالیؒ، تذکرہ خواص الائمہ سبط ابن الجوزی ص ۳۶،تاریخ اسلام ص ۴۱۹۔ (

فاطمہ ؑ کے احترام میں عزرائیل کااجازت طلب کرنا
جناب عبد اللہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب رحمۃ للعالمین ؐ کے مرض وفات میں ناگاہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا ؑ نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں ایک غریب آدمی ہوں۔ سرکار دو عالم سے ایک سوال کرنے آیا ہوں کیا آپ ؑ اجازت دیتی ہوں کہ میں اندر آسکوں؟ فرمایا حضور ؐ اس وقت بیمار ہیں کہ تم واپس چلے جاؤ رسول اللہ ؐ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا بیٹی یہ ملک الموت ہے یہ کسی سے اجازت نہیں لیتا صرف تمہارے احترام کی وجہ سے اجازت مانگتا ہے اسے اجازت دے دو بی بی پاک ؑ نے اجازت دی تو وہ اندر آیا اور کہا السلام علیٰ اہلبیت رسول اللہ اس وقت حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؑ کو صبر کی تلقین فرمائی اور آخری وصیتیں کیں۔
امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں جب جبرئیل ؑ آخری بار رسول اللہ ؐ کے پاس آئے اور خدا کا سلام پیش کیاتو آپ ؐ نے فرمایا کہ جب تک ملک الموت اپنا کام نہ کرلیں تم میرے پاس سے نہ جانا پھر حضور اکرم ؐ نے ازواج کو بلایا اور الوداع کہا اس کے بعد سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا ؑ کو سینے سے لگایا اور کان میں کچھ بات کیں تو وہ رو پڑیں اس کے بعد آپ ؐ نے دوبارہ کچھ فرمایا تو آپ ؑ خوش ہوئی وہ یہ تھا کہ آپ ؑ سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کروگی۔ اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے عزرائیل کو اجازت دی کہ وہ جس کام کے لئے آئے ہیں وہ کرلیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اس وقت حسنین ؑ سینہ اقدس سے لپٹ کر رونے لگے نہج البلاغہ میں جناب امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ؐ کی روح قبض کی گئی تو حضرت ؐ کا سرمبارک میرے سینے پر تھا اور آپ ؐ کی جان میری ہتھیلی پر جاری ہوئی تو میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر مل لیا اور حضرت ؐ کے غسل میں مصروف ہوا۔ فضل بن عباس ؓ پانی دیتے تھے فرشتے میرے مددگار تھے سارے مکان کی فضا فرشتوں کی آواز سے بھری ہوئی تھی وہ سب حضور ؐ پر درود پڑھ رہے تھے۔
حضرت علی ؑ نے ارشاد فرمایا کہ حضور ؐ کی وصیت ہے مجھے اسی جگہ دفن کیاجائے جہاں میری روح قبض کی جائے گی پھر فرمایا یا علی ؑ میرے غسل و کفن سے فارغ ہونے کے بعد مجھے قبر کے پاس رکھ دینا تاکہ خدا اور ملائکہ صلواۃ پڑھ لیں اور آپ میری نماز جنازہ پڑھیں۔
خدا و ملائکہ کے صلواۃ پڑھ چکنے کے بعد جناب امیر ؑ نے سیدۃ فاطمہ ؑ ، حسنین ؑ اور سلمان ؓ، مقداد ؓ ، ابوذر ؓ وغیرہ تمام صحابہ کرام ؓ کو اندر بلایا اور ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی۔
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ مودۃ القربیٰ میں خامہ فرسا ہیں کہ
ثم رجعت فاطمۃ الیٰ بیتھا و جمعت الیھا النساء فقالت فاطمۃ انا للہ و انا الیہ راجعون انقطع عنا خبر السماء ثم قالت فی مرثیہ النبی – مودۃ القربیٰ مودۃ ۴
حضرت فاطمہ ؑ اپنے گھر واپس آئیں مدینہ کی عورتیں تعزیت کے لئے ان کے پاس جمع ہوئیں تب فاطمہ ؑ نے کلمہ انا للہ زبان پر جاری کیا اور فرمایا اب آسمان کی خبر ہم سے منقطع ہوگئی پھر آنحضرت کے مرثیے میں چند اشعار پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے۔
محمد رسول اللہ ؐ پر حضرت فاطمہ ؑ کا مرثیہ
’’اطراف عالم حضرت رسول خدا ؐ کے غم میں غبار آلودہ ہوگئے اور دن کا آفتاب سیاہ ہوگیا اور تمام زمانہ تیرہ و تاریک ہوا اور زمین آنحضرت ؐکے بعد ویران ہوگئی پس ضروری ہے کہ جہاں کے مشرق و مغرب آنحضرت پر گریہ کریں اور مصر اور تمام اہل یمن ان پر روئیں‘‘ ۔
اس دن حضرت علی ؑ کے ساتھ رسول اللہ ؐ کے تدفین کے لئے صرف اٹھارہ نفر تھے جنہیں مکتب نوربخشیہ کے متوسلین ہژدہ کمربستہ شاہ مردان کے نام سے یاد کرتے ہیں مسلمان کہاں گئے۔
سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔
اہل دنیا دین و ایمان سوختی
مصطفی را بے دفن انداختی
(کشف الحقیقت)
مکتب تصوف مذہب امامیہ صوفیہ المعروف نوربخشیہ کے لوگ بارہ ربیع الاول کو بارہ رکعات چھ سلام کے ساتھ عرس رسول اللہ ؐ پڑھتے ہیں۔ (دعوات صوفیہ امامیہ (
نماز اور تعقیبات کے بعد مجلس عزا منعقد ہوتی ہے۔
کوئی نماز محمد و آل محمد ؐ پر درود پڑھے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔ ہم ہر فرض کی نماز کے بعد دعائے تشفع میں پڑھتے ہیں۔
اللھم انی اسئلک بنبوۃ محمد و رسالتہ ۔ دعوات صوفیہ امامیہ
اے اللہ میں محمد ؐ کی نبوت اور رسالت کے واسطے آپ سے درخواست کرتا ہوں۔
صبح کے اوراد (الصلوٰۃ) میں بھی آپ ؐپر تفصیلی سلام اور آپ ؐکی زیارت پڑھی جاتی ہے اور پھر ہر اذان میں ہم برملا اعلان کرتے ہیں۔ محمد و علی خیر البشر محمد ؐ اور علی ؑ تمام انسانوں سے بہتر ہیں۔