جامعہ کا نشرواشاعت میں کردار صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

جامعہ کا نشرواشاعت میں کردار


اعجاز حسین غریبی
نشر و اشاعت کسی بھی شعبہ زندگی میں معلومات کے پھیلائو میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ کتابیں، رسائل، اخبارات ہی ہیں جن کے ذریعے انسان اپنے مدعا کو اچھے الفاظ میں لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں جدید الیکٹرانک ذرائع ابلاغ بھی ایک اہم ذریعہ بنتا جارہا ہے۔ لیکن کتابوں کو ہر حال میں یہ فوقیت حاصل رہے گی کہ اس کا وجود استقلالی ہے اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر و اشاعت وقتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے مافی الضمیر کو کتاب کے صفحات میں قید کرے تو جب تک کتاب موجود ہے یہ تحریر لوگوں تک پہنچتی رہے گی لیکن اگر اسے ٹی وی یا ریڈیو سے نشر کرائی جائے تو نشریاتی دورانیہ ہی اس کی زندگی ہے۔ اس کے بعد اس کا کوئی وجود ختم ہو جاتا ہے۔
دینی علوم کے فروغ میں بھی تحریر، تقریر کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسلامی تعلیمات کا پائیدار فروغ صرف نشرو اشاعت ہی سے ممکن ہے ۔
نوربخشی دنیا میں نشرو اشاعت کی تاریخ کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔ گزشتہ چند عشرے پہلے تک قلمی نسخوں پر اکتفا کیا جاتا رہا اور بدقسمتی سے جب طباعت کا کام شروع ہوا تو کئی کتابیں تحریفات کا شکار ہوئیںاور کئی نوربخشی کتابوں کو اسلئے شائع کیا گیا کہ نوربخشی اعمال و عقائد کو تبدیل کر دیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کتابوں میں ایسے عقائد بھی بیان کئے گئے جن کا غوث المتاخرین سید محمد نوربخشؒ اور قطب الاقطاب امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ تعلیمات سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ بعض ایسی کتابیں بھی منظر عام پر لائی گئیں جو لکھی بعد میں گئی تھیں لیکن انہیں نوربخشی بزرگان دین کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔
ایسی ناگفتہ بہ حالات میں جناب پیر طریقت سید عون علی عون المومنین ؒ کی تائید اور کاوشوں سےجامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کراچی نے جنم لیا۔ یہاں سے فارغ التحصیل علما ء نے دیگر علمائے کرام کی رہنمائی میں نشر و اشاعت کا بیڑا اٹھالیا تاکہ نوربخشی بزرگان کی اصل تعلیمات کو عام کیاجاسکے ۔ اس کوشش کے نتیجے میں اب تک مندرجہ ذیل کتابیں عوام الناس کے ہاتھوں کی زینت بن چکی ہیں۔ اکثر کتابوں کو جامعہ ہی نے جبکہ بعض کتابیں دوسری انجمنوں اور مدارس نے شائع کی ہیں۔

شائع شدہ کتابوں کا اجمالی جائزہ

۱۔ کتاب الربض
 یہ کتاب واقعات کربلا پر مشتمل ہے۔ پیرطریقت سید محمد اکبر شرف الاخیار کے حکم سے اخوند نصیب علی بلغاری نے لکھی اور انجمن فلاح وبہبود چھوغوگرونگ سرموں کراچی کے زیر اہتمام کراچی سے شائع ہوئی۔
۲۔ انسان نامہ
یہ کتابچہ غوث المتاخرین حضرت سید محمد نوربخشؒ کا ہے۔ انسان کی پہچان اس کا موضوع ہے۔ جناب علامہ پروفیسر سید حسن شاہ شگری نے ترجمہ کیا ہے ۔
جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی
۳۔ نفس شناسی شاہ سید محمد نوربخش ؒ 
اس کتابچہ کا موضوع نفس اور اس کی پہچان ہے۔ جناب علامہ پروفیسر سید حسن شاہ شگری نے ہی ترجمہ کیا ہے ۔
۴۔ منہاج العارفین :
امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کا اخلاقیات کے موضوع پر مختصر مگر جامع رسالہ ہے۔ علامہ شیخ سکندر حسین پرنسپل جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی نے ترجمہ کیا ہے ۔
۵۔سراج الاسلام فقہ احوط (نسخہ چھاپی) :
یہ کتاب شاہ سید محمد نوربخشؒ کی معرکۃ الآرا تصنیف فقہ الاحوط کو قلمی شکل سے عکسی شکل میں لانے کی پہلی کوشش ہے۔ چونکہ یہ کتاب بالکل نایاب ہو رہی تھی اسلئے انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی نے شائع کرکے محفوظ کیا۔ یہ کتاب پیر طریقت حضرت میر مختار اخیارؒ کے فارسی ترجمہ اور شرح پر مشتمل ہے۔
۶۔ سراج الاسلام فقہ احوط (قلمی نسخہ )
مذکورہ بالا کتاب کی اشاعت کے بعد معلوم ہوا کہ جناب پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی کے ہاں اس کتاب کا اصل نسخہ موجود ہے اور ان کی خواہش بھی تھی کہ اس قلمی نسخے کو ہی جدید طریقے سے اسکین کرکے شائع کیا جائے۔ چنانچہ انتہائی احتیاط کیساتھ اسکین کرکے دیدہ زیب جلد بندی اور ٹائٹل کیساتھ انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی نے شائع کیا۔
۷۔ فقہ احوط عربی ایڈیشن:
حضرت شاہ سید محمد نوربخشؒ کی اس مایہ ناز کتاب کی پہلی بار کمپیوٹرکے سافٹ ویئر ان پیج میں جدید ترین عربی فونٹس کیساتھ شائع کرنے کا اعزاز بھی انجمن ہی کو حاصل ہے ۔ یہ نسخہ مدارس میں تدریس کی غرض سے شائع کیا گیا۔ عربی عبارات اعراب سے مزین ہیں اور انتہائی جاذب نظر اور خوبصورت تحفہ ہے۔
۸۔ مجموعۂ رسائل :
اس مجموعے میں امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کے تین رسائل ، السبعین فی فضائل امیر المومنینؑ، چہل حدیث اور رسالہ در معرفت مذاہب اہل تصوف شامل ہیں۔ ان تینوں کا ترجمہ حقیر اور میرے ہم جماعت جناب علامہ غلام عباس کی کاوشوںکا نتیجہ ہے۔ جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی نے اسے خوبصورت جلد بندی کیساتھ شائع کیا ہے ۔
۹۔ کشف الاصل: 
مسلک کے نام کے حوالے سے تاریخی دستاویزات پر مشتمل ایک چھوٹا سا کتابچہ ہے۔ جس میں نوربخشی کتابوں، مساجد پر بورڈز، تاریخی تقریبات، انجمنوں کے قواعد و ضوابط کے کاغذات، رسیدوں ، لیٹر ہیڈز اور دیگر دستاویزات میں لفظ ’’صوفیہ امامیہ نوربخشیہ‘‘ کو ثابت کیا گیا ہے۔
۱۰۔ سیرۂ معصومین
چہاردہ معصومین کی سوانح حیات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے طلاب کی مشترکہ کاوش ہے ۔ کتاب کی اشاعت سے قبل ۱۹۹۸ میں علمائے کرام نے کتاب کے مسودے کا معائنہ بھی کیا ۔ ان علمائے کرام میں جناب مفتی محمد عبد اللہ مرحوم بھی شامل تھے۔کتاب چونکہ چہاردہ معصومین ؑ کی سوانح پر مشتمل تھی اس لئے نوربخشی کتابوں میں تحریف کرکے اغیار کی عقائد پرچار کرنے والوں کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اسے اپنے مشن کیلئے ایک کاری ضرب گردانا اور کتاب کو متنازعہ بنانے کی ٹھان لی۔ نتیجتاً ایک نام نہاد فتویٰ سامنے لایا گیاجن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر دستخط کرنےوالوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود مرتد ہیں۔ توہین صحابہ، توہین صحابیات، توہین اہل بیت ؑ کرچکے ہیں اور عدالتوں میں اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ ان میں سے کوئی درزی ہے، کسی نے مدرسے کا دروازہ تک نہیں دیکھا اور لطف کی بات یہ ہے کہ کوئی مفتی صاحب ایم اے اسلامیات لکھوا بیٹھے لیکن بعد میں پکڑے گئے کہ انہوں نے یہ کام کیا ہی نہیں تھا ۔ دو سال بعد ہی انہیں ایم اے کرنا نصیب ہوا۔ پانچ بزرگان یہ لکھ کر دے چکے ہیں کہ انہیں دھوکہ دہی سے سادہ کاغذ پر دستخط پر مجبور کیا گیا اور بعد میں اسے فتویٰ کا حصہ بنادیا گیا ۔ کتاب کو چودہ افراد نے لکھا لیکن صرف شیخ سکندر حسین کو نشانہ بنایا گیا اب بھی دھڑلے سے کہتے ہیں کہ فتویٰ صرف شیخ کیخلاف ہے۔ شیخ سکندر حسین فتویٰ کی عین تحریر کے وقت سکردو میں موجود تھے۔ انہیں بلانا اور پوچھنا شرعی تقاضا تھا ان کا اور چودہ شاگردوں کا موقف لئے بغیر کیا اتنا بڑا فیصلہ کیا جاسکتاتھا؟ دنیا کے تمام قاضی، ججز، علما، پنچایت، جرگہ، ثالثین کے ہاں جواب ناں میں ہے لیکن چونکہ ہمارے مفتی حضرات انوکھے ہیں اس لئے ان کے فیصلے بھی اسی طرح انوکھے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنے زعم میں کسی کو دین سے نکالنا ہوتا ہے شرعی تقاضوں سے اتفاقا کبھی واسطہ نہیں رہا۔
معاملہ گانچھے کی عدالت ، علما، انتظامیہ کی موجودگی میں حل ہونے کے باوجود کراچی میں گزشتہ پندرہ سالوں سے زیر سماعت نجی استغاثہ ان کی ذہنی عکاسی کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے کراچی کی عدالتوں میں چیلوں کی ہزاروں چپل گھس چکی ہیں لیکن وہ ان دوستداران اہل بیت کو نیچا نہ دکھا سکے۔ رہی سہی کسر سانگھڑ کیس میں پوری ہو گئی۔ ہم نے ان کے اس فتویٰ کو کراچی کی عدالت میں چیلینج کیا ہوا ہے لیکن یہ نام نہاد مفتی عدالت کے سامنے فتویٰ کی تصدیق کرنے اور اس کی ذمہ داری اٹھانے سے کترا رہے ہیں ۔ میرا مشورہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق فتویٰ دینے کے دعوے کرنیوالوں کو چاہئے کہ معزز عدالت کے سامنے اپنا فتویٰ ثابت کریں اور ہمارے اعتراضات کا جواب دیں۔
۱۱۔ رسالہ فرقان
یہ رسالہ معلم دوران، مقرر بے مثل، اسیر نارا جناب علامہ شیخ سکندرحسین نے حریفان حرم کے الزامات اور قرآن پاک کے بارے بدگوئی کے بعد ترتیب دیا ہے جس میں کتاب مقدس کے بارے میں تمام اسلامی مکاتب فکر کے علمائے کرام کی رائے گرامی کو سامنے رکھ کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن پاک میں کسی قسم کی تحریف ناممکن ہے اور یہی قرآن اصل ضابطہ حیات بشری ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔ اس کتابچہ کو بھی جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی نے شائع کیا۔
۱۲۔ تحفہ نوربخشیہ
 پاکٹ سائز میں دعوات صوفیہ امامیہ اور فقہ الاحوط سے استعمال عام کیلئے ضروری احکامات پرمشتمل یہ کتابچہ اللہ کے فضل و کرم سے کچھ زیادہ ہی مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔ پاکستان میں پانچ اشاعتوں کے علاوہ ہندوستان کے نوربخشی بھائیوں کے زیر اہتمام بھی شائع ہو چکا ہے۔ پاکٹ سائز ہونے کی وجہ سےساتھ رکھنا اور استفادہ کرنا نہایت آسان ہے۔
۱۳۔ قاعدہ نوربخشی
 دو حصوں پر مشتمل ہے نوربخشی بچوں کیلئے حروف شناسی اور اسلام شناسی پر مشتمل یہ دونوں حصے حقیر سمیت علمائے صوفیہ امامیہ نوربخشیہ نے تیار کئے ہیں ۔ انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی نے اس کی مسلسل اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔
۱۴۔ عقائد نوربخشیہ
نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ علامہ شیخ محمد محسن اشراقی اصول عقائد کو سوالا جوابا انتہائی واضح، سلیس اور آسان زبان میں بیان فرمایا ہے۔ انجمن فلاح وبہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی نے اس کی اشاعت کی سعادت حاصل کی ہے ۔
۱۵۔ رسالہ فی الفتوۃاز علاؤالدولہ سمنانیؒ
نوجوان محقق، شعلہ بیان مقرر جناب علامہ سید بشارت حسین تھگسوی نے ترجمہ کیا ہے ۔ کتاب کا موضوع فتوت ہے اور میں راہ سلوک میں جوانمردی کے تمام اصولوں بیان کئے گئے ہیں۔ جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔
۱۶۔ رسالہ منہاج السالکین
حضرت پیر طریقت شیخ نجم الدین کبریٰ کا تالیف کردہ یہ رسالہ اسم بامسمّیٰ ہے یعنی اس رسالہ میں سالکین راہ کیلئے خدا تک رسائی کی جانب رہنمائی کی گئی ہے ۔ نوجوان محقق، معلم اور مقرر مولانا حسن شاد نے اس کا بہترین پیرائے میں ترجمہ کیا ہے اور اس کی اشاعت کی سعادت جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی نے حاصل کی ہے۔
۱۷۔ چہل حدیث فی فضائل امیر المومنین
امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کا تالیف کردہ یہ رسالہ مولی المومنین علی ابن ابی طالب ؑ کے فضائل پر مشتمل ہے۔ حقیر نے اس کا ترجمہ کیا ہے یہ کتابچہ اس سے قبل مجموعہ رسائل میں شامل اشاعت ہو چکا ہے جبکہ مدرسہ شمس العلوم صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کھرکوہ تھنا نے اس کی اشاعت کے اخراجات برداشت کئے ہیں۔
۱۸۔جواہر الایمان
چہل حدیث امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ ہی کی تصنیف ہے جس میں ایسی احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں ایک باایمان اور بااخلاق شخص کے خصائل بیان کئے گئے ہیں۔ حقیر نے اس کا ترجمہ کیا ہے جبکہ مدرسہ شمس العلوم صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کھرکوہ نے ہی اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے ۔
۱۹۔ قطب عالم امکان
جناب علامہ سید علی الموسوی فاضل قم ایران کی تالیف ہے جس میں امام حجت ، حضر ت مہدی دوران عجل اللہ ظہورہ کے بارے میں تاریخی حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت میں جامعہ آل رسول صوفیہ امامیہ نوربخشیہ خپلو خاص نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔
۲۰۔ سلاح المومن
کراچی میں مقیم نوربخشی غیور خواتین کے اصرار پر دعا کی شرائط، طریقہ سمیت بزرگان ماسلف کی دعائوں پر مشتمل یہ کتابچہ مولانا محمد جلیل شگری نے ترتیب دیا ہےاور اسے خواتین کی درسگاہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کراچی نے شائع کیا ہے۔
۲۱۔ سادات نامہ:
امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی تالیف کردہ اس کتابچہ میں سادات کی فضیلت سے متعلق احادیث جمع ہیں۔ جناب علامہ سید بشارت حسین نے حسین ترجمہ کیا ہے جبکہ السادات شارگو ویلفیئر ٹرسٹ نے شائع کیا ہے۔
۲۲۔ اعتقادات نوربخشیہ اور تاریخ نوربخشیہ
جناب علامہ شیخ محمد یونس کی تالیف کردہ اس کتاب کو انجمن فلاح وبہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈکراچی نے شائع کیا ہےکتاب میں نوربخشی اعتقادات اور تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
۲۳۔ روضۃ الفردوس
امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی یہ کتاب نوربخشی بزرگان دین کی حدیث پر لکھی جانیوالی انتہائی ضخیم کتاب ہے اور پہلی بار انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ نے اسے آپ کے ہاتھوں تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی ہے۔ فاضل مترجم علامہ سید بشارت حسین تھگسوی نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب نے نوربخشیوں کے حدیث کی تشنگی کو پورا کیا ہے۔
۲۴۔ رسالہ خواص اہل باطن، واسناد حلیہ رسول
 دو رسائل پر مشتمل اس مجموعہ میں امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کے مبارک قلم سے اہل باطن کی خاصیتوں اور حضرت ختمی المرتبت ﷺ کے شمائل مبارک کی تفصیل دی گئی ہے۔ نوجوان مترجم علامہ سید بشارت حسین الموسوی نے ترجمہ کیا ہے اور جامعہ آل رسول صوفیہ امامیہ نوربخشیہ خپلونے لوگوں کے ہاتھوں کی زینت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
یہ وہ کتابیں ہیں جو شائع ہو چکی ہیں اور ان کے علاوہ درجنوں کتابیں زیر طبع ہیں جو عنقریب عوام کے ہاتھوں کو نور بخشیں گی۔
میں اس موقع پر جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی کے ممبران، انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی کے اراکین کے علاوہ جامعہ کی آبیاری کیلئے دامے، درمے اور سخنے ساتھ دینے والے تمام عوام الناس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ تمام اشاعتیں ان کی مخلصانہ کاوشوں اور تعاون کے بغیر ناممکن تھیں اور یقینا انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں ادا کیا ہے۔ جناب محمد حسن شاد خصوصی داد کے مستحق ہیں کیونکہ ان کتابوں کی کمپوزنگ اور خوبصورتی میں وہ لازوال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت شاہ سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی اور دیگر جید علمائے کرام کا سایہ ہم پر تا دیر قائم رہے کیونکہ اب تک کی کامیابیوں میں ان کی بہترین رہنمائی رہی ہے۔ بہترین قیادت میں اگر یہ کوششیں مستقبل مزاجی کیساتھ جاری رہیں تو انشاء اللہ نشرو اشاعت کا یہ کام تیزی سے جاری رہے گا۔