نباتات پر زکوٰۃ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

نباتات پر زکوٰۃ


کن نباتات پر زکوٰۃ واجب ہے

وَ اَمَّا النَّبَاتُ مِنَ الْغَلاَّتِ فَالْحِنْطَۃُ وَ الشَّعِیْرُ وَ مِنَ الثِّمَارِ اَلتَّمَرُ وَ الزَّبِیْبُ رَطْبُھُمَا وَ یَابِسُھُمَا فَلَا زَکٰوۃَ فِیْ شَیْئٍی مِّنْھَا اِلاَّ بَعْدَ النِّصَابِ وَ ھُوَ خَمْسَۃُ اَوْسُقٍ وَھُوَ بِالْمَنِّ الصَّغِیْرِ ثَمَانِ مِائَۃِ مَنٍّ وَبِالْمَنِّ الْکَبِیْرِ الَّذِیْ وَزْنُہُ سِتُّمِائَۃِ دِرْھَمٍ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَّ سِتَّۃٌ وَّ اَرْبَعُوْنَ مَنًّا وَّ ثُلُثَا مَنٍّ تَقْرِیْبًا۔
غلہ جات میں نباتاتی اشیاء میں گند م اور جَو۔ پھلوں میںکھجور اورکشمش، چاہے دونوں تر ہو یا خشک پر زکوٰۃ واجب ہے۔ان میں سے کسی پر بھی زکوٰۃ نصاب کے بعد ہی واجب ہوتی ہے یہ نصاب پانچ وسق کا ہوناہے،یہ تعداد من صغیر کے حساب سے آٹھ سو من ہے اورچھ سو درہم کے وزن کے برابر ہے اور من کبیر کے حساب سے تین سوچھیا لیس اور تقریباً دوتہائی من ہے۔

نباتات پر زکوٰۃ کب واجب ہوگی ؟

وَ تَتَعَلَّقُ الزَّکٰوۃُ بِھَا وَقْتَ حُصُوْلِھَا فَلِلْحِنْطَۃِ وَ الشَّعِیْرِ بَعْدَ تَنْقِیَتِھِمَا مِنَ التِّبْنِ وَ لِلتَّمَرِ وَ الزَّبِیْبِ وَقْتَ الْاِحْمِرَارِ وَالْاِصْفِرَارِ یَعْنِیْ لَا تَأثِیْرَ لِحَوْلَانِ الْحَوْلِ فِی النَّبَاتَاتِ فَاِنَّھَا اِنْ حَصَلَتْ بِمَائِ السَّمَائِ اَوِ الْیَنَابِیْعِ وَ الْقَنَوَاتِ فَفِیْھَا الْعُشْرُ وَ اِنْ حَصَلَتْ بِالنَّوَاضِحِ اَوِ الدَّوَالِیْ اَوِ الدَّوَالِیْبِ فَفِیْھَا نِصْفُ الْعُشْرِ وَ لَا یَنْبَغِیْ اَنْ یُّخْرَجَ الْعُشْرُ مِنْھَا اِلَّا بَعْدَ مَؤُوْنَۃِ اَسْبَابِھَا۔
ان چیزوں پر زکوٰۃ ان کے حصول کے وقت کیساتھ لازم ہوگی۔ چنانچہ گندم اور جَو پر انکے بھوسے سے الگ ہوتے ہی اور کھجو ر اور کشمش پر سرخ اور زرد رنگت کے وقت زکوٰۃ واجب ہوگی یعنی نباتات میں سال گزرنے کی شرط نہیں ۔یہ اگر بارش یاچشمو ں یانہری پانی سے حاصل ہوئی ہو تو دسواں حصہ اور اگر رہٹ ‘ ڈھول یاحیوان کے ذریعے حاصل کردہ پانی سے ہوئی ہو تواس میں بیسواں حصہ واجب ہے۔ عشر اسکے اسباب کے اخراجات کے بعد ہی ادا کیاجائے