جماعت کا حکم صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

جماعت کا حکم


فرض نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے لئے تاکیدی حکم قرآن وحدیث کی روشنی میں موجود ہے۔
چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ
یعنی رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
اس سے مراد نماز کی باجماعت ادائیگی ہے۔ باجماعت نماز سے ایک طرف حکم الہی کی تابعداری میں اجتماعیت کا آفاقی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ اتحاد واتفاق کی بھی مظہر ہے۔ چنانچہ تاکیدی حکم یہ ہے کہ حتی الامکان جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کی جائے۔ نماز جماعت کی فضیلت احادیث میں یوں بیان ہوئی ہے۔ جماعت کے ساتھ ایک رکعت نماز کا ثواب انفرادی طور پر پڑھی جانے والے دس رکعت نماز سے زیادہ ہے۔ شرعی عذر کے بغیر جماعت ترک کرنے والوں کے لئے سختی سے توبیخ آئی ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔
تَارِکُ الْجَمَاعَۃِ مَلْعُوْنٌ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالزَّبُوْرِ وَالْفُرْقَانِ
ترجمہ: جماعت ترک کرنے والا توریت ، انجیل، زبور اور قرآن کی روشنی میں لعنت کا مستحق ہے۔
لہٰذا پنجگانہ نماز کی باجماعت ادائیگی کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
جماعت کے آداب
۱۔ ارکان و واجبات اور مسنونات کی ادائیگی میں امام کی پیروی ضروری ہے۔
۲۔ امام سے صف میں آگے کھڑا ہونا جائز نہیں ۔
۳۔ امام سے دو رکن پیچھے رہنا جائز نہیں۔
۴۔ سری نمازوں (ظہر، عصر) میں کوئی بھی سورہ پڑھ لیں اس میں امام کے ساتھ مطابقت لازمی نہیں ہے۔
۵۔ امام ظاہر الفسق ہو تو ماموم کو بھی امام کے ساتھ اپنی قرائت پڑھنا ضروری ہے۔
۶۔ جماعت میں دوسری یا چوتھی رکعت کے دوران پہنچنے پر ماموم کو پہلی اور تیسری رکعت میں ایک تشہد کی اضافی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
جماعت کی ادائیگی کی صورت میں یوں نیت کی جائے۔
٭… نماز صبح باجماعت
اُصَلِّیْ فَرْضَ الصُّبْحِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
٭… نماز ظہر باجماعت
اُصَلِّیْ فَرْضَ الظُّہْرِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
٭… نماز عصر باجماعت
اُصَلِّیْ فَرْضَ الْعَصْرِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
٭… نماز مغرب باجماعت
اُصَلِّیْ فَرْضَ الْمَغْرِبِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
٭… نماز عشاء باجماعت
اُصَلِّیْ فَرْضَ الْعِشَائِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
٭… نماز جمعہ
اُصَلِّیْ فَرْضَ الْجُمُعَۃِ بِالْجَمَاعَۃِ اَدَآئً لِّوُجُوْبِہِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ
نوٹ : نماز جمعہ جماعت کے بغیر جائز نہیں۔ لہٰذا جو شخص نماز جمعہ باجماعت نہ پڑھ سکے اسے ظہر کی نماز پڑھ لینی چاہئے۔ باقی نمازوں کی با جماعت اور انفرادی دونوں نیات علیحدہ دی گئی ہیں۔ جماعت کی صورت میں نیت کے بعد تکبیرۃ الاحرام کو بلند آواز میں پڑھنا سنت ہے۔