موجبات روزہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

موجبات روزہ


وَ اَمَّا مُوْجِبَاتُہُ فَالْبُلُوْغُ وَ الْعَقْلُ وَالْاِسْلَامُ وَ اِحَاطَۃُ الْعِلْمِ بِھِلَالِ رَمَضَانَ وَ ھِیَ تَحٍصُلُ اِمَّا بِرُؤْیَۃِ الْھِلَالِ اَوْ بِشَھَادَۃِ عَدْلٍ اَوْ بِاِکْمَالِ شَعْبَانَ ثَلَا ثِیْنَ یَوْمًا اَوْ بِمَعْرِفَۃِ بُعْدِ مَا بَیْنَ النَّیِّرَیْنِ وَقْتَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ اِثْنَتَیْ عَشْرَۃَ دَرَجَۃً اَوْ اَکْثَرَ وَالنَّقَائُ مِنَ الْحَیْضِ وَ النِّفَاسِ شَرْطٌ لِّصِحَّۃِ الصَّوْمِ لَا لِوُجُوْبِہِ ۔
روزہ واجب کرنیوالی چیزیں: ۱۔بالغ ہونا۲۔عقلمند ہونا ۳۔مسلمان ہونا ۴۔رمضان کے ہلال کا مکمل علم ہونا۔ یہ عمل خود چاند کو دیکھ کر یا کسی عادل کی گواہی سے حاصل ہوگایا ماہ شعبان کے تیس دن پورا ہونے یا غروب آفتاب کے وقت نیرین (سورج و چاند) میںبارہ درجے یا زائد فاصلے کی پہچان سے حاصل ہوگا۔ روزے کی صحت کے لئے حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے نہ کہ وجوب کیلئے ۔