ہمارا سلسلہ ذہب


تعارف

    -:سلسلہ ذہب
    سلسلہ ذہب کے معنی سونے کی زنجیر کے ہیں۔ اصل میں سلسلہ ذہب سے مراد علی بن ابی طالب علیہ السلام سے لے کر امام مہدی علیہ السلام تک کے سلسلے کو سلسلہ ذہب کہتے ہیں اور نوربخشی لوگ بھی بارہ آئمہ کرام کے پیروکار ہیں اسلۓ انکا سلسلہ تصوف بھی سلسلہ زھب کہا جانے لگا نیز نوربخشی عقیدے کے مطابق امام مہدی علیہ السلام غیب میں ہیں لہذا ان کے نائب(پیران پیر) ہی ان کے ظہور تک دین کو سنبھالنے کے فرائض انجام دیں گے۔سب سے پہلے نائب امام کاعہدہ معروف کرخی رح حقیقی امام علی رضا سے ملا۔ اسی طرح یکے بعد دیگر پیران پیر(نائب امام مہدی علیہ السلام) آتے گئے اور موجودہ دور تک پہنچے

امام حقیقی

حضرت محمد ﷺ

    زندگانی چہاردہ معصومین ؑ
    سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ
    قال اﷲ تعالیٰ فی القرآن الحکیم یا ایھا النبی اناارسلناک شاھد او مبشر او نذیر او داعیا الی اﷲ باذنہ و سراجا منیرا۔ سورہ الاحزاب پ ۲۲ با آیت ۴۵ ۔ ۴۶
    ترجمہ:اے نبی ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا اور اﷲ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشنی پہنچانے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے اسی طرح بہت سے اور موقعوں پر خدا تعالیٰ بلا واسطہ محمد مصطفی ؐ سے مخاطب ہوئے ۔
    (۲) و ما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا۔ سورہ نساء رکوع ۳ آیت ۲۷ ۔ ۲۸
    اور ہم نے تم کو کل آدمیوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے
    (۳) و ما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین۔سورہ الانبیاء پ ۲۱ آیت ۱۰۷
    اور ( اے رسول ؐ) ہم نے تم کو تمام عالموں کے لئے رحمت ہی کرکے بھیجا ہے ۔
    (۴) یٰسین و القرآن الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم۔سورہ یٰسین پ ۳۶ آیت ۱۔ ۴
    یٰسین حکمت والے قرآن کی قسم ہے ۔ یقینا تم ان رسولوں میں سے ہوجو صراط مستقیم پرتھے۔
    دیکھئے نبی وہ ذات بزرگ ہے جو مرتبہ نبوت کی حامل ہو کبھی اس کو احکام الٰہی دو سروں تک پہنچانے کا حکم ہو تا ہے اور کبھی تبلیغ کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔ اول الذکر کی صورت میں اسے رسول جب کہ آخر الذکر کی صورت میں وہ نبی کہلاتا ہے ۔ آپ تخلیق کائنات سے پہلے ہی نبی تھے اور تمام انبیاء کرام ؑ آپ کاہی کلمہ پڑھتے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے ۔
    واذ اخذ اﷲ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ و لتصرنہ قال ء اقررتم و اخذتم علی ذا لکم اصری قالو اقررنا قال فاشھدوا و انا معکم من الشاھدین فمن تولی بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون۔سورہ آل عمران پارہ ۳ آیت ۸۱
    ترجمہ: اور جس وقت خدانے پیغمبروں سے عہد لیاتھا کہ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں گا پھر ایک رسول تمہارے پاس والی چیزوں کی تصدیق کرتا ہوا آئے گاتوتم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور با ضرور اس کی مدد کرنا ( پھر خدا نے) فرمایا کہ کیاتم نے میرا یہ بوجھ اپنے ذمے لے لیا ان سب نے کہا کہ ہم نے اقرار کیا ( خدانی) فرمایا کہ اب تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتاہوں پھر جواس عہد سے پھرجائے گا ۔ وہ فاسق میں سے ہونگے ۔
    فرمایا اس وقت کو یا د کرو جب زمین و آسمان بنے نہ تھے شمس و قمر کے چراغ جلے نہ تھے دنیا آبادنہ تھی، میں وعدے لے رہاتھا نبی و عدے دے رہے تھے کہ تمہارے بعد ایک نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا اگر تم پھرگئے تو یاد رکھنا مومنوں سے نام کاٹ کر فاسقوں میں لکھ دوں گا ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ باقی نبی امتوں کے نبی تھے اور محمد مصطفی ؑ نبیوں کے نبی ہیں ۔ خاتم النبین سید المرسلین ؐ نبوت کے بار گراں لے کر ہی پیدا ہوئے مگر آپ ؐ کو تبلیغ کی اجازت نہیں تھی اور جس دن کوہ حراپر آواز آئی یا ایھا المدثر قم فانذر بس اے چادر اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ہمارے غضب سے ڈراؤ تو معلوم ہوا کہ یوم بعثت چالیس سال کی عمر میں اظہار کا حکم ہوا اسی دن رسالت ملی لیکن نبی تو آپ پہلے ہی تھے جیسا کہ ارشاد ہو تا ہے ۔
    کنت نبیاً وآدم بین الماء وطین۔ شرح گلشن زار ص ۳
    یعنی میں نبی تھا جس وقت آدم آب و گل میں تھا۔
    آپ اول مخلوق خدا ٗ گنتی کا پہلا عدد اور نور اول ٗ خاتم النبین ؐ ہیں ۔
    اول ما خلق اﷲ نوریمصنفات فارسی سمنانی ص ۲ ، ۱۰۸
    نور محمد ؐ کی تخلیق کے بعد زمین کافرش بچھا کر آسمان کا شامیانہ لگا کر چاند سورج کی قند یلیں جلا کر رب ذوالجلال نے حضرت آدم ؑ سے کہا کہ جنت سے نکل جائیں افسانہ فلک کا زمین پر سناؤجب کہ نور اول منتظر بیٹھا رہا کہ دیکھئے کب باری آئے عیسیٰ ؑ نے بھی آکربشارت دی کہ نور اول خاتم النبین آرہا ہے اور باری تعالیٰ کی آواز آئی جاؤ میرے ہادی کامل جاؤ او ر
    اکملت لکم دینکم۔
    کی آواز سناؤ پس عام فیل سترہ ماہ ربیع الاول روز دوشنبہ یا جمعہ کادن تھا بمطابق ۷ مئی ۶۳۳ کو مکہ میں یہ نور اول عالم وجود میں ظہور ہوا۔ بہر حال یہ چراغ میز خلوت کدہ ازل سے عرش و کرسی کی سیر کرتا اصلاب طیبہ میں ہوتا ہوا آغوش آمنہ میں اس طرح آیا کہ قصر شاہی کے در ھلے ایوان کسری کے گنگرے گرے ، فارس کے آتش کدے بجھے کعبہ کے بت جھکے،
    لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ؐ
    کی صدائیں فضائے عالم میں گو نجیں تو عرش والوں نے کہا عرش کا مکین آیا ٗ انبیاء پکارے خاتم النبین آیاٗ جبرائیل نے کہا صادق و امین آیا ٗ اسلام نے پکار اشہنشاہ دین و دنیا آیا ٗ گناہ گاروں نے کہا شفیع مذنبین آیا اور رب نے کہا رحمت للعالمین آیا۔ خدا تعالی نے محمد مصطفیٰ ؐ کو مینارہ رشد و ہدایت بناکر بھیجا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
    ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفیٰ باللہ شہیداً محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ و رضواناً۔ سورہ فتح آیت ۲۸، ۲۹۔
    ترجمہ: وہ ہے جس نے اپنا رسول ؐ ہدایت کے ساتھ بھیجا اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر اور اللہ کافی ہے گواہ، محمد اللہ کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں ان کو دیکھئے گا رکوع کرتے ہوئے سجدے کرتے ہوئے کہ چاہتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی رضامندی ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کی نشانیاں ہیں۔
    ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
    لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔سورۂ آل عمران آیہ ۱۶۴۔
    ترجمہ: در حقیقت اہل ایمان پرتو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
    قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
    جاء الحق و ذھق الباطل ان الباطل کان ذھوقاً۔سورہ بنی اسرائیل پ ۱۵
    آگیا حق اور مٹ گیا باطل بے شک باطل نے تو مٹنا ہی تھا۔
    زمین و آسمان میں موجود ساری چیزوں نے خدا کی تسبیح پڑھی اور شیطان فریاد کرتے ہوئے بھاگ گیا حضرت آمنہ مادر رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں کہ جب میرے نور بصر روئے زمین پر آیا تو ان کی پیشانی مبارک سے ایک نور سا طع ہوا جس سے زمین و آسمان روشن ہوئے اور اس روشنی میں سے ایک آواز مجھے سنائی دی کہ اے آمنہ اس نوزائیدہ بچے کا نام محمد ؐ جو کہ محمود سے مشتق ہے رکھو۔ تاریخ طبری
    غوث المتاخرین سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ہمارے پیارے نبی محمد ؐ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں آپ ؐ کے نبوت پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا گیا اور آپ ؐ کی شریعت پر تمام سابقہ شریعتوں اور شرعی امور کا خاتمہ کیا گیا۔ آپ ؐ منصب نبوت و رسالت پر فائز ہونے کے ساتھ صاحب قرآن اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں۔ (کتاب الاعتقادیہ سید محمد نوربخش ؒ ص ۴۲ )

    حضرت خدیجہ ؓ سے شادی
    حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کے باپ خویلد کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے ان کے چچا عمر و بن اسد نے رسول اللہ ؐ سے ان کی شادی کرائی حضرت ابو طالب ؓ نے جناب خدیجہ ؓ کانکاح پڑھا پانچ سو طلائی درہم مہر مقرر پایا۔ (سیرۃ النبی شبلی نعمانی )
    حضورؐ نے مجموعی طور پر بارہ شادیاں کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
    ۱) حضرت خدیجہ ؓ ۲) حضرت ماریہ قبطیہ ؓ ۳) حضرت عائشہ ؓ ۴) حضرت حفضہ ؓ ۵) حضرت ام سلمہؓ ۶) اسماء ؓبنت نعمان ۷) صفیہؓ بنت حی ۸) جناب سودہ ؓ ۹) حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ ۱۰) حضرت جویریہ ؓبنت حارث ۱۱) ام حبیبہؓ بنت ابوسفیان ۱۲) حضرت زینب ؓبنت حجش

    اولاد امجاد
    حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ سے حضور ؐ کے دو لڑکے قاسم اور عبد اللہ ان کو طیب اور طاہربھی کہتے ہیں پیدا ہوئے دونوں کا انتقال بچپن ہی میں ہوا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بطن سے خاتون جنت جناب فاطمۃ الزہرا ؑ پیدا ہوئیں جن کی تزویج حضرت علی امام المتقین ؑ سے ہوئی۔ علی ؑو فاطمہ ؑ سے رسول اللہ ؐ کی نسل چلی۔ ایک اور صاحبزادہ ابراہیم نامی جناب ماریہ قبطیہ سے مدینہ میں پیدا ہوا اور وہ بھی ایک سال دس ماہ کی عمر میں فوت ہوئے۔ تاریخ طبری لکھتی ہے آنحضرت ؐ کی باقی دس بیویوں سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ زینب ، ام کلثوم اور رقیہ جو آنحضرت ؐ کی بیٹیاں سمجھی جاتی ہیں وہ حقیقت میں حضرت خدیجہ ؓ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں ہالہ بیوہ ہوگئیں تو حضرت خدیجہ ؓ نے حضور اکرم ؐ کی اجازت سے انہی بچوں سمیت اپنے گھر میں رکھ لیا اور ان کی بیٹیوں کی نہ صرف پرورش کی بلکہ ان کی شادیاں بھی کردیں۔ سرکار دو عالم بھی ان لڑکیوں سے اپنی بیٹی جیسا سلوک فرماتے تھے یہاں تک کہ تینوں آپ ؐ کی بیٹیاں سمجھی جانے لگیں۔ (تاریخ اسلام بشیر انصاری ص ۴۰۶ )

    معراج نبی ؐ
    اکثر راویوں کا بیان ہے کہ ہجرت سے سولہ ماہ پہلے ستائیس ماہ رجب رسول خدا ؐ کو معراج جسمانی ہوئی ۔ صحیحین میں حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کے پاس جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور اللہ کی جانب سے یہ آیت شریفہ لے کر آئے اور ان کو معراج پر لے گئے۔
    سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من اٰیتنا وھو السمیع البصیر۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت ۱ پ ۱۵)
    ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے عبد کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کی سیر کرائی آسمانوں سے گزرتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو جبرائیل ؑرک گئے مگر آپ ؐ کو عرش معلی تک کی سیر کرائی پھر آپ ؐ آگے بڑھے اور بڑھتے گئے یہاں تک کہ سورہ نجم کی آیات کی روشنی میں اتنے نزدیک آئے کہ وہ کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا پھر اس نے اپنے بندے کی طرف جو وحی کرنا تھی کردی۔
    سید ا لعارفین سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ اپنی کتاب الاعتقادیہ میں رقمطراز ہیں کہ
    ویجب ان تعتقد ان نبینا ترقی علی المعراج وعبر علی السمٰوٰت بجسد یلیق بالعروج وھو جسد مکتسب لطیف خفیف وبولوجہ مع فتح ابواب السمٰوٰت لایلزم الخرق والالتیام۔ (کتاب الاعتقادیہ سید محمد نوربخش ؒص ۴۴ )
    ترجمہ: اس بات پراعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تشریف لے گئے اور آپ ؐ نے عالم بالا کو عروج فرمانے کے لائق و مناسب جسم کے ساتھ جو کہ ایک انتہائی خفیف لطیف اور اکتسابی جسم ہے آسمانوں کو عبور فرمایا۔ معراج پر آپ ؐکا تشریف لے جانا آسمانوں کے دروازوں کے کھولے جانے کے ساتھ ساتھ ہوا ہے۔ اس سے توڑ پھوڑ اور میل ملاپ کامسئلہ لازم نہیں آتا۔ (جوکہ کرۂ سماوی کی ساخت کے علم سے متصادم ہے)
    غوث المتاخرین سید محمد نوربخش ؒ اپنی ایک دوسری کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ
    ’’حکماء اور فقہاء سنی و شیعہ معراج کی حقیقت سمجھنے سے قا صر ہیں‘‘۔ (معراجیہ ص ۳ )

    ہجرت نبی ؐ
    حضرت ابو طالب ؓ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی وفات کے بعد مکے میں جب قریش کے چالیس چیدہ چیدہ مکار دار الندوہ میں ا کٹھے ہوگئے تو شیطان بھی ان میں شامل ہوا اور کہنے لگا کہ میں ایک نجدی شیخ ہوں اور تمہیں صحیح مشورہ دینے آیا ہوں تو قریش نے اسے اجلاس میں شریک کرلیا۔ عتبہ، شیبہ اور ابوسفیان نے کہا کہ ہم اسے (محمد مصطفی ؐ کو)ملک سے نکال دیتے ہیں ابلیس نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ عرب کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی چن لو اور بنو ہاشم سے ا بو لہب کو اپنے ساتھ ملاؤ سب مسلح ہوکر محمد ؐ کو بسترے میں یکبارگی حملہ کردو اس رائے کو سب نے پسند کیا اور طے ہوا کہ رات کے وقت حملہ کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ساری کارروائی کی اطلاع اپنے حبیب ؐکو دے دی اور ارشاد ہوا :
    واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک الخ (سورۂ انفال آیت ۳۱)
    ترجمہ: یاد کرو اے رسول ؐ جب کفار قریش تمہارے بارے میں ساز باز کررہے تھے کہ یا تو تمہیں قید کردیں یا قتل کرادیں یا ملک بدر کردیں اور وہ تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ ان کی تدبیریں توڑ دیتا ہے اور اللہ ہی مکاروں کے مکر کو سب سے بہتر توڑنے والا ہے۔
    ادھر کفار اپنے ناپاک منصوبے کو بروئے کار لانے کی تیاریاں کررہے تھے اور ادھر سرکار دو عالم ؐ اللہ کی حفاظت و ہدایت کے تحت اپنے بچاؤ کی تدابیر اختیار کررہے تھے۔ آپ ؐ نے اپنے بھائی علی ؑ کو اس ہونے والی کارروائی سے مطلع فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مدینے کی جانب ہجرت کر جاؤں لہٰذا آج رات تم میرے بستر پر سوئے رہنا اور کل صبح لوگوں کی امانتیں ان کو پہنچانا۔ حضرت علی ؑ نے فر مایا آپ ؐ کا حکم سر آنکھوں پر کیامیرے آپ ؐ کے بستر پر سونے سے آپ ؐ محفوظ رہیں گے؟ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہاں! اس پر حضرت علی ؑ نے سجدہ شکر ادا کیا رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں کہ آج رات میرے اور تمہارے امتحان کی رات ہے اور یقین کر و کہ تمہیں تلوار کے نیچے سلانا مجھ پر ابراہیم ؑ کے اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کے لئے لٹانے سے زیادہ مشکل ہے پھر حضور ؐ نے حضرت علی ؑ کو سینے سے لگایا اور گریہ فرمایا علی ؑ بھی فراق رسول ؐ میں رونے لگے غرض رسول خدا ؐ نے علی ؑ کو خدا کے سپرد کردیا اور خود گھر سے باہر نکل گئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
    ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ۔ (سورہ بقرہ پ ۲ )
    ترجمہ: لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو رضائے خدا کے عوض اپنی جان فروخت کرتا ہے۔
    محمد ؐ علی ؑ کو چھوڑ کر حکم خدا کے مطابق غار ثور کی طرف روانہ ہوئے راستے میں حضرت ابو بکر بن قحافہ ملے آپ ؐ نے انہیں بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ معتبر روایات کے مطابق رسول اللہ ؐ بارہ ربیع الاول بعثت کے تیرہویں سال مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے بعد میں اسی سال کو سن ہجری کی ابتداء قرار دیا گیا اور سال ہجری کا آغاز ماہ محرم سے کیا گیا۔ رسول اللہ ؐ جمعہ کے دن مدینے میں داخل ہوئے اور مسجد نبوی میں سو انصار و مہاجرین کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی، اسلام میں یہ پہلی نماز جمعہ تھی۔

    سرکار دوعالم ؐ کے مشہور غزوات
    ۱)… ۲ ہجری ۱۷ ماہ رمضان میں جنگ بدر
    ۲ )… ۳ ھ ۱۵ ماہ شعبان جنگ احد
    ۳)… ۵ ھ ماہ رمضان و شوال جنگ خندق
    ۴)… ۶ ھ کو سرور کونین ؐ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں دعوت اسلام دی۔
    ۵)… ۶ ھ ماہ ذی القعدہ میں صلح حدیبیہ ہوئی۔
    ۶)… ۶، ۷ ماہ ذی الحجہ ومحرم میں جنگ خیبر ہوئی۔
    ۷)… ۸ ھ ماہ جمادی الاول میں جنگ موتہ ہوئی۔
    ۸)… ۸ ھ ماہ رمضان میں فتح مکہ
    ۹)… ۸ ھ ماہ رجب میں جنگ تبوک
    ۱۰)… ۹ھ ماہ شوال میںجنگ حنین
    ۱۱)… ۱۰ ھ ماہ ذی الحجہ میں بنی نجران سے مباہلہ

    حجۃ الوداع و خطبہ غدیر
    سرکار دو عالم ؐ ماہ ذیقعدہ کی چھبیس تاریخ کو ہجرت کے دسویں سال آخری حج کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے اور ۹ ماہ ذالحجہ کو میدان عرفات میں حضور ؐ نے ناقہ غضباء پر سوار ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا۔ حج سے فارغ ہوکر آپ ؐ مدینہ کی طرف واپس چلے اور ۱۸ ذالحجہ کے دن غدیر خم کے مقام پر پہنچے جوکہ مکہ ا ور مدینہ کے درمیان واقع ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے ہر علاقہ کو راستہ جاتی ہیں ۔ ۹ ذی الحجہ سے ۱۸ ذی الحجہ تک تین بار اللہ کی طرف سے حکم آتا رہا کہ
    یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس۔ (سورۂ مائدہ پ ۶)
    ترجمہ: اے رسول تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف جو حکم نازل کیا ہے وہ اسی وقت لوگوں کو پہنچادو اگر تم نے تعمیل نہ کی تو تم نے رسالت کاحق ادا ہی نہ کیا اور فکر نہ کرو اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
    خدا کا حکم پہنچتے ہی رسول نے وہیں پڑاؤ لگایا جو لوگ آگے نکل گئے تھے انہیں واپس بلایا اور جو پیچھے سے آرہے تھے انہیں ساتھ ملایا اور کجاوؤں کا منبر بنوایا۔ بلال ؓ کوحکم دیا کہ حی علی خیر العمل کی ندا بلند کر۔ بلال ؓ کی آواز پر میدان غدیر پر میدان عرفات کا گمان ہونے لگا۔ اصحاب موسیٰ ؑ کی تعداد کے مطابق کم از کم ستر ہزار صحابہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرنے کے لئے رسول اللہ ؐ منبر پر تشریف لائے حضرت علی ؑ کو بھی بلاکر اپنی داہیں جانب برسر منبر اونچی جگہ پر بٹھایا۔
    حمد کے بعد آپ ؐ نے فرمایا کہ مجھے خداوند عالم کی طرف سے بلاوا آیا ہے جسے قبول کئے بغیر چارہ نہیں وقت آگیا ہے اور میں تم لوگوں سے عنقریب جدا ہوجاؤں مگر غور سے سنو میں تم لوگوں میں د و ایسی گرانقدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں کہ اگر ان دونوںسے تمسک رکھوگے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہونگے وہ دونوں چیزیں کتاب اللہ اور میری عترت ہیں اور یقین کرو کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ دونوں اکٹھے حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائے۔ سنو ان دونوں سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور میرے اہلبیت کو تعلیم نہ دینا کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم کے مالک ہیں۔ (صواعق محرقہ ، تاریخ ابن کثیر )
    پھر رسول اللہ ؐ نے استفسار کیا
    ایھا الناس الست اولی بکم من انفسکم
    اے لوگو ! کیامیں تم سے زیادہ تمہاری جانوں کامالک نہیںہوں؟ قالو بلی
    سب نے کہا ہاںاسی وقت حضور ؐ نے علی ؑ کے ہاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا۔
    من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصر واخذل من خذلہ۔
    ترجمہ: جس جس کا میں مولا(امام، رہبر، قائد، حاکم) ہوں تو یہ علی ؑ بھی اس کا مولا ہیں خدا یا جو علی ؑ سے دوستی رکھے اس سے تو بھی دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ اور جو اس کی نصرت کرے تو بھی اس کی نصرت کر اور جو اس سے کنارہ کشی کرے اسے تو بھی چھوڑ دے۔
    (خمخانہ وحدت (شرح احوال و مکاتبات) علاؤالدولہ سمنانیؒ ص ۱۴۷۔ ۱۲۳، مصابیح الاسلام شاہ قاسم فیض بخشؒ ص ۷ ، جامع الاسرار ص ۲۵۰، احباب قلمی جعفر بدخشی ص ۵۹، العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ علاؤالدولہ سمنانی ؒ ص ۱۳۳، کشف الحقیقت ج ۵ ص ۴۳، مصنفات فارسی (مکتوبات) علاؤالدولہ سمنانیؒ ص ۲۵۰، مظہر العجائب شیخ عطار ص ۲۶، تفسیر صافی ص ۴۵۶، روضات الجنان ج ۲ ص ۵۸۶، مجالس المومنین ص ۳۰۰، تحفۂ قاسمی سید قاسم شاہ کھرکوی ص ۲۰۳، مودۃ القربیٰ مودت ۵، ریاض السیاحہ شیروانی ص ۲۳۸، فلاح المومنین مولوی حمزہ علی ص ۱۸، ینابیع المودۃ ص ۷۴۲، مجمع البحرین ص ۳۵۷، تفسیر در منثور ج ۲ ص ۲۵۹، تاریخ الخلفاء ص ۱۲۱، سر العالمین امام غزالی ؒ ص ۹، صواعق محرقہ ص ۲۵، ارجح المطالب ص ۴۲، کنز العمال ج ۸ ص ۶۰، صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۶۲۔(
    یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے۔
    اس کے بعد حضور اکرم ؐ کے حکم پر بلال ؓ نے اذان ظہر دی اور ظہر کی نماز باجماعت پڑھی علی ؑ کے سر پر دستار باندھی اور فرمایا سب سے بیعت لے لیں اور تمام اصحاب کو حکم دیا کہ جاکر علی ؑ کی بیعت کرو ۔
    وعن عمران بن حصین قال قال رسول اللہ ؐ علی منی وانا منہ وھو مولای المومن والمومنات۔ (مشکواۃ شریف ج ۳ ص ۲۵۹، صواعق محرقہ ص ۱۲۲، ارجح المطالب ص ۴۶۳، کنز العمال ج ۶ ص ۵۲۶، شرح گلشن راز ص ۱۳۰، ینابیع المودۃ ص ۵۴، سبعین فی فضائل امیر المومنین سید علی ہمدانی ؒ ص ۵۰۹،تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۴۰، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۱، )
    ترجمہ: عمران بن حصین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا علی ؑ مجھ سے ہیں اور میں علی ؑ سے ہوں اور وہ تمام مومن اور مومنات کے مولا ہیں۔ بعض کتابوں میں مولا کی جگہ ولی آیا ہے۔
    لوگ جوق در جوق آپ ؑ سے بیعت لیتے رہے اس امر میں حضرت عمر سب سے پیش پیش تھے انہوں نے کہا
    بخٍ بخٍ یا علی اصبحت مولای و مولی کل مومن ومومنۃ۔ رواہ ابو نعیم وذکرہ ایضاً الشبلی فی کتابہ ۔(مودۃ القربیٰ ص ۸۸ مودۃ ۱۹، سبعین فی فضائل امیر المومنین ص ۱۵۔)
    ترجمہ: اے علی ؑ مبارک ہو آج تم میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے ہو۔
    مفسرین کااتفاق ہے کہ جب تبلیغ ولایت علی ؑ سے فارغ ہوئے تو قرآن کی یہ آخری آیت نازل ہوئی۔
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً۔ ((۳)سورہ مائدہ آیت ۴۔ )
    ترجمہ: آج ہم نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردیں اور تمہارے دین اسلام کو پسند کردیا ہے۔
    اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے غدیر کا جلسہ برخاست فرمایا اسی لئے ہم محبان علی ؑ ذی الحجہ کی ۱۸ تاریخ کو دو رکعت نماز غدیر باجماعت اور ایک خطبہ عظیم ادا کرتے ہیں۔ (دعوت صوفیہ امامیہ سید علی ہمدانی ؒ (

    حضور اکرم ؐ کی رحلت
    رحلت سے چند دن پہلے حضور اکرم ؐ شدید علیل ہوگئے علالت کی حالت میں ہی امیر المومنین حضرت علی ؑ کو ساتھ لے کر جنت البقیع تشریف لے گئے پھر انہیں اپنی رحلت کی خبر دی اور اپنی تجہیز و تدفین کے بارے میں وصیت فرمائی اور گھر واپس آگئے آپ ؐ کا مرض شدت اختیار کرتا گیا حضرت بلال ؓ نے جب اذان دی تو حضور اکرم ؐ خلاف معمول دیر سے پہنچے کچھ لوگ نماز پڑھنا چاہتے تھے لیکن آپ ؐ نے انہیں پسند نہیں فرماکر خود نماز پڑھائی جب گھر پہنچے تو آپ ؐ نے کچھ اصحاب کو طلب فرماکر ارشاد فرمایا کہ مجھے لکھنے کا سامان لاؤ یعنی ھلمو نی اکتب لک الخ
    پوری حدیث مشکواۃ شریف کتاب وفات النبی اور صحیحین میں مرقوم ہے قلم و قرطاس لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے یہ سن کر جب ایک صحابی لکھنے کا سامان لانے کے لئے اٹھا تو کسی نے اسے بیٹھے رہنے کو کہا اور کہا
    ان ھذا الرجل لیھجر وان علیہ وجع وحسبنا کتاب اللہ۔
    ترجمہ: بے شک یہ آدمی ہذیان کہہ رہا ہے کیونکہ اس پر مرض کا غلبہ ہے اور ہمیں کتاب خدا کافی ہے۔
    اس پر کمرے میں موجود لوگوں میں اختلاف کی بناء پرآوازیں بلند ہوئیں اور جھگڑا ہو اتو حضور اکرم ؐ کافی ناراض ہوئے اور فرمایا قوموا عنی میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ (سرالعالمین مقالہ چہارم امام غزالیؒ، تذکرہ خواص الائمہ سبط ابن الجوزی ص ۳۶،تاریخ اسلام ص ۴۱۹۔ (

    فاطمہ ؑ کے احترام میں عزرائیل کااجازت طلب کرنا
    جناب عبد اللہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب رحمۃ للعالمین ؐ کے مرض وفات میں ناگاہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا ؑ نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں ایک غریب آدمی ہوں۔ سرکار دو عالم سے ایک سوال کرنے آیا ہوں کیا آپ ؑ اجازت دیتی ہوں کہ میں اندر آسکوں؟ فرمایا حضور ؐ اس وقت بیمار ہیں کہ تم واپس چلے جاؤ رسول اللہ ؐ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا بیٹی یہ ملک الموت ہے یہ کسی سے اجازت نہیں لیتا صرف تمہارے احترام کی وجہ سے اجازت مانگتا ہے اسے اجازت دے دو بی بی پاک ؑ نے اجازت دی تو وہ اندر آیا اور کہا السلام علیٰ اہلبیت رسول اللہ اس وقت حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؑ کو صبر کی تلقین فرمائی اور آخری وصیتیں کیں۔
    امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں جب جبرئیل ؑ آخری بار رسول اللہ ؐ کے پاس آئے اور خدا کا سلام پیش کیاتو آپ ؐ نے فرمایا کہ جب تک ملک الموت اپنا کام نہ کرلیں تم میرے پاس سے نہ جانا پھر حضور اکرم ؐ نے ازواج کو بلایا اور الوداع کہا اس کے بعد سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا ؑ کو سینے سے لگایا اور کان میں کچھ بات کیں تو وہ رو پڑیں اس کے بعد آپ ؐ نے دوبارہ کچھ فرمایا تو آپ ؑ خوش ہوئی وہ یہ تھا کہ آپ ؑ سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کروگی۔ اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے عزرائیل کو اجازت دی کہ وہ جس کام کے لئے آئے ہیں وہ کرلیں۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    اس وقت حسنین ؑ سینہ اقدس سے لپٹ کر رونے لگے نہج البلاغہ میں جناب امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ؐ کی روح قبض کی گئی تو حضرت ؐ کا سرمبارک میرے سینے پر تھا اور آپ ؐ کی جان میری ہتھیلی پر جاری ہوئی تو میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر مل لیا اور حضرت ؐ کے غسل میں مصروف ہوا۔ فضل بن عباس ؓ پانی دیتے تھے فرشتے میرے مددگار تھے سارے مکان کی فضا فرشتوں کی آواز سے بھری ہوئی تھی وہ سب حضور ؐ پر درود پڑھ رہے تھے۔
    حضرت علی ؑ نے ارشاد فرمایا کہ حضور ؐ کی وصیت ہے مجھے اسی جگہ دفن کیاجائے جہاں میری روح قبض کی جائے گی پھر فرمایا یا علی ؑ میرے غسل و کفن سے فارغ ہونے کے بعد مجھے قبر کے پاس رکھ دینا تاکہ خدا اور ملائکہ صلواۃ پڑھ لیں اور آپ میری نماز جنازہ پڑھیں۔
    خدا و ملائکہ کے صلواۃ پڑھ چکنے کے بعد جناب امیر ؑ نے سیدۃ فاطمہ ؑ ، حسنین ؑ اور سلمان ؓ، مقداد ؓ ، ابوذر ؓ وغیرہ تمام صحابہ کرام ؓ کو اندر بلایا اور ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی۔
    حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ مودۃ القربیٰ میں خامہ فرسا ہیں کہ
    ثم رجعت فاطمۃ الیٰ بیتھا و جمعت الیھا النساء فقالت فاطمۃ انا للہ و انا الیہ راجعون انقطع عنا خبر السماء ثم قالت فی مرثیہ النبی – مودۃ القربیٰ مودۃ ۴
    حضرت فاطمہ ؑ اپنے گھر واپس آئیں مدینہ کی عورتیں تعزیت کے لئے ان کے پاس جمع ہوئیں تب فاطمہ ؑ نے کلمہ انا للہ زبان پر جاری کیا اور فرمایا اب آسمان کی خبر ہم سے منقطع ہوگئی پھر آنحضرت کے مرثیے میں چند اشعار پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے۔
    محمد رسول اللہ ؐ پر حضرت فاطمہ ؑ کا مرثیہ
    ’’اطراف عالم حضرت رسول خدا ؐ کے غم میں غبار آلودہ ہوگئے اور دن کا آفتاب سیاہ ہوگیا اور تمام زمانہ تیرہ و تاریک ہوا اور زمین آنحضرت ؐکے بعد ویران ہوگئی پس ضروری ہے کہ جہاں کے مشرق و مغرب آنحضرت پر گریہ کریں اور مصر اور تمام اہل یمن ان پر روئیں‘‘ ۔
    اس دن حضرت علی ؑ کے ساتھ رسول اللہ ؐ کے تدفین کے لئے صرف اٹھارہ نفر تھے جنہیں مکتب نوربخشیہ کے متوسلین ہژدہ کمربستہ شاہ مردان کے نام سے یاد کرتے ہیں مسلمان کہاں گئے۔
    سید محمد نوربخش قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔
    اہل دنیا دین و ایمان سوختی
    مصطفی را بے دفن انداختی
    (کشف الحقیقت)
    مکتب تصوف مذہب امامیہ صوفیہ المعروف نوربخشیہ کے لوگ بارہ ربیع الاول کو بارہ رکعات چھ سلام کے ساتھ عرس رسول اللہ ؐ پڑھتے ہیں۔ (دعوات صوفیہ امامیہ (
    نماز اور تعقیبات کے بعد مجلس عزا منعقد ہوتی ہے۔
    کوئی نماز محمد و آل محمد ؐ پر درود پڑھے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔ ہم ہر فرض کی نماز کے بعد دعائے تشفع میں پڑھتے ہیں۔
    اللھم انی اسئلک بنبوۃ محمد و رسالتہ ۔ دعوات صوفیہ امامیہ
    اے اللہ میں محمد ؐ کی نبوت اور رسالت کے واسطے آپ سے درخواست کرتا ہوں۔
    صبح کے اوراد (الصلوٰۃ) میں بھی آپ ؐپر تفصیلی سلام اور آپ ؐکی زیارت پڑھی جاتی ہے اور پھر ہر اذان میں ہم برملا اعلان کرتے ہیں۔ محمد و علی خیر البشر محمد ؐ اور علی ؑ تمام انسانوں سے بہتر ہیں۔

حضرت علی علیہ سلام

    حضرت امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی قرآن المجید: ا نا عرضنا الاماتہ علی السموت والارض و الجبال فابین ان یحملنھا و اشفقن منھا و حملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا۔ (سورہ الاحزاب پارہ ۲۲ آیت ۷۱)

    ترجمہ:بیشک ہم نے اس امانت کو آسمانوں کے اور زمین کے اور پہاڑوں پر پیش کیا تو ان سب نے اس کے اٹھا نے سے انکار کیا اور اس سے ڈرگئے اور انسان نے اس کواٹھالیا یقینا وہی انسان اپنے حق میں بڑا ظالم نادان تھا ۔
    حضرت امام جعفر صادق ؑ سے منقول ہے کہ امانت سے مراد امامت اور ولایت امیرالمومنین علی بن ابی طالب ؑ ہے اور الانسان سے مراد برائیوں کا مجموعہ منافق ہے۔
    صاحب تفسیر حسینی ملا حسین واعظی ؒ نے بحوالہ حضرت میر قاسم فیض بخش قدس اﷲ سرہ خلف رشید سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ امانت سے مراد خلافت ربانی ہے ۔(تفسیر حسینی ص ۶۸۴)
    تفسیر مظہری میں حدیث رسول اﷲ ؐ مرقوم ہے کہ
    قال النبی ؐ ما بلغ احد من الامم السابقۃ بدرجۃ الاولیاء بتوسط روح علی ابن ابی طالب ۔مشارب الاذواق سید علی ہمدانی ص ۵۳
    یعنی امت سابقہ میں کسی فرد کو بھی درجہ ولایت حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کی روح کے توسط کے بعد نہیں ملا ۔
    مکتب تصوف کے ساٹھ (۶۰) سلاسل میں سے جن میں صرف نقشبندیہ جو حضرت ابوبکر سے ملتا ہے باقی تمام سلسلے حضرت علی ؑسے ملتے ہیں سب آپ کو قطب الاقطاب ٗ قطب العارفین سمجھتے ہیں ۔ (شرح گلشن راز ۱۳۰ ٗ انسان کامل ص ۱۲۶)
    او ولی حق بود ھر خاص وعام
    نعمت حق برشما زوشد تمام
    دین اسلام از علی ؑکامل شود
    بے ولایش کیش ودین باطل شود
    این ولایت اصل دین ونعمت است
    خلق را از حق نشان عزت است
    تفسیر صفی علیشاہؒ
    حضرت شاہ ولایت ٗ امام اہل تصوف ٗ امام المتقین حضرت علی ؑ کی ولادت تیرہ (۱۳) ماہ رجب جمعہ کے دن عام فیل کے تیس ( ۳۰) سال بعد بیت اﷲ شریف میں ہوئی ۔ محدث دہلوی شاہ ولی اﷲ ؒ لکھتے ہیں کہ
    قد تواثرت الاخبار ان فاطمتہ بنت اسد ولدت علیا فی جوف الکعبۃ۔ ازالتہ الخلفاء ج ۲ ص ۲۸۷
    یعنی اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے حضرت علی ؑ کو خانہ کعبہ کے اندر جنم لیا ۔ یہ بات درج ذیل کتابوں میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ ( مستدرک حاکم ج ۳ ص ۴۸۳قرۃ العین فی سیرت الشخین شاہ ولی اﷲ ص ۱۳۸ ٗ تذکرۃ خواص الائمہ سبط ابن جوزی ص ۷)
    ملا حسین کاشفی روضہ الشہداء میں رقمطراز ہیں کہ
    پیش ازین بیت المقدس قبلہ بود
    خلق عالم فی نمود انجا سجود
    چون تولد کرد درکعبہ علی
    گشت کعبہ قبلہ از نص جلی
    جای مولودش چوشد مسجود ما
    پس چہ باشد قدر اوبیش خدا
    روضۃ الشہداء
    بعض مفسرین نے کعبہ شریف میں ولادت علی ؑ کے ضمن وشہادت میں قرآن شریف کی یہ آیت بھی نقل کی ہے
    لا اقسم بھذا البلدہ و انت حل بھذا البلد و والدو ما ولد۔(سورہ بلد پ ۳۰)
    مجھے اس شہر مکہ کی قسم اور تم اسی شہر میں رہتے ہو اور ایک والد اور اس کی اولاد ولد کی قسم ۔
    تفسیر اسرار المصحف میں مرقوم ہے کہ ووالد و ما ولد سے حضرت آدم ؑ اور اس کی وہ اولاد جو انبیاء و مرسلین ہیں ٗ مراد ہے بروایت دیگر حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی اولاد مراد ہے ۔ تفسیر برہان میں روایات اہل بیت ؑ کی روشنی میں والد سے حضرت علی ؑ اور اولاد سے مراد آئمہ طاہرین ؑ ہیں لیکن اس ’’والد ‘‘سے مراد سرور کائنات ؐ اور’’ وماولد‘‘ سے شاہ ولایت علی مرتضٰی ؑ ہے کیونکہ شان رسول ؐ میں ہے۔
    لولاک لما خلقت الافلاک
    کتاب سیرت علویہ ج ۱ ص ۲۱ میں مرقوم ہے کہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی ؑ کی ولادت رسول اﷲ ؐ کے حکم کے مطابق ہوئی ۔ خود والدہ ما جدہ امام علی ؑ فرماتی ہیں کہ جب ولادت کا وقت قریب آیا تو ایک دن میں طواف خانہ کعبہ میں مشغول تھی طواف کے چوتھے چکر میں رسول اﷲ ؐ نے میرے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر فرمایا کہ کیا آپ نے طواف مکمل کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ طواف پورا کریں اور گر ضرورت محسوس ہوئی تو خانہ کعبہ کے اندر چلی جائیں ۔
    حضرت عباس ابن عبدالمطلب ؓسے مروی ہے کہ میں نے اسی وقت دیوار کعبہ کو شق ہوتے دیکھا ۔ اور فاطمہ کعبہ کے اندر جا کر ہماری نظروں سے غائب ہوگئیں ہم بھی جانا چاہتے تھے مگر بحکم خدا سے دیوار میں شگاف اور دروازے بند تھے ۔ خوش قسمت زائریں جو کعبہ کے اندر گئے ہیں ان کا بیان کعبہ کی دیوار پر اس شگاف کی نشانی تقریبا ً ۱۴۳۲ سال گزر جانے کے اور چاندی کی ملمع کاری کے با وجود اب بھی دکھائی دیتا ہے ۔ حضرت فاطمہ بنت اسد تین دن تک کعبہ کے اندر رہیں مکے والے یہ واقعہ تمام کوچہ و بازار میں قل کرتے رہے اور چوتھے دن محمد مصطفی ؐ درواز نے سے کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور حضرت علی کو آغوش میں لے کران کے چہرے پر اپنا چہرہ مبارک رکھا اور علی ؑ نے سب سے پہلے کسی چیز کو چو سادہ محمد ؐ کی زبان تھی ۔ جو
    و ما ینطق عن الھویٰ ان ھواِلآ وحی یوحیٰ۔ سورہ نجم ۵۳ آیت ۳۔۴
    یعنی حضور پاک ٌ حکم خدا کے علاوہ اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کرتے۔
    کے اسرار سرچشمہ و منبع ہے جیسا کہ امیرالمومنین امام المتقین ؑ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ
    ہذا لعاب رسول اﷲ فی فمی۔
    ترجمہ: میرے منہ میں یہ رسول اﷲ ؐ کالعاب مبارک ہے۔ (نہج البلاغہ)
    اور حضرت علی ؑ نے اپنی والدہ محترمہ کا دودھ نہ پینے میں یہ راز مضمر تھا کہ آپ سب سے پہلے رسول اﷲ ؐ کی زبان اطہر چوسنا چاہتے تھے کیونکہ یہ منبع علم لدنی تھا ۔ حضرت امام ابو داؤد ؒ نے راویت کی ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے پہلے اور بعد میں کسی شخص کو بھی کعبے شریف کے اندر پیدا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوا معتبر روایت میں آیا ہے کہ باپ نے اس کانام زید اور ماں نے اسد رکھا اور سرور کونین ؐ نے فرمایا کہ اس مولود کانام علی بہت زیادہ اچھا ہے اور عالی ہمتی کی دلیل ہے فاطمہ بنت اسد نے بات سنی تو کہا خدا کی قسم میں نے ہاتف کویہ آواز دیتے سناتھا کہ اس بچے کانام علی رکھنا یعنی ۔
    فاسمہ من شامخ علی علی اشتق من العلی۔
    چنانچہ حضرت علی ؑ کا یہی نام مقرر ہوگیا ( روضۃ شہداء)اہل دانش و بینش سے یہ بات مخفی نہیں کہ فضاء کل علی ؑ نہ کوئی زبان بیان کرسکی نہ کسی کتاب میں سماسکی بلکہ جن و انس ٗ ملائکہ سموات ان کی درجات کا ادراک نہ کرسکے ماسوائے محمد ؐ کے ۔ اس لئے مولانا جامی کہتے ہیں ۔
    کسے را مسیر نہ شد این سعادت
    بکعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
    اس طرح خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ ؎
    اگرخواہی کہ در محشرشفیعت مصطفی باشد
    قسیم جنت و دوزخ علی مشکل کشاباشد
    امامت را کسے شاید کہ شاہ اولیاء باشد
    بزہد وعصمت و دانش مثال انبیاء باشد
    امام دین کسے باشد کہ در وقت ولادت او
    بود در کعبہ و کعبہ ذکعبش در صفا باشد
    نظام الدین حیا دارد کہ گوید بندہ شاہ ام
    ولیکن قنبر او رکمیہ یک گدا باشد
    غرضیکہ رسول اﷲ ؐ کی یہ حدیث علی ؑ کے فضائل کے جملہ ابعاد کا احاطہ کرتی ہے
    عن انس بن مالک ؑ قال قال رسول اﷲ ؐ ما من نبی الاولہ نظیر فی امتہ و من امتی علی ابن ابی طالب۔ سبعین فی فضائل علی بن ابی طالب ص ۹
    ترجمہ:حضرت انس بن مالک ؑ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں جس کی اپنی امت میں کوئی نظیر نہ ہو اور میری امت میں میری نظیر علی بن ابی طالب ؑ ہیں
    القصہ رسول اﷲ ؐ کی شان یہ ہے ؎ بعد از خدا توئے بزرگ قصہ مختصر اور علی ؑ کی شان یہ ہے کہ بعد از مصطفی ؐ توئے بزرگ قصہ مختصر ۔ الغرض امام المتقین ؑ کے فضائل کا احاطہ ممکن نہیں ہے علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی ۳۰۰ آیتیں آپ کی شان میں نازل ہوئیں ۔ (صواعق محرقہ ص ۷۶ طبع مصر(
    حضرت علی ؑ تمام کمالات نبوت کا مظہر اور تمام صفات ،درجات ، فیوض وبرکات اور انوار رسالت کا اسوہ حسنہ ہیں ۔ سید العارفین سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ کی تمام تصانیف بالعموم اور فقہ الاحوط، کتاب الاعتقادیہ ، کشف الحقیقت، دیوان رسالہ در بیان آیت، نجم الہدیٰ ،چہل حدیث، معراجیہ، مکتوبات ٗ انسان نامہ و غیرہ بالخصوص مناقب علی ؑ سے بھری پڑی ہیں ۔ فقہ الاحوط میں لکھا ہے کہ نماز جمعہ کی امامت کے لئے اگر حضرت علی ؑ کی طرح جملہ صفحات و اسمائے الٰہی کا مظہر ہو تو یہ نور پر نور کا اضافہ ہے ۔ تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ اٹھارہ ذی الحجہ کے روز حضرت نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھری اور طوفان ختم ہوا بحساب قمری اس روز کا نام عید غدیر ہے اور بحساب شمسی عید نوروز ہے اﷲ تعالیٰ نے اس روز جملہ ارواح سے اقرار توحید کرایا اور تمام انبیاء و اولیاء سے نبوت محمدیہ ؐ و امامت علویہ ؑ کا اقرار لیا۔
    تمام مومنین کرام کو جناب امیرالمومنین ؑ کی خلافت بلافضل خلافت مرتضوی عید غدیر و عید نوروز مبارک ہو ۔؎
    نو روز شد و جملہ جہاں گشت معطر
    از بوئے گل لالہ و نسرین و صنوبر
    بر تخت خلافت بہشت آن شہہ ابرار
    داماد نبیؐ شیر خدا ساقی کوثر
    اسی بناء پر مومنین امامیہ صوفیہ المعروف بہ نور بخشیہ ہر سال نو روز کے دن نماز ظہر و عصر کے در میان چار رکعات نماز بدو سلام اس نیت سے پڑھتے ہیں۔
    اصلی صلٰوۃ النیروز لندبھا قربۃ الی اﷲ۔ قلمی دعوات سید جلال الدینؒ بن سید مختار ا خیار ؒ
    القصہ ۳۵ ھ نوروز کے دن اٹھارہ ماہ ذی الحجہ میں حضرت علی ؑ وصی رسول خدا ؐ خلاف حقیقی کے ساتھ خلافت ظاہری کے منصب پر جلوہ افروز ہوئے سو مولائے متقیان کے بارے میں ہمارے بزرگان دین یوں رطب اللسان ہیں ۔
    سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ ۔ ؎
    پرسید عزیزی کہ علائی ز کجائی
    گفتم بولایت علی کز ھمدانم
    نے زاں ھمدا نم کہ نہ دانند علی ؑ را
    من زان ھمدانم کہ علی ؑ راھمہ دانم
    مشارب الاذواق ص ۲۶، آثارسید علی ھمدانی ( مجموعہ اشعار) ص ۴۹، خمخانہ وحدت علاء الدولہ سمنائی ( شرح احوال و مکاتبات) ص ۱۰۱ (
    ہزاران تحفہ صلوٰت بی حد
    زمابر آل اطہار محمد
    ھما مہر محمد در سفر بود
    بروج رفعتش اثنا عشر بود
    محمد ؐ شمع جمیع انبیاء بود
    وصی او امام اولیاء بود
    محمد ؐ شہرعلمی با بھا بود
    کہ درگاھش علی بابھا بود
    امیرالمومنین نور ہدایت
    امام المتقین شاہ ولایت
    مشارب الاذواق ص ۸
    علی ہم نام را بنگر کہ جز او
    بااﷲ و محمد ؐ رہبرم نیست
    آثار میر سید علی ہمدانی ( مجموعہ اشعار) ص ۴۴۹ ؎
    گر بدر منیری و سما باشد منزل تو
    و ز کوثر اگر سرشتہ باشد گل تو
    گر مہر علی نباشد اندر دل تو
    مسکین تو وسعیھائے بے حاصل تو
    آثار سید علی ہمدانی ؒمجموعہ اشعار ص ۴۸۲
    ۲ ۔ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ
    آنکہ را باشد خلافت از خدا
    او بود بر کل عالم پیشوا
    ترجمہ: ۔ جس کو خلافت خدا کی جانب سے عطاہو ، وہ تمام کائنات کار رہب اور پیشوا ہوتے ہیں ۔کشف الحقیقت ج ۶ ۔ ص ۸۹
    خلق را فقاد نقد است و محک
    مصطفی را جانشین بے ریب و شک
    ترجمہ: ۔ وہ لوگوں کے لئے حق اور باطل میں تمیز کا معیار ہے اور محمد مصطفی ؐ کی بلا شک وہ جانشین ہیں ۔ (کشف الحقیقت ج ۵ ص ۵)
    ۳ ۔ سید نجم الدین ثاقب قدس اﷲ سرہ
    علی ساکن تخت بلغ شناس
    علی امر حق را مبلغ شناس
    علی غنچہ باغ اواوالامر
    علی زبرہ قوم خیرالبشر
    علی سروگلزار اکملت دان
    علی نخل بستان اتممت دان
    ذاد الجنان قلمی ص ۲۲
    ۴ ۔ سید محمد شاہ زین الاخیار قدس اﷲ سرہ
    نفس پاک مصطفی او بدر برج اولیاء
    مخرج لؤلؤ والمرجان امیرالمومنین
    شہر علم حق شناسی ذات پاک مصطفی
    باب شہرومنبع عرفان امیرالمومنین
    مصطفی بامومنان دروادی خم چوں رسد
    برگرفت برمنبر پالان امیرالمومنین
    پس بفرمودہر کہ را با شد منم مولائے او
    گشت مولائی درکون براں امیرالمومنین
    )نفحات طیبہ مرتبہ ابراہیم زائر ص ۱۰۴)
    ۵ ۔ سید عون علی قدس اﷲ سرہ
    مولا سو چکلہ شیس نہ نا مولا علی ان کھو نی لزنیگ
    از ایں حدیث حق چھودنہ گوید پہچان مولانا علیؑ
    جہلی دے ظلمت پوینگ علی ان نوربخشی رہروان
    عون علی کھریل ستروبیسے دامان مولانا علیؑ
    نفحات طیبہ ص ۱۷۔
    ترجمہ:۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ جس کا میں مولاہوں میرے بعد اس کا علی ؑ مولا ہے اگر یہ حق بات کسی کے سمجھ میں آجائے تو اسے میرے مولا کی پہچان ہوگی ۔ جہالت کے اس دورمیں ملت نور بخشیہ کے لئے علی ؑ ہی امام ہے اے عون علی تم مضبوطی سے تیرے مولا علی ؑ کے دامن کو پکڑے رکھو۔
    ۶ ۔ سید احمد نور بخش دھکردی
    حقا کہ علی ولی مطلق باشد
    از بعد نبیؐ وصی برحق باشد
    باﷲ کہ خلیفہ بلا فصل علی ہست
    ہر کس کہ جزاین سرور احمق ہست
    برہان الحقیقت ص ۲۲۸
    شیخ لاہیجی اسیری ۔ ؎
    مرتضی آن منبع صدق و صفا
    آن وصی و جانشین مصطفی
    نفحات طیبہ مرتبہ ابراہیم زائر ص ۱۰۴
    حضور اکرم ؐ کا ارشاد ہے کہ
    عن بریدہ قال قال رسول اﷲ کل نبی وصی و وارث وان علیاوصی و وارثی۔ مودۃ القربی ٰ مودت ۴ ص ۴۷ ٗ شرح گلشن راز ص ۱۳۰
    بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ ہر ایک پیغمبر کا ایک وصی اور وارث ہوتا ہے اور علی میر اوصی اور وارث ہے ۔
    جب حضرت علی ؑ ظاہری منصب خلافت پر فائز ہوئے تو منافقین کی چاپلوسی کی وجہ سے مسلمان قوم خلفشار کی وجہ سے بٹ گئی ۔ امیر معاویہ نے حضرت علی ؑ کے خلاف بغاوت کرکے متوازی حکومت قائم کی ٗ جس کے نتیجے میں جنگ جمل، صفین اور نہروان لڑائی گئیں ۔ خلافت کے مقابلے میں ملوکیت ہی ملوکیت کی ترویج ہونے لگی ۔ حدیہ کہ منبر رسول اﷲ ؐ سے علی و آل علی ؑ پروشنام کو واجب گردانا گیا ۔ جب امام المتقین شاہ ولایت علی ؑکی شہادت مسجد کوفہ میں ہوئی تو شام کے بازاروں میں لوگ تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ کیا حضرت علی ؑ بھی نماز پڑھتے تھے؟ جبکہ رسول اﷲ ؐ کا فرمان تو یہ ہے کہ
    مثل علی بن ابی طالب فی الناس کمثل قل ھواﷲ احد فی القرآن رواہ صاحب الفردوس– السبعین ص ۹ سید علی ہمدانی ؒ
    ترجمہ:رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ لوگوں میں علی کی مثال قرآن میں سورہ قل ھواﷲ احد کی سی ہے ۔ یعنی اگر قرآن سے سورہ اخلاص کونکال دی جائے تو قرآن کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
    شہادت شاہ ولایت
    ایک دن مسجد کوفہ میں کوفے کے سب اشراف و موالیان اور محبین موجود تھے مولائے کائنات ؑ منبر پر تشریف لائے اور خطبہ ارشاد فرمایا منبر کے دائیں طرف نگاہ کی تو امام حسن ؑ کودیکھ کر فرمایا ۔ یا بنی کم مضامن شھرنا ھذ ا ۔ اے میرے بیٹے اس مہینے کے کتنے دن گزر چکے ہیں ؟ شہزادہ نے عرض کیا بابا جان رمضان کے تیرہ دن گزر چکے ہیں پھر امام المتقین نے بائیں جانب امام حسین ؑ کو دیکھ کر فرمایا ۔ یا بنی کم بقی من شھرنا ھذا ۔
    اے یرے بیٹے اس مہینے کے کتنے دن باقی ہیں؟ امام حسین ؑ نے عرض کیا ابا جان اس کے سترہ دن باقی ہیں ۔ اس کے بعد امام علی ؑ نے اپنے ریش مبارک پرہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا کہ میری داڑھی اس مہینے میں ایک بدبخت ترین آدمی کے ہاتھوں میرے سرکے خون سے رنگین ہوگی۔
    لیغضبھا بد مھا اذ بعث اشقسھا
    حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؑ مسجد کوفہ میں اعتکاف فرما رہے تھے افطار کے وقت آپ کی خدمت میں ایک اعرابی حاضر ہوا حضرت علی ؑ نے چمڑے کے تھیلے سے جو کے ستونکال کراس میں سے کچھ اعرابی کو عنایت کیے اعرابی نے ستونہیں کھایا بلکہ اس ستوکوا پنے عمامہ کے ایک پلہ میں رکھ دیا اعرابی نے حسنین ؑ کے دولت کدہ پر حاضر ہو کردونوں شہزادوں کے ساتھ کھانا کھایا اور ان دونوں سے کہنے لگا کہ میں نے مسجد میں ایک مسافر بزرگ اودیکھا جس کے اس ستوکے سوا اور کوئی چیز موجودنہ تھی مجھے اس شخص پر رحم آتاہے میں اس کھانے میں سے کچھ اس شخص کے لئے لے جاتاہوں تا کہ وہ اس کھانے میں سے تناول کرلے دونوں شہزادے یہ سن کر روپڑے اور دونوں نے فرمایا کہ وہ ہمارے باپ امیرالمومنین امام المتقین حضرت علی ؑ ہیں اپنے نفس پر اس ریاضت کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔ (ذخیرۃ الملوک سید علی ہمدانیؒ بہ تصحیح و تعلیق ڈاکٹر سید محمود انواری دانشگاہ تہران ص ۲۴۳ ۔ ۲۴۴ ٗ ینابیع المودۃ شیخ سلیمان قندوزی ص ۲۳۰ لاہور، نور المومنین ص ۱۹۳۔(
    مشہور واقعہ ہے کہ امام علی ؑ کو ایک ون حضرت ام کلثوم بنت فاطمہ ؑ نے جوکی روٹی کے ساتھ ایک پیالے میں دودھ ار دو سرے میں پانی اور نمک کے محلول سے بناسالن پیش کیا و آپ ؑ نے فرمایا بنت فاطمہؑ ! ان میں سے ایک ہٹایئے میں بروز قیامت اپنا حساب ہلکادیکھنا چاہتاہوں۔
    خود امام المتقین ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے ستوکے تھیلے کو امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ سے چھپاتا رہتاہوں اس خوف سے کہ کہیں وہ اس میں کوئی گھی نہ ملائیں ۔
    جب ابن ملجم نے آپ ؑ کے سراقدس پر ضرب لگائی تو شہادت سے کچھ پہلے آپ ؑنے ارشاد فرمایا کہ ۔
    و اﷲ ما فجاء نی من الموت وارد کرھتہ ولا طالع امشکرتہ و ما کنت الا کقارب و رد و طالب و حد و ما عند اﷲ خیر للا براد۔(نہج البلاغہ وصیت ۲۳(
    ترجمہ: خدا کی قسم! یہ موت کا ناگہانی حادثہ ایسا نہیں ہے کہ میں اسے ناپسند جانتاہوں اور نہ یہ ایسا سانحہ ہے اسے براجانتا ہوں میری مثال بس اس شخص کی سی ہے جو رات بھر پانی کی تلاش میں چلے اور صبح ہوئے چشمے پر پہنچ جائے اور اس ڈھونڈنے والے کی مانند ہوں جو مقصد کو پالے اور جو اﷲ کے یہاں ہے وہی نیکوں کاروں کے لئے بہتر ہے ۔ ایک دو سری جگہ پر امام علی ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔ و اﷲ لابن ابی طالب انس بالموت من الطفل بثدی۔()نہج البلاغہ خطبہ ۵)
    خدا کی قسم بچہ ماں کے ؎پستانوں سے جس قدر الفت رکھتا ہے ابوطالب ؑ کابیٹا اس سے زیادہ موت کو عزیز سمجھتا ہے ۔
    امام المتقین علی ؑ اپنے شگافتہ سر کے ساتھ مسجد کوفہ کی محراب میں ہیں اور اسی لمحہ شہادت کی عظمت اپنی زندگی کی معنویت و مقصدیت اور موت کے اقسام میں سے اپنی پاک و پاکیزہ موت کی نوعیت پر کمال توجہ کے ساتھ ایک نگاہ ڈالی اور آواز دی ۔ فزت برب الکعبہ پروردگار کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ۔ القصہ ۲۱ رمضان المبارک کو آپکی شہادت ہوئی اور نجف اشرف میں دفن ہوئے۔؎
    کسے را مسیر نہ شد ابن سعادت
    بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
    خود امام المتقین ؑ اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔
    فجعلت اتبع ماخذ رسول اﷲ ؐ فاطاء ذکرہ حتی انتھیت الیٰ العرج ۔نہج البلاغہ خطبہ ۲۳۳
    میں رسول اﷲ ؐ کے راستے پر روانہ ہوا اور آپ کے ذکر کے خطوط پر قدم رکھتا ہوا مقام عرج تک پہنچ گیا ۔ امام المتقین ؑ کی شہادت کی خبر جب امیر معاویہ کو ملی تو اس کی زبان سے بے ساختہ یہ فقرہ نکل پڑا ۔
    ذھب الفقہ و العلم بموت ابن ابی طالب۔استیعاب ص ۱۴۵ ۔۳
    ترجمہ: علی ؑ کی موت سے علم و فقہ کا خاتمہ ہوگیا ۔
    ہم سلسلہ ذھب ٗ مکتب تصوف ٗ مذہب امامیہ صوفیہ المعروف نور بخشیہ کے لوگ ۲۱ رمضان کو صبح اوراد فتحیہ کے بعد حضرت علی ؑ کی نماز زیارت چار رکعت دو سلام سے پڑھتے ہیں جس کی نیت یہ ہے
    اصلی صلوٰۃ زیارت علی المرتضٰی رکعتین قربۃ الی اﷲ۔ دعوات صوفیہ امامیہ
    اس کے بعد مجلس عزا منعقد ہوتی ہے ۔

حضرت امام حسن علیہ سلام

    حضرت امام حسن علیہ السلام
    بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔
    قال اﷲ تعالیٰ فی القرآن المجید۔ الاان اولیاء اﷲ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ الذین امنو و یتقون۔ لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ۔ لا تبدیل لکلمات اﷲ ذلک ھو الفوز العظیم
    ۔ سورہ یونس پ ۱۱ آیت ۶۴
    ترجمہ: آگاہ ہو کہ جو دوستان خدا ہیں ان کونہ کوئی خوف ہوگا اورنہ ہ محزون ہوں گے وہ وہی لوگ ہیں جوایمان لائے اور پرہیز گاری برتتے تھے ان کی زندگی دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی وہی تو بڑی کامیابی ہے۔
    تفسیر عیاشی اور تفسیر اسرار المصحف و غیرہ میں جناب امام محمد باقر ؑ سے منقول ہے کہ ہم نے علی بن حسین زین العابدین ؑ کی کتاب میں یہ لکھا ہوا پایا کہ آگاہ رہو اولیاء اﷲ وہ ہیں کہ نہ ان کو آئندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کا خوف ہے اور نہ گزشتہ کے متعلق وہ رنجیدہ ہوں گے جب وہ خدا کے فرائض ادا کرتے ہیں اور رسول خدا ؐ کی سنتوں سے مستمسک ہیں اور خدا نے جو چیزیں حرام قرار دی ہیں ان سے بچتے ہیں اور زینت دنیا سے اپنے آپ کو روکتے ہیں اور اﷲ کے پاس جو کچھ مہیا ہے اس کو لولگائے ہوئے ہیں اور خدا کے رزق میں سے حلال و طیب کھاتے ہیں اور ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ کسی کے مقابل فخر جتائیں یا کسی سے بڑھ جائیں پھرجو حقوق ان کے ذمے واجب کیے ہیں وہ سب حلال طریقے سے ادا کرتے ہیں پس وہی ہیں وہ لوگ جن کی کمائی میں خدا برکت دیتا ہے اور جو کچھ وہ اپنی آخرت کے لئے پہلے سے بھیج رہے ہیں اس پر ان کو ثواب دیا جائے گا ۔
    حضرت امام بحق ناطق جعفر صادق ؑ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ ولی ا ﷲ کے کئی درجے ہوتے ہیں ان میں سے اعلیٰ درجہ کے اولیاء اﷲ کی شان یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں تو ان کی خاموشی یاد خدا سمجھی جائے اور کسی چیز کی طرف دیکھیں تو عبرت حاصل کرنے کی غرض سے ہو ۔ اگر بات کرین تو ان میں حکمت ہو اور چلیں پھریں تو ان کاچلنا پھرنا لوگوں میں باعث برکت ہو ۔ مکتب تصوف کی بہت ساری کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت علی ؑ کمل اولیاء میں سے ہیں
    (انسان نامہ سید محمد نور بخش ص ۴۸ ٗ تلویحات قلمی نور بخش ص ۶ٗ اصول اعتقادیہ نور بخش ص ۵۲ٗ فقہ الاحوط باب جہاد خمخانہ وحدت علاء الدولہ سمنانی ؓ ص ۱۴۷ ٗ مکتوبات نور بخش ص ۵ٗ رسالہ در بیان حدیث نور بخش ص ۱ ٗ معراجیہ ص ۷ ٗ شرح گلشن زار ص ۱۳۱ ۔)
    ۱ ۔ تلوین ، ۲ ۔ تمکین ،۳ ۔ تکوین ۔ دو سرے الفاظ میں درجہ اول علم ٗ درجہ دوم حالت ٗ درجہ سوم فنایا درجہ اول تجریدٗ درجہ دوم تفرید ٗ درجہ سوم توحید ٗ کبھی درجہ اول کانام خوف ورجا ٗ درجہ دوم کا قبض ٗ درجہ سوم انس و ھیبت اور بعض اوقات درجہ اول کو علم الیقین’’ شریعت‘‘ درجہ دوم کو حق الیقین ’’طریقت‘‘ اور درجہ سوم کو عین الیقین ’’ حقیقت ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ (فواتح الجمال نجم الدین کبریٰ ص ۲۴۴)
    قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    ولقد اخذ اﷲ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشر نقیباً۔ سورہ المائدہ ۴ آیت ۱۲
    ترجمہ:۔ اور بیشک اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے مضبوط عہد لیا اور ان میں سے بارہ سرداران پر مامور کیے ۔ اس آیت کی تفسیر میں سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ تحریر فرماتے ہیں۔
    قال رسول اﷲ ؐ الائمۃ من بعدی بعدد نقباء بنی اسرائیل و اولھم علی و آخرھم مہدی ؑ ۔
    مودۃ القربی ٰ ص ۹۳ ۔ ۹۴ مودت ۱۰، ینابیع مودت ص ۶۹۱ ،نور بخشیہ ص ۵ ، نور المومنین حمزہ ص ۱۵۶
    امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں ۔
    اللھم بلی لا تخلو الارض من قائم ﷲ بحجتہ اما ظاھرا مشہور او خائفا مغمور الئلا تبطل حجج اﷲ وبیناتہ۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ۱۴۷
    ترجمہ: جی ہاں زمین کبھی دلیل و حجت کے ساتھ قیام کرنے والے کے وجود سے خالی نہیں رہتی چاہے وہ قائم ظاہر ہو اور آشکار یا مخفی اور پنہان ہو تا کہ خداوند عالم کی دلیلیں اور روشن دستاویزات ضائع نہ ہو جائیں اور بھلائی جائیں ۔ غوث المتاخرین سید محمد نور بخش ؓ نے کتاب الاعتقادیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ ۔
    فی امۃ محمد ؐ اکثر من ثلاث مائۃ الف و العالم لایخلو من برکاتھم طرفۃ عین لما قال ؐلولا الابرار لھلک الفجار وادمھم علی و خاتمھم مہدی۔
    کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش مرتبہ سید قاسم شاہ کھرکوی ص ۶۷ ۔ ۶۸ ٗ علامہ بشیر ص ۵۱ ۔ ۵۲
    حضرت محمد ؐ کی امت میں ان اولیاء کرام کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے دنیا ان کے برکات سے ایک لمحہ کے لئے بھی خالی نہیں رہ سکتی جیسا کہ سرور کائنات ؐ نے فرمایا ’’ اگر نیکو کار لوگ موجود نہ ہوتے تو بدکار لوگ ہلاک ہو جاتے ‘‘ آدم الاولیاء حضرت علی ؑ ہیں اور خاتم الاولیاء حضرت امام محمد مہدی ؑ ہیں ۔ق۱
    شیخ الاسلام خواجہ عبداﷲ انصاری ؓ نے زیر بحث آیت کی تفسیر میں یوں خامہ فرسائی کی ہے کہ اسرائیل میں بارہ نقیب تھے جو پوری قوم کے پیشروان اور ان کے مرجع تھے اسلام میں چالیس نفر ابدال ، سات نفرامین تین نفر خلیفہ اور ایک نفر قطب ہوتے ہیں جوکہ امام کے جانشین ہوتے ہیں۔(تفسیر کشف الاسرار ادبی ، عرفانی ج ۱ ص ۲۴۱)
    خواجہ عبداﷲ انصاری نے آیۂ
    اطیعواﷲ و اطیعو الرسول الخ
    سورہ نساء آیت ۵۹ کی تفسیر میں بھی لکھا ہے کہ ان بزرگوں میں سے ۳۰۰ نفر اولیاء اﷲ ہیں جن میں سے چالیس نفر ابدال ٗ اور ان میں سے سات او تاد اور ان میں سے پانچ نفر نقباء اور ان میں سے تین نفر مختار اور ان میں سے ایک غوث ’’ قطب‘‘ ہوتاہے ۔تفسیر کشف الاسرار ادبی و عرفانی ج ۱ ص ۲۰۱ ۔ ۲۰۲
    کتاب کشف المحجوب کے حوالے سے شرح اصطلاحات تصوف رقمطراز ہیں کہ ان اولیاء کرام کی تعداد چار ہزار ہے وہ ایک دو سرے کو اور خود اپنے حال کو بھی نہیں پہچانتے ہیں اور کل احوال میں اپنے سے اور دنیا کے لوگوں سے مستور ہوتے ہیں ان میں سے زیادہ بزرگ تین سو ہوتے ہیں کو اخیار کہاجاتا ہے ان میں سے چالیس کو ابدال کہا جاتا ہے اور ان میں سے سات ابرار اور انہی سات میں سے چار کو او تاد اور ان میں سے تین کو نقیب اور ان تین میں سے ایک کو قطب یا غوث کہا جاتا ہے اور یہ سب ایک دو سرے کو پہچانتے ہیں اور مذہبی امور میں ایک دو سرے کے محتاج بھی ہوتے ہیں ۔ (کشف المحجوب سید علی ہجویری چاپ تہران ص ۲۴۹ ،شرح اصطلاح تصوف ج ۲ ص ۱۴۰ (
    معمولی اختلاف کے ساتھ درج ذیل کتابوں کے مطالب بھی یہی ہیں۔ (حلیتہ الاولیا ء ص ۸، شرح سطحیات ص ۵۲، انسان کامل نسفی ص ۳۱۹ ، امالی پیر ھرات ص ۸۰ ، شرح گلشن راز ص ۲۸۲ ، نص النصوص ص ۲۷۶ ، شرح سطحیات روز بھان ص ۱۰ ، تخفۃ العرفان ص ۷،شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۹ – ۱۶۱ (
    علامہ نسفی نے سعد الدین حموی سے نقل کیا ہے کے جب محمد مصطفی ؐ کی نبوت ختم ہونے کو آئی تو آپ ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گاجو لوگوں کو دین خدا کی دعوت دے ۔ میرے بعد جو پیرومند اور حضرت خدا تعالیٰ کے مقرب ہوں گے ان کے نام اولیاء اﷲ ہیں ۔ یہ اولیاء خلق کو میرے دین کی دعوت دین گے ۔ محمد ؐ کے دین میں ولی کانام آیا خدا تعالیٰ نے محمد ؐ کے دین میں بارہ آدمیوں کو اپنا برگزیدہ و مقرب گرداناٗ اپنی ولایت سے مخصوص کیا اور انھیں حضرت محمد مصطفی ؐ کے نائبان مقررکیا ۔
    العلماء ورثۃ الانبیاء ۔
    (مکتوبات سید نور بخش ص ۱۲ ٗ جامع الصغیر ج ۲ ص ۱۹۱ ٗ آداب المریدین ص ۸۰ ٗ انسان کامل ص ۳۴۰ ٗ تمہیدات عین القضاۃ ص ۸۴ ٗ مناقب العارفین ص ۲۹۵ ٗ نسفاء السائل ص ۹۶ ٗ مناہج الطالبین ص ۳۸۶ ٗ جامع الاسرار ص ۴۲۱ ٗ مشارق الدرارمی ص ۴۵۶ ٗ نسائم گلشن ص ۸۶ ٗ مقدمہ رسالہ نفس شناسی سید نور بخش ص ۶ ٗ کتاب الاعتقادیہ نور بخش ص ۵۱ (
    ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔
    اور انہی بارہ اذوات مقدسات کے بارے میں فرمایا ۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۔ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء جیسے ہیں ۔
    شیخ کے نزدیک امت محمد ؐ میں ان بارہ نفوس کے علاوہ کوئی بلند رتبہ والا ولی ہی نہیں اور ان اولیاء میں سے پہلا حضرت علی ؑ اور خاتم الاولیاء حضرت امام مہدی ؑ ہیں ۔(انسان کامل نسفی ص ۳۲۰ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۶۳) جامع الاسرار ص ۳۸۷ ٗ ۴۳۱ ٗ ۴۱۰ (
    شیخ الاکبر ابن عربی ؓ کے حوالے سے ’’ فتوحات مکیہ ‘‘ میں شیخ حامد الغزالی نے اور شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی نے ’’ وصیت نامہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ ائمہ اثنا عشر اقطاب عالم ہیں ۔ (تصویر نجات ج ۱ ٗ ص ۶۶۷ مطبع لکھنؤ، نص النصوص ص ۲۷۴ ۔(
    غوث المتاخرین سید محمد نور بخش ؒ نے حضرت امام محمد مہدی صاحب عصر و الزمان کے بارے میں لکھا ہے کہ ؎
    اندرین دور او امام عالم است
    قطب اقطاب است و غوث اعظم است
    کشف الحقیقت ج ۱ ص ۷۹
    اس لئے ہم سلسلہ ذھب کے متوسلین اپنے عملیات کے اختتام پر اولیاء اﷲ کے ان سات طبقوں یعنی
    ۱ ۔ طبقہ اول کو اخیار افراد کہاجاتا ہے جو کہ ۳۰۰ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
    ۲ ۔ طبقہ دوم کو ابدال کہاجاتاہے جو کہ ۴۰ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
    ۳ ۔ طبقہ سوم کو ابرار کہا جاتا ہے جو کہ ۷ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
    ۴ ۔ طبقہ چہارم کو اوتاد کہاجاتا ہے جو کہ ۵ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
    ۵ ۔ طبقہ پنجم کو مختار نجباء کہاجاتا ہے جو کہ ۴نفر پر مشتمل ہوتاہے
    ۶ ۔ طبقہ ششم کو نقیب کہاجاتا ہے جو کہ ۳ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
    ۷۔ طبقہ ھفتم کو قطب غوث کہا جاتا ہے جو کہ ۱ نفر پر مشتمل ہو تا ہے ۔ جو کہ مجموعی طور پر ۳۶۰ نفر بنتے ہیں
    ۔(شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۶۱، فرہنگ نور بخش اصطلاحات تصوف ڈاکٹر جواد نوربخش ج ۳ ص ۳۰ ، ۳۵ ۔(
    کے توسل سے دعا مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
    ظاھرا باطنا دینا و دنیا نا بحرمۃ ھٰؤلاء کمل الاولیاء من الاقطاب الی الافراد ۔
    دعوات صوفیہ امامیہ ص ۸۹
    انہی اولیاء اﷲ کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    ﷲ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمات الی النور۔ – سورہ بقرہ آیۃ ۲۵۷
    ترجمہ : ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی اﷲ ہے وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لا تا ہے ۔ ایک دو سری آیت میں ارشاد ہو تا ہے ۔
    ان اولیاء ہ الّا المتقون و لکن اکثرھم لایعلمون ۔سورۂ انفال آیت ۳۴
    ترجمہ : ۔ اس کے اختیار والے تو وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں لیکن ان میں اکثروں کو اس کی خبر نہیں یعنی اس کے جائز متولی صرف اہل تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں ۔
    امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ ۔
    اولیاء اﷲ قوم صفراء الوجوہ من السحر عمش العیون من العبر ٗ حمص البطون من الخوی و یبس الشفاہ من الدوی ۔(تفسیر کشف الاسرار ج ۴ ص ۳۰۹ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۰(
    ایک مشہور حدیث یہ بھی ہے کہ۔
    اولیاء ئی تحت قبائی لا یعرفھم غیری۔
    (شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۴ ٗ کتاب نوریہ نور بخش ۔ مصنفات فارسی سمنانی ص ۲۳۸ ۔ ۴۰۴ ٗ کشف الحقیقت ج ۱ ص ۳۸ ٗ چہل مجلس سمنانی ص ۲۵۷ ٗ ذخیرۃ الملوک ہمدانی ص ۳۰۹ ٗ عبھر العاشقین ص ۵۹ ٗ کشف المحجوب ص ۷۰ ٗ تذکرۃ الاولیاء عطار ص ۹ ۱ ، رباب نامہ ص ۳۷ٗ العروہ سمنانی ص ۱۳۵ ٗ کشف الاسرار اسفرانی ص ۱۳۶ ٗ مناہج الطالبین ص ۳۵۹ ، مرصاد العباد ص ۱۳۶ ٗ رسالہ زکریہ ٗ سید علی ہمدانی ؒ ص ۱۰۲)
    میرے اولیاء میری قباء کے نیچے ہوتے ہیں ان کو دو سرے نہیں پہچان سکتے ۔
    ان تمام منابع کو مد نظر رکھتے ہوئے غوث المتاخرین حضرت سید محمد نور بخش نور اﷲ مرقدہ نے لکھا ہے کہ ۔
    و یجب الایمان بالاولیاء فی الطریقۃ کما یجب الایمان بالانبیاء فی الشریعۃ۔ – (کتاب الاعتقادیہ ص ۳۵)
    جس طرح شریعت میں انبیاء ؑ پر ایمان لانا واجب ہے اسی طرح طریقت میں اولیاء کرام پر رکھنا واجب ہے ۔ سید العارفین محمد نور بخش ؒایک اور کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ؎
    ہم ولی راولی تواند دید
    مصطفی را علی تو اند دید
    انسان نامہ سید محمد نور بخش ص ۲۸ ٗ تلویحات قلمی سید محمد نور بخش ص ۷ ٗ مکارم الاخلاق سید نوربخشؒ ص ۴ ٗ خلاصتہ المناقب قلمی
    اور یہ اولیاء اﷲ کون ہیں ؟ غوث المتاخرین ؒ تحریر فرماتے ہیں ۔
    لانھم العالمون العاملون و العلماء الربانیون ۔
    (کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش ص ۵۱)
    اور اولیاء کرام عالمین شریعت ٗ عاملین طریقت اور علمائے ربانین ہوتے ہیں ۔
    شیخ اسیرمحمد لاہیجی تحریر فرماتے ہیں ؎
    گہ نبی بود گہے آمد ولی
    گہ محمد گشت و گاہے شد علی
    در نبی آمد بیان راہ کرد
    در ولی از سر حق آگاہ کرد
    ظہور کلی او شد بخاتم
    بدو یا بد تمامی ہر در عالم
    وجود اولیاء او را چو عضواند
    کہ او کل است ایشان ھجو جز اند
    شود او مقتدائے ہر دو عالم
    خلیفہ گرد و از اولاد آدم
    شرح گلشن راز ص ۱۳۸
    قرآن مجیدمیں ایک اور جگہ ارشاد ہو تاہے ۔
    انما ولیکم اﷲ و رسولہ و الذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ و یوتون الزکوٰۃ و ھم راکعون۔ – سورہ المائدہ آیت ۵۵ ۔ ۵۶
    تمہارا ولی، اﷲ اور اس کا رسول ہے او روہ مومنین بھی تمہارے ولی ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
    مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت کمل الاولیاء حضرت علی ؑ کی شان میں اتری ہے
    (۳)تفسیر در منشور ج ۲ ص ۳۹۳ ٗ تفسیر کبیر ر ص ۴۱۹ ٗ تفسیر خازن ج ۲ ص ۵۵ ٗ تفسیر فتح القدیر ج ۲ ص ۵ ٗ تفسیر عیاشی ص ۳۵ ٗ تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۴۰ ٗ تفسیر کشاف ج ۲ ص ۴۳۲ ٗ تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۶ ٗ تفسیر تبیان ج ۱ ص ۲۹۳ ٗ تفسیر کشف الاسرار ادبی و عرفانی ج ۱ ص ۲۵۳ ٗ تفسیر مجمع البیان ج ۲ ص ۲۱۰ ۔ ۲۱۱ ٗ تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۹۳ ٗ تفسیر عزائب القرآن ص ۶ ٗ تفسیر قرطبی ج ۹ ص ۲۲۱ ٗ تفسیر روح المعانی ج ۶ ص ۱۶۷ ٗ تفسیر سعارف القرآن ج ۳ ص ۱۲۹ ، تفسیر میزان ج ۲ ص ۲۳ ٗ تفسیر جامع البیان ج ۱۰ ص ۴۲۵ ٗ تفسیر حسینی مطبوعہ لکھنؤ ج ۱ ص ۱۰۰ ٗ شواہد التفریں حاکم حکانی ص ۱۶۱ ۔ ۱۶۹ ٗ ریحانتہ الادب ج ۵ ص ۳۱۱ ٗ کنز لایمان ج ۵ ص ۱۹۵ ٗ مناقب ابن مخار الی ص ۳۱۱ ۔ ۳۱۴
    اسی کمل الاولیاء امام المتقین علی ؑ کے فرزند رشید امام حسن ؑ کے بارے میں ذکر ہے کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جار ہے تھے کہ راستے کے کنارے پر ایک شخص پڑا ہے جس کے ہاتھ پاؤں شل ہیں جب اس نے دیکھا کہ امام حسن ؑ آرہے ہیں تو اس کے دل میں افسوس ہوا کہ کاش میرے ہاتھ اس قابل ہوتے کہ اٹھا کر امام حسن ؑ کو سلام کرتا ۔ پاؤں صحیح ہوئے کہ تعظیم کو کھڑا ہو تا امام ؑ قریب تشریف لائے تازیانہ ہاتھ سے گرادیا اور اس شخص سے فرمایا بھائی ! ذرا ہمارا تازیانہ تو اٹھادو منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ وہ زمین گیر شخص فوراً تندرست ہوگیا ہاتھ سے سلام کیا تعظیم کواٹھا اور تازیانہ اٹھا کر پیش کیا یہ ہے شان ولایت مطلقہ کی ۔
    تفسیر حسینی ص ۳۴۶ میں مرقوم ہے کہ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ نے فرمایا کہ ولی حق کے لئے دو بشارتیں ہیں (۱) دنیا میں سرور مجاہدہ اور آخرت میں نور مشاہدہ ٗ ادھر صفا و وفا اور ادھر رضا و لقا ۔ حضرت امام زین العابدین ؑ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن ؑ زبردست عابد ٗ بے مثل زاہد اور افضل ترین عالم تھے آپ ؑ نے ہمیشہ پیدل اور ننگے پاؤں حج فرمایا آپ اکثر موت ٗ عذاب ٗ قبر اور صراط کویا دکرکے رویا کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے تو آپ کے چہرے کارنگ زرد ہوجایا کرتا تھا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے توبید کی مثل کاننپے لگتے تھے ۔
    روضۃ الواعظین ٗ بحار الانوار ٗ مشجر الاولیاء مرتبہ مولوی عبدالخلیل بلغاری ص ۲۷۶
    ہر فرض کی نماز کے بعد پڑھنے والی دعا تشفع میں رب تعالیٰ سے گڑ گڑا کرہم التجا کرتے ہیں۔
    وبامامۃ الحسن و ولایتہ
    دعوات صوفیہ امامیہ
    مجھے حضرت امام حسن ؑ کی امامت اور ولایت کا واسطہ …

    ولا ٗ ولایت ٗ ولی ٗ مولیٰ ٗ اولیٰ اور ان سے مشابہ کئی دوسرے الفاظ مادہ ولی سے مشتق ہیں قرآن مجید میں یہ لفظ اور ان کے مشتقات مختلف شکلوں میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں کہاجاتا ہے کہ قرآن میں یہ الفاظ ۱۲۴ مرتبہ بطور اسم اور ۱۱۲ دفعہ بطور فعل استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ راغب اصفہانی نے { مفردات القرآن } میں لکھا ہے کہ اس لفظ کے اصلی معنی ایک چیز کے دو سری چیز کے پہلو میں اس طرح موجود ہونے کے ہیں کہ در میان میں کوئی فاصلہ باقی نہ رہے اسی مناسبت سے یہ کلمہ قرب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہ جسمانی ہویا روحانی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام مشتقات دوستی ٗ محبت ٗ حمایت ٗ سرپرستی اور تسلط و غیرہ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ان تمام الفاظ میں کسی نہ کسی قسم کے قرب اور اتصال کا تصور پایا جاتا ہے ۔ ولایت اور ولایت کے الفاظ کے استعمال کے بارے میں راغب کاکہنا ہے کہ ولایت کے معنی مدد اور ولایت کے معنی کسی کام کی ذمہ داری سنبھا لنے کے ہیں تا ہم در حقیقت دونوں لفظوں کے معنی ذمہ داری سنبھا لنے کے ہیں ۔ جبکہ ولا کی دو قسمیں ہیں ۔
    ( ۱ ) منفی ولا (۲) مثبت ولا اور مثبت ولا کی مزید چار قسمیں بتائی جاتی ہیں ۔
    (۱) ولائے قربت (۲) ولائے امامت (۳) ولائے زعامت (۴) ولائے تصرف یا تکوینی ۔
    اس مختصر مضمون میں ولایت کی ان تمام اضاف کا تفصیلی جائزہ ممکن نہیں ہے لہذا ضروری یہ ہے کہ ایک مرد مومن دعائے تشفع کے تمام تشریح طلب کلمات کے تمام کے تمام افکار کو مد نظر رکھتے ہوئے شرح لکھے یہاں پر ولایت امام حسن ؑ سے مراد وہ غیر مرئی حکومت ہے جو ظاہری حکومت چھوڑ نے کے با وجود امام حسن ؑ کے پاس موجود تھی یعنی خلافت حقیقی اور خلافت باطنی ۔ امام حسن ؑ نے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرکے اسلام کو بچایا ۔ صدر اسلام میں بھی صلح و جنگ دونوں ہوتی رہی ہے آنحضرت ؐ نے موقع صلح پر صلح حدیبیہ ۶ ھ کو کفار کے ساتھ کیا اور صلح نامہ حضرت علی ؑ نے لکھا اور موقع جنگ میں ان گنت غزوات کئے ۔ امام علی ؑ نے موقع صلح میں گوشہ نشین اختیار کرکے تلخ خاموشی کے دن گزارے اور موقع جنگ میں شجاعت حیدری کے کارنامے دیکھا ئے۔
    امام حسن ؑ کے لئے جنگ ممکن نہ تھی اس لئے انہوں نے صلح کرلی اور امام حسین ؑ کے لئے صلح ممکن نہ تھی اس لئے انہوں نے جنگ کی اور از روئے حدیث اپنے مقام پر دونوں صحیح اور ممدوح ہوئے جیسا کہ فرمایا
    عن سلمان فارسی قال رسول اﷲ الحسن و الحسی امامان قاما او قعدا
    مجالس المومنین ص ۳۸۳ ٗ علل اشرائع ص ۲۰۰ ٗ زندگانی امام حسین ؑ عماد زادہ ص ۳۳۰ ٗ زندگانی امام حسن ؑ عماد زادہ ص ۲۰۹ ٗ جارج ۱۰ ص ۷۸ ٗ نزھتہ المجالس ج ۲ ص ۱۸۴ ٗ اتحاف بحب الاشراف ص ۱۲۹ ٗ
    لہٰذا امام حسن ؑ کی ولایت و امامت پر اشتباہ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ العزیز کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے ۔ مکتب نور بخشیہ کی ان تمام کتابوں میں جہاں سلسلہ ذہب درج کیئے ہوں امام حسن ؑ کا اسم گرامی شامل ہے ملاحظہ فرمایئے ۔(سلسلۃ الذہب ٗ نور بخش قلمی ص ۱۴ ۔ ۱۷ ٗ رسالہ مکارم اخلاف ٗ نور بخش ص ۱۴ ۔ ۱۵ ٗ تحفہ قاسمی قلمی ص ۵۳۷ ۔ ۵۳۸ ٗ رسالہ امامیہ ٗ شاہ قاسم فیض بخش ص ۵۵ ۔ ۵۷ ٗ طرایق الحقائق ج ۲ ص ۱۴۳ ٗ ریاض سیاحہ ص ۳۳۸ ٗ مجالس المومنین ص ۳۰۶ ٗ فلاح المومنین ص ۳۲۶ ٗ دعوۃ صوفیہ مرتبہ آغا امیر حمزہ ص ۴۴ ۔ ۴۵ ٗ کشف الحقائق سید نور بخش ص ۲۰ ٗ واردات ٗ سید محمد نور بخش قلمی ص ٗ صحیفۃ الاولیاء قلمی ص۵۵، ۵۷ ٗ سید محمد نور بخش ص ۵۵، ۵۶ ٗ مجموعہ آثار فارسی شیخ احمد غزالی ص ۵۷۱ ٗ تحفتہ الاحباب قلمی ص ٗ دعوات صوفیہ قلمی ص ۷۰ ۔ ۱۱۳۱۷۱ھ)
    اگر کسی نسخے میں امام حسن ؑ کانام نہ آئے تووہ تحریف ہے کیونکہ کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ کی روسے امامت حقیقی اور ولایت مطلقہ امام علی ؑ سے لے کر امام مہدی ؑ تک بارہ امام شامل ہیں جبکہ امام اضافی اور ولی اضافی میں حضرت معروف کرخی ؒاور اس کے بعد پیران پیر شامل ہیں۔ (کتاب الاعتقادیہ سید نور بخش ص ۴۹ ، ۵۲۔)

    ولادت امام حسن ؑ
    حضرت امام حسن ؑ ۱۵ ماہ رمضان شب سہ شنبہ ۳ ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔ حکم خدا سے رسول اﷲ ؐ نے ہمارے امام کانام ہارون ؑ کے بیٹے کے نام پر شبر رکھا ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ کوئی شخص حضرت امام حسن ؑ سے زیادہ رسول اﷲ ؐ سے مشابہت نہیں رکھتا تھا ٗ بخاری اور مسلم میں براء بن عاذب ؓ سے مرفوع روایت آئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ ؐ امام حسن ؑ کو کاندھوں پربٹھا رکھا تھا اور آپ فرماتے تھے اللھم احبہ واحب من یحبہ الٰہی میں حسن ؑ سے محبت کرتا ہوں اور اس سے بھی محبت کرتاہوں جو حسن ؑ سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت فرما ۔ روضۃ الشہداء
    ایک اور حدیث مبارک ہے کہ
    قال رسول اﷲ ( ص) الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ۔
    (کنز العمال ح ۷ ص ۱۰۷ ٗ صواعق محرقہ ص۱۱۷ ٗ حلیتہ الاولیا ٗ ج ۴ ص ۱۹۰ ابن الہشیم ٗ زندگانی امام حسن ؑ ٗ عماد زادہ ص ۲۰۸ ٗ بحار ج ۶ ص ۵۸ ٗ رسول اﷲ (ص) ترمذی ج ۲ ص ۲۱۸ تاریخ الخلفاء ص ۱۳۲)
    رسول اللہ ؐنے فرمایا: حسن ؑ اور حسین ؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔
    شیخ فرید الدین عطار فرماتے ہیں کہ
    امامے کوامامت راحسن بود
    حسن آمد کہ جملہ حسن ظن بود
    ھمہ حسن و ھمہ خلق و ھمہ علم
    بش قائم مقام حوض کوثر
    کہ بودے چشمہ لوش پیمبر
    ز زہرش چوں جگر شد پارہ پارہ
    زغصہ گشت خونین سنگ خارہ
    پنجتن پاک ؑ کے بارے میں شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس اﷲ روحہ کے مرید حضرت نور الدین جعفر بدخشی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ؎
    اگر حرمت و قدر وجاہ در عالم
    کسی بماندی ماندی رسولؐ تا محشر
    اگر بصدق کسی بماندی پس بودی زھراؑ
    وگر بعدل کسی ماندی پس بودی حیدرؑ
    بہ نسبت و شرف از دوجہاں کسی ماندی
    بخاک تیرہ کجا می شد شبیرؑوشبرؑ
    جعفر بدخشی خلاصہ المناقب قلمی ص ۸۱

    شہادت امام حسن ؑ
    مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضرت امام حسن ؑ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نشین ہوگئے تھے لیکن آپ ؑکے دشمن آپ ؑکے درپے آزار رہے انہوں نے بارہا آپ ؑکو شہید کرنے کی مذموم کوشش کی تاکہ یزید کی خلافت کے لئے راہ ہموار کی جائے چنانچہ پانچ دفعہ ذہر دلوا نے کے با وجود آپ کی شہادت نہیں ہوئی ۔ شاہ روم سے خاص قسم کا زہر منگوا کر آپ ؑکو شہید کردیا گیا ۔
    تاریخ مروج الذھب مسعودی ج ۲ ص ۳۰۳ ٗ روضات الجنان ص ۴۲۵ ۔ ۴۲۶ ٗ مقاتل الطالبین ص ۵۱ ٗ ابوا الفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ٗ روضتہ الصفاء ج ۳ ص ۷ ٗ حبیب السیر ج ۲ ص ۱۸ ٗ تاریخ طبری ص ۶۰۴ ٗ استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴ ٗ تفسیر حسینی علامہ کاشفی ۔
    امام حسن ؑ ماہ صفر کی اٹھا ئیس تاریخ بروز جمعہ ۵۵ ھ کو ۴۷ سال کی عمر میں شہید ہو کر مدینہ منورہ جنت البقیع میں سپرد خاک ہوئے ۔روضات الجنان ج ۲ ص ۴۲۶

    امام حسن ؑکی اولاد و ازواج
    آپ علیہ السلام نے مختلف اوقات میں ۹ بیویاں کیں اور آپؑ کی اولاد میں آٹھ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ (ارشاد مفید ص ۲۰۸ ٗ نور الابصار ص ۱۱۲ طبع مصر )
    حضرت امام حسن علیہ السلام کے تین بیٹے کربلا میں شہید ہوئے ۔ ۱۔ حضرت قاسم ؑ ۲۔ حضرت عبداﷲ ۳۔ حضرت ابوبکر ؑ ۔ )(تاریخ عاشورا ڈاکٹر ابراہیم ص ۲۳۰ ٗ مشجر الاولیاء ص ۹۵ ۔ ۱۹۶ ٗ شہید انسانیت ص ۴۱۸ ٗ زندگانی امام حسین ؑ ص ۴۳۶)
    علامہ طلحہ شافعی مطالب السئول کے صفحہ ۲۳۹ پر لکھتے ہیں کہ آپ کی نسل زید اور حسن مثنیٰ سے چلی ہے ۔ اموی دور میں محمد و آل محمد ؐ کے خلاف حد یثوں کے گڑھنے اور تاریخ کادھا را موڑنے کی کوشش ہوئی اور انہیں بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا امام حسن ؑ پر کثرت ازواج کا الزام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔

حضرت امام حسین علیہ سلام

    حضرت امام حسین علیہ السلام
    قال اﷲ تعالیٰ و وصینا الانسان بوالدیہ احسانا o حملتہ امہ کرھا و وضعتہ کرھا o و حملہ و فصالہ ثلٰثون شھراً
    (سورہ احقاف پ ۲۶ آیت ۱۵)
    ترجمہ: اور ہم نے اس انسان خاص کو اپنے والدین کے حق میں احسان کرنے کا حکم دیا کہ اس کو ماں نے حمل میں اٹھایا تکلیف سے جنا تکلیف و غم سے اس حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے ۔
    تفسیر عامہ اس آیت کا مفہوم عام جبکہ تفسیر خاصہ میں یہ فقط اور فقط حضرت امام حسین ؑ کی شان میں اتری ہے ۔تفسیر برہان اور تفسیر اسرار المصحف میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر ؑ سے مروی ہے کہ جب فاطمتہ زھرا ؑ کے حمل میں امام حسین ؑ تھے تو جبریل امین ؑ رسول خدا ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ عنقریب فاطمہ ؑ کے بطن مبارک سے ایک لڑکاپیدا ہوگا جس کو آپ کی امت آپ کے بعد شہید کرے گے پس یہ سن کر جناب فاطمہ ؑ کو حمل سے بھے رنج پہنچا اور وضع حمل کے وقت اس ولادت سے بھی ۔ پھر حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی ماں ایسی نظر نہیں آئے گی جو بیٹے کو جن کر رنجیدہ ہوئی ہو ۔ جناب سیدہ ؑ کو رنج اس وجہ سے ہوا کہ ان کویہ علم ہوچکاتھا کہ ان کا یہ فرزند شہید کیا جائے گا اور اسی امام مظلوم ؑ کے بارے اور مصداق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ بروز ولادت جبرائیل ؑ پھر نازل ہوئے اور یہ عرض کی کہ یا رسول اﷲ ؐ پروردگار آپ پر سلام بھیجتا ہے اور آپ ؐ کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ امامت و ولایت و وصایت کو اسی فرزند کی اولاد میں مقرر فرمانے و الا ہے آنحضرت ؐ نے فرمایا میں راضی ہوں ۔ پھر جناب فاطمہ ؑ کو خوشخبری پہنچائی تو وہ بھی راضی ہو گئیں ۔ جناب امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت امام حسین ؑ نے واصلح لی فی ذریتی نہ فرمایا ہو تا یعنی لفظ فی سے مقیدنہ کردیا ہوتا تو ان حضرت کی کل ذریت امام ہی امام ہوتی پھر فرمایا جناب امام حسین ؑ نے نہ جناب سیدۃ النساء ؑ کا دودھ پیاہے نہ کسی اور عورت کا بلکہ وہ جناب رسول ؐ کی خدمت میں لائے جاتے تھے آنحضرت ؐ اپنا انگوٹھا ان کے منہ میں دے دیتے تھے جس میں سے جناب امام حسین ؑ اتنا کچھ چوس لیتے تھے کہ دوتین دن کو کافی ہو جا تاتھا پس حضرت امام حسین ؑ کا گوشت رسول خدا ؐ کے گوشت و خون سے پیدا ہوا اور چھ ماہ کی مدت حمل میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اور حضرت امام حسین ؑ کے علاوہ اور کوئی بچہ پیدا ہو کر زندہ نہیں رہا لیکن دو سری بعض روایات میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے بجائے حضرت یحی بن زکریا ؑ کا ذکر موجود ہے ۔ بمطابق دعائے زکریا ؑ فھب لی من لدنک ولیا ۔ اے اﷲ پس مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر اور دعائے محمد ؐ سے حضرت امام حسینؑ کو
    ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریٰتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ۔
    ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہم کو ہماری ازواج کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت کر اور ہم کو پرہیز گاروں کاپیشوا بنادے۔
    اسلئے اﷲ تعالیٰ نے قیامت تک کی امامت کے منصب پر ان کی اولاد میں سے ایک فائز کیا ہے ۔
    ولادت امام حسین ؑ
    حضرت امام عسکری ؑ فرماتے ہیں کہ ۔ جدنا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سوئم ماہ شعبان بروز پنجشنبہ ۴ ھ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن ؑ کی ولادت کے دس ماہ تین دن بعد پیدا ہوئے ۔ جناب سلمان فارسی ؓ سے منقول ہے کہ حضرت رسول خدا ؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے سلمان ؓ خداوند عالم نے ہمیں نور سے پیدا کیا اور اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے پانچ نام اپنے ناموں سے رکھے ہیں ۔ پس اﷲ محمود ہے اور میں محمد ؐ ہوں اﷲ اعلیٰ ہے اور میرا بھائی علی ؑ ہے اور اﷲ فاطر ہے میری بیٹی فاطمہ ؑ ہے اور خدا کی طرف سے احسان ہے اور یہ میرابیٹا حسن ؑ ہے اور خدا محسن ہے اور یہ میرا بیٹا حسین ؑ ہیں ۔ بعد اس کے خداوند جہاں نے حسین ؑ کے نور سے نو امام پیدا کئے دیکھے ابجد صغیر کے حساب سے حسن ؑ سے حسین ؑ دس زیادہ ہے اس لئے حسین ؑ ملا کردس امام ہیں ابھی سنا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے حسین ؑ کانام اپنے سے مشتاق کیا ہے اور تورات میں آپ کا نام شبیر ؑ ہے انجیل میں طیب ؑ ہے ۔ کنیت ابو عبداﷲ ہے ۔ خانہ بتول ؑ خاتون جنت میں دوسری خوشی ۔ امامت کا تیسرا چاند قیامت کی ضیا پاشیاں لے کر آیا دائرہ امامت نے مرکز پایا نمازوں کی بقا آئی ۔ آذانوں کی صدا آئی ۔ فاطمہ ؑ نے کہا شبیہہ رسالت ماب آیا ۔ علی ؑ نے کہا امامت کا آفتاب آیا رسول ؐ نے فرمایا میرا جواب آیا ۔ عبادت نے کہا میرا ثواب آیا خدا نے کہا انتخاب لاجواب آیا ۔ آسمان سے فرشتے تہنیت کواتر آئے ۔ اصحاب رسول جوق در جوق خدمت رسول ؐ میں تہنیت کو آرہے تھے ۔ ایک مرتبہ امیرالمومنین ؑ نے دروازہ مسجد پر سب کو روک لیا فرمایا ابھی تھوڑا توقف کریں حبیب خدا ؐ کے پاس ایک سوبیس ہزار فرشتے تہنیت کو آئے ہیںکچھ دیر بعد اصحاب خدمت رسول اﷲ ؐ پہنچے۔ بعد ادائے تہنیت عرض کیا یا رسول اﷲ ؐ آج ایک بات پر ہمیں بڑا تعجب ہے کہ علی ؑ نے ہمیں روکا اور کہا کہ خدمت رسول ؐ میں اس وقت ایک سوبیس ہزار فرشتے آئے ہیں ۔ ان فرشتوں کی تعداد ان کو کیسے معلوم ہوئی کیا آپ نے ان کو بتادیا ہے فرمایا علی ؑ کو بلاؤ رسول خدا ؐ نے فرمایا یا علی ؑ فرشتوں کی تعداد تمہیں کیسے معلوم ہوئی امیر المومنی حضرت علی ؑ نے کہا جب فرشتے آپ کو مبارک باد دے رہے تھے تو جو فرشتہ بعد سلام اپنی اپنی جداگانہ زبان میں آپ کو مبارک باد دے رہاتھا میں نے ہر ایک کی زبان کو سناتو ایک سوبیس ہزار مختلف زبانوں میں مبارک باد دی گئی تھی خدا کا رسول ؐ مسکر ایا اور فرمایا ۔ ذٰلک اﷲ علما و انا مدینۃ العلم و علی بابھا یہ فرما کر علی ؑ کے ساتھ خانہ فاطمہ ؑ کار خ کیا دیکھا بیٹی خوش ہے ۔ حسین ؑ آنکھیں بند کئے آئینہ کردگار کے منتظر ہیں حضور اکرم ؐ نے فرمایا میرے حسین ؑ کو مجھے دو رسول ؐ نے بچہ کی پیشانی چومی ہونٹوں کابوسہ لیا ۔ لب ہائے مبارک گلے تک پہنچے اور آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی فاطمہ ؑ نے دیکھا بار بار رو رہے ہیں زہرا ؑ بھی زارو قطار رونے لگیں اور عرض کی بابا کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا بیٹی یہ آپ کو بتا نے کی بات نہیں آپ ؐ کو فاطمہ ؑ کی جان کی قسم بتادیں و رنہ قیامت تک روتی رہوں گی۔ رسول ؐ نے فرمایا بیٹے تیرے اس بچے کو خدا نے جنت کا سردار بنایا ہے اپ؎نے دین کا مددگار بنایا ہے کائنات عالم مختار بنایا ہے مگر ابھی جبرائیل ؑ نے مجھے بتایا کہ خدا بعد تحفہ سلام و درود ارشاد فرماتا ہے کہ ہمارے رسول ؐ یہ بچہ میدان کربلا میں شہادت پائے گا زہرا ؑ نے رو کر کہا بابا آپ حسین ؑ کو شہید ہوتے دیکھیں گے ٗ فرمایا میں نہ ہوں گا فاطمہ ؑ تم بھی نہ ہوں گے اور علی ؑ اور حسن ؑ بھی نہ ہوں گے فاطمہ ؑ نے ایک چیخ ماری پھر فرمایا میرے اس بچے پر روئے گاکون ؟
    حضرت محمد ؐ نے فرمایا بیٹی خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں ایک گروہ کو پیدا کروں گا جس کے عورت مرد بوڑھے اور بچے تیرے حسین ؑ پر قیامت تک خون کے آنسو بہاتے رہے گے فاطمہ ؑ کو یہ سن کرکچھ تسکین ہوئی الحاصل فاطمتہ زہرا ؑ کا چاند تمام خواتین صغیر و کبیر اور نوجوانان بنی ہاشم سمیت مدینہ رسول ؐ سے طلوع ہو کر کربلا کے خونی دریا میں دس محرم الحرام ۶۱ ھ جمعہ کے دن غروب ہوگیا پردہ نشین حیدر ظلمت شام میں اسیر ہوگئیں میدان بے آب و تاب میں دشمن سے دین رسول ؐ بقاء کے لئے تمام اعوان و انصار حسین ؑ نے قربانی دے دی اس کے بعد جوانان بنی ہاشم نے آب شہادت نوش فرمایا کربلا میں تمام انصار حسین ؑ نے آیت
    ان اﷲ اشتری من المومنین انفسہم و اموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اﷲ فیقتلون و یقتلون الخ
    کی سند حاصل کرلیا ۔

    شہادت امام حسین ؑ ابن امام علی ؑ مظلوم کربلا
    والفجر ولیال عشر والشفع و الوتر و اللیل اذا یسر ھل فی ذالک قسم لذی حجرہ۔ – سورۂ الفجر
    خداوند تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ قسم ہے فجر کی اور دس متبرک راتوں کی جفت اور طاق کی اور اس رات کی جو مشکل سے گزری اس میںصاحبان عقل کے لئے بڑی قسم ہے بعض تفسیروں میں اس سورہ کا نام سورۂ حسین ؑ آیا ہے ۔ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۴۵۶ میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنی نماز فرائض اور نوافل میں سورہ فجر پڑھا کرو یہ حسین ؑ کا سورہ ہے جس نے اس کو پڑھا وہ روز قیامت جنت میں امام حسین ؑ کے ساتھ ہوگا ۔
    رواہ احمد عن ابن عباس وہی العشر الاول من المحرم
    تفسیر جلالین و قائم الحق ص ۲۶۷ ۔
    اکثر تفسیروں میں ہے کہ اس سے مراد محرم کی دس ۱۰ راتیں اور صبح عاشورا ہے اور سال میں اسلامی نقطہ نظر سے تین عشرے منائے جاتے ہیں ۔ پہلا عشرہ رمضان شریف کا آخری عشرہ ہے ٗ جو نزولِ قرآن کا عشرہ لیلۃ القدر کا عشرہ شہادت امام علی علیہ السلام کا عشرہ ہے اور اعتکاف کا عشرہ ہے ٗ دوسرا عشرہ ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے یہ حضرت ابراہیم ( ع) و ہاجرہ (ع) کی یاس و پاس کا عشرہ ہے۔ تیسرا عشرہ محرم الحرام کا عشرہ ہے جو شہیدان کربلا کی غربت و کربت کا عشرہ ہے ۔ آل محمد ؐ کی وطن سے فرقت کا عشرہ ہے حسین ؑ کی شہادت کا عشرہ ہے ۔ قاسم ؑ و اکبر ؑکی بہادری و شجاعت کا عشرہ ہے۔ عباس ؑکی علمبرداری و بھائی سے فراقت کا عشرہ ہے ۔ زینب و کلثوم ؑ کی فریادی وبے یاری و بے ردائی کا عشرہ ہے۔ جب دسویں محرم کی صبح سے لڑائی شروع ہوئی ہزاروں تیر پہلے ہی حملے مخالف کی سمت سے چلے ۲۲ انصار و ہیں تڑپ کر شہید ہوگئے پھر بچپن کے ساتھی حبیب ابن مظاہرؓ عہد طفلی کے رفیق بھی چلے پس عزیزوں کی باری آئی۔ قاسم ؑ حضرت امام حسن ؑ کے فرائض انجام دے رہے تھے ام جان مہربانو ؓسے آخری رخصت لی۔ چچا کو سلام کیا لشکر یزید لعنہ کے مقابلہ میں کھڑے ہوکر تمام حجت ادا کی ایک وقت ایسا آیا کہ قاسم ؑ ابن حسن کی لاش پامال ہوچکی تھی حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس کو عبا میں اٹھایا ۔ حسین ؑ کے بھانجوں کی لاشیں آئیں تو حضرت زینب ؑ نے شکر کا سجدہ ادا کیا ۔ وفا کا پیکر حضرت عباس علمدار (ع) در یا پر علم گاڑ کر سوگئے فاطمہ ؑ کی نیابت زینب ؑکر رہی تھیں علی اکبر ؑ میدان میں گئے، حسین ؑنے صبر کی داد دی اور بیٹے کی لاش خود اٹھالائے چھ مہینے کا بچہ علی اصغر ؑ تیر کا نشانہ بنا مقتل میں اس کی قبر بنادی ٗ عصر کا وقت آتا چلا حسین ؑ ابن علی ؑ ذبخِ عظیم کی منزل پر آئے ۔ دعائے ابراہیم ؑ و محمد ؐ کی تکمیل کا وقت آیا ۔ رک کر لاشوں پر نظر کی اور آواز دے کر فرمایا
    ھل من ناصر ینصرنا ھل من مغیث یغیثنا۔
    میرانیس کہتے ہیں ۔
    ناگاہ سوئے لاش پس جاپڑی نظر
    فرمائے سر کو پیٹ کے سلطان بحروبر
    سوتے ہوئے کیا دھرے ہوئے رخسار خاک پر
    اکبرؑ اٹھو کہ گھوڑے سے گرتاہے پدر
    بھولے پدر کو نیند میں قربان آپ کے
    آؤ نماز عصر پڑھو ساتھ باپ کی اب پدر
    خیمے میں کہرام مچا ہوا تھا ٗ سب کو امر صبر فرمایا ٗ عابد ؑ بیمار ؑ کے سرہانے آئے ان کو خدا حافظ کہا زینب ؑ کو دیکھ کربولے ہم نے قافلہ کو مدینے سے کربلا تک پہنچایا ہے ۔ اب تمہارا کام ہے کہ تم اس قافلے کو شام اور شام سے مدینے لے جاؤ اور جب مدینہ جانا تو میرے نانا ؐ کو میری طرف سے سلام کہنا کہ حسین ؑ نے اپنے وعدے کو پورا کیا ۔ سب کو الوداع و خدا حافظ کہا گھوڑے کے قریب آئے آواز دی کوئی ہے ہمارے سواری لانے والے این ما تکون عباس ؑ اس آواز سے قتل گاہ میں قاسم ؑ و اکبر ؑ اور عباس علمدار ؑکی لاشیں بے قرار ہوئیں ۔ کوئی نہ تھا گھوڑ اگر دن ڈالے قریب آئے زینب ؑ رکاب کو پکڑے آپ ؑ سوار ہوئے ناگاہ ایک بچی کی آواز آئی ۔ ٹھہرو بابا گھوڑا رک گیا ۔ حسین ؑ گھوڑ ے سے اتر پڑے بچی کو پیار کیا اور کہا عنی لعلی اتیک بالماء مجھے چھوڑ و میں شاید پانی لاسکوں بچی نے باپ کو خداحافظ کہا دم بخود دروازۂ خیمہ پر آکر چپ کھڑی ہوگئیں ۔ اس انتظار میں کہ باپ آئین گے خیمے میں آنسو چلے الوداع و الفراق کا شور بلند ہوا ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام لشکر کے قریب آئے اور ایک مرتبہ امام نے حجت کرنا چاہی ۔ اے مسلمانو ! دیکھو یہ میرے سرپر رسول ؐ کا عمامہ ہے یہ میرے ہاتھ میں علی علیہ السلام کی تلوار ہے اے مسلمانو ! اب اس دنیا میں میرے علاوہ رسول ؐ کا نواسہ علی ؑ کا فرزند فاطمہ ؑ کے لخت جگر کوئی اور نظر نہ آئے گا ۔ مگر حسین کی بات کا جواب تیروں سے دیا گیا ۔ مظلوم کربلا ؑ سبط رسول اور ایمان کا آخری تاجد او ایک ہزار نو سوا کاون ( ۱۹۵۱) زخم کھا کر زین فرس پر ڈگھگایا آواز آئی عباس ؑ اٹھو بھائی کا بازو پکڑو ٗ اکبر ؑ اٹھو باپ کوسہارا دو قاسم ؑ بڑھو چچا کو سنبھالا ۔ ؟ کے اتارو آخر فرمایا کوفہ والوتم یہی راستہ دو کہ بیکس بہن سہارا دے کربھائی کو اتار تو لے افسوس بھائی نہیں ٗ فرزند نہیں ٗ بھتیجا نہیں ٗ بہن کا راستہ فوجوں نے روکا ٗ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ نانا ؐ بسم اللہ کہہ کر بڑھے ہونگے ۔ باپ حسین ؑ کا بازو سنبھا لا ہوگا ٗ ماں گود پھیلا کے جنتی زمین پر بیٹھی ہوگی کہ آمیرے بچے اپنے کا نپتے ہوئے زانوں پر سر رکھ لوں ٗ سر کٹے تو میری گودمیں کٹے ٗ بہن گھبر ا کر خیمے سے نکلی ۔ میرا بیکس بھائی میرا پیاسا بھائی ارے میں عبا کا سایہ تو کراوں اگر مل جائے تو پانی پلا دوں اور فلک سے آیت اتری
    یٰا ایتھا النفس المطمئنۃ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ۔
    سورۂ الفجر آیت ۲۸، ۲۹
    ترجمہ: اے نفس مطمئنہ میرے تقرب کی منزلوں میں واپس آ ۔ فتح وفیروزی کا تاج تیرے لئے میری جنت تیرے لئے ہے داخل ہوجائیں ۔
    سکینہ ؑ اس انتظار میں تھی کہ باپ ؑ آئیں گے حسین ؑ گئے کربلا کے میدان میں شام ہوگئی حسین ؑ نہ آئے خیمے جلے بچوں نے طمانچے کھائے گھر لٹا حسین ؑ نہیں آئے اند ھیرا ہوگیا علی ؑ کی بڑی بیٹی زینب ؑ بچوں کو جمع کرنا شروع کیا جب باہر میدان میں سب ایک جگہ جمع ہوئے تو زینب ؑ نے دیکھا سکینہ ؑ نہیں ہیں ۔ ہر طرف آواز دیتی ہوئی چلیں سکینہ ؑدریا پر جا کرپکارا عباس ؑ ! کیا وہاں سکینہ ؑ سکینہ ؑ آئی ہے ؟ آواز آئی بہن آہستہ بولو سکینہ ؑ یہاں میرے سینے پر سو رہی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مظلوم کربلا نے توجہ قبلہ کی طرف فرمایا اور نماز عصر میں مشغول ہوا جب سر اطہر سجد ے میں رکھاتھا شمر ملعون بے رحم نے امام ؑ ابن امام ؑ کو نماز کے سجدہ میں شہید کردیا۔
    )(روضتہ الشہداء ص ۳۳۳ فارسی قدیم )

    ازواج و اولاد امام حسین علیہ السلام
    بروایت معتبر از امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت علی ؑ بن الحسین ؑ و فاطمہ کبریٰ ؑ از بطن شہر بانو ؓ دختر یزد جرد شاہ عجم نو شروان سے پیدا ہوئے ۔ (۲) علی اکبر ؑ و فاطمہ صغریٰ ؑ از بطن ام لیلی ؑ دختر ابو مرہ بن عروہ ہے ۔ حضرت علی اکبر ؑ بتاریخ ۱۱ ماہ شعبان مدینہ میں تولد ہوا ۔ (۳) حضرت علی اصغر ؑ بن الحسین ؑ و سکینہ ( رقیہ ) ؑ رباب بانو ؑ دختر امر القیس کی بطن سے تولد ہوا ہے ۔ علی اصغر ؑ کا تاریخ ولادت ۹ ماہ رجب یا ۲۶ ماہ رجب ہے ۔
    (۴) عبداللہ ؑ بن الحسین ؑ باپ کی حیات میں مدینہ میں انتقال ہوا ان کی والدہ ماجدہ قبیلہ قضاعہ سے ہیں ۔
    شان حسین علیہ السلام سبط رسول ﷺ
    میراحسینؑ باغ نبوت کا پھول ہے
    حیدرؑ کی اس میں جان ہے خون بتولؑ ہے
    آل نبیؐ کا پیار ہے ایمان کی زندگی
    اس سے نہیں ہے پیار تو سب کچھ فضول ہے
    خورشیاں سبھی نثار ہیں اس پر جہاں کی
    جس کو غم حسینؑ میں رونا قبول ہے
    ایسی عظیم ذات ہے مولا حسینؑ کی
    جس کے لئے رسولؐ کے سجدوں میں طول ہے
    دنیا میں اور کوں ہے شبیرؑکے بغیر؟
    ایسا سوار جس کی سواری رسولؐہے
    جس کے لئے یزید نے اتنے ستم کیے
    وہ تاج توحسینؑ کے قدموںکی دھول ہے
    سلسلہ ذھب کے متوسلین بروز عاشورا محرم زیارت امام مظلوم کی نماز دو رکعت کے ساتھ پڑھتے ہیں اسی طرح زیارت علی اکبر ؑ دو رکعت زیارت سائر الشہداء دو رکعت پڑھتے ہیں۔ دعوات صوفیہ امامیہ میر سید علی ہمدانی قدس اللہ سرہ

حضرت امام زین العابدین علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی القرآن العظیم ذالک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین آمنو ا و عملوا الصالحات قل لا اسئلکم علیہ اجر اِلاَّ المودۃ فی القربی و من یقتوف حسنتہ نزدلہ فیھا حسنا ان اﷲ غفور شکور۔

    پ ۲۵ س الشوریٰ
    ترجمہ : ۔ یہ تو وہی ہے جس کی اﷲ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے خوشخبری دیتا ہے تم یہ کہہ دو کہ میں تو اس تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی اجرت نہیں لیتا مگر میرے اہلبیت کی مودۃ کے جو نیکی کرے گا اس کی خاطر سے ہم اس کی نیکی کو بہت بڑھا دیں گے بے شک اﷲ بڑا بخشنے والا اور بڑا قدردان ہے ۔
    خدا فرماتا ہے کہ میرا حبیب ؐ آپ یہ کہہ دیں اس تبلیغ دین کے عوض اس قرآن کا اس اسلام کا اس شر یعت کا میں کوئی اجر نہیں مانگتا صرف قربیٰ کی مودت۔
    ابن عباس ؓ سے مروی ہے جب یہ آیات نازل ہوئی تو ہم اصحاب رسول ؐ نے عرض کی یا رسول اﷲ ؐ وہ آپ کے قریبی رشتہ دار کون ہیں ؟ جن کی محبت اﷲ نے ہم پر فرض کی ہے تو حضور اکرم ؐ نے جواب دیا کہ وہ علی ؑ فاطمہ ؑ حسن ؑ اور حسین ؑ ہیں ۔ (مودۃ القربی ص ۹۴، صواعق محرقہ ص ۲۲۵)
    اﷲ تبارک و تعالیٰ آیت کے آخر میں اس مودۃ کا ثواب بیان فرما تے ہیں کہ ومن یقترف حسنتہ نزدلہ فیھا حسنا جو آل محمد ؐ کی محبت کریں گے میں ان کی نیکیاں اس حسنہ کی برکت میں زیادہ کردوں گا ان اﷲ غفور شکور گناہ معاف ہونگے مومن جانے لگے عرش سے آواز آئی مومن تیرا شکریہ میری طرف سے شکریہ ملائکہ کی طرف سے شکریہ یہ تونے ان سے محبت کی جب قیامت کا دن آئے تو ساری دنیا اپنی اپنی نیکیاں لے کر جائے گی تو جبرائیل ؑ کہے گا یا اﷲ ! یہ لوگ مجبور کرتے ہیں کہ ہماری نمازوں کا وزن کرو فرمایا بیشک وزن کرو لیکن ۔
    و قفوھم ا نھم مسئولون
    ان کو کھڑے کردو نمازوں ان کے سرپر رکھو ان سے سوال کرو اگر جواب آجائے توتول کر لوورنہ واپس کردو کون سا سوال عرش سے آواز آئی ۔
    انھم مسئولون عن ولایت علی بن ابی طالب ۔صواعق محرقہ و مودۃ القربی
    کیونکہ حبیب کبریا نے آخری یہ بطور امانت چھوڑا ہے کہ
    قال رسول اﷲ ؐ انی تارک فیکم الثقلین کتاب اﷲ و عترتی ما ان تمستکم بھما لن تضلو بعدی۔ مشکوٰۃ باب مناقب اہلبیت ؑ
    آل محمد ؐ کے ماننے کے تین رکن ہیں پہلا اہلبیت ؑ کی امامت پر ایمان لانا ۔ دو سرا اہلبیت ؑ کی محبت کو واجب سمجھنا اور تیسرا اہلبیت ؑ کے دشمنوں سے بیزار ہو جانا۔
    بنا برایں امامیہ صوفیہ کے متوسلین پنجگانہ دعائے متشفع میں پڑھتے ہیں کہ و بعلی زین العابدین و عترتہ امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کی عزت کا واسطہ دے کراﷲ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں ۔
    ولادت امام زین العابدین علیہ السلام
    سید سجّاد علی بن الحسین علیہ السلام کی تاریخ ولادت میں بہت اختلاف ہے ۔
    ۱۵ ماہ جمادی الاول یا جمای الثانی اور پنجم ماہ شعبان ۳۶ ھ یا ۳۷ ھ بروز پنجشنبہ یا جمعہ متولد ہوا مدینہ منورہ نور امامت سے جگ مگا اٹھا امام حسین علیہ السلام کے گھرمیں شاہ زمان شہنشاہ نوشیران کی پوتی کی آغوش میں معرفت اور عبادت کا ستارہ سید العارفین سیدا لساجدین بن کرچمکا ۔ امیرالمومنین ؑخوش کہ علی ؑ آیا امام حسن ؑ خوش ہوا کہ حسین ؑ کا وصی آیا ۔
    خانہ سبط نبیؐ حور ہے سبحان اﷲ
    شہر بانو کا الم دور ہے سبحان اﷲ
    خانہ فاطمہ ؑ آباد نظر آتا ہے
    بچہ سجدہ میں ہے سجاد نظر آتا ہے
    حسین ؑ کے گھر میں ہمنام امیرالمومنین ؑ آیا ۔ اسلام پکارا رسول ؐ کا چوتھا جانشین آیا ۔ فرش نے کہا عرش کا مکین آیا ٗ قرآن نے کہا امام المبین آیا ٗ عبادت بولی زین العابدین آیا ۔ کربلا چلائی سید الصابرین ؑ آیا ۔ سید ساجد بن علی ؑ نے دو سال دامن علی ؑ امام اول کے سایہ میں پرورش پائی ۔ عم محترم کے دس سال امامت کے انداز دیکھے دس سال پدر بزرگوار کے خاموش اطوار دیکھے حسین ؑ نے نور رسالت کو چاہا کہ پھر ایک جگہ جمع ہو جائے اور نور حسن ؑ و حسین ؑ ایک مرکز پر آجائے حضرت علی ؑ وزہرا ؑ کے اس پوتے کی شادی علی ؑ و فاطمہ ؑکی پوتی امام زادی سے کردی ۔ علی ؑ اور فاطمہ ؑ پھر ایک جگہ جمع ہوگئے امام زین العابدین علیہ السلام نے بیس حج پیادہ ادا کئے حجرا سود سے امامت کی گواہی لی ۔ عبادت نے محویت عبادت کی داد دی ۔ ایک روز امام ؑ مصلائے عبادت پر محو عبادت تھے کہ بچہ کی ماں چلائی یا بن رسول اﷲ ؐ باقر ؑکنویں میں گرگیا ہے اما م اسی طرح مصروف نماز رہے جناب فاطمہ ؑ کنویں سے مصلی کی طر ف مثل صفا و مرو ا کے در میان بچہ کی ہلاکت کی خوف سے بار بار دو ڑلگارہی تھیں امام ؑ اسی طرح مصروف نماز تھے فراغ ہو کردست دعا بلند کئے اور دست امامت کنویں کی طرف بڑھا یا بچہ کو کنویں سے نکال کر آغوش مادر میں دے دیا پھر مصلائے عبادت پر تشریف لے آئے۔
    شہادت امام زین العابدین علیہ السلام
    مورخ لکھتاہے کہ ایمان کا اگر دفینہ دیکھنا ہو ٗ نجات کا اگر سفینہ دیکھنا ہو ٗ اسلام کا صحیح آئینہ دیکھنا ہو تو اعجاز امامت کی زندہ تصویریں امام زین العابدین ؑ کی زندگی پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو تا ہے کہ رضا بقضائہ و تسلیما لامرہ کہنے والے حسین علیہ السلام نے اس فرزند کو بچپن ہی سے صبر کی لوریاں دے کر کسی آنے والے وقت کے لئے پرواں چڑھا یاتھا وہ وقت آیا اور وہ مصائب ساتھ لایا جس کے اٹھا نے سے زمین و آسمان اور پہاڑوں نے انکار کردیا تھا کربلا آئی سیلاب بلا ساتھ لائی بیمار امام ؑ کبھی غش سے آنکھیں کھولتا توسنتا یا ور و انصارنہ رہے چچا عباس علمبردار ؑ نہ رہے ٗ اکبر ؑ ہمشکل احمد مختار ؐ نہ رہے پھر سنا اصغر شیر خوار ؑ نہ رہے حسین ؑ آخری رخصت کو خیمہ میں آئے بیٹے کو دیکھا غش میں پڑا ہے امام حسین علیہ السلام نے آنسوؤں کے چھینٹے دیئے عابد بیمار ؑ نے آنکھیں کھولیں باپ اپنے سراپنے سرخ عمامہ اور سرخ لباس میں نظر آئے حیران ہو کراٹھ بیٹھے ۔ عرض کی بابا لباس خوں میں رنگیں کیوں ہے ؟ فرمایا بیٹا تمہارا باپ ؑ صبح سے خون کے دریا میں شناور ہے ساحل مراد اب نزدیک تر ہے سنو اور غور سے سنو تبرکات اور لوازمات امامت لے لیں اسرار امامت تلقین کرکے فرمایا بعد عصر اب تم امام عصر ہویہ سن کر بیمار بیٹا کا نپتے ہوئے ٹانگوں پر زور دے کر کھڑا ہوگیا ۔ عرض کی بابا عصر سے پہلے میں آپ پر قربان ہونگایہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بیٹے کی زندگی میں باپ میدان میں جائے حسین ؑ روئے اور فرمایا میرے بیمار مجاہد تمہیں ایک سخت جہاد در پیش ہے ۔ جہاد بالسنان تو ہم نے کیا تمہیں جہاد بالصبر کرنا ہے ۔ خدا حافظ بیٹا ہمارے دوستوں کو سلام کہنا اور کہنا کہ جب ٹھنڈا پانی پیو تو حسین علیہ السلام کے بچوں کی پیاس بھی یاد کرلینا۔ نمازی کا سر سجدہ میں جدا ہوا ٗ تو اسیروں کا قافلہ مقتل سے نکالا گیا قیدی امام نے باپ کی لاش خاک و خون میں آلودہ دیکھی قریب تھا روح پرواز کرجائے حکیمہ نفسانیات حضرت زینب ؑ نے بھیتجے کی حالت غیر دیکھی تو توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنے کے لئے خود کو اونٹ سے گرادیا اور فرمایا سید الصابرین ؑ یہ کیا حال ہے ابھی صبر کی کٹھن منزلوں سے گزرنا ہے ۔ الحاصل آل رسول ؐ و مشق میں لے آیا ۔ معاویہ کے بیٹے نے حکم دیا کہ دربار عام میں لائے فاطمہ ؑ کی بیٹی فضہ ؓ کو بولا فضہ ؓ شمر لعین سے کہہ دو اگر دربار ہی میں لے جانا ہے تو ایک ایک چادر دے دے شمر لعین نے چادر دینے سے انکار کیا ۔ شیر خدا ؑ کی بیٹی نے کہا زینب ؑ کھلے سردربار عام میں نہ جائے گی شمر لعین نے سنا سید سجاد علیہ السلام کی طرف بڑھا تازیانہ ہاتھ میں تھا ۔ شقی اذلی کی حرکت دیکھ کر امام علیہ السلام پھوپھی کی خدمت میں آئے پھو پھی ؑ کی طرف پشت کر کے کھڑے ہوگئے ۔ پشت کی زخم دکھا کر فرمایا کہ پھو پھی اماں ؑ اب سجاد ؑ میں تازیانے کھانے کی طاقت نہیں رہی جناب زینب ؑ نے بھیتجے کی پشت پر نظر ڈالی کہ نظر سر امام ؑ تک پہنچی دیکھا امام حسین علیہ السلام کے رخساروں پر آنسوؤں کے تارے چمک رہے ہیں بہت روئیں اور کہابھائی حسین ؑ نہ روؤ زینب ؑ دربار میں جار ہی ہے ۔ تلوار کھولے فوجیوں کی قطار تھی اور سید الصابرین ؑ بہنوں ٗ پھو پھیوں ٗ ماؤں کو لئے سرجھکا ئے آگے آگے جارہے تھے دربار میں کیا دیکھا سر حسین ؑ طثت میں رکھا دیکھا اﷲ رے امتحان میں صبر امام ؑ
    کیوں اے فلاک یہ صبر کا عابدؑکے امتحان
    گردن میںطوق پائے مقدس میں بیڑیاں
    پیروں میں چھالے پشت پہ تھے دردوںکے نشاں
    سلطان دو جہاں تھا اﷲ رے ساربان
    ایوب کربلا ؑ نے وہ مصائب سہے کہ تمام زندگی آنسو ہی نہ تھمے ایک روز ایک شخص نے کہا مولا کب تک روئے گا ؟ فرمایا یعقوب ؑ خدا کے نبی ؑ تھے ۔ ایک بیٹا بارہ بیٹوں میں سے گم ہو گیا تھا حالا نکہ جانتے تھے بقید حیات ہے مگر صرف اس کی جدائی میں اتنا روئے کہ کمر جھک گئی بینائی جاتی رہی ہائے میں نے اٹھارہ عزیزوں باپ ٗ بھائی اور اقرباء کا ایک دن میں تن سے سرجدا دیکھا ہے ۔ پھر مجھ سے پوچھتے ہو کہ کب تک روئے گااگر ساری زندگی روؤں تو کم ہے آخر روتے ہی روتے ستاون سال کی عمر میں پچّیس ماہ محرم الحرام ۹۴ ھ ۹۵ھ کو ولید پلید بن عبدالملک خلیفہ بن امیہ کے زہر سے شہید ہوئے اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب ہمارے والد ماجد کو آخری مرض لا حق ہو ا توا پنے تمام بیٹوں کو جمع کئے محمد ؑ یعنی مجھے و عبداﷲ و حسن ؑ و غیرہ سب کو وصیت فرمایا اور کہا محمد باقر ؑ میرا وصی و جانشیں ہے امت محمد ؐ کا یہ امام مطلق ہے اس کے بعد ہم نے اپنے پدر بزرگوار ؑ کو غسل و کفن دیا نماز جنازہ پڑھی اور جنت البقیع میں لے جاکے پہلوئے امام حسن علیہ السلام میں دفن کیا ۔

حضرت امام محمد باقر علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی قرآن الحکیم یا ایھا الذین آمنوا تقو اﷲ و ابتغو الیہ الوسیلتہ وجا ھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون۔

    ۶؍۶ س مائدہ
    ترجمہ: ۔ خداوند تعالیٰ اپنے نسخہ کیمیاء میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اے صاحبان ایمان خدا سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں دشمنان ظاہری و باطنی سے ) جہاد کرو تا کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔
    تفسیر معدن الجواہر جلد ۲ قلمی ۷۹ اپر ہے کہ وسیلہ جو خدا تک پہنچانے والا ہے وہ صرف حیدر کرار ؑ اور آئمہ طاہرین ؑ ہیں۔
    تفسیر قمی میں منقول ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ امام تقرب حاصل کرو عیون الاخبار الرضا میں رسول ؐ سے منقول ہے کہ آئمہ اولاد امام حسین علیہ السلام سے ہیں وہ دین کی مضبوط رسی اور خدا تک پہنچاد ینے کایکتائے وسیلہ ہیں ۔ واضح ہو کہ وسیلہ ماخوذ ہے توسیل سے یعنی وہ امور جن سے خدا کی قربت حاصل ہو ان کو ڈھونڈو اﷲ تعالیٰ سورہ آل عمران پ ۴ میں فرماتا ہے کہ
    واعتصموا بحبل اﷲ جمیعاً و لا تفرقوا ۔
    کہ تم سب کے سب مل کر مضبوطی سے اﷲ کی رسی کو تھام لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔
    آیت بالا کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حبل اﷲ سے محبت حیدر کرار ؑ مراد ہے یعنی علی وآئمہ طاہرین ؑ کو اپنا رہبر و امام بناؤ ۔
    اسعاف الراعین ص ۱۰۸ تفسیر نشاپوری ص ۳۴۹ جلد نمبر ۱ تفسیر کبیر جلد نمبر ۳ ص ۱۰۴ تفسیر خان مطبوعہ مصر جلد نمبر ۱ ص ۲۶۱ ینابیع المودۃ ص ۹۷
    و عن علی علیہ السلام قال قال رسول اﷲ ؐ الائمۃ من بعدی من ولدی فمن اطاعھم فقد اطاع اﷲ و من عصاھم فقد عصی اﷲ و ھم العروۃ الوثقی و الوسیلۃ الی اﷲ )مودۃ القربی ص ۹۹، ینابیع المودۃ ص ۴۴۶ (
    حضرت امام علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا میرے بعد میری اولاد سے آئمہ ہیں جنہوں نے ان کی اطاعت کی انہوں نے اﷲ کی اطاعت کی اور جنہوں نے ان کی نافرمانی کی انہوں نے اﷲ کہ نافرمانی کی وہی اﷲ کی مضبوط رسی ہیں اور اﷲ کی طرف جانے کے وسیلے اور ذریعے ہیں ۔
    و عن جابربن عبداﷲ قال قال رسول اﷲ ؐ یقول توسلو ا بمحبتا الی اﷲ و امتثفعوا بنا فان بنا تکرمون و بنا تحیون و بنا ترزقون فازا غاب منا غائب فمحبو نا امنا ئنا غدا کلھم فی الجنۃ۔مودۃ القربی ص ۳۴
    جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ خدا نے فرمایا کہ اے لوگو ہماری محبت کو اﷲ کی طرف سے اپنا وسیلہ بناؤ اور ہماری شفاعت طلب کرو کیونکہ ہمارے ہی سبب سے تمہارا اکرام کیا جاتا ہے اور ہمارے ہی سبب سے تم کو زندگی عطا ہوتی ہے اور ہمارے محب ہمارے امین ہیں ۔ وہ سب کے سب کل قیامت کے دن جنت میں ہونگے ( مودۃ القربی ص ۳۲ سید علی ہمدانی ( اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
    نحن الوسیلۃ بینکم و بین اﷲ ۔
    کہ ہم اہلبیت ؑ رسول ؐ تمہارے اور خدا کے درمیان ذریعہ و وسیلہ ہیں ان لئے ہم نور بخشی بعد نماز پنجگانہ دعائے تشفع میں اﷲ سے سوال کرتے ہیں کہ
    اللھم انی اسئلک الی …و بمحمدن الباقر و کرامتہ – دعوات صوفیہ امامیہ
    اے اﷲ حضرت امام محمد باقر ؑ اور ان کی کرامت کا واسطہ ہماری حاجتوں کو پورا فرما۔
    اپنی ذوات مقدسات کو حضرت آدم علیہ السلام حضرت یونس علیہ السلام سمیت تمام انبیاء اور اولیاء کرام وسیلہ بنایا۔
    توسل آدم ۔
    توبہ گر خواہی کہ معبودرفیع
    ازتوبہ پزیردکن این ہاراتیغ
    لفظ ہارا گفتہ اہل ہدیٰ
    بود نام پنجتن آلعبائؑ
    ) نجم الہدیٰ سید محمد نور بخش قدس اللہ سرہ(
    آل النبی ؐ ذریعتی
    وھم الیہ وسیلتی
    ارجوالیھم اعطیٰ غداً
    بیدالیمینی صحیفتی
    امام شافعی ؒ
    یعنی اہلبیت رسول ؑ میرا وسیلہ ہیں وہ اس کی بارگاہ میں میرے قرب کا ذریعہ ہیں ۔ امید کرتاہوں کہ ان کے ذریعے سے کل قیامت کے دن میرانامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا ۔
    ولادت امام محمد باقر علیہ السلام
    بعض مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام روز شنبہ تین ماہ صفر یا ماہ رجب کی پہلی تاریخ یعنی یکم ماہ رجب ۵۷ ھ مدینہ منورہ میں بروز جمعہ پیدا ہوئے اور فاطمہ بنت رسول ؑ کی پوتی اور علی ابن ابی طالب کے پوتے کے گھرمیں پھر سے نور محمدی ؐ چمکا ان کی والدہ ماجدہ فاطمہ ؑ دختر امام حسن ؑ تھی اور امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ ابن الخیر ین و بین العلوین کہ میری دادی کو میرے والد امام محمد باقر ؑ فرماتے تھے۔ کانت صدیقتہ لم یدرک فی آل الحسن مثلھا دادا امام حسین علیہ السلام اپنے کربلا کے ہمسفر کو دیکھنے آئے پیشانی کا بوسہ لیا ۔ محمد علیہ السلام کے کان میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے اذان دی ۔ حضرت علی ؑ اور حضرت فاطمہ ؑ نے چہرے پر نظر ڈالی اور زبان پر بے ساختہ درود آیا اﷲ دود میں شریک ہوا ملائکہ درود میں شریک ہوئے مومنین نے صدائے درود بلند کی رسول خدا ؐ نے جنت سے درود بھیجے ہونگے رسول اﷲ صلعم جب فرش پرتھے تواپنے محمد ؐ کو پیغام سلام بھیجتے تھے ۔
    جابربن عبداﷲ حسین ؑ کے پوتے محمد باقر ؑ کا زمانہ دیکھو گے جابر ! جب میرے محمد ؑ سے ملاقات ہوئی تو سلام کہنا اﷲ اﷲ اس امام کا مقام کہ انہیں رسول خدا ؐ نے سلام بھیجا۔ جس پر خدا نے درود و سلام بھیجا ۔ جابر انصاری ؓ علیل تھے امام محمد باقر علیہ السلام آپ کی عیادت کیلئے تشریف لائے فرمایا جابر کیف حالک کیا حال ہے اے جابر ؟ جابر ؓ بولا خدا کا شکر ہے ۔ پیری کو جوانی پر بیماری کو تندرستی پر موت کو زندگی پر ترجیح دیتاہوں۔
    امام محمد باقر ؑ نے فرمایا یہ منافی توکل ہے جابر یوں کہو کہ اگر خدا کو بیماری پسند ہے تو ہمیں بھی بیماری پسند ہے اگر اس کو تندرستی پسند ہے اگر موت دینا اس ذات کو پسند ہے تو ہمیں بھی تندرستی پسند ہے تو ہمیں بھی موت پسند ہے اور اگر زندگی دینا چاہتا ہے تو ہم زندگی میں خوش ہیں۔ جابر ؓ نے امام ؑ کا کلام سنا اور اٹھ کرہاتھ چوم لئے اور کہا کہ کلام الامام امام الکلام اور کہا خدا کے رسول ؐ نے سچ فرمایا تھا کہ آپ باقر العلوم ہیں ( حقائق کا انکشاف کرنے والا) امام محمد باقر ؑ کا سینہ علوم کا خزینہ تھا زمانہ نے تھوڑی مہلت دی تھی کہ درس و تدریس کا ایک بے پایاں سلسلہ شروع ہوگیا ۔ سینکڑوں اپنے اور غیر مکتب باقری سے فیضیاب ہوئے امام زہری ؒ امام مالک امام ابو حنیفہ و غیرہ آپ کے شاگردوں نے خدمت دین کے لئے امام علیہ السلام کے ارشادات سے بے شمار کتابیں لکھیں ۔ مشہور عالم ابن حجر مکی اپنی کتاب صواعق محرقہ ص ۱۲۰ پر لکھتے ہیں کہ حضرت نے معارف و حقائق علم و حکمت کے وہ دریا بہائے جس سے سوائے دیوانہ اور کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ حکمت میں سے صرف ایک واقعہ بیان کرتاہوں ۔ ایک روز عباد بن کثیر بصری ؒ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کی یابن رسول اﷲ ؐ مرد مومن کا حق حق تعالیٰ پر کیا ہے ؟ امام علیہ السلام خاموش رہے ٗ تیسری مرتبہ پھر سوال کیا تو فرمایا مومن کا حق اﷲ پر یہ ہے کہ اگر اس درخت سے کہے کہ میری طرف آتو درخت تعمیل حکم میں فوراً آجائے دیکھا کہ وہ درخت جس کی طرف امام محمد باقر علیہ السلام نے اشارہ کیا تھا چلا آرہاہے یہاں تک کہ قریب آگیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا میں نے دیکھا کہ درخت پھرا پنے مقام پر واپس ہوگیا ۔ ( کشف الغمہ) محمد ؐ و آل محمد ؐ کی پیروی تو بڑی چیزہے ۔ امام علیہ السلام کے اگر ان تین فقروں پر دنیا عمل کرے تو مومن کامل بن جائے ۔ آپ نے اپنے فرزند صادق آل محمد ؐ سے فرمایا کہ خداوند عالم نے تین باتیں تین چیزوں میں چھپا رکھی ہیں ۔
    ۱) … اپنی خوشی کو اپنی طاعت میں چھپایا ہے پس تم اس کی اطاعت سے کسی بات کو حقیرنہ جانو ہو سکتا ہے کہ جس کو تم معمولی سمجھ کر ترک کردو اسی میں اس کی خوشی پوشیدہ ہو۔
    ۲) … اور اپنے غضب کو معصیت میں پوشیدہ رکھا ہے لہٰذا کسی بھی معصیت کو معمولی سمجھ کر اس کے مرتکب نہ ہو ٗ کیا معلوم کس معصیت میں اس کا غضب ہے ۔
    ۳) … اپنے دوستوں کو اپنی مخلوق میں چھپایا ہے پس اس کے بندوں میں سے کسی کو حقارت سے نہ دیکھو شاید وہی خدا کا دوست ہو ۔ شان امام ؑ یہ ہیں ہے ۔
    یبقر علم الدین بقرا المختصر۔
    شہادت امام محمد باقر علیہ السلام
    حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کربلا کے جہاد میں اس طرح شریک ہوئے جس طرح ان کے والد ماجد امام زمین العابدین علیہ السلام شریک ہوئے اور واقعی بڑا سخت جہاد تھا ابتداء سے انتہا تک امام علیہ السلام نے مصائب و آلام کے پہاڑ اپنی آنکھوں سے ٹوٹتے ہوئے دیکھا ۔ عاشورہ کے دن بھر لاشوں پر لاشے آتے ہوئے دیکھا ۔ العطش العطش کی آوازیں سنیں ۔ گیارہ محرم کوماں ٗ پھوپھی ٗ دادی اور نانی کو سر برہنہ رسن بستہ دیکھا اگر جناب سکینہ ؑ کا بازو رسن سے بندھ سکتا ہے تو امام محمد باقر علیہ السلام کا گلا بھی ریسمان ریسمان ظلم باندھا گیا ہوگا ۔ ان مصائب و آلام کے دل پر وہ نقوش بیٹھے کہ عمر بھر بر قرار رہے ۔ مدینہ آکر پدر بزرگوار کو صرف دو کام کرتے ہوئے دیکھا ۔ عبادت باری تعالیٰ یا گریہ زاری ۔ باپ ؑ کے گلوئے بریدہ کے تصور میں امام زین العابدین علیہ السلام عمر بھروہ خون کے آنسو روئے جن سے رخسار مبارک فگار ہوگئے ۔ ظاہر ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کا بھی یہی مشغلہ رہا ہوگا ۔ ۳۸ برس کی عمر میں بعد شہادت پدر علیہ السلام امامت کی ذمہ داریوں کا بار دوش امام محمد باقر علیہ السلام پر آیا ہوا کچھ حالت سازگار تھی دشمن خانہ جنگیوں میں گرفتار تھے ۔ ذرا آزادی کاسانس لیا اور علم و حکمت کا دریا بہادیئے مگر کربلا کے مناظرہ رہ رہ کر سامنے آتے تھے اور امام کو خون کے آنسو رلاتے تھے آپ نے مجالس سید شہدا کی بنیاد ڈالی اکثر مجلس عزاء برپاہوتی امام علیہ السلام اکثر کمیت بن زین اسعد شاعر کو دعوت دیتے کہ وہ آکر مرثیہ پڑھے کمیت ؓ مرثیہ پڑھتے اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سن کراتنا گریہ فرماتے کہ بے ہوش ہوجاتے آخر ہشام خلیفہ امیہ کے دیئے ہوئے زہر سے روز شنبہ ہفتم ۷ ماہ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یا ۱۱۰ ھ میں ۵۷ یا ۵۸ سال کی عمر میں ۱۹ یا ۲۱ سال مدت امامت میں امامت کا یہ پانچواں چراغ بھی گل ہو کر بدرجہ شہادت فائز ہوئے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بمطابق وصیت غسل و کفن دیئے نماز جنازہ پڑھی اور اپنے پدر بزرگوار کے پہلو جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی کتاب المتین واذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما قال و من ذریتی قال لاینال عہدی الظالمین
    ۔ سورہ بقرہ
    ترجمہ : ۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب اﷲ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا چند کلمات کے ساتھ تو اس امتحان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پورا کردیا تو اﷲ نے فرمایا کہ اے ابراھیم میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والاہوں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ مجھے امامت مل گئی ہے تو جلدی سے ہاتھ اٹھا کر عرض کی کہ اے اﷲ میری ذریت میں سے بھی تو جواب آیا کہ اے ابراہیم ؑ یہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا ۔ خدا نے یہ فرمایا کہ قیامت تک ظالموں کی نفی فرمادی ہے کہ ظالم امام نہیں بن سکتا ۔ ظلم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک ظلم عظیم اور دو سرا ظلم صغیر ظلم عظیم وہ ہے جو خدا کے ساتھ کیا ہے اﷲ فرماتا ہے۔
    لا تشرک باﷲ ان الشرک لظلم عظیم ۔
    کہ تو شرک نہ کر شرک بڑا ظلم ہے ۔ سورۂ لقمان
    حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کی
    واجنبی وبنی ان نعبد الاضام
    کہ مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی پرستش سے بچالے پتہ چلا کہ جس نے شرک کیا وہ ظالم ہے اور جو ظالم ہوگا وہ امام نہیں بن سکتا ۔ امام اصطلاح میں پیشوا کو کہتے ہیں اور لغت میں امام اس رسی اور ساحل کو کہتے ہیں جو مستریوں اور معماروں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔ وہ دیواریں بناتے وقت اسے لٹکا کردیکھتے رہتے ہیں کہ دیوار سید ھی بن رہی ہے کہ نہیں ؟ صوفیاء کرام کہتے ہیں کہ امام نبی کریم ؐ کے بعد وصی اور حجت ہوتا ہے اور وہ خاموش کتاب اﷲ ( قرآن ) کی تاویل ٗ شریعت کی حفاظت اور حدود کے قائم کرنے میں امام ناطق ہے ۔ (۱)
    اہل تصوف کے نزدیک قطب اور امام دونوں ایک ہے اور یہ جائز نہیں کہ کوئی زمانہ امام اور قطب سے خالی رہے ( نص النصوص ص ۲۷۴)
    قطب و امام یا قطب اور معصوم ایسے الفاظ ہیں جو کہ حقیقت میں ایک ہی فرد پر صادق آتا ہے وہ روئے زمین پر خلیفۃ اﷲ ہوتا ہے۔(جامع الاسرار ص ۲۴۱)
    امام اس شخص سے عبارت ہے جو نبی کی طرف سے اپنے مانند امت کی ضرورتوں کو حل کرنے کی غرض سے اقدام کرتا ہے ۔ امامت مجموعہ رسالت و خلافت اور خلافت و نبوت کی مکمل حفاظت کا نام ہے ۔ (جامع الاسرار ص ۲۳۳ (
    صاحب کتاب اصلاحات تصوف ( فرہنگ نور بخش ) ڈاکٹر جواد نور بخش لکھتے ہیں کہ امام کے پانچ درجات ہیں (۱) امام ادنیٰ (۲) امام اعلیٰ (۳) امام اکبر (۴) امام اعظم (۵) امام مبین ۔
    نص النصوص ص ۲۷۲
    الحاصل امام اعظم سے مراد غوث محمد مصطفی ؐ امام مبین سے مراد حضرت علی بن ابی طالب ؑامام اکبر سے مراد حضرت امام مہدی ؑہیں ۔شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۲۱
    غرضیکہ امامت دین و دنیا میں ریاست عامہ کانام ہے امام مفترض القائمتہ خلیفہ ہے ظاہرا خلیفہ رسول اﷲ اور باطنا خلیفہ اﷲ)(فرہنگ نور بخش ج ۳ ص ۵۰ ۔)
    سید العارفین علامتہ المتاخرین سید محمد نور بخش نور اﷲ مرقدہ تحریر فرماتے ہین کہ
    و یجب ان تعتقد ان الامامۃ علی نوعین حقیقیۃ و اضافیۃ فالحقیقیۃ الاتصاف بجمیع صفات الامامۃ صوریۃ کانت او معنویۃ الخ– کتاب الاعتقادیہ
    یعنی تجھے یہ اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ یقینا امامت کی دو قسمین ہیں (۱) امامت حقیقی (۲) امام اضافی ۔ امامت حقیقی وہ ہے جو امامت کی شرائط اور ارکان کاپوری طرح حامل ہونے کے ساتھ امامت کی تمام صفات صوریہ اور صفات معنویہ سے متصف ہو اور جو ان صفات امامت میں سے بعض صفات سے متصف ہو وہ اسی قدر امام ہے پس اس کی امامت اس لحاظ سے اضافی ہوئی ۔ غوث المتاخرین سید نور بخش علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند ارجمند شاہ قاسم فیض بخش قدس اﷲ سرہ کے توسط سے پورے مکتب نور بخشیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ
    ولی علی ذکائک وثوق فتامل و اعرف الائمۃ الماضین و الباقین و فزفوزا عظیماً۔ کتاب الاعتقادیہ سید محمد نوربخشؒ
    بیٹے مجھے تیری ذہانت پر پورا یقین ہے اس لئے تو خوب سوچ لے اور گزشتہ آئمہ اور باقی ماندہ آئمہ کی اچھی طرح پہچان کر اور بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوجا ۔ یہاں آئمہ ماضین سے مراد حضرت امام علی ؑ سے لے کر حضرت امام حسن عسکری ؑ تک کے آئمہ حقیقی اور حضرت معروف کرخی ؒ سے لے کر حضرت خواجہ اسحاق ختلائی ؒ تک کے آئمہ اضافی ہیں جبکہ آئمہ باقین سے مراد حضرت امام محمد مہدی ؑ امام حقیقی اور خود شاہ سید محمد نور بخش ؒ سے لے کراسی سلسلے میں آنے والے تمام آئمہ اضافی یعنی پیران طریقت جو کہ یدا بید ایک دو سرے کی اجازت سے بغیر کسی انفصال کے آتے ہیں ۔ ڈاکٹر جواد نور بخش نے ’’فرہنگ نور بخش ‘‘ میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ قدس اﷲ سرہ کا فرمان نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
    ہر کہ را ارادت این راہ پدید آید و خواہد تا حرقہ پوشید باید کہ از دست پیری پوشید کہ علم شریعت و طریقت و حقیقت نیکو داند و مرید باید کہ وقتی خرقہ پوشد کہ داند کہ بر آن استقامت تواند نمودن بر عنا و رنج و مشقت طریقت و مجاہدہ ریاضت اہل حقیقت صبر تواند کردن و از عہدہ آن خرقہ بہ تمامی تواند بیرون آمدن۔ (اور اد الاحباب یحیی باخرزی ص ۲۷ ۔ ۲۸ ، فرہنگ نور بخش ص ۴۰ ۔ ۴۱)
    ترجمہ : ۔ جس کسی کو راہ سلوک سے عقیدت ہوجائے تو اسے چاہئے کہ علم شریعت ٗ طریقت ٗ حقیقت اور معرفت ٗ بہترین انداز سے جاننے والے کسی پیر سے خرقہ پہن لے مرید اس وقت خرقہ پہن لے کہ اسے سلوک کی تمام تکالیف اور مشقتیں برداشت کرسکنے کا یقین ہو اور اس ذمہ داری کو پوری کرنے کاپکا علم ہو۔
    روحانی روابط میں ہم اقرار کرتے ہیں
    لانھم ائمتنا فی الدین الخ
    یعنی یہ ہمارے دین کے آئمہ اضافی کی فضیلت ان کی آئمہ حقیقی کی اتباع اور آئمہ حقیقی کی فضیلت اتباع رسول اﷲ ؐ کی وجہ سے ہے ۔ دعوات صوفیہ امامیہ
    ولادت امام جعفر صادق ؑ
    ۸۳ ھ روز دوشنبہ یا جمعہ ربیع الاول کی سترہ وہ مبارک تاریخ تھی جس میں سردار اولین و آخرین سید المرسلین عالم وجود میں آئے اسی تاریخ حضرت محمد ؐ کے گھر میں صادق آل محمد ؐ گوہر تاج عارفین بن کر وکل شیء فی امام مبین بن کر ۔ مظہر انوار رب العالمین بن کر اس طرح آیا کہ ہدایت ساتھ آئی صراط المستقیم نظر آئی امامت نے وقت پایا فریضہ امامت پایا ۔ تبلیغ کے دریا بہادیئے اسلامی دنیا سے تشگان دین جوق در جوق آئے صادق آل محمد ؐ درسگاہ میں بیک وقت چار ہزار طالبان دین کا مجمع ہوگیا درس و تدریس کا آفتاب چمکا دین حقہ کے انوار گوشہ گوشہ میں پہنچے سعید شاگردوں نے ایمائے امام سے تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا ۔ علامہ دمیری لکھتے ہیں کہ ایک دن امام ابو حنیفہ ؒ خدمت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام میں پہنچے ۔ امام علیہ السلام بڑ ی محبت سے پیش آئے اور فرمایا نعمان سنا ہے کہ تم دین خدا میں اپنے قیاس سے کام لیتے ہو خدا کے عذاب سے ڈرو ۔ دیکھو آدم علیہ السلام کے معاملہ میں جس نے قیاس سے کام لیا اس کا کیا حشر ہوا؟ محمد ابن طلحہ شافعی اپنی کتاب مطالب السئوال میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سادات کے اعلیٰ ترین فرد زیور علم سے آراستہ و پیراستہ تھے ۔ معنی قرآن کے سر چشمہ حکمت کے بحر ذخار اور علمی و روحانی عجائب و کمالات کے مرکز تھے۔ایک روز ایک شخص نے بولا خدا نے قرآن میں کہا ہے ۔
    ثم لتسئلون یومئذ عن النعیم۔
    کہ لوگوں سے قیامت کے دن نعمتوں کی باز پرس کی جائے گی ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اس آیت میں نعمت سے مراد کھانے نہیں بلکہ نعمت سے مطلب ہم اہل بیت ؑ کی محبت و مودت ہے ۔ قیامت کے دن ہماری محبت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک حضرت امام جعفر صادق کی شاگرد میں اور ان شاگردوں کے شاگرد امام حنبل ؒ اور شافعی ہیں۔ امام حنیفہ کہتے ہیں ما رایت افقہ من جعفر بن محمد میں نے امام جعفر سے بڑھ کرکوئی فقیہ نہیں دیکھا ہے ۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ
    لولا السنتان لھلک النعمان
    اگر دو سال نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجا تا ۔ امام مالک فرماتے ہیں
    مارا عین والا تسمیعت خطر علی قلب بشر افضل من جعفر بن محمد
    نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ جعفر بن محمد ؐ سے بھی کوئی افضل ہوسکتا ہے ۔ معلم کبیر امام جعفر صادق ؑ کے دور میں تعلیمات اہلبیت ؑ از سر نو پروان چڑھیں اور امت مسلمہ ایک بار پھر جادہ مستقیم پر گامزن ہوئی۔
    شہادت حضرت امام جعفر صادق ؑ
    امام جعفر صادق علیہ سلام کے زمانے میں عزاء سید شہداء نے عروج پایایوں تو عزائے سید الشہدا ؑ کا سلسلہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے دمشق ہی میں شروع کردیا تھا مدینہ روانگی سے قبل دمشق میں ایک مکان خالی کرایا گیا جس میں سید الشہدا ؑ کا بیٹا ذاکر ہوتا او اہل حرم ؑ سامعین کس طرح ذاکری کرتے اور کیا بیان فرماتے ہونگے واقعات و مصائب تو سب کے پیش نظر تھے ان کو کیا سنانا تھاہاں وا محمد اوا علیا و اسید ا کی آواز یں بلند ہوتی ہونگی ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں مجالس کا خاص اہتمام ہوا ۔ صادق آ ل محمد ؐ خوود ذکر سید شہدا کرتے اصحاب اور شاگردوں کا کثیر مجمع ہوتا امام بھی روتے مجمع بھی زار و قطار روو رہاتھا ۔ ایک صحابی منبر کے قریب بیٹھے ہوئے تھے رخساروں پر آنسوؤں کا دریا بہہ رہاتھا امام ؑ ان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کہ تم مصائب سید الشہدا ؑ سن رہے ہو اور روتے نہیں ؟ صحابی نے گردن اٹھائی اور عرض کی مولایہ کیسے ممکن ہے کہ سید الشہدا ؑ کے مصائب کا ذکر ہو اور غلام نہ روئیں فرمایا اس طرح مت روؤ ایسا روؤ جس طرح میری دادی فاطمہ ؑ چنچیں مار کر روئی تھیں ۔ بالا خر دشمن دین منصور خلیفہ نے ۲۵ ماہ شوال یا ۱۵ ماہ رجب کو عامل مدینہ کے ذریعہ امام جعفر صادق ؑ کو زہر سے شہید کرادیا اور بروایت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بتاریخ تیمہ رجب یا رمضان ۱۴۸ ھ سن مبارک ۶۳ یا ۶۵ میں منصور دوانقی خلیفہ بنی عباس کے زہر سے بدرجہ شہادت فائز ہوئے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے قریب شہادت ایک دن اپنے تمام خویش و اقارب کو جمع کیا اور فرمایا کہ
    ان شفا عتا لا ینال مستخفا بالصلوۃ ۔
    ترجمہ: نماز کو حقیر جاننے والے کو ہماری شفاعت نہیں ہوگی۔
    دیگر فرمایا کہ میرے بعد میرا بیٹا موسیٰ کاظم علیہ السلام میرا وصی اور امام جہاں ہے حضرت امام موسیٰ کاظم فرماتے ہیں کہ میں نے غسل اور کفن دیا اور نماز کے بعد نزد قبور پدر و جدش جنت البقیع میں ایک سنگ مرمر پیدا ہوا اس پر لکھا ہوا تھا کہ
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ رب العالمین ھذا قبر فاطمہ بنت محمد رسول اﷲ ؐ و قبر الحسن ؑ و علی بن الحسین ؑ و محمد بن علی ؑ و جعفر بن محمد ؑ صلواۃ اﷲ اجمعین ۔
    اسی جگہ دفن ہوئے۔
    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد کی تعداد دس بتائی جاتی ہے ۔ اسماعیل ؑ ٗ موسی ؑ اور عباس ؑ و علی ؑ و فاطمہ ؑ و غیرہ ۔ اہل امامیہ صوفیہ نور بخشیہ ۱۵ رمضان کو چار رکعات نماز زیارت امام جعفر صادق ؑ پڑھتے ہیں ۔ نیت یہ ہے
    اصلی صلواۃ زیارت امام جعفر صادق رکعتین قربۃ الی اﷲ – دعوات صوفیہ امامیہ

حضرت امام موسٰی کا ظم علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ واجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبر و او کان بایتنا یوقنون

    پ ۲۱ س سجدہ
    ترجمہ : ۔ اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب مبین میں فرماتے ہیں کہ ہم نے ان میں سے امام بنائے جنہوں نے مصائب پر صبر کیا اور ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہماری آیتوں کادل سے یقین رکھتے تھے ۔
    مختصر سی آیت نے چار چیزوں پر روشنی ڈالی ہے سب سے پہلے ’’ جعلنا‘‘ہے یعنی ہم نے قرار دیا جہاں خلافت و امامت کا ذکر ہوا ہے قدرت نے تقرری کی نسبت اپنی ہی طرف دی ہے ۔ سب سے پہلے خلافت کو یاد کیجئے وہاں بھی یہی کہا گیا
    انی جاعل فی الارض خلیفہ
    اعتراض ہر دو رہیں ہوئے وہاں بھی ہوا مگر یہ کہہ کر اعتراض کو ٹھکرا دیا کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں تم نہیں جانتے یعنی خلافت اور امامت کے لئے عصمت شرط ہے اور کون معصوم ہے اس کو ہمارے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ معلوم ہوا اعتراض کرنے والا معصوم نہ تھا ورنہ اعتراض ہی نہ کرتا اور خدا کے حکم کو تسلیم کرلیتا دو سری چیز آیت میں یھدون بامرنا ہے کہ وہ آئمہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں یہ نہ سمجھنا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اپنی طرف سے کہتے ہیں نہیں زبان ان کی ہوتی ہے اور حکم ہمارا لا ینطق عن الھوی تیسری چیز لما صبروا ہے ۔ یعنی صبر کرتے ہیں ۔ راہ ہدایت میں جب مصائب کی آندھیاں چلتی ہیں تو وہ ثابت قدم رہتے ہیں ۔ چو تھی چیز و کانوا بایتنا یوقنون ہے کہ ان کو ہماری آیات پر کامل یقین ہے جو انکو ثابت قدم بنائے ہوئے ہیں ۔ امام کے لئے ان چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
    ۱۔ منصوص من اﷲ ہونا ۲۔ حکم خدا سے ہدایت کرنا ۳۔ مصائب میں صبر کرنا اور ۵۔ آیات الہیہ پر ایقان ہونا ۔
    مندرجہ بالا تمام اوصاف حضرت امام علی علیہ السلام سے آخر زماں حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام تک کے آئمہ میں پائے جاتے ہیں کہ آدم الاولیاء مطلقاً علی بن ابی طالب ؑ ہے اور خاتم الاولیاء بہ مقید مہدی آخر زماں ہے ۔(جامع الاسرار ص ۳۸۹، نص النصوص ص ۱۸۳، شرح گلشن راز ص ۲۱۵، اصطلاحات تصوف ج۲ ص ۱۳۷)
    شاہ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ نے بھی امامت کی صفت اس طرح بیان کی ہے کہ واصل الامامۃ شجاعت اور قریشی ہونا الخ کیونکہ فرمان رسول مقبول ؐ ہے الائمۃ من قریش یعنی آئمہ کرام قبیلہ قریش سے ہونگے ۔ اصول اعتقادیہ ص ۴۹
    و صفاتھا الصوریۃ السیادۃ المنصوصۃ و الفاطمیۃ الخ
    اور قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہی کہ
    ان مسئلۃ الامامۃ من اعظم المسائل من اصول الدین الذی مخالفتھا توجب الکفر
    یعنی بے شک مسئلہ امامت اصول دین میں سے ایک عظیم ترین مسئلہ ہے اس کی مخالفت کفر واجب کرتی ہے ۔(کتاب الصلۃ بین التصوف و التشیع ص ۲۳۸)
    اور جامع الاسرار ص ۷۱ میں مرقوم ہیں کہ امام علی علیہ السلام صاحب اسم اعظم تھا ۔ حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں رسول مقبول ؐ نے فرمایا ہے کہ
    الحسن و الحسین امامان قاما او قعد اما فی الحسین ھذا امام و اخو امام ابن امام ابوا الائمہ۔ مجالس المومنین شوشتری ص ۲۷۳ نص النصوص ص علل الشرائع ص ۲۰۰
    ترجمہ: جناب حسن ؑ اور حسین ؑ دونوں امام ہیں چاہے وہ قیام کرے یا بیٹھے رہے اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا کہ یہ خود امام امام کابھائی امام کا بیٹا اور آئمہ کے باپ ہیں
    ولادت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
    آنحضرت دو روز یکشنبہ ہفتم ماہ صفر ۱۲۸ ہجری بمطابق ۷۴۹ ء ۱۰ نومبر در مقام ابوا ، ما بین مکہ و مدینہ ہے ۔ (انوار نعمانیہ ص ۱۲۶ اعلام الوری ص ۱۷۱ )
    صفر کی سات تاریخ تھی کہ سید الصابرین کے گھر میں ساتواں صابر آیا ۔ باب مدینۃ العلم کے گھر میں باب قضاء الحوائج آیا صادق آل محمد ؐ نے ساتویں صادق کے کان میں اذان کہی اور ساتوں طبق روشن ہوگئے ۔ علم نے کہا عالم آیا ۔ غصہ نے کہا کاظم آیا محمد ابن طلحہ شافعی مطالب السئول ص ۳۰۸ اور علامہ ابن حجر مکی صواعق محرقہ ص ۱۲۱ پر لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنے والد کے صحیح وارث ٗ امام حقیقی اور فقیہہ کامل تھے عبادت اور کرامت میں مشہور تھے رکوع اور سجود میں راتیںگزارتے اور دن روزوں میں بہت سے حج پیادہ کئے امام کے بچپن کا واقعہ ابو حنیفہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن چند مسائل دریافت کرنے کی غرض سے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے عصمت کدہ میں حاضر ہوا۔ معلوم ہوا امام علیہ السلام آرام فرما رہے ہیں۔ انتظار میں بیٹھ گیا کہ اتنے میں امام کے صاحبزادے موسیٰ کاظم علیہ السلام جن کی عمر ابھی پانچ چھ سال کی تھی باہر تشریف لائے میں نے انہیںسلام کیا اور کہا فرزند رسول ؑ انسان کے افعال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آیا ان کا فاعل انسان ہے یا خدا ۔ آنحضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے سنا اور آپ دونوں زانو ہو کربیٹھ گئے اور فرمایا ابو حنیفہ اپنے سوال کا جواب سنو ۔ یاد بھی کرلو اور اس پر عمل بھی کرنا ۔ دیکھو بندوں کے اعمال تین صورتوں سے خالی نہیں یا ان کو خدا کرتا ہے اور بندے بالکل مجبور ہیں ۔ (۲) یا خدا اور بندے دونوں مل کرکرتے ہیں ۔ (۳) یا صرف بندے کرتے ہیں اور خدا ان افعال کے فاعل صرف خدا ہے تو یہ کیسا خدا ہے کہ با وجود عادل ہونے کے اپنے بندوں کو ان اعمال کی سزادے گا جن کو انہوں نے نہیں کیا بلکہ خود خدا نے کیا ہے اور اگر دو سری صورت ہے تب بھی یہ کیسا خدا ہے کہ افعال میں خدا اور بندے دونوں شریک ہیں اور سزا صرف بندوں کو دی جائے گی ۔ حالانکہ وہ خود شریک ہے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں محال ہیں ۔ اب تیسری صورت کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہیں رہی اور وہ یہ کہ بندے خود اپنے افعال کے فاعل ہیں اور ایک شخص نے پوچھا اچھا یہ فرمایئے کہ انسان مجبور یا مختار تو آپ ؑ نے فرمایا کھڑے ہو جاؤوہ کھڑا ہوگیا فرمایا ایک پیر زمین سے بلند کرلو ٗ کرلیا فرمایا دو سرا بھی اٹھا لو۔ اب وہ پریشان ہوا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں ۔ فرمایا پھر کچھ چیزیں تمہارے اختیار میں ہیں کچھ چیزیں تمہارے اختیار میں نہیں ہیں ۔
    غوث المتاخرین سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ نے کتاب الاعتقادیہ میں نسبت خیرو شرکا مسئلہ کے عنوان سے اس بارے میں بڑی مدلل بحث بہت اچھوتے انداز میں کی ہے امت کے در میان پائے جانے والے اختلافات کو رفع فرماتے ہوئے آپ رقمطراز ہیں کہ کوئی کہتا ہے کہ خیر و شر دونوں بندے کی اپنی طرف سے ہیں کوئی کہتا ہے کہ یہ دونوں اﷲ کی طرف سے بھی ہے اور بندے کی طرف سے بھی اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سب لفظی اختلافات ہیں اور حقیقت میں ایک ہیں۔
    شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
    یعقوب بن داؤد سے مروی ہے کہ جب ہارون رشید بعد حج برائے زیارت مدینہ آیا جب روضہ مبارک پر آیا تو قبر رسول اﷲ ؐ کی طرف رخ کرکے امام ؑ کو اس طرح سلام کیا السلام علیک یا بن عم ۔ امام ؑ نے سنا اور قبر رسول اﷲ ؐ کی طرف رخ کرکے یوں سلام کیا ۔ السلام علیک یا ابت یہ سن کرہارون رشید کا رنگ فق پڑگیا اور اس قدر ذلت محسوس کی کہ امام علیہ السلام کو حالت نماز ہی میں گرفتار کرا کر بصرہ کے زندان میں قید کردیا ۔ ایک سال کے بعد حاکم بصرہ کو لکھا کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کردیا جائے حاکم بصرہ نے لکھا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکتا تو اس ملعون نے امام کو بصرہ سے منتقل کرکے بغداد کے زندان میں بلالیا اور تازیست و ہیں قید رہے ایک روز محبان امام ؑ میں سے ایک شخص آیا اور قید خانہ میں محافظ سے اجازت چاہی کہ امام ؑ کی زیارت سے مشرف ہو ۔ محافظ نے انکار کردیا اس نے کافی رقم پیش کی تو اس نے کہا قید خانہ کے پشت پر ایک سوراخ ہے اس میں سے تم امام علیہ السلام سے ملاقات کرسکتے ہو اس نے دیکھا کہ ایک گوشہ میں سفید کپڑاپڑا ہے اور کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد کپڑے میں حرکت ہوئی اور یہ آواز سنائی دی جیسے کوئی کہہ رہا ہے پالنے والا تیرا میں کیسے شکر ادا کروں کہ تو نے اپنی عبادت کے واسطے اس قدر اطمینان اور سکون کی تنہائی عطا فرمائی پھر امام علیہ السلام نے سجدہ سے سراٹھایا ۔ صحابی سلام احترام بجا لایا اور رو کر کہا آقا آپ ؑ کے پیروکار سب مشتاق زیارت ہیں کب زیارت ہوگی ؟ فرمایا ان سب سے کہہ دو کہ پرسوں بغداد کے پل پر آجائیں میں بھی وہاں پہنچ جاؤں گا ۔ صحابی خوشی خوشی واپس ہوا یہ خبر تمام مؤمنین میں گشت کرگئی۔ زہر اپنا اثر کرتا جارہا تھا امام ؑ نے مسیب ؓ جو پاسبانوں میں ایک دوستدار اہلبیت ؑ تھا فرمایا اے مسیب ؓ میں مدینہ جارہاہوں تا کہ جد بزرگوار سے آخری رخصت چاہوں اور اپنے فرزند حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو جو میرے بعد امام امت ہونگے تبرکات رسالت اور اسرار امامت سپرد کردوں ۔
    مسیب ؓ پریشان ہوگئے آقا یہ کیسے ممکن ہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا مسیب ؓ تم بڑے پکے اعتقاد والے ہوا پنے یقین کو خدائے قادر اور ہمارے بارے میں قوی کردو ۔ مسیب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہا امام کے لبھائے مبارک ہلے اور آپ نظروں سے غائب ہوگئے ۔ زنجیریں پڑی رہ گئیں امام علیہ السلام نے مدینہ میں قبر رسول اﷲ ؐ پر کیا کہا ہوگا ؟ زنجیروں سے زخمی پیردکھائے ہونگے ؟ اور امام رضا علیہ السلام کو منصب امامت پر مقرر کیا وصیت کی ۔ مسیب ؓ نے پھر نظر ڈالی تو امام علیہ السلام اپنی جگہ موجود تھے ۔ زنجیریں پیروں کا بوسہ لے رہی تھیں ۔ مجھ سے فرمایا مسیب ؓ میری روح جب میرے جسم سے مفارقت کرجائے تو پریشان نہ ہونا میرا فرزند حضرت امام علی رضا علیہ السلام مجھے غسل دے گا اور وہی نماز جنازہ پڑھائے گا ۔ مشہور تاریخ شہادت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق علیہ السلام ۵۴ سال کی عمر میں اور ۳۵ سال مدت امامت میں ۲۵ ماہ رجب بروز جمعہ ۱۸۳ ھ بغداد کے قید خانہ ہی میں خلیفہ وقت کی زہر سے شہید ہوئے ۔ بغداد کے پل پر ہزاروں کا مجمع تھا ۔ ہر شخص خوش تھا کہ امام علیہ السلام نے آج کا وعدہ زیارت فرمایا ہے ۔ آقا کی آج زیارت ہوگی کہ دیکھا ایک جنازہ آرہا ہے آگے آگے ایک منادی ندادے رہاتھا کہ مسلمانوں کے امام ؑ نے قید خانہ میں شہادت پائی ۔ یہ ان کا جنازہ ہے مشتاقان زیارت سر پیٹ لیا مولا یہ کیسا وعدہ فرمایا تھا نالہ و فریاد کی صدائیں عرش سے ٹکرارہی تھیں سربرہنہ ہزاروں کا مجمع گریبان چاک ماتم کنان جنازے کاندھوں پر رکھے کاظمین کی طرف جارہے تھے اسیر امام کا جنازہ اس شان سے نکلا کہ لکھا ہے ڈھائی ہزار درھم صرف خوشبو میں صرف ہوئے ۔ کاش یہ مجمع کربلا میں بھی ہو تا تو امام مظلوم ؑ کی لاش بے گور و کفن نہ پڑی رہتی کم سے کم لاش اطہر پر گھوڑے ہی نہ دو ڑتے ۔ زینب ؑ کے سرے چادر ہی نہ چھینتی ۔ حضرت سکینہ ؑ کے نام آنکھ خون کے آنسونہ روتے جناب سید سجاد ؑ بستہ طوق و زنجیر نہ ہوتے مگر افسوس بر غریبی و مظلومی حسین علیہ السلام ۔ ؎
    تکفین و تدفین ہوسکا نہ جنازہ اٹھا
    تیری غریبی پہ قربان شہید کرب و بلاؑ
    بعد تجہیز و تکفین تدفین حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور اہلبیت عصمت ؑ نے مراسم ماتم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اداو قیام کیا ۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں علی بن موسی ؑ ٗ ابراہیم ؑ، عباس ؑ، قاسم ؑ ٗ فاطمہ ؑ ٗ رقیہ ؑ اور ام کلثوم ؑ و غیرہ ۱۳ کی تعداد تاریخ کی کتابوں میں آتی ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ انا نحن نحی الموتی و نکتب ماقدموا و اثارھم و کل شیء احصینہ فی امام مبین
    ۔ پ ۲۲ سورہ یاسین
    ترجمہ : ۔ بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیجتے ہیں اور وجود آثار ان کے پیچہے رہ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امام مبین میں ( از روئے علم و شمار ) جمع کرلیا ہے ۔ تفسیر قمی و معافی الاخبار میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اپنے والد ماجد و جد امجد سے منقول ہے کہ جب جناب رسول اﷲ ؐ پر یہ آیات
    و کل شی احصیناہ فی امام مبین
    نازل ہوئی تو بزرگ اصحاب رسول عرض کرنے لگے کہ یا رسول اﷲ ؐ کہ آیا امام مبین سے مراد توریت ہے فرمایا نہیں ۔ انہوں نے عرض کی پھرا نجیل یا فرقان ہے فرمایا نہیں اتنے میں جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام تشریف لے آئے تو آنحضرت ؐ نے فرمایا دیکھو وہ امام ؑ جس میں خدا نے ہر چیز کے علم کا احصاء فرمادیا ہے ۔ جناب ابراہیم علیہ السلام کو نبوت رسالت اور خلت کے مناقب رفیعہ کے بعد منصب امامت سے سرفراز کیا گیا جو کہ آخری منصب ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ منصب ملا یعنی فرمایا ۔ اﷲ نے انی جاعلک للناس اماما کیونکہ آپ کل شی احصیناہ کے مصداق ہوگئے توانا نحن نحی الموتیکا اعجاز بھی قدرت کی طرف سے ملا ۔ حضرت ابراہیم ؑنے پرندوں کو مارا اور جلایا ۔ منصب امامت ذریت ابراہیم علیہ السلام میںظالموں سے بچتا رہا اور معصومین کو ملتا رہا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ٗ حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سب ہی امام ہوئے اور آخر میں یہ مرتبہ جلیلۂ امامت حبیب کردگار احمد مختار صلعم تک پہنچا ۔ سلسلہ نبوت ختمی مرتبت پر ختم ہو رہاتھا ۔ سلسلہ امامت اولاد ابراہیم ؑ میں تا قیامت باقی رہنے والا تھا لہٰذا نبوت ختم ہوئی خاتم النبین پر سلسلہ امامت باقی رہا قیامت تک معصومین میں امامت خلیل کو خدا نے عطا کی تھی ۔ اولاد خلیل کو بھی امامت عطا کرنے والا خدا ہی ہونا چاہئے ظالم امامت سے ہمیشہ محروم رہے گا ۔ امام مبین کی وضاحت امام مبین ؑ سے سنئے امام ثامن علی رضا علیہ السلام نے فرمایا سنو امام کسے کہتے ہیں ؟ اور امام کی کیا پہچان ہے ۔ امام وہ ہے جو اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عالم ٗ سب سے زیادہ پرہیزگار ٗ سب سے زیادہ عادل و عابد ہو ، بطن مادر سے مختون پیدا ہو اور جس طرح سامنے سے دیکھئے پشت سر سے بھی اسی طرح دیکھتا ہو آنکھیں خواب میں ہوں ۔ دل بیدار ہوں ۔ سیاہ نہ رکھتا ہو جس وقت پیدا ہو کلمہ شہادتین زبان پر ہو مخلوق پر ماں باپ سے زیادہ مہربان ہو لوگوں کے نفوسوں سے لوگوں پر ادنیٰ ہو رسول خدا ؐ کا زرہ اس کے قد پر ہم عمر میں صحیح آئے مخلوق کے تمام اعمال اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہوں مگر کھا نے پینے سونے جاگنے اور خوشی و غم انسانوں جیسا ہو اس لئے حضرت ابوبکر نے فرمایا
    اقیلونی ولست بحیرکم و علی فیکم
    امام غزالی و شیخ محی الدین عربی لکھتے ہیں کہ دینی علوم و حقائق الہٰی اور علم لدنی حضرت امام علی علیہ السلام میں اس طرح مخصوص تھا جس طرح نبوت اور خاتمیت حضرت رسول خدا ؐ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ حضرت رسول خدا ؐ سے ہوئے حقائق و اسرار حضرت امام علی علیہ السلام سے ان کی اولاد معصومین ؑ کو اور ان سے ان کے شاگردوں اور مریدوں کو دستیاب ہوئے جوان کی صلاحیت رکھتے تھے وہ سب صوفیاں ہیں اور ان سے یہی سر ولایت کی آگاہی ہوتی ہے ۔ جامع الاسرار ص ۲۲۶
    صاحب کتاب فی التصوف الاسلامی تحریر کرتے ہیں کہ تصوف حقیقت میں علم باطن کا جز ہے اور یہ سب وہ علم ہے جو وارثت کے طور پر رسول خدا ؐ سے امام علی ؑ تک پہنچے ۔فی التصوف اسلامی ص ۷۴
    ولادت امام علی رضا ؑ
    تاریخ لکھتی ہے کہ حضرت امام علی رضا ؑ ذیقعدہ کی ۱۱ تاریخ ۱۴۸ ھ کو بروز جمعرات یا جمعہ حضرت ام حبیبہ ؓ کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔
    گھر میں موسیؑ کے کلیم سخن آراء چمکا
    آٹھویں برج امامت کا ستارہ چمکا
    رضاؑ امامت کا جانشین آیا
    قرآن نے کہا امام مبین آیا
    تیس سال پدر بزرگوار کے سایہ عاطفت میں تربیت پائی ۔ ہارون کا جابرانہ دور دیکھا باپ کا قید خانہ میں جانا دیکھا دونوں فسانے ختم ہوئے تو ماموں کادور آیا سیاسی تقاضوں کے پیش نظر سلطنت جھکنی شروع ہوئی اپنی بیٹی ام حبیبہ کے ساتھ شادی کر کے رشتہ بڑھایا سوچا علی علیہ السلام کو داماد بنا کر شاید میری عزت بڑھ جائے اور امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے طلب کیا غریب امام ؑ قبر رسول اﷲ ؐ پر پہنچاد یر قبر سے لپٹ لپٹ کر روتے رہے نانا مامون مجھے آپ ؐ کی زیارت سے محروم کرنا چاہتا ہے ۔ آخری سلام کو حاضر ہواہوں شاید یہ میری زیارت بھی آخری ہو ۔ امام علی رضا علیہ السلام کا یہ سفر سفر کربلا سے بہت مشابہ تھا ۔ مدینہ رسول ؐ سے شہادت کے یقین کے ساتھ امام علی رضا علیہ السلام تنہا سفر کرتے ہوئے مروہ کے جانب روانہ ہوئے جب نشاپور سے گزرے تو ایک مخلوق زیارت امام علیہ السلام کو جمع ہوگئی علماء اور فضلاء کا مجمع تھا سواری کے چاروں طرف ہزاروں کا ازدھام تھا ان کی تمنا اور استدعا کے مطابق امام علیہ السلام نے حدیث رسول ؐ کی یوں ابتداء فرمائی
    حدثنی ابی موسی ؑ بن جعفر علیہ السلام قال ابی جعفر بن محمد قال حدتنی ابی محمد بن علی ؑ قال حدثنی ابی علی بن الحسین ؑ قال حدثنی ابی حسین بن علیہ السلام قال حدثنی ابی علی ابن ابیطالب ؑ قال حدثنی اخی محمد رسول اﷲ ؐ قال حدثنی جبرائیل ؑ قال سمعت برب العزت سبحانہ تعالیٰ کلمہ لا الہ الا اﷲ حصنی و من قال لا الہ الا اﷲ قد دخلہ فی حصنی الا بشروطہا و انا من شروطہا۔
    یعنی یہ کلمہ طیبہ حصار تو ہے مگر اس شخص کے واسطے جو رسول خدا ؐ اور آل رسول ؑ پر ایمان اعتقاد رکھتا ہو جس میں سے ایک میں ہوں۔
    شہادت امام علی رضا علیہ السلام
    تاریخ لکھتی ہے کہ مامون رشید خلیفہ بن بنی عباس نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو بلایا جب تشریف لائے دور تک استقبال کو گیا خادموں کی طرح پیچھے پیچھے چل کر تخت پر بیٹھایا اور کہا اے فرزند رسول ؐ انگور حاضر ہیں کھا یئے ایک خوشہ انگور اٹھا کردیا کہ دیکھئے کتنے عمدہ انگور ہیں آپ ؑ نے فرمایا ۔ بہشت میں اس سے کہیں بہتر انگور ہیں امام علیہ السلام تین انگور کھائے اور کھڑے ہوگئے مامون نے کہاکہاں تشریف فرما رہے ہو ؟ فرمایا جہاں بھیجنا چاہتا ہے ۔ سترہ ماہ صرف ۲۰۳ھ عمر شریف ۵۵ سال مدت امامت ۲۰ سال طوس میں بذہر مامون عباسی بدرجہ شہادت فائز ہوئے ابو صلت جو امام ؑ کے مخصوص خادم تھے کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام فرش پرلیٹ گئے مجھ سے فرمایا دروازہ بند کردو ۔ کوئی اس وقت تک نہ آئے جب تک میرا فرزند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام تمہارا امام نہ آجائے کچھ منٹ بعد میں نے دیکھا کہ ایک جوان خوش رو جس کانو دس سال کاسن ہے گھر میں داخل ہوئے مین نے سلام کیا اور کہا دروازہ بندتھا آپ کس طرح آگئے ؟ فرمایا جو مدینہ سے یہاں لایا وہ گھر میں نہیںلاسکتا میں سمجھ گیا کہ یہی میرے امام ہیں ۔ بیٹا امام ؑ کی خدمت میں گیا اور سینہ پر ہاتھ رکھ کر آداب بجا لایا امام علیہ السلام نے دیکھا گریبان چاک ہے ٗ رخسار آنسوؤں سے ترہیں تادیر سینہ سے لگا لیا اور کچھ کہتے رہے غریب امام ؑ پر عالم غربت میں سوائے بیٹے کے اور کوئی رونے والا بھی نہ تھا ابوصات کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ بیٹے نے ایک چیخ ماری اورہائے میرا بابا کہہ کر سینہ سے جدا ہوئے ۔ مجھے فرمایا غسل کو پانی لاؤمیں نے کہا مولا یہاں پانی نہیں ۔ فرمایا با ہر دیکھو با ہر دیکھا پانی موجود تھا غسل ہوا پھر فرمایا حنوط اور کفن لاؤباہر حنوط و کفن رکھا ہوا تھا لایا اور کفن دیا گیا فرمایا تابوت بھی لاؤامام نے باپ کو تابوت میں رکھا نماز جنازہ پڑھی اور دونوں ہاتھوں سے تابوت کو بلند کیا تابوت غائب تھا ۔ میں حیران ہوا فرمایا پریشان نہ ہو امام علیہ السلام رسول مقبول ؐکی زیارت کو گئے ہیں آتے ہیں کہ تابوت نظر آیا ۔ بیٹے نے تابوت سے نکال کر امام علیہ السلام فرش پر لٹایا اور روضہ اطہر میں دست اقدس سے دفن فرمایا میں نے چاہا کہ امام کو باپ کا پرسہ دوں بیٹا باپ ؑ کے قدموں کی طرف جھکا اور غائب ہوگیا۔
    یہ سرزمین طوس ہے مقام احترام ہے
    ہے مدفن رضا ؑ یہی یہ مشہد امام ہے
    امام حقیقی نے امامت حقیقی و ولایت حقیقی اپنے پسر حقیقی امام محمد تقی علیہ السلام کو سپرد فرمایا اور سلسلہ ولی اضافی اور امامت اضافیہ اپنے شاگرد معروف کرخی قدس اﷲ سرہ کے حوالے کیا ۔)جامع الاسرار ص ۱۰۶ طرائق الحقائق اسرار الشہود شیخ اسیری لاہیجی ص ۳۷ الصلہ بین التصوف و تشیع ص ۲۳۴ ٗ مقدمہ شرح اصطلاحات تصوف ص ۴۹ تاریخ تصوف از ڈاکٹر قاسم غنی ص ۵۵ ٗ نابغہ علم و عرفان )

حضرت امام محمد تقی علیہ سلام

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی کتابہ القدیم و الذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریٰتنا قرۃ اعین و-اجعلنا للمتقین اماما
    ۔سورۂ فرقان پارہ ۱۹
    ترجمہ : ۔ خداوند عالم اپنی حکمت سے بھری ہوئی کتاب میں فرماتے ہیں اور وہ یہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری ازواج کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت کر اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنادے ۔
    المناقب میں سعید ابن جبیر سے روایت ہے کہ و اﷲ یہ پوری آیت حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں خاص ہے وہ حضرت ؑ اکثریہ دعا مانگا کرتے تھے من ازواجنا سے مراد حضرت فاطمہ زہرا ؑ اور و من ذریتنا سے حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ قرۃ العین اس سے یہ مطلب ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے میں نے ہمیشہ ایسی اولاد کی خواہش کی جو خدا کے مطیع و ترساں ہوں تا کہ حالت طاعت و عبادت میں جب میری نظر ان پر پڑے تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔
    و اجعلنا للمتقین اماما۔
    اس سے مراد یہ ہی کہ جو کہ متقی ہم سے پہلے گزرگئے ہیں ان کی تو ہم اقتدا کریں اور جو متقی ہمارے بعد ہونے والے ہیں وہ ہماری اقتداء کریں ۔ تفسیر ابن کثیر و قمی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے بہی یہی روایت ہے اس طرح قرآن بہی متقین کا ہادی و رہبر ہے ۔ ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین ۔ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں ۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لائے الخ حضرت امام علی علیہ السلام کا جو متقی ہم سے پہلے گزر گئے ہیں حبیب کبریا محمد مصطفی ؐ مراد ہیں ۔ جیسا کہ جنگ احد میں رسول ؐ غائب ہوئے تو حضرت علی ؑ نے یوں سلام کیا ۔
    الصلوۃ والسلام علیک یا امام المتقین دعوات صوفیہ امامیہ
    اے پرہیزگاروں کے امام ! آپ پر درود وسلام ہو اور سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ جیسا اولیاء اﷲ المرشیدین نے اپنے ورد وظائف میں اس بات پر راضی و خوشی کا اظہار کئے ہیں کہ
    رضینا باﷲ تعالیٰ ربا و بالاسلام دینا و بحمد صلعم نبینا و رسولا بعلی علیہ السلام اماما ۔ دعوات صوفیہ امامیہ
    یعنی ہم بالکل رضامند ہیں اﷲ رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد ؐ کے پیغمبر ہونے اور رسول ہونے پر علی ؑ کے امام ہونے پر ۔ اور دعوات و غیرہ کتب امامیہ صوفیہ المعروف نور بخشیہ میں بزرگان دین کا حکم ہیں کہ جب میت اپنی قبر میں منہ قبلہ کی طرف پیشانی دیوار سے ملا کر رکھا جاچکا تو پھریوں تلقین پڑھی جائے ۔
    سبحان من تعزز الی آخر اﷲ ربی و الاسلام دینی و القرآن کتابی و کعبۃ قبلتی و محمد ؐ نبی و علی علیہ السلام امامی – تین بار – دعوات صوفیہ امامیہ
    امامی کا تکرار لفظی برائے تاکید ہے اور قواعد کے مطابق برائے دفع تجاوز دفع شمول و دفع توہم ہے ۔ ملاحظہ فرمایئے ( شرح مختصر المعانی) اسی طرح بلافصل بار ہویں امام محمد مہدی علیہم السلام اجمعین ہم سادتی و قادتی و آئمتی و امامی بہم اتوالی و من اعدائھم اتبراء ۔ الغرض حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم میرے نبی ؐ ہیں ٗ حضرت علی ؑ میرے امام ہیں ٗ ان کے بعد ان کی اولاد کے سردار حضرت امام حسن ؑ میرے امام ہیں ٗ اس طرح یکے بعد دیگرے پھر صاحب الزمان حضرت مہدی ؑ میرے امام ہیں اور دیگر تمام ائمہ کرام علیہم السلام پر اﷲ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو وہی ہستیاں میرے روحانی سرداران ہیں ۔ روحانی قائدین ہیں دین حق کے آئمہ کرام ہیں یہ سب میرے امام ہیں ۔ میں ان کے ساتھ حقیقی دوستانہ محبت رکھتار رکھتی ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار رہا کرتار کرتی ہوں اور سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ نے حدیث رسول ؐ کے مطابق علی علیہ السلام کے القاب میں فرمایا تھا کہ و ما قال امیر المومنین و امام المتقین اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب علیہ اللام ۔ اصول اعتقادیہ میں امامت کے متعلق جو بحث کی گئی ہے انہی بارہ میں سے نواں امام ؑ کا اسم شریف محمد تقی علیہ السلام ہے ہم نور بخشی دعائے تشفع میں پڑھتے ہیں
    و بمحمد ن تقی و نقابتہ دعوات صوفیہ امامیہ
    حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور ان کی سرداری کا واسطہ۔
    ولادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
    تاریخ ولادت پر حضرت امام محمد تقی علیہ السلام بین العلماء و مشائخ اختلاف ہے لیکن بروایت معتبر آپ ؑ جمعہ کے دن دس ماہ رجب ۱۹۵ ھ مدینہ میں متولد ہوئے اور بسند معتب حضرت حکیمہ خاتون دختر حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتی ہیں کہ میرے بھائی امام علی رضا علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ اے حکیمہ آج رات کو فرزند مبارک ریحانہ خاتون کے بطن سے تولد ہوگا۔ آپ ان کے پاس رہنے کی تکلیف فرمائیں میں خدمت قابلہ ادا کر رہی تھی اتنے میں چراغ گل ہوگیا اور اندھیرا ہوگیا تھا ناگاہ میں نے دیکھا کہ وہ خورشید امامت افق رحم مطہرہ سے طالع ہوا اور اس سے ایک نور ساطع ہوا کہ تمام حجرہ منور ہوا اور سراقدس سجدے سے اٹھا کر بزبان فصیح فرمایا کہ
    اشھد ان لا الہ الا اﷲ و اشہد ان محمد رسول اﷲ۔
    سلسلہ امامت کا در شہسوار خانوادہ عصمت کا گوہرایقان حضرت محمد رسول خدا ؐ نبی کانواں وصی علی علیہ السلام کے گھر میں تقی علیہ السلام آیا تو تقویٰ سلام کو آیا عصمت نے کہا امام آیا تیسرے علی ؑ نے تیسرے محمد ؐ کو آغوش میں لیا امام نے دھان امام میں زبان کو دیا اور پہلے دن امامت کا سب درس ختم کرایا آئمہ طاہرین ؑ کی عصمت کی منحرف دنیا دیکھئے اور چھ سات سال کے بچے کے علم لدنی سے سبق لے ۔ امام محمد تقی علیہ السلام ابھی چھ سات سال کے ہیں مامون حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا اعجاز دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ عظمت امام دل میں گھر کرتی چلی گئی عقیدت کے دریا میں طوفان آیا اور یہ طے کرلیا کہ مجھے اپنی لڑکی کا عقد فرزند امام علی رضا علیہ السلام سے ضرور کردینا چاہئے ۔ خاندان عباسیہ کے امراء واراکین سلطنت کو جمع کیا اور کہا میں نے یہ طے کیا ہے کہ ام الفضل کا عقد فرزند علی رضا علیہ السلام سے کروں کیا رائے ہے ؟ یہ سن کرلوگ حیران رہ گئے اور کہا کہ سرکار کو اختیار ہے مگر ان کے باپ کو داماد اور ولی عہد بنا کر سلطنت کو کیا فائدہ پہنچا جو اس کمسن بچہ سے جو تعلیم یافتہ بھی نہیں مامون نے سب کی باتیں سنیں اور کہا دیکھو ہم سب اس فرزند کی نسبی عظمت سے واقف ہو یہ فرزند اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کو خدا نے علم و حکمت سے آراستہ کیا ہے یہ اور بچوں کی طرح نہیں جس کوناقص سے کامل بنایا جائے ۔ الحاصل مامون نے امام علیہ السلام سے در خواست کی فرزند رسول ؐ خطبہ اور صیغہ نکاح پڑھیئے امام ؑ نے لحن داؤدی میں امامت کی شان سے خطبہ پڑھا رشتہ قائم ہوا ۔
    شہادت امام محمد تقی علیہ السلام
    ۲۱۸ ھ میں مامون رشید کا انتقال ہوا اور تخت حکومت پر معتصم کا قبضہ ہوگیا ۔
    دشمن اہلبیت ؑ کے خاندانی وارث نے قتل امام ؑ کی تیاری شروع کی حاکم مدینہ کو حکم پہنچا کر امام محمد تقی علیہ السلام کو مع ام الفضل فوراً بغداد بھیج دو ۔ امام علیہ السلام کو حاکم مدینہ کا پیغام پہنچا سفر کی تیاریاں ہوئیں آثار عداوت اور علم امامت نے بتلایا کہ یہ آخری سفر ہے سب سے سے پہلے امام محمد تقی علیہ السلام قبررسول اکرم ؐ پر اس طرح پہنچے سر برہنہ گریبان چاک چھ برس کا فرزند ساتھ روضہ رسول ؐ کو دیکھ کر روتے ہوئے دو ڑ کر لپٹ گئے ۔ نانا ظالم مجھ سے مدینہ چھڑوا رہے ہیں آپ ؐ کا فرزند اس مقدس روضہ کی برکتوں سے ہمیشہ محروم ہو رہا ہے بغداد جس غرض سے بلا یا جارہا ہے وہ آپ ؐ کو بھی خوب معلوم ہے میں راضی برضائے الٰہی ہوں مگر علی نقی علیہ السلام کی کمسنی کا خیال ہے اگر یہ نہ رہا تو سلسلہ امامت نہ رہے گا فرزند کو قبر مطہر سے چمٹا کر فرمایا اس کو آپ کی آغوش حفاظت میں چھوڑ رہا ہوں شاید روضہ رسول ؐ سے جواب آیا ہو کہ بیٹا غم نہ کھا محمد ؐ کے بعد قدرت نے علی علیہ السلام کی حفاظت کی تھی اب یہی قدرت محمد ؑ کے بعد علی ؑ کی حفاظت کرے گی امام فرزند کو لئے جدہ مغطمہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی روضہ پر حاضر ہوئے اور رخسارے روضہ اقدس یہ رکھ کر تادیر روتے رہے اور کہا کہ جدہ محترمہ یہ چھوٹا مجاور بعد خدا آپ ؑ کے سپرد ہے کیا عجب کہ بنت رسول ؐ کی روضہ سے آواز آئی ہو ٗ بیٹا ! اگر سفر میں میرے لعل امام حسین علیہ السلام کے روضہ پر جانا تو میرے حسین ؑ کو سلام پہنچانا ۔
    نقی ؑ ہے پاس میرے اس کہ ہے خدا حافظ
    سدھا رو جاؤ شہادت کا مرتبہ پانا
    امام واپس گھر تشریف لائے تبرکات امامت چھ سال کے امام کے سپرد کئے تادیر سینہ سے لگائے رہے اسرار امامت کی تعلیم ہوتی رہی گھر والوں نے امام ؑ کو رخصت کیا امام ؑ نے فرمایا میراسب کو آخری سلام ہو اور خدا حافظ کہہ کر روانہ ہوگئے بغداد میں چند عرصہ قیام کیا تھا کہ معتصم اپنے ارادہ میں کامیاب ہوا ۔ بموافق تاریخ طبری ۶ ماہ ذی الحجہ ۲۹ ماہ ذالقعدہ بروز سہ شنبہ یا پنجشنبہ ۲۲۰ ھ پچّیس سال کی عمر میں مدت امامت ۱۸ سال معتصم خلیفہ عباسی کے زہر سے بدرجہ شہادت فائز ہوئے اور کتاب بصائر الدرجات میں لکھا ہے کہ حضرت اام علی نقی علیہ السلام مدینہ سے بطی الارض بغداد تشریف لائے اور مشغول متصدی غسل و کفن اور نماز و دفن پدر بزرگوار ہوئے۔ کاظمین میں پہلو جد بزرگوار امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میںدفن ہوئے ۔ امام علیہ السلام کی چار لڑکے اور چارلڑکیاں تھیں۔

حضرت امام علی نقی علیہ سلام

    حضرت امام علی نقی علیہ السلام
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی کتابہ المبین وجعلناھم آئمۃ یھدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات و اقام الصلوۃ وایتاء الزکواۃ و کانوا لنا عابدین
    ۔ پ ۱۷ س الانبیاء
    ترجمہ:۔ اور ان کو ہم نے ایسا امام بنایا جو ہمارے حکم کے بموجب ہدایت کرتے ہیں اور ان کی طرف ہم نے نیکیاں کرنے کی اور نماز پڑھنے کی اور زکواۃ دینے کی وحی فرمائی اور وہ سب کے سب ہماری بندگی کرنے والے تھے اصول اربعہ کی کتاب الکافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہی کہ کتاب خدا میں دو قسم کے اماموں کا ذکر ہے ایک تو وہ ہیں جن کی نسبت خدا نے یہی ارشاد فرمایا ہے جس کایہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے حکم کے موجب ہدایت کرتے ہیں آدمیوں کے مقابل خدا کے حکم کو مقدم رکھتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے ۔
    وجعلناھم آئمۃ یدعون الی النار۔
    اور ہم نے ان میں ایسا امام بنایا ہے جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے حکم کو خدا کے حکم کے مقابل مقدم رکھتے ہی اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتے ہیں اور خدا فرما رہے ہیں کون آئمہ جن کو تم نے نہیں ہم نے بنایا ہے کون آئمہ جو تمہارے حکم سے نہیں ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور خیرات نماز و زکواۃ کی طرف ہم نے وحی کی یہ وہ وحی ہے جو مادر موسیٰ علیہ السلام اور شہد کی مکھی کی طرف بھی ہوسکتی ہے ۔ کون آئمہ جن کی گردنیں غیر خدا کی طرف کبھی جھکی ہی نہیں وہ ہماری عبادت کرتے ہیں ۔ آئمہ امام کی جمع ہے اور امام کے لغوی معنی پیشوا رہنما کے ہیں ۔ ہر گروہ اپنے قائد کو امام کہتا ہے مگر مذہب حقہ امامیہ صوفیہ نور بخشیہ میں خلیل خدا کے سلسلہ امامت کو امام حقیقی کہا جاتا ہے امام وہ منصوص من اﷲ ہو امام وہ جس کو رسول اﷲ ؐ بلند کرکے بتلائے
    من کنت مولا فھذا علی ؑ مولا
    سید العارفین سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ نے فقہ الاحوط باب جہاد میں بیان کیا ہے کہ
    وللجھاد الاکبر ینبغی ان یکون الامام ولیا کاملا فی مقامات الولایۃ ۔ فقہ احوط
    یعنی بڑے جہاد کی انجام دہی کے لئے چاہئے کہ امام کوئی ایسا ولی ہو جو ولایت کے مقامات میں کمال درجے پر فائز ہوالخ اگر ا تمام اوصاف کا جامع امام نہ پایا جاتا ہو تو جہاد اکبر کی انجام دہی کے لئے ضروری ہے کہ امام پرہیزگار ہو ریاضت کرنے والا ہو ۔ عالم ملکوت میں سیر کرنے والا ہو ۔ عالم جبروت میں پرواز کرنے والا مشاہد ہو خدا کی یکسوئی میں فنا ہونے والا ہو خدا ہی کی تصور کے ساتھ باقی رہنے والا ہو اور کسی کامل مرشد کی طرف سے بیعت لینے ٗ ذکر الٰہی کی تلقین کرنے والا اور طالبان راہ حق کہ ہدایت کرنے کا اجازت یافتہ ہو ۔ اسی طرح سے واضح ہے کہ اس امام کاسلسلہ کسی قسم کے انقطاع کے بغیر رسول اﷲ ؐ تک پہنچا ہو ۔
    و ھٰکذا یجب ان یکون مسلسلاً الی رسول اﷲ ؐ ۔ فقہ احوط
    و عن ابن عباس قال قال رسول اﷲ ؐ فلیتول علیا و ذریتہ من بعدی فانھم لن یخرجوکم من باب ہدی ولن یدخلو کم فی باب ضلالتہ ۔ کنز العمال ص ۲۱۷ جلد ۶ مسند احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۱۵۴ حلیتہ الاولیاء
    ترجمہ: ۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد علی علیہ السلام اور ان کی ذریت سے دوستی رکھو بے شک وہ تمہیں ہدایت کے دروازے سے نہیں نکالیں گے اور گمراہی کے دروازے میں داخل نہیں کریں گے۔
    پیر ماجلال الدین معصوم نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے شان میں فرمایا کہ اے اﷲ
    بشمع شبستان اہل یقین
    علی النقی ؑ قدوۃ المتقین

    متقیوں کا قائد اہل یقین یعنی حقیقی صوفیوں کا شمع شبستان کے واسطہ ہمیں عفو فرما ۔ دعوات صوفیہ امامیہ بقلم سید جلال الدین معصوم قلمی ص ۳۴۶
    ولادت حضرت امام علی نقی علیہ السلام
    ابن عیاش سے مروی ہے کہ آپ ؑ نے ۵ یا ۱۲ ماہ رجب بقولے ۱۵ ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ ۲۱۲ ھ بمقام صریا حوالی مدینہ میں آنکھ کھولی ۔ یہ کہ یادگار محمد مصطفی ؐ جگر گوشہ علی المرتضٰی ؑ دل و جان شہید کربلا روح و ریحان علی رضا ؑ فرزند تقی ؑ امام الاتقیاء امام علی نقی علیہ السلام حجت خدا روح ایمان بن کر شمع عرفان بن کر تفسیر قرآن بن کر آیا ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ چھ سال تک مدینہ میں زندگی بسر کی ۔ معتصم سفاک کا دور حکومت تھا امام محمد تقی علیہ السلام کو بغداد و بلا کر زہر سے شہید کیا گیا ۔ امام علی نقی علیہ السلام نے امامت کی ذمہ داریاں سنبھالیں معتصم کے خاتمے کے بعد ادوار بدلتے رہے آخر متوکل کا زمانہ آیا ۔ امام مدینہ میں ہدایت کا آفتاب بن کر تشنگان ہدایت کوصراط مستقیم دکھا تے رہے ۔ متوکل کو خبریں پہنچی ۔ اس سے یہ چیزیں نہ دیکھی گئیں ۔ نبض عداوت پھڑکی دیرینہ دشمنی پھر سے سراٹھا نے لگی امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے سامرہ بلایا گیا ۔ امام علیہ السلام کو بغرض اہانت خانہ غربا و فقراء میں جگہ دے دی گئی ۔ ایک محب اہلبیت آپ سے ملنے آیا اور قیام اور مقام کو دیکھ کر رو دیا ۔ آپ ؑ نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا مولا یہ بھیک مانگنے والوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔ جہاں آپ کو ٹھہرایا گیا امام علیہ السلام نے فرمایا میری اس میں بھی ذلت نہیں فقراء کی ہمنشینی ہماری عزت ہے ۔ جدنا محمد نبی ؐ کی دعا ہی یہی ہے اللھم احینا مسکینا وامتنا مسکینا الخمگر تمہیں معلوم ہے میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں دیکھو یہ مقام کیا ہے ؟ اس نے اب جو دیکھا ایک سر سبز و شاداب باغ روکش جنت ہے ۔ صاف و شفاف پانی کی نہریں ہر قسم کے میوہ جات اور فرمان بردار خدام دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ امام ؑ کے معجزات کی شہرت ہوتی رہی متوکل گھبرایا اور امام علیہ السلام کو قید دوام کا حکم دیاگیا اور یہ برج امامت کادسواں تا جدار بارہ سال مسلسل قید و بند کی سختیاں جھیلتا رہا امام نے فرمایا متوکل ہم مشغول آخرت ہیں دنیا اور دنیا کی حکومت کا تو خیال بھی ہمیں کبھی نہیں آتاتوکیوں ہمارے بارے میں بد گمان ہے ۔ متوکل پر الٹا اثر ہوا سوچایہ تو کسی وقت بھی میری سلطنت پر قابض ہوسکتے ہیں طے کیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو زہر دے دیا جائے کہ دو سرے ہی روز اپنے پیٹے کی تلوار سے واصل جہنم ہوا ۔ معتز باﷲ کا زمانہ آیا اگر پدرنہ تواند پسر تمام کند ۔ اپنے بزرگوں کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔
    شہادت حضرت امام علی نقی علیہ السلام
    بالا تفاق مورخین ۳ ماہ رجب ۳۵۴ ھ بروز شنبہ عمر شریف ۴۲ سال مدت امامت کبریٰ ۳۳ سال بروایت دیگر معتمد عباسی برادر معتز باﷲ نے ۲۶ جمادی الثانی کو امام عالی مقام کو زہر دے کر شہید کیا ۔ امام حسن عسکری ؑ عالم غربت میں یتیم ہوگئے ۔ بیٹے نے باپ کو غسل دیا خود بیٹے نے کفن پہنایا دروازے پراپنے اور غیر دوست و دشمن امیر و فقیر حکومت کے اراکین سب ہی جمع تھے مسافر امام کا جنازہ بر آمد ہوا حضرت امام حسن عسکری گریبان چاک سربرہنہ تابوت کے ساتھ فریاد کناں باہر آئے کہ ابو احمد موفق باﷲ نے حکومت کی طرف سے مراسم تعزیت ادا کئے ۔ بڑھ کر امام ؑ کے گلے میں باہیں ڈال دیں حکومت کی اس تعزیت نے امام علیہ السلام کے زخمی دل پر نمک پاشی کی مگر صابر امام ؑ گردن جھکائے خاموش رہا ۔ نماز جنازہ حسن عسکری علیہ السلام نے پڑھائی بڑے دھوم سے جنازہ اٹھا سامرہ میں ایک قیامت بر پا تھی ہر آنکھ اشکبار تھی ٗ محبان کے دل سوگوار تھے علامہ مسعودی سے روایت ہے کہ جنازہ پر ایک بچی کچھ ایسے دلخراش بین کر رہی تھی کہ سننے والوں کا دل پھٹا جا تاتھا ٗ لوگ تسلیاں اور تشفیاںدے رہے تھے محبت اور صبر آموز باتوں سے سمجھا رہے تھے ہائے افسوس یاد آگئی آپ کو ایک کربلا کی لاڈلی بچی جب وہ باپ کے غم میں روتی تھی تو اس کو بھی تسلی دی جاتی تھی ۔ کبھی گوشوارے کانوں سے کھینچ کر کبھی گلے میں رسی باندھ کرکون سکینہ ؑ کو تسلی دیتا اور کون بے باپ کی بچی کے سرپر ہاتھ پھیر تا بڑے بھائی کے ہاتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ بچی باپ کی یاد میں کربلا سے کوفہ ٗ کوفہ سے شام روتی چلی گئی زندان شام میں رات ہوگئی ۔ نیندنہ آئی سکینہ ؑ کو باپ کا سینہ یاد آیا ۔ آنسوؤں کا دریا بہہ گیا ۔ آہ فریاد کی صدائیں آسمان سے ٹکرائیں ہائے بابا ہائے بابا کے دلخراش نالے کے ساتھ غش کھائے خواب میں باپ کاکٹا ہوا سر خواب میں خون آلود نظر آیا ہائے بابا کہا اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئیں ۔ بیٹے کے بارے میں تن سے جدا سرام المصائب ثانی زہرا ؑ کو فرمارہے تھے۔
    چلتے چلتے فقط تم سے ہے ایک سوال
    میری پیاری سکینہؑ کا رکھنا خیال
    بن میرے زندہ رہنا ہے اس کا محال
    میری بچی کو ہونے نہ دینا ملال
    الا لعنۃ اﷲ علی القوم الظالمین۔
    امام دھم کا اسم شریف علی تھا کنیت ابوالحسن اور ان کالقب نقی والد ماجد محمد تقی ؑ والدہ ماجدہ کا اسم شریفہ سمانہ معروفہ بہ سیدہ تھی ۔ قائم اللیل صائم النہار کے مالکہ تھی ٗ امام علیہ السلام کی اولاد کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے ۔ ابو محمد الحسن الامام و حسین ٗ محمد جعفر و غیرٗ

حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام

    حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال اﷲ تعالیٰ فی کتابہ المبین یوم ندعوا کل اناس بامامھم
    ۔ج پ ۱۵ ص بنی اسرائیل
    ترجمہ: ۔ خداوند تعالیٰ قرآن شرف میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں بعض کہتے ہیں کہ نامہ اعمال مراد ہے بعض کے نزدیک لوح محفوظ اور بعض کے نزدیک تورات و قرآن ۔ مگر صاحب تفسیر ادبی و عرفانی کشف الاسرار میں خواجہ عبداﷲ انصاری ؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آئمہ دین اور اقتدائی اہل یقین ہیں اور تفسیر حسینی میں حضرت امام علی علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے کہ فرمایا کہ اس دن ہر قوم کو اپنے زمانے کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا اور تفسیر در منشور جلد ۴ ص ۱۹۲ تفسیر روح المعانی جل ۴ ص ۵۵۶ پر مرقوم ہے کہ امام حق کادامن تھا منے اور باطل امام بنانے کا اس دن فیصلہ ہوگا ۔ قولہ تعالیٰ و یوت کل ذی فضل فضلہ پ ۱۱ س یونس اور خدا ہر صاحب بزرگی و عزت و شرف کو اس کی بزرگی کی داد دے گا اس آیت کی تفسیر میں ارحج المطالب ص ۸۷ میں لکھا ہے کہ عن ابی جعفر ؑ قال ھو علی ؑ ( اخرجہ ابن مردویہ) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اس آیت میں ذی فضل سے مراد حضرت علی علیہ السلام مراد ہیں ۔
    و عن عمر قال قال رسول اﷲ و اعلمو انہ لایتم شرف الابولایتہ علی بن ابی طالب علیہ السلام ۔ ابن حجر مکی صواعق محرقہ ۱۷۶
    حضرت عمر ابن خطاب سے مروی ہے کہ فرمایا محبت رکھو شرفاء کے ساتھ اور بچاؤ اپنی عزتوں کو گھٹیا لوگوں سے اور جانو کہ شرافت مکمل نہیں ہوتی مگر ولایت علی علیہ السلام کے قبول کرنے سے ۔
    و عن ابی لیلیٰ الغفاری قال قال رسول اﷲ ؐ ستکون من بعدی فتنۃ فاذا کان ذالک فالزموا علیا فانہ الفاروق بین الحق و الباطل کذا فی الفردوس۔مودۃ القربی ص ۲۱ ارحج المطالب ۲۳ السبعین فی فضائل امیرالمومنین ص ۵۰۷
    ابو لیلیٰ غفاری ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایک فتنہ بر پا ہوگا جب وہ فتنہ وقوع میں آئے توتم علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرنا کیونکہ وہ حق و باطل کے در میان خوب فرق کرنے والا ہے زیرا کہ وہی ہادی دین ہے۔
    انما انت منذر و لکل قوم ھاد ۔ سورہ رعد پارہ ۱۳
    سوائے اس کے نہیں اے محمد ؐ آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک ہادی ہوتاہے ۔
    علامہ جلال الدین سیوطی تفسیر در منشور جلد ۴ ص ۴۵ عبداﷲ امرتسری ارحج المطالب ص ۵۸ پر اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ منذر سے حضرت محمد رسول خدا ؐ مراد ہیں اور ہادی سے مراد شیر خدا حیدر کرار علی مرتضی علیہ السلام ہے ۔
    عن ابن عباس قال لما نزل انما انت منذر و لکل قوم ھاد قال رسول ؐ انا منذر و علی الھادی و بک یا علی یھتدی المھتدون ۔ ینابیع المودۃ ص۲۳۸ کشف الحقیقت ج ۵ ص ۴۷ ٗ اسبعین ص ۵۱۵ ٗ روضات الجنان ج ۲ ص ۴۳۴ مجمع البیان ص ۸۱ ٗ در منشور ج ۲ ص ۴۵ تفر رازی ج ۵ ص ۲۶ ٗ احباب قلمی ص ۴۲ ٗ مشارب الاذواق ص ۵۳ ٗ تحفہ قاسمی قلمی ص ۳۵۶
    ترجمہ: ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت انما انت منذر نازل ہوئی تو جناب رسول ؐ نے فرمایا کہ میں منذر ہوں اور علی علیہ السلام ہادی ہے اور تجھ سے اے علی علیہ السلام چاہنے والے ہدایت پائیں گے ۔
    و عن علی ؑ قال قال رسول اﷲ ؐ یا علی ؑ انک سید المسلمین و امام المتقین و قائد الغرا لمحجلین و یعسوب الدین ۔ (کنز العمال جز السادس ص ۱۵۷ ریاض النضرۃ الخبر الثانی ص ۱۷۷ )
    حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جناب رسول خدا ؐ نے فرمایا یا علی ؑ تم مسلمانوں کے سردار متقین کے امام اور سفید منہ والوں ( نورانی) جنتی لوگوں کے حاکم امر دین کے سردار ہو ۔ نیز تفسیر کبیر جلد اول ص ۱۶۱ میں ہے۔
    و من اتخذ علیا اماما لدینہ فقداستمسک بالعروۃ الوثقی ۔
    یعنی جس نے دین میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا امام بنایا اس نے عروۃ الوثقی سے چنگل مارا ۔ اس حدیث کے تحت سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ نے اوراد فتحیہ میں رضامندی ظاہر کئے ہیں کہ
    رضینا باﷲ تعالیٰ ربا و بالاسلام دینا بمحمد ؐ نبیا و رسولا و بعلی ؑ اماما۔(دعوات صوفیہ امامیہ)
    طبرانی ابن عمر کنز العمال جلد ۶ ص ۱۵۶ میں یہ حدیث ہے کہ
    عن عماد ؑ قال قال رسول ؐ یا عمار ان رایت علیا قد سلک وادیا و سلک الناس وادیا غیرہ فاسلک مع علی ؑ و دع الناس انہ لن یدلک علی ردیٰ و لن یخرجک من الھدی الدیلمی۔ (کنزل العمال جلد ۶ ص ۵۵ )
    عمار بن یاسر ؓسے روایت ہے کہ سر کار دو عالم نے فرمایا اے عمار اگر تو دیکھے کہ علی علیہ السلام نے علیحدہ راستہ اختیار کیا ہے اور لوگوں نے علیحدہ تو علی علیہ السلام کا راستہ پکڑو اور لوگوں کو چھوڑ دے کیونکہ وہ کسی کو غلط راستے پرنہ لے جائے گا اور نہ ہدایت سے باہر نکال لے گا۔
    عنہ قال النبی ؐ ان وصی علی بن ابی طالب ؑ و بعدہ سبطای الحسن ؑ و الحسین ؑ ثم تسعۃ الائمۃ من ذریتہ الحسین ؑ ۔ ۱
    یعنی فرمایا رسول ؐ نے بے شک علی میرا وصی ہے اس کے بعد میرے دونوں نواسے حسن ؑ و حسین ؑ ہیں اور اس کے بعد نو امام جو کہ حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔جامع الاسرار ص ۲۲۹، و ص ۲۴۳ نص النصوص ص ۲۸۶ شرح اصطلاحات تصوف جلد ۲ ص ۱۲۶
    جناب سید جلال الدین معصوم ابن میر مختار اخیارؒ نے مناجات بوسیلہ ائمہ میں لکھا ہے کہ
    بان گلبن روضۂ سروری
    کہ آمد بوجہ حسن عسکریؑ
    دعوات صوفیہ امامیہ قلمی میر جلال الدین معصوم پیر طریقت سلسلۃ ا لذہب
    ولادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
    حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام گیار ہویں جانشین رسول ؐ میں سے ہیں اور تیرہویں سلسلہ معصومین ؑ میں سے ہیں ۔ علمائے فریقین کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ آپ ؑ بتاریخ ۱۰ ربیع الثانی یا ۴ ماہ ربیع الاول و ۲۳۲ ھ یوم جمعہ بوقت صبح بطن حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے ہیں ۔ صواعق محرقہ ص ۱۲۴
    آپ ؑ کو حضرت امام علی نقی ؑنے حضرت محمد مصطفی ؐ کے رکھے ہوئے نام حسن بن علی سے موسوم کیا ۔ ینابیع المودۃ
    نقی ؑ کو قدرت نے عسکری ؑ دیا ولی کو پھر ولی ملا ٗ ہدایت مسکرائی ٗ اسلام میں پھر جان آئی۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں آپ اپنے آباؤ اجداد کی طرح امام منصوص ٗ معصوم ٗ اعلم زمانہ اور افضل کائنات تھے ۔ ارشاد مفید ص ۵۰۲ ۔
    آپ کی فضیلت کے لئے بس یہ ایک فقرہ ہی بہت کافی ہے کہ آپ وہ امام ہیں جو امام آخر الزمان ؑ کے پدر عالی مقام ہیں ۔ مطالب السئول ص ۲۹۲ ہمارا گیار ھو اں امام ابھی گیارہ ہی سال کاتھا کا آپ کو اپنے پدر بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام کے ہمراہ سامرہ آناپڑا امام علی نقی علیہ السلام کی پوری زندگی کبھی قید کبھی نظر بندی میں گزری ۔ حضرت امام حسن عسکری ؑ تصویر حسن ؑ بن کر خاموش ادوار کی کروٹوںکا جائزہ لیتے رہے عمر کی بائیسویں منزل میں سایہ پدری سے محروم ہوئے توچھ سال امامت کے فرائض کبھی قید خانہ میں کبھی نظر بندی میں ادا کرتے رہے ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون ؑ سے کردی جو قیصر روم کی پوتی شمعون وصی عیسیٰ ؑ کی نسل سے تھیں ۔جلاء لعیون ص ۲۹۸
    شہادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
    یوں تو ہر دور میں دشمنان اہل بیت ؑ نے اہل بیت ؑ رسول ؐ پر طرح طرح کی سختیاں کیں امام حسن عسکری علیہ السلام پر یہ سختیاں اس لئے زور پکڑیں کہ خلیفہ وقت معتمد کے پیش نظر رسول خدا ؐ کی وہ حدیث تھی کہ میرے بعد بارہ جانشین ہونگے جن کا بارہواں امام مہدی آخر زمان علیہ السلام ہوگا جو ظلم و جور کی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور ساری دنیا پر صرف اسی کی حکومت ہوگی لٰہذا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ انتہائی کوشش رہی کہ وہ وقت ہی نہ آنے دیا جائے اور امام کو قید تنہائی میں رکھ کر شہید کردیا جائے چنانچہ امام عالی مقام کو زہر دلوایا گیا افسوس آٹھ ماہ ربیع الاول بروز جمعہ ۲۶۰ ھ بمدت امامت ۶ سال ۲۸ سال کی عمر میں امام علیہ السلام نے اس دارفانی سے رحلت فرمائی ۔ اراکین سلطنت نے معتمد کو جا کر اطلاع دی ۔ یہاں عالم تنہائی میں ہونے والے امام قائم آل محمد ؐ نے تجہیز و تکفین اور نماز سے فراغت پائی ۔ شہادت کی خبر دم کے دم میں سارے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ سامرہ میں کہرام مچ گیا ۔ قیامت آگئی سامرہ کے بازار دکانیں سب بند ٗ کار و بار معطل لوگ سینہ زنان نوحہ کنان جوق در جوق آئے ۔ اپنے امام کا کفن اٹھا آخری دیدار کرتے وامحمد ٗ و اعلیا و سیدا کے فلک شگاف نعرے آسمان تک جاتے بڑے تزک و احتشام سے امام کا جنازہ اٹھا باپ کے پہلو میں دفن کیاگیا دوستداروں نے اسی کو غنیمت سمجھا اس لئے کہ ایک اور جنازہ کی تصویر ان کے سامنے تھی جو خاک کربلا پر چلتی ریت پر بے گور و کفن پڑا رہا ۔ بیٹا بھی موجود تھا مگر زنجیروں میں جکڑا ہوا باپ کی لاش سامنے پڑی تھی ۔ چلتے وقت ہاتھ اٹھا کر سلام بھی نہ کرسکا ۔ بیمار اور قیدی امام سجاد ؑ نے لاشہ کے قریب اپنے آپ ؑ کو گرادی آنسوؤں کے دریا بہہ گئے بیڑیوں کو سنبھال کر باپ کی لاش کا طواف کیا اور کانپتی ہوئی آواز سے کہا نفس رسول ؐ اے روح فاطمہ ؑ اے قیدی سجاد ؑکے بابا اپنے بیمار اسیر کا آخری سلام قبول فرمایئے۔ پھو پھی زینب ؑکی تنہائی کا خیال ہے ورنہ آپ ؑ کو تنہا چھوڑ کرنہ جا تا میری اس مجبور کو بابا معاف فرمایئے۔

حضرت امام محمد مھدی علیہ سلام

    حضرت امام محمد مہدی آخر الزمان علیہ السلام
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    وقال اﷲ فی القرآن العظیم و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم ائمۃ و نجعلھم الوارثین
    – سورہ قصص پ ۲۰ آیت ۵
    ترجمہ: ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور سمجھا گیا ہے اور ہم ان کو امام بنائیں گے اور ان کے وارث قرار دیں گے ۔ تفسیر البیان میں حنفی عالم شیبانی سے ان کی کتاب کشف البیان میں مذکورہ روایت نقل کی گئی ہے جوانہوں نے حضرت امام محمد باقر ؑ اور ابو عبداﷲ امام محمد جعفر صادق ؑ سے روایت کی ہے ان دونوں نے فرمایا تحقیق کی یہ آیت جناب امام محمد مہدی ؑ کے ساتھ مخصوص ہے جو آخر زمانہ میں ظاہر ہونگے اور ظالموں جباروں فرعونوں ٗ سرکشوں متکبروں کو ہلاک کرڈالیں گے زمین کے شرقا غربا مالک ہو جائیں گے اور اس کو انصاف و عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم جود سے بھری ہوگی ۔ البرہان فی تفسیر القرآن ج ۳ ص ۲۲
    سر کار دو عالم حضرت محمد مصطفی ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ
    قال رسول اﷲ ؐ لو لم یبق من الدنیا اِلاَّ یوم واحد لطول اﷲ تعالٰی ذالک الیوم لیخرج رجل من ولدی اسمہ امی و کنیتہ کنیتی یملاء الارض قسطا وعدلا کما مُلِئت جورًا و ظلماً۔
    ۳-جامع الاسرار ص ۲۴۰ ؍ ۲۳۹ ٗ نص النصوص ص ۲۸۶ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۴۶ ٗ العروہ لاھل الخلوہ و الجلوہ سمنانی ص ۲۸۹ ؍ ۲۸۸ ٗ مصنفات فارسی بین الاحسان لاھل العرفان سمنانی ص ۲۲۹ ریاض السیاحہ ص ۶۸۳ ٗ مکتوبات نور بخش ص ۶ ٗ سنن ترمذی ج ۳ ص ۳۴۳ ٗ سنن ابی داؤد ج ۲ ص ۲۰۷ ٗ المقالات و الفرق ص ۷۶ ٗ اصول کافی ج ۱ ص ۳۴۱ ٗ نوادر کاشانی ص ۱۵۳ ینابیع المودۃ ص ۷۵۱ ٗ فرائط السمطین
    ترجمہ: رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر دنیا میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو اﷲ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردے گا حتیٰ کہ اس میں اﷲ تعالیٰ میرے فرزند کی اولاد میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا ۔ جس کا نام میرے نام پر ہوگا اس کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی ۔ وہ زمین کو اس طرح انصاف اور عدل سے بھر دیں گے ۔ جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ امامت ہی کس چیز کا نام ہے ؟
    امامت کی تعریف
    الامامت ہی الریاسۃ العامۃ الالہیۃ و خلافتہ عن رسول اﷲ فی الدین و الدنیا بحیث یجب علی کافۃ الخلق طاعتہ۔ فرہنگ نور بخش ڈاکٹر جواد ج ۳ ص ۵۰ٰ
    ترجمہ:۔ امامت خدا تعالیٰ کی ریاست عامہ اور دینی و دنیوی امور میں خلافت رسول اﷲ ؐ کا نام ہے اسی وجہ سے اس کی اطاعت تام خلق خدا پر واجب ہے ۔
    حضرت امام مہدی ؑ کے مصداق میں قرآن مجید کی دو سری آیت اس طرح آئی ہے کہ
    ولقد کتبنا فی الذبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون ان فی ھذا لبلاغاً لقوم عابدین۔ سورہ انبیاء پ ۱۷
    ترجمہ: اور تحقیق کہ دیاہم نے زبور میں ذکر کے بعد کہ تحقیق زمین کے وارث (ہوں گے ) ہمارے نیک بندے ہوجائیں گے بے شک خدا پرست لوگوں کے لئے اسی میں کافی نصیحتیں موجود ہیں
    حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق ع دونوں نے فرمایا کہ اس عبادی الصالحون سے مراد امام محمد مہدی ؑ اور ان کے اصحاب ہیں ۔ پہلے اس آیت کے چند الفاظ کے معنی پر غور کیجئے۔
    ۱ … ارض پورے کرہ ارض کو کہاجاتا ہے اور اگر کوئی قرینہ موجودنہ ہو تو اس میں پوری دنیا شامل ہوتی ہے ۔
    ۲ … ارث ٗ لغت میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی معاملہ اور تجارت کے بغیر ہاتھ لگ جائے لیکن قرآن مجید میں قرینہ کے لحاظ کے اور بھی معنی لئے ہیں ۔
    ۳ … زبور اصل میں ہر قسم کی کتاب اور تحریر کو کہاجاتا ہے لیکن معمولا حضرت داؤد ؑ کی کتاب کے لئے استعمال کیاجاتاہے ۔
    ۴ … ذکر اصل میں ہر اس چیز کو کہاجاتا ہے جو یاد آوری اور تذکرہ کا سبب بنے مگر قرینہ کی روشنی میں حضرت موسیٰ کی آسمانی کتاب توریت بتائی گئی ہے ۔
    ۵… صالح کے معنی لائق ٗ شائستہ اور با صلاحیت کے ہیں ۔
    تفسیر مجمع البیان میں حضرت امام محمد باقر ؑ سے منقول ہے کہ فرمایا ھم اصحاب المہدی فی آخر الزمان یہی وہ لوگ ہیں جو آخری زمانہ مں حضرت امام محمد مہدی ؑ کے اصحاب اور ساتھی ہونگے ’’صالحون‘‘ جو قرآن میں ذکر ہوا ہے ایک ایسا جامع کلمہ ہے جس میں حکیم ٗ صدیق ٗ متوکل اور متبرک سب کے سب شامل ہیں ۔
    ۷ …ان فی ھذا البلاغاً لقوم عابدین ۔
    سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ روئے زمین پر حکومت صالحین کا آخری مقصد نہیں ہے بلکہ ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آخری مقصد یعنی ہر میدان میں انسان کے ارتقاء کو حاصل کریں گے ۔
    حضور دو عالم ؐ کا ارشاد گرامی ہے۔
    عن جابر بن عبداﷲ و عن عامربن و اثلہ قال قال رسول اﷲ ؐ لعلی یا علی انت وصی حربک حربی و سلمک سلمی و انت الامام و ابو الائمۃ الاحدی عشر الذین ھم المعصومون و منھم المہدی الذی یملاء الارض قسطا وعدلا۔ینابیع المودۃ ص ۸۵
    حضرت جابر بن عبدا ﷲ اور ان سے عامربن واسلہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا اے علی ؑ تم میرے وصی ہو تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح ہے تم امام ٗ گیارہ اماموں کے باپ ہویہ سارے کے سارے امام معصوم و طاہر ہیں اور ان کے آخر میں مہدی ؑ ہیں جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
    ایضا قال النبی ؐ خیار ائمتکم الذین تحبو نھم و یحبونکم و تصلون علیھم و یصلون علیکم و شرار ائمتکم الذین تلعنو نھم و یلعنو نکم قالوا یا رسول اﷲ ؐ افلا ننابذھم بالسیف فقال لاما اقاموا فیکم الصلوۃ۔ صحیح مسلم بن ۶ ص ۲۴ باب خیار الائمہ و شرارھم
    فرمایا تمہارے اماموں میں سب سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں تم ان کے لئے دعا کرو وہ تمہارے لئے دعا کریں اور بدترین آئمہ وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور جن پر تم لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں صحابہ کرام نے پوچھا تو کیا ہم تلوار سے ان کا مقابلہ نہ کریں ۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں ۔
    شیخ سلمان قندوزی حنفی ؒنے یہ حدیث اپنی کتاب ینابیع المودۃ میں عبداﷲ بن عباس ؓ سے نقل کی ہے یہ حدیث پہلی حدیث سے متصل بھی ملتی ہے کہ
    و ان الثانی عشر من ولدی یغیب حتی لایری ویاتی علی امتی بزمن لا یبقی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقی من القرآن الا اسمہ فحینئذٍ یاذن اﷲ تعالیٰ بالخروج فینظہر اﷲ الاسلام بہ و یجددہ۔صواعق محرقہ ینابیع المودۃ ص ۴۴۰
    اورمیرا بار ہواں فرزند غائب ہو جائے گا اور دکھائی نہ دے گا پھر ہماری امت پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام کا فقط نام اور قرآن کی فقط تحریر رہ جائے گی ایسے وقت میں خداوند عالم ان کو قیام اور ظہور کی اجازت دے گا اسلام کو ان کے ذریعے آشکار اور احیاء کرے گاوہی امام منتظر ہے ۔
    حکیم الامت علامہ ڈاکٹر اقبال حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں کہتے ہیںکہ ؎
    سب اپنے بنائے ہوئے زندان میں ہیں محبوس
    خاورکے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
    پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
    نے جدت گفتار ہے نہ جدت کردار
    دنیاکو ہے اس مہدیؑ برحق کی ضرورت
    ہو جس کی نگہہ زلزلہ عالم افکار
    ضرب کلیم
    غوث المتافرین سید محمد نور بخش ؒجنہوں نے اپنی کتاب ’’ چہل حدیث‘‘ کو امام زمانہ ؑ کے نام منسو ب کیا حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ؎
    اگر ھاد ییم و اگر مہدییم
    بہ جنب قدمٗ طفلکی مہد ییم
    یکی قطرہ ایم از محیط وجود
    اگر چند داریم کشف و شہود
    من از قطر گی گشتہ ام بس نفوذ
    خدایا رسانم بہ دریای نور
    غزلیات نور بخش ص ۱۶۶
    سید محمد نوربخش ؒاپنی ایک دو سری کتاب میں امام زمانہ ؑ کے بارے میںرقمطراز ہیں۔
    بازگویم کسیت انسان میشنو
    آنکہ ہست اندر دو عالم پیش رو
    اندرین دور او امام عالم است
    قطب اقطاب است غوث اعظم است
    صاحب امر و زمان گویند اذان
    کامراللسھی ذوئے گردد عیان
    امرا و امر خداوند جہاں است
    ہم خداوند جہاں ازوی عیاں است
    کی زمان بے او بماندی بر قرار
    گر زو دادی قرارش کردگار
    کشف الحقیقت ج ۱ ص ۷۹
    امام بخاری ؓ نے اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا اس وقت تم کیسے ہوں گے تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ حضرت عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا یعنی امام محمد مہدی ؑ جو امامت کریں گے ۔ (صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۵۸)
    مفسرین قرآن کے نزدیک حضرت امام مہدی صاحب العصر و الزمان ؑ کی شان میں ۴۶ آیتیں ہیں ان میں سے ۴۶ ویں آیت یہ ہے کہ والسماء ذات البروج ۔ سورہ بروج
    مجھے قسم ہے آسمان کی جو برجوں والا ہے شیخ سلیمان قندوزی لکھتے ہیں کہ اصبغ بن نباتہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ا ﷲ ؐ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ انا السماء (میں آسمان ہوں) اور بروج میں میرے اہل بیت ؑ اور میری عترت میں سے امام ہیں ۔ جن کے پہلے علی ؑ اور آخری مہدی ؑ ہیں اور وہ تعداد میں بارہ ہیں ۔ جس طرح بروج بھی بارہ ٗ حضرت موسی ؑ کے نقیب بارہ اور بارہ چشمے ہیں ۔(صواعق محرقہ، ینابیع المودۃ)
    ولادت با سعادت حضرت امام مہدی علیہ السلام
    مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت ۱۵ شعبان ۵۵ ھ یا ۲۵۶ ھ جمعہ کے دن بوقت طلوع فجر ہوئی ۔ ( روضتہ الاحباب ٗ ینابیع المودۃ ٗ تاریخ کامل ٗ تاریخ ابن الوردی ٗ روضات الجنان و غیرہ ) حضرت امام حسن العسکری ؑ کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن العسکری ؑ کے پاس گئی تو آپ نے فرمایا اے پھوپھی آپ آج ہمارے گھر ہی رہے کیونکہ خداوند عالم آج مجھے ایک وارث عطا فرمائے گامیں نے کہا کہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا آپ نے فرمایا کہ یہ نرجس سے متولد ہوگا ۔ کہا بیٹے میں تو نرجس میں کچھ بھی حمل کے آثار نہیں پاتی ۔ امام نے فرمایا اے پھوپھی نرجس کی مثال مادر موسی ؑ جیسی ہے جس طرح اس کا حمل پہلے ظاہر نہیں ہوا اسی طرح اس فرزند کا حمل بھی بر وقت ظاہر ہوگا ۔ غرض کہ میں اس رات و ہیں رہی جب آدھی رات گزر گئی تو میں اٹھی اور نماز تہجد میں مشغول ہوگئی ۔ اور نرجس بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے لگی میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ صبح قریب ہے امام ؑ نے جو کہا تھا وہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا اتنے میں حضرت امام حسن العسکری ع نے اپنے حجرے سے آواز دی پھوپھی اماں جلدی کیجئے حجت خدا کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کرمیں نرجس کے حجرے کی طرف پلٹی نرجس لرزہ براندام تھیں اور ان کاسارا جسم کانپ رہاتھا میں نے یہ دیکھ کر ان اپنے سینے سے لپٹا لیا اس وقت امام ؑ نے آواز دی کہ اے پھوپھی سورہ ان انزلنا اور قل ھو اﷲ پڑھ لیں میں نے پڑھ کر ان پر دم کیا پس بطن مادر سے بچے کی آواز آنے لگی یعنی میں جو کچھ پڑھتی تھی وہ یہ بچہ بھی بطن مادر میں پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن و منور ہوگیا اور مولود مسعود سجدہ ریز تھا آغوش نرجس میں گل امامت قیامت کی خوشبو لے کر آیا قیام عالم کو قائم آل محمد ؐ آیا ۔ عدل مسکرایا اور باطل گھبرایا آخری نبی کا آخری جانشین و نجعلھم الوارثین کی تلاوت کرتاہوا آیا جناب حکیمہ ؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ جب نور صاحب الزمان عالم وجود میں آیا تو زبان پر کلمہ شہادتیں جاری تھا شانہ منور پر
    جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان ذھو قا۔
    کا مہر امامت تھا زمانے نے یا صاحب الزمان کہہ کر سلام کیا قرآن نے یا شریک القرآن کہہ کر احترام کیا ٗ کائنات نے یا امام الانس و الجان کہہ کر آداب بجالاتے ٗ ایمان نے یا مظہر الایمان کہہ کر گردن جھکائی ۔ حضرت امام حسن عسکری ؑ نے فرزند دلبر کو اپنی گودمیں بٹھالیا اور اپنی زبان بچے کے منہ میں دے دی اور فرمایا اے فرزند خدا کے حکم سے کچھ بات کربچے نے اس آیت و نرید ان نمن الخ کی تلاوت کی ابھی یہ نور عمر کی پانچویں منزل ہی میں پہنچا تھا اسے بجھانے کی پھر کوشش شروع ہوئی ۔ شیخ حاجب کا بیان ہے کہ ایک روز حضرت امام حسن العسکری ؑ کی شہادت کے بعد معتضد باﷲ خلیفہ نبی عباسی نے مجھے طلب کیا ا اور حکم دیا کہ بارہ سواروں کے ہمراہ ابھی جاکر خانہ امام عسکریؑ کا محاصرہ کرو اس میں جس بچہ یا بوڑھے کو پاؤا سے قتل کرڈالومیں حسب الحکم گیا اور اندر کسی کونہ پایا ۔ ایک دروازے پر پردہ پڑا ہوا تھا میں اندر داخل ہوا تو ایک سرداب تھا اور ایک طرف دریا نظر آیا جس پر چٹائی بچھائے ہوئے ایک بچہ مصروف عبادت تھا میرا ایک سپاہی پانی میں اترا تا کہ بچہ تک پہنچے مگر ڈوبنے لگا ہم نے بڑی مشکل سے اس کی جان بچائی پھر دو سرا پانی میں کودا اس کا بھی یہی حشر ہوا آخر میں میں نے کنارہ پر کھڑے ہو کرمعافی چاہی کہ خدا را ہماری اس نادانستہ جرائت کو معاف فرمائے مگر وہ مطلق ملتفت نہ ہوئے یہیں سے امام بحکم خدا تعالیٰ ۲۳ ماہ رمضان المبارک ۲۵۹ ھ یا ۸ ماہ ربیع الاول ۲۶۰ ھ پانچ سال کی عمر میں بمقام سر من رائے عراق سے غیبت صغریٰ مین چلے گئے ان ایام میں امام ؑ کے اضافی جانشین جس میں حضرت رود باری قدس اﷲ سرہ اور اس کے بعد اولیاء اﷲ شامل ہیں امام زمانہ ؑکی زیارت سے مشرف ہوتے رہے ۔ غیبت صغریٰ کے سترہ سال بعد غیبت کبریٰ شروع ہوئی ۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ بار ہویں امام ؑ ٗ ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوئی اور امام بارہ ہی کیوں ہوئے ؟ یہ سلسلہ تا قیامت یکے بعد دیگرے جاری بھی رہ سکتا تھا یہ مسئلہ ذرا تفصیل طلب ہے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ سنت الٰہی کیا ہے ؟ نظام عالم کی بقاء اور قیام کے لئے قدرت نے اسی بارہ کے عدد ہی سے کام لیا ہے نظام شمسی کی بقاء اور قیام کے لئے گیارہ یا تیرہ نہیں بلکہ بارہ برج قرار دیئے ۔ جن پر بقاء عالم کو موقوف رکھا نظام ارض کے لئے شب و روز خلق فرمائے جن کا مدار بارہ گھٹوں پر رکھا ٗ سال کو بارہ مہینوں پر تقسیم کر کے زمانہ کی پیمائش سے روشناس کرایا یہ عدد کس قدر قدرت کو پسند آیا ا کہ اپنے کلمے لا الہ الا اﷲ میں بارہ ہی حرف رکھے اور اپنے حبیب کانام آیا محمد رسول اﷲ کہہ کربارہ ہی حرف کا مجموعہ بنایا نیز علی الاعلی نے جب علی ع کو نوزا تو علی خلیفہ اﷲ کہہ کربارہ ہی حرف عطا کئے ٗ جب آدم صفی اﷲ کو وصی عطا ہوئے تو بارہ ہی وصی دیئے نوح نجی اﷲ کو بارہ خلیفہ اور وصی دیئے ابراہیم خلیل اﷲ کو بھی بارہ وصی دیئے موسیٰ کلیم اﷲ کے بھی بارہ ہی نقیب و وصی تھے عیسیٰ روح اﷲ ؑ کو بھی بارہ وصی دیئے ٗ پھر خاتم النبین ؐ کو کیوں نہ بارہ وصی ملتے۔ )جامع الاسرار ص ۲۳۹ تا ۲۴۲ ٗ نص النصوص ص ۲۸۶ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۴۶
    اس لئے قرآن شاہد ہے ۔ { ولن تجد لسنت اﷲ تبدیلا} اﷲ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوئی ۔ ( سورہ فتح رکوع ۳()
    خود رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا ۔
    یقول لا یزال الاسلام عزیز ا الی اثنی عشر خلیفۃ کلھم من قریش– اولھم علی و آخر ھم القائم المہدی ؑ
    یہ سلسلہ بارہ خلفاء تک قوی و عزیز ( غالب) رہے گا اور یہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے ۔ ( ان میں پہلا علی اور آخری مہدی ہوں گے)(مسلم ج ۵ ص ۱۰۹ ٗ مشکواۃ شریف ج ۳ ص ۲۳۹ ٗ بخاری شریف ج ۴ ص ۱۷۵ ٗ کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ ٗ تذکرۃ النعیم ص ۱۳۶ ٗ صواعق محرقہ ص ۱۸۷ ٗ ینابیع المودۃ ص ۴۴۵ ٗ مودۃ القربٰی ص ۸۳ ٗ صحیح ترمذی ج ۲ ص ۴۵ ٗ الفرق بین الفرق ص ۳۴۰ ٗ مروج الذھب مسعودی ج ۲ ص ۱۹۲ ، اعلل و لنحل ج ۱ ص ۱۰۶ ٗ مجالس المومنین شوستری ص ۶ ٗ نور المومنین ص ۴۱۳ ۔ ۴۱۴ ٗ کتاب نور بخشیہ ص ۵ ٗ نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۲ ٗ فرقہ ناجیہ مولوی حسن نوری ص ۴۸ خلافت و ملوکیت مودودی ص ۲۵۵)
    صاحب کتاب تشیع و تصوف ڈاکٹر مصطفی الشیبی نے بھی اس ضمن میں ایک خوبصورت بحث کی ہے کہ ہر امام کے اسم گرامی کے بارہ بارہ حروف ہیں جو کہ اسرار ولایت میں سے ایک سرہے۔
    لا الہ الا اﷲ ٗ محمد رسول اﷲ ٗ النبی المصطفیٰ ٗ الصادق الامین ٗ علی باب الہدیٰ ٗ امین اﷲ حقا امیرالمومنین ٗ فاطمۃ امۃ اﷲ ٗ البتول الزہراء ٗ وارثت النبین ٗ الامام الثانی ٗ الحسن المجتبعی وراث المرسلین ٗ الامام الثالث ٗ الحسین بن علی ٗ خلیفتہ النبین و والد الحسین ٗ الامام الرابع ٗ الامام السجاد ٗ علی بن الحسین وارث المرسلین سید العابدین ٗ الامام الخامس ٗ الامام باقر ٗ ھو محمد بن علی ٗ امام المومنین ٗ الامام السادس ٗ الامام الصادق ھو جعفر بن محمد ٗ قدوۃ الصدقین ٗ المام السابع ٗ الامام الکاظم ھو موسیٰ بن جعفر ٗ خلیفتہ النبین ٗ الامام الثامن ٗ الامام الرضا و ھو علی ٗ علی بن موسیٰ امام المومنین ٗ الامام التاسع ٗ الامام الجواد ھو محمد بن علی ننجل المنتجبین ٗ الامام العاشر ٗ الامام الھادی ھو علی بن محمد ٗ وارث و حین الحسن العسکری ٗ امام المسلمین الامام الخاتم ٗ القائم المہدی محمد بن الحسن خلیفتہ النبین و خاتم الوحین ھو لاء العنزہ ٗ اغر المیامین ھو عبدالمطلب ٗ سادۃ اھل الجنۃ مجھم مومن تقی فی الجنۃ مخلد ۔
    تشیع و تصوف ص ۲۴۰ ۔ ۲۴۲
    سنت خداوندی کے راہی ٗ علی و آل علی ؑ کے سچے محب سید محمد نور بخش ؒ نے بھی جب بیعت لیا تو ائمہ طاہرین کی تعداد کے برابر پہلے دن صرف اور صرف بارہ کی تعداد پر اکتفاء کیا ۔ (محفل الاوصیاء ص ۵۵۴)
    اب یہ بات راضح ہوجاتی ہے کہ بارہویں امام غائب کیوں ہیں یہ تسلیم کرلینے کے بعد کہ آنحضرت ؐ کے وصی بارہ ہی تھے اگر بارہویں وصی بھی اس خونخوار دنیا میں گیارہ اوصیاء ؑ کی طرح ظلم و ستم سے غریب الوطنی میں شہید کردیئے جائیں تو دنیا ختم ہوچکی ہوتی کیونکہ دنیا بغیر ہادی کے کسی بھی وقت قائم نہیں رہ سکتی تھی ۔ ولکل قوم ھاد ( القرآن)
    اور امام نے فرمایا اگر دنیا میں صرف دو آدمی رہ جائیں ان میں ایک ضرور ہادی یا امام ہوگا قدرت کو یہ سلسلہ جاری رکھنا مقصود تھا اس لئے آپ غیبت کبریٰ میں تا حال زندہ ہیں المتاخرین
    سید محمد نور بخش قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ؎
    ہیچ دانی کہ بود ان سلطان غیب
    کہ خدا کردش پنہا از اھل ریب
    فاش گویم کسیت ان جانان من
    کہ بود ہم دین و ہم ایمان من
    حضرت انسان و ختم اولیاء است
    اقدم اعظم در فیض خدا است
    مہدی ھادی ؑ ویست و ؟؟ وے
    ذوست جاری فیض ہو بر کل شے
    اوست امراﷲ و امرش برھمہ
    ساریست امرش زاﷲ در ھمہ
    صاحب در ان ست و ھادی سبل
    زیر فرمانش بوند از جز و کل
    غیبت از غیر است نزیاران بود
    آنکہ دیدش بے شکی یاران بود
    پایہ پایہ ہر کسی ھستش مقام
    بر امام ان ختم چوں شدشد تمام
    کشف الحقیقت ج ۳ ص ۸
    سید العارفین سید محمد نور بخش ؒ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ
    واﷲ العظیم میں محمد نور بخش نائب امام آخر ازمان و مہدی موعود ؑ ہوں۔
    مکتوبات ص ۸ مقدمہ رسالہ نفس شناسی ص ۸۵
    ایک عام آدمی پر بالعموم اور شاہ سید محمد نور بخش جیسے عالم ربانی کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دینا اور مسلمانوں میں بدعات کے خاتمے کے لئے کام کرنا فرض ہے لہٰذا ان کے فرمان ان اﷲ امرنی الخ کی بنیاد پر ان کے او پریہ بہتان عظیم لگانا کہ انہوں نے نعوذ باﷲ امام مہدی ؑ کا دعویٰ کیا ہے اسلام فہمی سے کوسوں دوری کی علامت ہے ۔ انسان کی عقل سلیم نہیں مانتی کہ ایک امام حقیقی کا دعویٰ کرنے والا کسی غیر معصوم کی تقلید میں رہا ہو ٗ اور اپنے بعد کسی عالم ربانی کو اپنا جانشین مقرر کرتاہو ۔
    یہ سب معرفت امام حقیقی نہیں ہونے کی بین دلیل ہے ۔ ان سب فاسد عقیدوں کے سد باب امام شناسی سے ہی ممکن ہے ۔ قرآن مجید میں حق تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے۔
    من یھداﷲ فھوالمھتدو من یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشدا– سورہ کہف یت ۱۷ پ ۱۵
    جس کو ہدایت دے وہ ہدایت لیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑ دے تو ہرگز نہ پاؤ گے اس کے لئے دوست ارشاد کرنے والا ۔ ( ولی مرشد)
    اس آیت کی تفسیر میں حضور دو عالم حضرت محمد مصطفی ؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ
    من مات و لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ ۔
    ینابیع المودۃ ص ۷۴۴ ٗ رسالہ در بیان آیت نوربخش ص ۱۰ مسند احمد حنبل ج ۴ ص ۹۶ ٗ میراث عارفانہ جاودانہ ص ۱۱۹ ۔ ۱۲۰ ،روضہ کافی ص ۱۴۶ ٗ مجمع الزوائد ج ۵ ص ۲۱۸ ٗ بحار الانوار ج ۷ ص ۱۶ ٗ صحیح مسلم ج ۶ ص ۲۲ ٗ تذکرۃ النعیم ص ۱۶۸ ٗ مسند ابو داؤد ص ۲۵۹ ٗ سنن بھیقی ج ۸ ص ۱۹ ٗ تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۱۷ ٗ معراجیہ نور بخش ص ۱۹۸، کشف الحقیقت ج ۱ ص ۶۸ ازالتہ الخفا شاہ نعمت اﷲ ج ۱ ص ۳ ٗ شرح مقاصد تفتازانی ج ۲ ص ۶۷۵ ٗ طرایق الحقایق ج ۱ ص ۵۴ ٗ تخفہ قاسمی ص ۳۷۳ ٗ نور بخشیہ ص ۷ ٗ زندگانی امام حسین ص ۸۴ ٗ چہل حدیث سید حبیب اﷲ ص ۳۴ ، رسالہ امامیہ شاہ قاسم ص ۵۴ ٗ منصب امامت ص ۷۶ ٗ روضات الجنان ج ۲ ص ۵۱۴ ٗ مواعظ ص ۹۰ ٗ خواص الائمہ علامہ جوزی ص ۲۰۴ ٗ فرقہ ناجیہ حسن نوری ص ۱۰۱ ،فرہنگ نور بخش ڈاکٹر جواد نور بخش ج ۳ ص ۵۰ ٗ رسائل شاہ نعمت اﷲ ولی ج ۱ ص ۱۹
    جو شخص اپنے زمانے کے امام کو جانے بغیر مرگیا یقینا وہ جاہلیت کی موت مرا ۔
    امام کی معرفت اس لئے ضروری ہے کہ
    الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ– الحدیث
    مکتوبات سید نور بخش ص ۱۲ ٗ تلویحات سید نور بخش قلمی ص ۲ ٗ فقہ منظوم قلمی ص ۲ ٗ سفینۃ الجار ج ۱ ص ۷۲۸ ٗ العروہ لاہل الخلوہ و الجلوہ ص ۵۷۱ ٗ احادیث مثنوی ص ۸۲ ٗ مصنفات فارسی سمنانی ص ۲۳۵ ٗ مناہج الطالبین ص ۳۶۲ ٗ آداب المریدین ص ۳۴۰ سرو ردی { کاشف الاسرار السفرانی} ص ۷۹ ٗ اللولو المرصوع ص ۴۵ ٗ جامع الصغیر ج ۱ ص ۹۰ ٗ مرصاد العباد نجم الدین رازی ص ۹۱ ٗ مناقب صوفیہ ص ۶۰ ٗ احیاء العلوم ج ۱ ص ۲۴۰ ٗ نور المومنین ص ۲۰۰ ٗ رسالہ امامیہ شاہ قاسم فیض بخش ص ۵۴ ٗ کشف المحجوب ص ۹ ٗ ۶۲ ٗ ۵۸۵ ۔
    کسی قوم میں شیخ ٗ رہبر مرشد امام کسی امت میں نبی کے مانند ہے اور جس قوم کا کوئی رہبر ٗ امام ہی نہ ہو ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ۔
    من لا شیخ لہ فشیخہ الشیطان ۔ الحدیث
    جس کاکوئی شیخ ٗ رہبر ٗ امام نہیں اس کا رہبر شیطان ہے لہٰذا اپنے زمانے کے امام کی معرفت ضروری ہے کیونکہ انہی کے ساتھ ہم نے محشور بھی ہونا ہے۔
    ۲-رسالہ در بیان آیت سید محمد نور بخش ص ۱ ٗ معراجیہ نور بخش ص ۱۰ ٗ چہل حدیث ٗ سید حبیب اﷲ ص ۴۱ ٗ لطائف معنوی ص ۶۰ ٗ تمہیدات عین القضاۃ ص ۱۱ ٗ ۲۸ ٗ منہاج الطالبین ص ۳۶۸ ٗ آثار احمد غزالی ؒ۔ مکتوبات ص ۲۴۹ ٗ معاش السالکین سید محمد نور بخش ص ۲ ۲
    قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہو تا ہے ۔
    یوم ندعو کل اناس بامامھم– القرآن ۔
    قیامت کے روز ہر قوم اپنے اپنے امام کے ساتھ بلائی جائے گی کوئی امام داعی الی النار کے ساتھ اور کوئی امام ہادی الی الحق کے ساتھ محشور ہوگا ۔ لہٰذا ہمارے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہی دعا ہے کہ خدایا ہمیں ان ائمہ طاہرین ؑ جن کے اول علی ؑ اور خاتم مہدی ؑ ہیں ٗ کے ساتھ محشور فرما ! یہی ہمارے پیران طریقت ٗ مرشد ان حقیقت اور عالمان شریعت کی تعلیمات بھی ہیں ۔
    حضور اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے۔
    عن مقداد بن الاسود قال قال رسول اﷲ معرفۃ ال محمد براۃ من النار الخ س – 1
    یعنی آل محمد ؑکی معرفت آتش دوزخ سے نجات پانے کا ذریعہ ہے ۔
    مودۃ القربیٰ
    آپ ؐ کی دو سری حدیث کا ترجمہ ہے کہ کوئی آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرے گا (المودۃ القربیٰ) اسی لئے امام المتقین علی ؑ نے فرمایا کہ (اپنے نبی کی زریت یعنی اہل بیت کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو وہ تمہیں کبھی ہدایت سے با ہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی وہلاکت کی طرف جانے دیں گے اگر وہ کہیں ٹہریں توتم بھی ٹہرجاؤ اگر وہ اٹھیں توتم بھی اٹھ کھڑے ہو ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ انہیں چھوڑ کر پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے
    نہج البلاغۃ
    لہٰذا حضور اکرم ؐکی حدیث کی روسے طاہر الو لادۃ کی طینت میں محبت اہلبیت ہوگی ۔
    مودۃ القربیٰ
    ہمارے اسی سلسلہ ذہب کے ایک صوفی بزرگ ٗ عارف بزرگ حضرت شیخ سر سقطی قدس اﷲ سرہ { م ۔ ۲۵۱ ھ} حضرت امام علی رضا ؑ { م ۔ ۱۵۳ ۔ ۲۰۳ } حضرت امام محمد تقی ؑ { ۱۹۵ ۔ ۲۲۰ ھ } اور حضرت امام علی النقی ؑ{ ۲۱۴ ۔ ۲۵۴ ھ} کے ادوار امامت میں زندہ تھے اور مکتب اہلبیت ٗ اطہار ائمہ طاہرین ؑ سے فیض یاب ہو کراپنے مریدوں کو شریعت محمدیہ ؐ اور طریقت مرتضویہ ؑ کی تعلیم دیتے رہے سر سقطی ؒنے اپنی حسین حیات میں حضرت جنید بغدادی { م ۔ ۲۹۸} کو حضرت امام علی النقی ؑ کی اجازت سے اپنا خلیفہ باطن مقرر کیا اور سید الطائفہ جنید بغدادی قدس اﷲ سرہ حضرت امام علی التقی ؑ حضرت امام حسن عسکری { ۲۳۲ ھ ۔ ۲۶۰ ھ } اور حضرت امام محمد مہدی ؑ (ولادت ۔ ۲۵۵ ھ ) کے ازمنہ غیبت صغریٰ (۲۶۰ ھ ) اور غیبت کبریٰ (۳۲۹ ھ ) تک ان ائمہ طاہرین ؑ کے احکامات اپنے مریدوں تک پہنچاتے رہے ۔
    جنید بغدادی ؒ (م ۔ ۲۹۸ ھ) نے اپنی رحلت سے قبل امام زمانہ حضرت مہدی ؑ کی اجازت سے عارف بزرگ بو علی رود باری قدس اﷲ سرہ (م ۔ ۳۲۱) کو اپنا خلیفہ بنایا اپنے مریدوں کے لئے پیر مقرر کئے اس سلسلے کو سلسلہ ذہب کہا جاتا ہے جو کہ تا حال جاری و ساری ہے۔
    ان تاریخی حقائق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مکتب نور بخشیہ کے ماننے والے کسی بھی صورت میں ہشت امامی نہیں ہیں بلکہ بارہ امام کے صحیح ماننے والے حقیقی صوفی ہیں ۔ جس طرح حضرت امام جعفر صادق ؑ کے مذہب پر چلنے پر مکتب تشیع کسی بھی صورت میں شش امامی نہیں ہیںاسی طرح حضرت امام علی الرضا ؑ کا سلسلۂ طریقت معروف کرخی قدس اﷲ سرہ کی طرف آنے پر اس سلسلے کے ماننے والے ہشت امامی اور ان کے بعد کے ائمہ طاہرین ؑ کے منحرف نہیں ہیں کیونکہ جنید ٗ سری اور معروف قدس اﷲ سرہ ہم اپنے اپنے ائمہ زماں کے اجازت یافتہ خلیفہ باطن تھے ۔
    ۱- نابغہ علم و عرفان ص ۶۰ ۔ ۶۱ ٗ طرایق الحقائق ج ۲ ص ۳۷۳ ۔ ۳۸۹
    امام حقیقی تو ہمارے بارہ ہی ہیں جس میں پہلا حضرت علی ؑ اور آخری حضرت مہدی ؑ ہیں جبکہ امام اضافی جو کو معروف کرخی ؒ سے شروع ہو تا ہے وہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے اور پیر حاضر سید محمد شاہ نورانی مدظلہ ہمارا ۳۸ واں پیر طریقت ہیں ۔
    دعائے تشفع میں ہم پڑھتے ہیں کہ۔
    اللھم انی اسئلک بقائم ال محمد ن المہدی ع واجازتہ ان تقضی حاجاتنا یا قاضی الحاجات یا کاشف المھمات یا رافع الدرجات و دافع البلیات برحمتک یا ارحم الرحمین ۔
    دعوات صوفیہ امامیہ
    اے اﷲ میں تجھ سے مدد چاہتار چاہتی ہوں حضرت قائم آل محمد حضرت امام محمد مہدی ؑ اور پردہ غیب میں ان کے ایام گزارنے کا واسطہ ٗ ہماری حاجتوں کو پوری فرما ٗ اے حاجتوں کا پورا کرنے والے ٗ اے اندوہناک حالتون کو دور کرنے والے ٗ اے درجات کابلند کرنے والے ٗ اے بلاؤں کو دور کرنے والے ٗ اے سب سے زیادہ رحم والے ہمیں تیری رحمت کاسہارا ہے ۔ اور کلمہ تہلیل و تلقین میت میں ہے کہ ۔
    لا الہ الا اﷲ اﷲ ربی و الاسلام دینی و القرآن کتابی و الکعبۃ قبلتی و محمد ؐ نبی ؐ و العلی ؑ امامی– تین بار
    دعوات صوفیہ امامیہ
    ترجمہ : ۔ اﷲ کے سواکوئی بھی لائق عبادت نہیں ٗ اﷲ میرا رب ہے ٗ اسلام میرا دین ہے ٗ قرآن میری کتاب ہے ٗ کعبہ میرا قبلہ ہے حضرت محمد ؐ میرے نبی ہیں حضرت علی ؑ میرے امام ہیں ۔ اس کے بعد باقی گیارہ امام یکے بعد دیگرے حضرت امام محمد مہدی ؑ تک گنتے ہیں بعد ازاں ہم خدائے متعال سے عہد کرتے ہیں کہ ۔
    ھم سادتی و قادتی و ائمتی و امامی بھم اتولی و من اعدائھم اتبرء۔
    دعوات صوفیہ امامیہ
    یہی ہستیاں میرے روحانی سردار ان ہیں ٗ میرے قائدین ہیں اور دین حق کے ائمہ طاہرین ؑ ہیں اور یہ سب میرے امام ہیں ۔ میں ان سے حقیقی تولیٰ { محبت} رکھتار رکھتی ہوں اور ان کے دشمنوں سے تبرا دشمنی ٗ بیزاری} رہا کرتار کرتی ہوں ۔
    اور ہم ۲۵ دیں ماہ رمضان کی دعامیں پڑھتے ہیں کہ ۔
    اللھم اجعلنی محبالا ولیائک و معادیا لا عدائک و متمسکا بحبل خاتم انبیائک یا عاصم قلوب النبین برحمتک یا ارحم الرحمین۔
    دعوات صوفیہ امامیہ
    پروردگار ! مجھے اپنے دوستوں کا محبت گزار بنائے رکھ ٗ اپنے دشمنوں کا عداوت رکھنے والا بنائے رکھ ٗ اپنے خاتم الانبیاء ؑ کی رسی یعنی( اہل بیت)کو تھا منے والا بنائے رکھ اے پیغمبروں کے دلوں کو عصمت بخشنے والے اے سب سے زیادہ رحم والے ہمیں تیری رحمت کا سہارا ہے۔

امام اضافی

حضرت شیخ معروف کرخی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ سری سقطی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ جنید بغدادی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابوذر رودباری رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابو علی کاتبی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابو عثمان مغربی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابو القاسم گرگانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابو بکر نساجی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ احمد غزالی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ ابو نجیب سھروردی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ احمد بدلیسی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ علی ابن لالہ غزنوی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ احمد زاکر جرجانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ عبدوالرحمن اسفرائنی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ علاءالدولہ سمنانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ محمود مزدقانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت امیر کبیر سید علی ھمدانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ خواجہ اسحاق ختلانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر سید محمد نوربخش رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شاہ قاسم فیض بخش رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شمس الدین عراقی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شیخ دانیال شھید رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت شمس الدین رشید رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر حسن رہنما رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر دانیال دانا رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر ابو سعید سعدا رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر مختار اخیار رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر جلال الدین محمد معصوم رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر نجم الدین ثاقب رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر محمد نورانی رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر محمد شاہ مخدوم الا فقرا رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر شاہ جلال سید الا خیار رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر سید خانہ علوم فخر الاخیار رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر محمد اکبر شرف الاخیار رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر محمد شاہ زین الاخیار رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت میر عون علی شاہ رح

    جلد آرہا ہے—-

حضرت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی – موجودہ پیر طریقت

    جلد آرہا ہے—————