نائب بنا کر حج کر وانا کن پر واجب ہے ؟ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

نائب بنا کر حج کر وانا کن پر واجب ہے ؟


وَیَجِبُ ذَالِکَ عَلٰی مَنْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْحَجُّ وَعَلِمَ اَنَّ مَوَانِعَہُ لَا تُرْفَعُ فِیْ مُدَّۃِ عُمْرِہِ قَطُّ وَعَلٰی مَنْ مَاتَ وَاَوْصٰی اَنْ یَّحُجَّ عَنْہُ فَوَجَبَ اَنْ یُّخْرِجَ الْوَرَثَۃُ اُجْرَۃَ الْحَجِّ مِنْ مَّالِہِ اَوَّلًا کَالدَّیْنِ فَیَقْسِمُوْا مَا بَقِیَ وَاِنْ لَّمْ یُوْصِ یَسْتَحِبُّ لِلْوَرَثَۃِ اَنْ یَّسْتَاْجِرُوْا مَنْ یَّحُجُّ عَنْہُ۔
۱۔ یہ اس پر واجب ہے جس پر حج واجب ہواو ر جانتا ہو کہ حج کی رکاوٹیں اسکی زندگی میں کبھی ختم نہیں ہونگی۔۲ ۔ جو مر گیا ہو اور یہ وصیت کر گیا ہو کہ اس کی طرف سے حج کی ادائیگی کی جائے۔ اس کے ورثا پر واجب ہے کہ قرض کی طرح پہلے اس کے متروکہ مال سے حج کی اجر ت نکالے پھر جو باقی بچے اسے تقسیم کرے۔ اگر وصیت نہ کی ہو تو کسی کو حج کیلئے اجرت پر لینا ورثا پر مستحب ہے