امام کی خصوصیات قرآن و حدیث کی روشنی میں


تحریر


خلاصہ
حق متعال کی شکر گزار ہوں جس کا فیض ہمیشہ جاری وساری ہے۔ اس مقالہ کے فصل اول میں مفاہیم شناسیِ امام اور اس کا اصطلاحی و لغوی معنوں کواور ساتھ ہی متکلمین کی نظر میں امام کی تعریف خاص اور تعریف عام کو بیان کیا ہے ۔
بحث دوم میں امام کی خصوصیات کے لغوی واصلاحی معنی کو بیان کیا گیاہے جبکہ بحث سوئم میں امام کی خصوصیات قرآن کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں جیسے عصمت کا ہونا ،علم غیب کا ہونا ،امام کا تعین خدا کی طرف سے ہوناوغیرہ وغیرہ ۔ ساتھ ساتھ امام کی خصوصیات حدیث کی روشنی میں بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
اس لیے اس مقالہ کا موضوع ’’امام کی خصوصیا ت قرآن و احادیث کی روشنی میں ‘‘رکھا گیا ہے اور ’’نتیجہ ‘‘ کے عنوان سے بحث کا ماحصل بھی بیان کیا گیا ہے ۔ خدا وندعالم اس چھوٹی سی محنت کو بحق معصومین ؑ اپنی درگاہ حق میں قبول فرمائے۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف

فہرست مطالب

مقدمہ
فصل اول مفاہیم شناسی:
بحث اول :امام کے لغوی واصطلاحی معنی
مطلب اول :امام کے لغوی معنی
مطلب دوم:امام کے اصطلاحی معنی
متکلمین امام کی دو طرح سے تعریف کرتے ہیں:
الف :تعریف عام:
ب :تعریف خاص:
بحث دوم:خصوصیات کے لغوی معنی
:خصوصیات کے لغوی معنی :
وجود امام کی ضرورت
بحث سوئم :امام کی خصوصیات قران کی روشنی میں:
1۔عصمت :
2۔علم غیب:
3۔امام کا تعین خدا کی طرف سے ہونا چاہیے:
4۔کلام امام کی حجیت اور اسکی اطاعت
بحث چہارم:امام کے خصوسیات حدیث کی روشنی میں
1۔اللہ زمین کو بغیر امام کےنہیں چھوڑتا:
2۔اما م کے بغیر زمین لرز جائے گی
3۔امامت خدایئ عہدہ ہے جو یک بعد دیگر منتقل ہو تا ہے
4۔یہ اللہ کا عہدا ہے
5۔وصی کا فیصلہ علم پر ہو تا ہے:
6۔مخلو ق کی اطا عت کا دائر ہ:
نتیجہ
فہرست منابع

مقدمہ
تمام حمد ثنا اس خالق کائنات کے لئے ہے جس نے ائمہ معصومین ؑ کو ہمارے راہنما و رہبر قراردے کر دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ بنایا ہے ۔
امامت کا منصب اتنا عظیم ہے کہ حضرت ابرہیم جیسی ہستی اولی العزم پیغمبر ہونے اور کئی امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد اس عہدے پر سرفراز ہوئے تو اپنی ذریت کے لیے یہ عہدہ مانگا تو کئی شرائط کے ساتھ عطا کیا گیا جیسا کہ قرآن میں ذکر ہوا ہے۔
وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ ومن ذریتی قَالَ لَا یَنَالُ عَہدِی الظّٰلِمِینۡ
ترجمہ :(اے میرے حبیب!) اس وقت کو یاد کرو۔ جب چند کلمات کے ذریعے ابراہیم ؑکو خدا نے امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنارہے ہیں ۔انہوں نے عرض کی میری ذریت میں بھی یہ عہدہ جائے گا؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ ظالمین تک نہیں جاےگا۔
خدا ونداعالم نے اس زمین کو خلیفہ کے بغیر نہیں چھوڑا۔ ہردور میں امام مقرر کیا گیا ہے تاکہ لو گوں کو ہدایت کی جانب لے جائے اور دینی امور میں ان کی راہنما ئی کرے اورامام کے کچھ خصوصیات بھی ہے جس طرح امام بھی نبی کی طرح تمام ظاہری اور باطنی ،دانستہ اور نادانستہ طور پر محد سے لحد تک تمام گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہوتا ہے اسی طرح بھول چوک اور غفلت سے بھی محفوظ ہوتا ہےکیونکہ تحفظ شریعت انہی ائمہ پر موقوف ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ نبی کے نائب ہیں اس لیے ان کے معصوم ہونے کے متعلق بھی ہماری دلیل و ہی ہےجو نبی ؐ کے معصوم ہونے کیلئے ہے۔ اسی مقالہ میں اسی موضوع پر کچھ دلائل دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔

ملتمس دعا :شاہینہ انصاری

فصل اول مفاہیم شناسی:
بحث اول :امام کے لغوی واصطلاحی معنی
مطلب اول :امام کے لغوی معنی :
1۔حا کم وغیرہ جس لو گ ا قتداء کر یں ۔ یعنی جس کی پیروی کی جا ئے۔
2۔نماز کا امام ۔
3۔ خلیفہ۔
4۔ سپہ سالار۔
5۔مسا فر وں کو راہ بتانے والا ۔
6۔وہ سبق جس کو ہر روز طا لب علم مد رسہ میں پڑ ھے ۔
7۔ او نٹوں کوہنکانے والا۔
8۔ اشیاء اور ان کی صفت کا پیمانہ ۔

مطلب دوم:امام کے اصطلاحی معنی:
امام کے اصطلاحی معنی یہ ہے کہ یہ ایک الٰہی منصب ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے مخصوص اور منتخب ہستیوں کو عطا فرماتا ہے جس طرح وہ نبی کو منتخب کرتاہے اور نبی کو حکم دیتا ہے کہ امت کواس کی پہچان کروائے اوراس کی اتباع کا انہیں حکم دے ۔ چنانچہ اس منصب کسی کو تعینات کرنے کا اختیار عام لوگ یعنی امت کے پاس نہیں ہے۔
جیسا کہ فرمان خداوندی ہے:
وربک یخلق ُ مایشاء و یختارُ کان لھم الخیرۃُ
اورآپ کا پروردگارجسے چاہتاہے خلق کرتا ہے اور منتخب کرتا ہے،انہیں انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
امام عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی رہبر کے ہیں اسکی جمع آئمہ ہیں۔ یہ اسلامی رہبری کا عہدہ ہے جو اکثر مسلمانوں کی جماعت کا رہنما اور مسجد میں عبادات کی سرپرستی کےلیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ امام کے معنی اپنی قوم کے آگے چلنے والے رہبر کے ہیں۔
اسی وجہ سے نماز پڑھانےوالے کو بھی امام کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ دوسروں سے آگے ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اسی لغوی معنی کو استعمال کیا گیا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے.
قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا؛
خدا وند عالم نے فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والاہوں،
وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًاوَّرَحۡمَۃ
اور اس قبل جناب موسیٰ کو کتاب (توریت )جو لوگوں کےلیے پیشوا اور رحمت،
وَّاجۡعَلۡنَالِلۡمُتَّقِیۡن َاِمَامًا؛
اور ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا بنا،
یوم ندعوا کلَّ اُنَاسِ بامامِھم
اس دن کو یاد کرو جب ہم تمام لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے ۔
اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ پر لفظ امام، استعمال ہوا ۔

متکلمین امامؑ کی دو طرح سے تعریف کرتے ہیں
الف :تعریف عام:
اس تعریف میں انبیا کوبھی شامل کرتے ہیں یعنی تمام انبیا چونکہ اپنی امتوں کی سرپرستی فرماتے ہیں اور ان کو راہ راست دکھاتے ہیں اس لئے انبیا و مرسلین بھی امام ہیں۔ اس کےمطابق امام دینی ودنیوی مسائل میں عمومی رہنماکو کہا جاتا ہے۔

ب :تعریف خاص:
یہ تفسیرکا حامل ہےجس کےمطابق امام اس شخص کو کہا جاتا ہے۔جو دینی امورمیں پیامبراکرم ﷺکا جانشین ہو

بحث دوم:خصوصیات کے لغوی معنی
خصوصیات کے لغوی معنی :
خصوصیات ،خاص ہونا ،ضد العموم کبھی کبھار کےمعنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے :
یعجبنی فلان خصوصاعلمہ وادبہ خصوص وبخصوص کذا
فلاں چیز کے بارے میں ،سلسلہ میں فلاں سے متعلق

وجود امام کی ضرورت:
امامیہ متکلمین کے نزدیک امام واجب ہے اور اسکا واجب وجوب کلامی ہے۔یعنی اسکا وجوب لوگوں پر نہیں بلکہ اللہ پر اسکا وجوب ہے۔اس وجوب کا معنی یہ ہے کہ چونکہ یہ عہدہ عدل ،حکمت دیگر صفات الہی کا متقاضی ہے اور ایسی چیز کا ترک کرنا ذات خدا میں نقص کو لازم کردیتا ہے چنانچہ ایسے عہدے پر تعیناتی خداوند متعال کی ذمہ داری ہے البتہ یہ وجوب خدا کی صفات کمالیہ سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی نے خدا پر اسے واجب کیا ہے۔ جیسا کہ خداوند کریم نے اپنے اوپر ہدایت اور رحمت کو واجب قرار دیا ہے ۔

خواجہ نصیر الدین اس کے متعلق کہتے ہیں:
امامیہ معتقد ہیں کہ امام کو متعین کرنا ایک لطف ہے کیونکہ وہ لوگوں کو اطاعت کے قریب کرتا ہے اور انہیں معصیت سے دور کرتا ہے اور لطف خدا پر واجب ہے ۔

بحث سوئم :امام کی خصوصیات قران کی روشنی میں
1۔عصمت :
امام کا گناہ سے پاک اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خطا کا مرتکب نہ ہونا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے وہ رسول خدا کا جانشین،احکام شرعی ،معارف دین،قرآن کی تفسیر اور سنت نبوی کی توضیح میں مرجع علمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے گناہ سے مبرا ہو تاکہ لوگ اسکی بات پر اعتماد کر سکیں۔اگر ایسا نہ ہو تو لوگوں کے درمیان سے اسکا اعتماد اٹھ جائے گا اور لوگوں کی ہدایت کی خاطر ائمہ مقرر کرنے کے خدائی ہدف میں خلل اور نقض لازم آتا ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ امام بھی نبی کی طرح تمام ظاہری اور باطنی ،دانستہ اور نادانستہ طور پر محد سے لحد تک تمام گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہوتا ہے۔ اسی طرح بھول چوک اور غفلت سے بھی محفوظ ہوتا ہےکیونکہ امام بھی محافظ شریعت ہے کیونکہ یہ نبی کے نائب ہیں۔ اس لیے ان کے معصوم ہونے کے متعلق بھی ہماری دلیل و ہی ہے جو نبی ؐ کے معصوم ہونے کیلئے ہے آیہ کریمہ
؛ قَالَ لَا یَنَالُ عَہدِی الظّٰلِمِیۡن ”
یعنی امام کی عصمت کے ضرو ر ی ہو نے پر دلالت کر تی ہے ۔ کیو نکہ گناہ خطا سے مراد اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہے ۔ جو ظلم کا مصداق ہے۔ قرآن کر یم فرماتا ہے :
وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُونۡ
میرا یہ عہد ظالمون تک نہیں پہنچے گا۔
جیسا کہ شر ک کو بہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے :
اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمٌ عَظِیۡم
وہ شخص جوظلم کرے وہ امامت کے عہد ہ پر فا ئز نہ ہو گا۔
امام اور مقام امامت کے حامل عظیم پیغمبرمستعدو آمادہ افراد کی تربیت کر تے ہیں اور انہیں جہا لت و گمراہی سے نکال کر نور و ہدایت کی طرف لے جا تے ہیں۔ہم نے انہیں امام بنایا تا کہ ہمارے فرمان کے مطا بق ہدایت کر ے اس لیےکہ وہ صبر واستقا مت رکھتے ہیں اور ہما ری آیات پر ایمان ویقین رکھتے ہیں ۔

2۔علم غیب:
رسول خدا ؐ سے واسطے یا کسی واسطے کے بغیر پہنچنے والے علم کے علاوہ آئمہ طاہرینؑ کے پاس دیگر علوم بھی تھے۔ یہ علم غیر معمولی طریقےالہام کی صورت میں انہیں دیا گیا تھا۔ جیسے حضرت خضر، حضرت ذوالقرنین، حضرت مریم اورحضرت موسیٰ کے والدگرامی اس سے بہرہ مند تھے۔ ان میں سے بعض آئمہؑ کو یہ علم کمسنی میں حاصل ہوا اور وہ امامت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس علم کی بدولت ہر وہ چیز جو انسانوں کی ہدایت اور اپنے ذمہ داری کو انجام دینے میں ضروری ہوتی ہے وہ اس سے آگاہ ہوتے اور انہیں کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں تھی۔

3۔حفظِ شریعت
دیگر امور میں سے ایک اور امر جو وجود امام کی ضرورت بیان کرتا ہے اور اسے امامت کے مقاصد میں سے سمجھا جاتا ہے وہ شریعت کی محافظت کرنا ہے۔ اس بنا پر امام کا وجود دین کو تغیر و تبدل اور تحریف سے بچانے کا باعث بنتا ہے کیونکہ ایک طرف قرآن جزئی احکام بیان نہیں کرتا اور دوسری جانب قرآن ایک خاموش دستور العمل ہے اور اسے ایک فردکی ضرورت ہے۔ لوگوں میں قرآن فہمی کی کمی، خطا کا احتمال اور اشتباہ کا امکان موجود ہونا ایسے افراد کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ جو قرآن فہمی میں کمال کی حدوں پر فائزاورخطا واشتباہ سے پاک ہوں۔ ان کا وجود دوسرے افراد کی قرآن فہمی ،خطا اور اشتباہ کی تشخیص کیلئے ایک میزان ہے۔ یہ میزان اور معیار ہو جو بھی ہو حقیقت میں وہی شریعت کی محافظت کا سبب ہو گا۔

4۔آسمانی ادیان کی حفاظت:
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جب الہٰی ادیان انبیاء کے قلوب پر نازل ہو تے ہیں تو وہ بارش کے پانی کے قطروں کی مانند صاف وشفاف حیات بخش اور روح پرور ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ آلودہ ماحول اور کمزور یا ناپاک ذہنوں میں وارد ہوتے ہیں تو رفتہ رفتہ آلودہ ہو جاتے ہیں اور خرافات وتو ہمات ان میں اس قدر مخلوط ہو جاتے ہیں کہ ان کی بنیادی پاکیزگی اور لطافت ختم ہو جاتی ہے۔اس حالت میں نہ ان میں جذّابیت باقی رہتی ہے اور نہ تربیت کا خاص اثر ،نہ ہی یہ ادیان پیاسوں کو سیراب کر سکتے ہیں اور نہ ان میں فضائل وکمالات کی کلیاں اور پھول کھلا سکتے ہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ دین ومذہب کی اصلی شکل کی حفاظت اور دینی اصول وضوابط کے خالص رہنے کے لئے ایک معصوم پیشوا موجود ہو تا کہ وہ انحرا فات ،غلط افکار،اجنبی نظریات،توہمات اور خرافات سے دین کو بچاسکے۔ اگر دین ومذہب ایسے رہبر سے محروم ہوگا تو وہ دین مختصر مدت کے اندر ہی اپنی حقیقی شکل اور پاکیزگی کھودے گا۔
اسی لئے حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں:
اللّٰھم بلی ،لا تخلوا لارض من قائم للّٰہ بحجة،اماظاھراًمشھورا،اوخائفاًمغمورا لئلا تبطل حجج اللّٰہ وبینا تہ۔
’’جی ہاں ،زمین ہر گز قیام کر نے والے حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی ،خواہ (وہ حجت خدا) ظاہر وآشکار ہو یامخفی وپوشیدہ،تاکہ خدا کی واضح دلیلیں اور نشانیاں باطل نہ ہونے پائیں۔“
حقیقت میں قلب امام(ع) اس محفوظ صندوق کی طرح ہے جس میں ہمیشہ گراں قیمت اسنادرکھے جاتے ہیں تاکہ چوروں کی لوٹ مار اور دوسرے حوادث سے محفوظ رہیں یہ بھی وجود امام کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ہے

5۔اتمام حجّت کی ضرورت :
امام(ع) کے وجود کی نورانی کرنوں سے صرف آمادہ دلوں کی رہنمائی ہی مقصد نہیں ہے تاکہ وہ کمال مطلق کے راستے پر گامزن رہیں بلکہ امام کا وجودان لوگوں کے لئے بھی حجت کے طور پر ضروری ہے،جو جان بوجھ کر گمراہی کی طرف جاتے ہیں ،تاکہ ان کے ساتھ وعدہ کی گئی سزابے دلیل نہ ہو اور کوئی شخص ایسا اعتراض نہ کر سکے ،کہ اگر کسی الہٰی رہبر نے ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ہمیں حق کی طرف دعوت دی ہو تی تو ہم ہر گزگمراہ نہ ہو تے۔
مختصر یہ کہ امام کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ عذر اور بہانہ کے تمام راستے بند کر دیئے جا ئیں ،حق کی دلیلیں کافی حد تک بیان کی جائیں ،لاعلم لوگوں کو آگاہی فراہم کی جائے اور آگاہ افراد کو اطمینان دلاکر ان کے ارادہ کو تقویت بخشی جائے۔

6۔امام،فیض الہٰی کا عظیم وسیلہ ہے۔
بہت سے علماء ،اسلامی احادیث کی روشنی میں،انسانی معاشرہ یا تمام کائنات میں پیغمبر اور امام کے وجود کو انسان کے بدن میں ”قلب“کے وجود سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دل کی دھڑکن کے نتیجہ میں خون تمام رگوں میں پہنچ جاتا ہے اور اس طرح بدن کی تمام خلیوں کو غذا پہنچتی ہے۔ اسی طرح چونکہ امام معصوم ایک انسان کامل اور کاروان انسانیت کے راہنما کی حیثیت سے فیض الہٰی کے نازل ہو نے کا وسیلہ ہے اور ہر شخص پیغمبر وامام سے اپنے ارتباط کے مطابق اس فیض الہٰی سے بہرہ مند ہو تا ہے ۔لہذا یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح انسان کے لئے ”دل“کا وجود ضروری ہے اسی طرح عالم انسانیت کے لئے فیض الہٰی کے اس وسیلہ (امام(ع) کا ہونابھی ضروری ہے۔
ایک وہم کا ازالہ ضروری ہے کہ پیغمبر اور امام کے پاس اپنی کوئی ایسی چیز نہیں ہو تی ہے جسے وہ دوسروں کو عطا کریں ،بلکہ ان کے پاس جو کچھ ہو تا ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہو تا ہے ،لیکن جس طرح ”دل“بدن کے لئے فیض الہٰی کا وسیلہ ہو تا ہے ،اسی طرح پیغمبر اور امام بھی تمام انسانوں کے لئے فیض الہٰی کے سبب اور وسیلہ ہو تے ہیں

7۔امام کا تعین خدا کی طرف سے ہونا چاہیے:
امام ہر لحاظ سے لوگوں کےرہبر کے مفہوم کے اعتبار سے خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے ۔ کیونکہ امامت ایک قسم کا خدائی عہدوپیمان ہے اور جسے خدا معین کرے اس پیما ن کے ایک طر ف خود خدا ہو گا۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ جن لو گوں کے ہاتھ ظلم وستم سے رنگے ہوتے ہیں اور ان کی زند گی میں کہیں ظلم کا نشان موجود ہے ۔ چاہے اپنے اوپر ہی کیوں نہ ہو یہاں تک کہ ایک لخطے کے لئے بت پرستی کی ہو وہ امامت کی اہلیت نہیں رکھتے۔
اصطلاح میں کہتے ہیں کہ امام کو اپنی تمام زندگی میں معصوم ہونا چا ہیے اور اسی طرح معصوم عن الخطاء ہوتا ہے کیونکہ اگر(بفرض محال) امام سے معصیت صادر ہو جائے تو رہبر و رہنما اور مقتدی ہونے کی بناء پر اسکی اقتداہم پر واجب ہوگی ۔جب کی دوسری طرف سے معصیت کا ارتکاب حرام ہوگا۔ اور چونکہ ایک ہی وقت میں واجب او حرام کا اجتماع محال ہے لہذا امام کا معصوم ہونا ضروری ہے ۔

8۔کلام امام کی حجیت اور اسکی اطاعت:
اس خصوصیت کا معنی ہے کہ خدا کے کلام کی توضیح میں امام کے کلام اور اسکی تفسیر کی پیروی اور اسکی اطاعت کرنا ضروری ہے۔اس اطاعت کی پیروی کا سبب ان کا خدا کی جانب سے انہیں علم لدنی حاصل ہونا اور کلام خدا کے مقصود سے آگاہ ہونا ہے۔

بحث چہارم:امام کی خصوصیات حدیث کی روشنی میں
امام صادقؑ فرماتے ہیں :
خداوندعالم نے نبی بنا نے سے قبل ابراہیمؑ کو عبد قرار دیا اور اللہ نے انہیں رسول بنانے سے پہلے نبی قرار دیا اور انہیں خلیل بنانے سے قبل اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا اور اس سے پہلے کہ امام بناتا انہیں اپنا خلیل بنایا جب یہ تمام مقامات ومناسب انہیں حاصل ہو چکے تو اللہ نے فرمایا میں تمہیں انسانوں کےلیے امام بناتا ہوں ۔ حضر ت ابرا ہیمؑ کو یہ مقام عظیم دیا تو انہوں نے عرض کیا : خدایا میری اولاد میں سےامام قرار دے۔ارشاد ہوا میرا عہدہ ظالموں تک نہ پہنچے گا۔ بے و قوف شخص متقی لوگوں کا امام نہیں ہوسکتا ۔
خداوندعالم نے ابرہیم ؑسے فرمایا: میں امامت کا عہدہ تیری اولا د میں سے ظالموں کو نہیں دوں گا ۔ ابراہیم ؑنے عرض کیا:و ہ ظالم کہ جن تک یہ منصب نہیں پہنچ سکتا کون ہیں ؟ خدا نے فر مایا : وہ ظالم ہے جس نے بت کو سجدہ کیا ہو۔ میں ایسےلوگوں کو ہر گزامام نہیں بنا ؤں گااور نہ ہی وہ امام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حجت خدا مخلوق پرامام کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی ۔
ساتویں امام علیہ السلام نے فرمایا! خدا کی جحت لوگوں پر قائم نہیں ہو سکتی مگر امام کے ذریعے یہاں تک کہ اس معرفت حاصل کی جائے۔
یوم ندعوا کل اُناس بامامھم
جس دن ہم ہر دور کے لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
قرآن میں امام دو طرح کے ہیں اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور جہنم کی طرف دعوت دینے والے۔

1۔میں اللہ کی طرف سے تمام لوگوں کی طرف آنے والا رسول ہوں
حضرت امام جعفر صادق ؑ رسول خدا ؐسے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت
یوم ندعوا کل اُناس بامامھم
نازل ہوئی تو فرمایا کہ تمام لوگوں کوان کے امام کے نام سےپکارا جائےگا
سوال کیا گیا کہ یا رسول خدا ؐکیا آپ تمام لوگوں کے لئے امام نہیں ہیں؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ میں اللہ کی طرفسے تمام لوگوں کی طرف رسول ہوں لیکن میرے بعد تمام لوگوں کے لئے امام جو اللہ کی طرف سے ہوں گے وہ میری اہل بیت ؑ سے ہوں گے جو لوگوں میں قیام کریں گے پس لوگ ان کی تکذیب کریں گے اور آئمہ کفر و ضلالت اور ان کے ماننے واے ان پر ظلم کریں گے پس جو ان کی اتباع کرے گا اور ان سے محبت کرے گا اور ان کی تصدیق کریں گا وہ میرا ہے اور میرے ساتھ ہے۔ وہ عنقریب مجھ سے ملاقات کریں گا اور جو ان کی تکذیب کرے گا وہ میرا نہیں اور وہ میرا ساتھ نہیں ہوگا اور میں اس سے بری ہوں۔

قرآن میں دو طرح کے امام ہیں :
جناب طلحہ بن زید بیا ن کرتے ہیں کہ حضرت ابو عبداللہ نے فرمایا کہ کتاب خدا میں امام دو طرح کے ہیں۔ اللہ تعالی ٰ نے قرآن میں فرمایا
وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ ٱلۡخَيۡرَٰتِ
اور ہم نے ان کو ائمہ قرار دیا ہے جو ہمارے امر کے ساتھ ہدایات کرتےہیں ۔ وہ لوگوں کے کہنے پر ہدایات نہیں کرتے بلکہ وہ لوگو ں کے بجائے ہمارے امر کو مقدم رکھتے ہیں اور لوگو ں کی خواہش کے حکم کے بجائے وہ اللہ کے حکم کے مطابق حکم کرتے ہیں۔
وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ
اور ہم نے ان کو ایسے امام قراردیا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں،
یہ اللہ کے حکم پر لوگوں کی حکم کو مقدم رکھتے ہیں اور لوگوں کے امر کوخداکے امرپر مقدم رکھتے ہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق حکم کرتے ہیں جو کتاب خدا کے خلاف ہوتاہے۔

1۔ اللہ زمین کو بغیر امام کےنہیں چھوڑتا:
امام محمد باقر سےامام صادق علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ اللہ زمین کو امام سے خالی نہیں چھوڑتا اور اگر ایسا کر ے گا ۔ تو پھر حق کی باطل سے شناخت و تشخیص نہیں ہو سکے گی۔

2۔اللہ زمین کو امام عادل کے بغیر نہیں چھوڑتا:
امام صادق ؑ نےفرمایا ۔ اللہ زمین کو عادل امام کے بغیرنہیں چھوڑ تا

3۔اما م کے بغیر زمین لرز جائے گی:
امام محمد باقرؑ نے فرمایا : اگر امام کو ایک لحظہ کے لئے زمین سے اٹھالیا جائے توزمین اس طر ح لر زے جیسے کہ دریا کی امواج “۔
تین علامات سوائے امام کے کسی میں نہیں ہوتیں
1۔اپنے سے قبل والے امام کے نزدیک سب سے زیادہ قریبی ہوگا ۔
2۔رسول خداؐ کا اسلحہ اس کے پاس ہوگا ۔
3۔ سابقہ امام کی وصیت اس کے بارے میں اس قدر مشہور ہوگی کہ جس سے بھی سوال کروگے اس کا نام لیا جا ئے گا حتی کہ مسافروں اور بچوں سے بھی سوال کروگے کہ امام نے کس کے بارے میں کی ہے؟تو لوگ کہیں گے کہ فلان بن فلان ہے ۔
معاویہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر علیہ السلام سے عرض کیا کہ امام کے بعد آنے والے امام کی علامت کیا ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
1۔ولادت کا پاک ہونا (یعنی حرام زادہ امام نہیں ہو سکتا)
2۔اچھی تربیت کا مالک ہو گا۔
3۔لہو ولعب وکھیل کود میں وہ مبتلا نہ ہوتا ہو۔

3۔امام خدائی عہدہ ہے جو یک بعد دیگر منتقل ہو تا ہے
ابو بصیر بیان کرتے ہیں کہ میں حضر ت ابو عبد اللہ امام صادق ؑ کی خدمت اقدس میں موجود تھا ۔ تو آپ کے سامنے اوصیاء کا تذکرہ شر وع ہوا تو میں نے وہاں آپ کے بڑے بیٹے اسماعیل کا نام اوصیا کی فہرست میں ذکر کیا۔آپ علیہ السلام نے فرما یا: اے ابو محمد نہیں خداکی قسم یہ اختیار ہمارے پاس نہیں ہے یہ اختیار فقظ اللہ کے پاس ہے خدا اپنے اس عہدے کو یکے بعد دیگرے نازل کرتا ہے۔

4۔یہ اللہ کا عہدہ ہے:
جناب عمروبن اشعت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ سے سناہے کہ آپ نے فرمایا :اے عمرو :کیا تم یہ گمان کر تے ہو کہ ہم میں جو امام و امامت کی وصیت کر تا ہے وہ جس کو چاہتا ہے وہ اس امر امامت کی وصیت کرتاہے ۔نہیں خدا کی قسم ایسانہیں ہے بلکہ یہ خدا ئی و الٰہی عہدہ ہے جو خدا اور اس کے رسول کی طر ف سے کسی کے لیے معین ہو تا ہے یہاں تک ایک شخص سے دوسرے شخص سے ہو تا ہو ااپنے صاحب تک آتا ہو( یعنی کسی امام کو خود اختیا ر نہیں ہے کہ وہ خود سے اپنا و صی قرار دے)۔

5۔وصی کا فیصلہ علم پر ہو تا ہے:
جناب معاویہ بن عمار بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام ابو عبداللہ الصادق ؑ نے فرمایا: یقینا امام خدا کی طرف سے ایک عہد و پیما ن ہے جو بندوں کے ساتھ با ند ھا جا تا ہے اور اس کے لیے اس کے نزدیک وہ بندے ناموں کے ساتھ معین ہوتے ہیں کسی امام کو حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے بعد خدا کے نامزدامام سے امامت کو دور کر سکے ۔ بلکہ جس کو خدا نے معین کیا ہو ہے اس تک اس امر کو امامت کا پہچانا ضروری ہے۔

6۔ امام اس وقت تک نہیں مرتا”
حضرت عبداللہ نے فرمایا کوئی عالم (امام) نہیں مرتاحتیٰ کہ خدا اس کو تعلیم دیتا ہے کہ اس کے بعد والا امام کون ہے جس کو وہ وصیت کرے۔

نتیجہ
مندرجہ بالا دلائل کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہر دور میں ایک امام کا ہوناضروری ہے تا کہ امام لوگوں کو ظلمت سے نکال کر راہ حق اور راہ ہدایت کی جانب دعوت دے اور امام زمین میں اللہ کا نائب ہے ۔امام کا تعین خداوندعالم مشخص کرتا ہے لوگوں کوامام مقررکرنے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ خدائی عہدہ ہے اور اللہ ظالمین کو کسی بھی قوم کے لیے امام و ھادی نہیں بناتا اور امام بننے کے لیے کچھ شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے۔ عصمت ،علم غیب،اورامام کا اپنے بعد والے امام کو معین کرنا اور جانشین رسولؐ کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔

فہرست منابع
القرآن المجید
1. ، شیرازی ،ناصر مکارم ،صفدر حسین نجفی ، تفیر نمونہ،لاہور: مصباح القرآن،بی چا:2011۔
2. از او دائرۃ اعصارف و یکنپیڈ یا؛ ابن منظور محمد بن مکرم ۔لسان العرب ،
3. املی شیخ مفید،ومناقبابن معازنی
4. تفتازانی،شرح المقاصد۱۴۰۹ق،
5. تقی، مصباح یزدی، محمد مصباح یزدی ،آموزش عقائد۔ ، آموزش عقائد، تہران، نشر بین الملل، ۱۳۷۷ش
6. حلی الباب الھادی عشری،ش۱۳۶۵،ص۶۶؛فاضل مقداد،ارشاد الطالبین،ق۱۴۰۵،ص۳۲۵،۳۲۶،فاضلمقداد،اللوامع الالہیۃ،ق۱۴۲۲،ٓص۳۱۹،۳۲۰۔
7. الطبا طبائی، سید محمد حسین ،المیزان فی تفسرآن ،پاکستان :مکتبہ جدید پریس،چاپ:دوم2009۔
8. طوسی، نصیرالدین، تلخیص المحصل، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۵ق، چاپ دوم
9. کلینی،محمدبن یعقوب،الکافی،تھران:دارلکتب الاسلامیۃ،چاپ:چھارم،
10. لویس معلوف،(مترجم،ابولالفضل عبدالحفیظ بلیاوی۔)۔المنجد عربی اردو،لاہور: مکتب رحمانیہ،بی چا:بی تا۔
11. مظفر، شیخ محمد رضا ،عقائد امامیہ، مترجم :سید محمد نقوی نجفی
12. مولوی، فیروز الدین ،فیروز الغات اردو جامع، لاہور:فیروز سنزلمٹڈ،چاپ:پنجم،2012ء
13. نجفی ،محسن علی ،الکوثر فی تفسیر القرآن،لاہور:مصباح القرآن ،چاپ:اول،محرم الحرم،