صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

جامعہ کی کامیابی میں اساتذہ کا کردار


بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحریر: سید بشارت حسین تھگسوی
(المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم المقدسہ ایران)
مقدمہ
قَالَ رَسُو لُ اللّٰہ :اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً
(شرح اصول کافی ج ۲ ص ۹۶)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :بے شک مجھے معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسلام نے جس قدر معلم (استاد) کی اہمیت اور فضیلت بیان کی ہے دوسرے مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ خود رسول عربی ﷺاپنا تعارف ایک استاد کے طور پر کراتے ہیں اور یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ کسی بھی معاشرے کی خوبی اور خرابی میں ایک مربی اور استاد کا ہاتھ ہے کیونکہ مربی اور استاد کی وابستگی صرف ایک شخص یا ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک اجتماعی ہستی ہے اگر استاد اور مربی بہتر ہو تو بد بخت ترین نسل انسانی سے بھی ایک بہترین شخصیت کی تربیت ممکن ہے ۔ تاریخ اسلام ایسی کئی مثالیں اپنے دامن میں چھپا بیٹھی ہے ۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی میں استادوں کا مرکزی کردار ہوا کرتا ہے۔ لہذا جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ (ٹرسٹ رجسٹرڈ) کراچی نے بھی نہایت نامساعد حالات کے باجود ایک مختصر وقت میں عوام الناس خصوصاً نوربخشیوں کے درمیان جو مقام حاصل کیا ہے اور ہر لحاظ سے ایک بہترین مادر علمی کے طور اپنے آپ کو منوایا ہے تو اس میں اس جامعہ کے مخلص اور بے لوث اساتذہ کرام کا مرکزی کردار ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی نوربخشی تاریخ میں جتنے مدارس ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں ان میں دیگر عوامل کے ساتھ استادوں کی بے توجہی بھی ایک اہم وجہ ہے ۔لہٰذا راقم اس مختصر مقالے میں جامعہ کی کامیابی میں استادوں کے کردار کے حوالے سے چند جملے آپ کی نذر کرنے کی کوشش کروں گا۔
اساتذہ کا تعارف
سب پہلے ضروری ہے کہ اب تک اس عظیم درسگاہ کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے والے ان ہستیوں کا مختصر تعارف پیش کروں تا کہ موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
۱۔ حضرت علامہ شیخ سکندر حسین
آپ نے 1956ء کو ایک علمی اور دینی گھرانے میں آنکھ کھولی ۔آپ کے والد محترم آخوند غلام محمد مرحوم کو بھی علمائے کرام میں خاص حیثیت حاصل ہے ۔ کیونکہ آخوند مرحوم نوربخشی دنیا کے معروف عارف و ولی آغا شاہ عباس المعروف بوا ٹلو اکے شاگردوں میں سے تھے۔ اسی لئے حضر ت علامہ شیخ سکندر حسین دامت ظلہ کو بھی بچپن سے ہی ایک علمی ماحول ملا ۔ آپ نے اپنے والد محترم سے ناظرہ قرآن مجید، دعوات صوفیہ امامیہ، فقہ احوط اور دیگر ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مزید حصول علم کے لئے1972ء میں اسلام آباد کا رخ کیا جہاں پر آپ نے جامعہ اہل بیت میں داخلہ لیا ۔ یہاں دو سال زیر تعلیم رہنے کے بعد مدرسہ آیت اللہ حکیم راولپنڈی میں جنوری 1982 تک حصول علم میں مشغول رہے۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان کے رہنما علامہ ساجد علی نقوی آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ اسی عرصے میں آپ نے وفاق المدارس (مساوی ایم اے عربی ،اسلامیات ) کا امتحان پاس کیا ۔اسلام آباد میں حصول تعلیم کے دوران شیخ صاحب نوربخشی گھروں میں بچوں کو قرآن اور ابتدائی احکام سکھانے جایاکرتے تھے اور اسی وقت ہی آپ وہاں پر موجود نوربخشیوں کے اصرار پر ایک گھر میں جمعہ بھی پڑھانے لگے۔ اس کے بعد راولپنڈی نوربخشی مسجد میں مکمل طور پر خطیب و امام کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے دینیات سینٹربھی چلاتے رہے ۔
اس کے بعد علمی پیاس بجھانے کے لئے حوزہ علمیہ قم ایران کا رخ کیا۔ چونکہ آپ مقدمات صرف و نحو، منطق ، اصول فقہ کی تعلیم پاکستان کے مدارس سے حاصل کرکے آئے تھے اس لیے قم میں موجود مدرسہ حجتیہ میں فروری 1982 سے پڑھائی شروع ہوئی۔ اس کے بعد آپ اس وقت کے مشہور استاد آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی کے درس خارج میں شرکت کرنے لگے ۔اسلامی حکومتی نظام کو سمجھنے کے لئے آپ آیۃ اللہ العظمیٰ منتظری کے درس ولایت فقیہ میں شرکت کرتے تھے۔ قم المقدسہ میں تعلیمی حصول کے ساتھ ساتھ آپ وہاں پر موجود کتابخانوں میں جاکر نوربخشی کتابوں کے خطی نسخے بھی جمع کرتے رہے۔ شیخ سکندر حسین اور سید محمد کاظمی میرواعظ سکسہ چھوربٹ نے شاہ سید محمد نوربخشؒکا آستانہ مبارک کی تعمیر کے لئے وہاں کے حکام سے رابطہ کیا اور آج مجتہد اعظم کا جو مقبرہ عالیشان انداز میں مرجع خلائق ہے اس میں آپ کا مرکزی کردار ہے۔
ایران میں طالب علمی کے دوران آپ اپنے گاؤں سلترو گرمیوں کی چھٹی پر آئے ہوئے تھے اس دوران پیر نوربخشیہ الحاج سید عون علی شاہ عون المومنینؒ کے حکم پر انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی کے بعض اراکین نے آپ کو کراچی میں مدرسے کے قیام اور اس میں بحیثیت استاد و مدیر خدمات سرانجام دینے کی دعوت دی۔ آپ کچھ عرصہ مزید علوم حاصل کرنے کے خواہشمند تھے مگر وقت کی ضرورت اور جناب رہبر شریعتؒ کے حکم کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی جانے کی حامی بھر لی۔ اس حوالے سے علاقہ خپلو کے سرکردہ منشی موسیٰ (ہنڈیلی) نے راقم کو ایک واقعہ سنایا ،وہ کہتے ہیں کہ : مجھے پیر سید عون علی نےحکم دیا کہ آج رات کسی سرکردہ کے گھر کھانے کا بندوبست کریں کیونکہ کراچی مدرسے کے استاد کے حوالے سے ایک اجلاس ہے ۔ میں نے پیر صاحب کے حکم کی تعمیل کی جب رات کو سب لوگ اجلاس کے لئے پہنچ گئے تو میں نے دیکھا ایک کالے رنگ کا جوان بھی تھا میں نے مذاق کے ارادے سے کہا کہ کون ہے یہ ؟ میں اسے دیکھوں تو صحیح ،اس وقت فقیر ابراہیم نے کہا کہ کیا دیکھنا ہے یہ ایک فرشتہ ہے۔ اس کے بعد خود فقیر صاحب نے اپنی جیب سے پانچ سو روپے شیخ صاحب کرایہ کے طور پر دیئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب کو کراچی بھیجنے کے حوالے سے تمام سرکردگان نوربخشیہ کااتفاق تھا۔ اس کے بعد ۱۹۹۰ء میں آپ کراچی تشریف لئے گئے۔ خود استاد کے بقول میں جب کراچی آیا تو مالی حالت بہت کمزور تھی اور انجمن کا منشور بہت بڑا تھا میں نے یہاں کے افراد کو لے کر کراچی کے ایک ایک گھر جا کر چندہ جمع کیا اور تمام نوربخشیوں نے دل کھول کر ساتھ دیا۔ بروز پیر 8اکتوبر 1990ء بمطابق 17 ربیع الاول یوم ولادت حضرت رسالت مآب ؐمدرسے میں باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہوا ۔اس کے بعد سے آج تک آپ خلوص اور محنت کے ساتھ اس جامعہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شیخ محمد محسن اشراقی
آپ ضلع گانچھے کے گاؤں بلغار میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد کا نام آخوند اسماعیل تھا۔ شیخ صاحب نے میٹرک کا امتحان 1981ء میں گورنمنٹ ہائی سکول خپلو سے پاس کیا۔ آپ کا تعلق ایک دیندار گھرانے سے ہے اور بچپن میں ہی نماز روزے کی پابندی کی بناء پر آپ کے ساتھی اس وقت سے ہی آپ کو آخوند محسن کہتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے کراچی کا رخ کیا وہاں پراہل سنت کے مدرسہ دارالعلوم قمر الاسلام میں داخلہ لیا۔ ڈیڑھ سال تک اس مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 06 ستمبر 1983ء کو آپ نے قم المقدسہ ایران کا رخ کیا۔ اکتوبر 1983ء کو مدرسہ حجتیہ میں داخلہ ملا۔ یہاں پر آپ نے اس وقت کے مشہور علماء و فضلا سے استفادہ کیا انکے علاوہ تصوف و عرفان کے مشہور استاد آقای نیکو نام کے درس میں پانچ سال تک شرکت کرنے کے ساتھ مشہور فلسفی و عارف استاد مصباح کے درس میں بھی باقاعدگی سے شرکت کی ۔ قم المقدسہ میں آپ کو نہ صرف نوربخشی طلاب بلکہ علاقہ خپلو کے تمام طلاب میں بھی ایک ممتاز مقام حاصل تھا اس وقت کے آپ کے ساتھی کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان جب شیخ محسن ہوتے تھے تو ہم پر ایک قسم کا رعب طاری ہوتا اور ہم میں کسی کو بھی ایک دوسرے سے مذاق کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ آپ نے قم میں نوربخشی طلاب کی درس و تدریس کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی۔ آپ کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ دوران طالب علمی میں بھی کبھی آپ سے تہجد کی نماز نہیں چھوٹی۔ آپ پر تمام طلاب کو مکمل اعتماد اور یقین تھا۔ اسی لئے دوسرے طلباء بھی اپنے گھر والوں کو پڑھانے کے لئے آپ کا ہی انتخاب کرتے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے زائرین کو آپ شاہ سید محمد نوربخشؒکے آستانے پر زیارت کے لئے لے جاتے تھے۔ آپ نے دوران تعلیم سکردو میں جامعہ سید العارفین کی بنیاد رکھی ۔ قم المقدسہ میں سترہ سال کا ایک طویل عرصہ علوم محمد ﷺ آل محمد؊ حاصل کرنے کے بعد آخر سال ۲۰۰۰ء میں پیر نوربخشیہ سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی کے حکم پر مزید علوم حصول کے خواہش کے باوجود جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کراچی تشریف لائے۔ اس کے بعد سے آج تک مختلف مشکلات کے باوجود ایک مشن سمجھ کر دین و مکتب کی خدمت میں مصروف ہیں۔
مولانا غلام مہدی انجم
آپ کا تعلق ڈغونی سے ہے ۱۹۹۶ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے ۔ آپ جامعہ کے اولینطلاب میں سے ہیں۔ آپ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اسی جامعہ سے فراغت کے بعد پیر طریقت کی اجازت سے اسی مدرسہ میں استاد مقرر ہوئے۔ آپ نے استاد کی حیثیت سے تقریباً دو سال جامعہ کی خدمات کی اس وقت آپ خانقاہ معلی ڈغونی کے امام جمعہ والجماعت ہیں اور سرکاری استاد کے طور پر قوم وملت کی خدمت میں مشغول ہیں۔
مولانا اعجاز حسین غریبی
آپ کا تعلق خپلو خاص محلہ غربوچنگ غریپی سے ہے۔ آپ چھوٹی عمر میں ہی کراچی مدرسے میں آئے اور صغیرسنی میں ہی بہت نام کمایا۔ آپ فی زمانہ نوربخشیوں میں ایک عالم، قاری ،ذاکر ، مصنف ، مترجم اور ایک صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔آپ نے جامعہ سے فراغت کے بعد کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز کیا اور کمپیوٹر میں ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیااور مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد بھی عرصہ دو سال بحیثیت استاد، پھر بحیثیت انجمن و جامعہ کے سیکریٹری کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۲۰۰۴سے ۲۰۱۵ تک انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی کی تاریخ میں طویل ترین مدت کیلئے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ اب ریڈیو پاکستان میں بحیثیت سب ایڈیٹر نیوز تعینات ہوئے ہیں ۔ انجمن و ٹرسٹ کے خلاف قائم مقدمات کے علاوہ دیگر امور میں بھی ان کی خدمات گرانقدر ہیں۔ سانگھڑ کیس کی کامیابی میں ان کا کردار انتہائی قابل تحسین رہا۔ اب تک چھ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ مزید چار پر کام جاری ہے ۔
مولانا غلام عباس کوروی
آپ کا تعلق علاقہ کورو گانچھے سے ہے ۔جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد آپ بھی کچھ عرصہ اسی مدرسے میں استاد کی حیثیت سے رہے ۔پھر قم القدسہ ایران میں چند سال رہنے کے بعد ادراۃ الصفا کریس سے منسلک ہیں ۔آپ کو ادبیات پر کافی دسترس حاصل ہے۔
علامہ محمد یونس
آپ کا تعلق علاقہ سلترو کے آخوند خاندان سے ہے ۔اس وقت نوربخشی برادری میں ایک مفتی، ذاکر، محقق، خطیب اور حاضر جواب عالم کے طور پر مشہور ہیں۔ آپ بھی جامعہ نوربخشیہ کراچی کے اولین طلاب میں سے ہیں ۔اس کے بعد قم المقدسہ کے اندر علم کلام میں کارشناسی ارشد(ایم فل ) تک تعلیم حاصل کر کے ’’آرائے کلامی میر سید محمد نوربخش ‘‘ پر تحقیقی مقالہ بھی مکمل کیا۔ حوزہ میں دوران طالب علمی دو سال کا عرصہ جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کراچی میں استاد کی حیثیت سے بھی رہے ۔ اس وقت جامعہ باب العلم سکردو کے پرنسپل ہیں۔
سید علی الموسوی
آپ خپلو غرالٹی کے سید شریف کے نور چشم ہیں ۔گذشتہ اٹھارہ سالوں سے قم المقدسہ ایران میں زیر تعلیم ہیں ۔آپ کو اردو ، انگریزی ،عربی اور فارسی پر دسترس حاصل ہے ۔تحقیقی میدان میں کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔آپ بھی ایک سال جامعہ کے استاد رہے ہیں ۔
مولانا محمد حسن شاد
آپ کا تعلق کریس اڑوبا سے ہے۔ اسی جامعہ سے فراغت کے بعد ایم اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ،بعد ازا ں کچھ عرصہ جامع مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کوئٹہ میں امام جمعہ و جماعت کے طور پر رہے ۔ ماڈرن سکول کریس، جامعہ باب العلم سکردو میں خدمات انجام دینے کے بعد اس وقت جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کراچی میں استاد ہیں ۔ترجمہ ، تحقیق اور تحریر ی میدان میں بھی آپ کی خدمات ہیں ۔ اس وقت چھپنے والی تقریباً اکثر نوربخشی کتابوں میں کسی نا کسی طریقے سے آپ کا کردار ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ کے طلاب مولانا محمد یعقوب شگری، سید اکبر شاہ تھگسوی، مولانا اسحاق ثاقب، مولانا ابراہیم تھلے، مولانا موسیٰ خپلوی ، مولانا ابراہیم کھرکوی وغیرہ نے بھی حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ تدریس کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔

اساتذہ کا کردار
اگر اسی عظیم مادر علمی کی کامیابی میں اساتذہ کرام کا کردار کا خلاصہ کیا جائے تو کچھ اس طرح سے ہوسکتا ہے۔
۱۔ نوربخشیوں میں پہلا کامیاب تجربہ
حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ درس گاہ نوربخشیوں میں ایک تجربہ تھا جو کہ ان اساتذہ کی مرہون منت کامیاب ہوا کیونکہ اس سے پہلے جتنے بھی مدارس کا قیام عمل میں آیا تو وہ مختلف وجوہات کی نذر ہوگیا مگر اس جامعہ کے اساتذہ نے یہ ثابت کیا کہ ـ
خلوص دل سے اگر موج بھی پکارے مجھے
قسم خدا کی کناروں سے لوٹ آؤں گا
۲۔ کثیر تعداد میں طلاب کی فراغت
سب سے اہم کردار جو اساتذہ کا ہے وہ یہ ہے کہ صرف پچیس سال کے مختصر عرصے میں ایک سو بیس سے زائد طلاب کو جامعہ کا نصاب مکمل کر کے اس درس گاہ سے فارغ کیا ۔اس وقت مختلف علاقو ں میں اکثر ائمہ جمعہ و جماعت کافریضہ انجام دے رہے ہیں۔
۳۔ بہترین خطباء کی تربیت
اس مدرسے میں متون کی تدریس کے علاوہ یہ مخلص اور بے لوث اساتذہ کرام طلاب کی فن خطابت پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نوربخشی دنیا میں کسی بھی موضوع پر مکمل دسترسی کے ساتھ سیر حاصل بحث کرنا جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کراچی کے طلاب کی شناخت ہے ۔
۴۔ طلاب کی اخلاقی تربیت
تصوف و عرفان میں اعمال و وظائف اور مستحبات کی بجا آوری ایک اہم کام ہے اسی لیے جامعہ کے اساتذہ اس پہلو کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں اور خود اساتذہ اپنی معیت میں طلاب کے لئے نماز تہجد ، نوافلات اور دیگر وردو وظائف میں رہنمائی کرتے ہیں تا کہ معاشرے میں کراچی جامعہ کا طالب علم اس حوالے سے کمزور نہ رہے ۔
۵۔ کم وسائل کے عوض خدمات کی انجام دہی
سب سے اہم بات اس جامعہ کے اساتذہ کی یہ ہے کہ باقی دوسرے مدارس کے برخلاف اس جامعہ میں مختصر اجرت (تنخواہ ) کے عوض چوبیس گھنٹے خدمات سرانجام دیتے ہیں ۔اس کی اہم مثال جب شیخ سکند ر حسین صاحب کو اس جامعہ میں پرنسپل کی حیثیت سے لایا گیا تو ان کی تنخواہ صرف بارہ سو روپے تھی۔ آج بھی جامعہ کے اساتذہ کی تنخواہ بھی انتہائی کم ہے۔
۶۔ مشکلات میں ثابت قدمی
جب سے یہ درس گاہ قائم ہوئی ہے اس وقت سے ہی انجمن اور جامعہ کے منتظمین کو مخالفت اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ۱۹۹۶ء میں ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ سے آج تک کبھی عدالتوں کا چکر ،تو کبھی تھانہ کچہری میں پیش ہونا روز کا معمول بن چکا ہے ۔سانگھڑ جیسے دور افتاد علاقے میں جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرواکر بھی مخالفین ان کی ثابت قدمی میں لغزش نہیں دیکھ سکے۔ بعض حالات کا راقم خود گواہ ہے کہ کس طرح جامعہ کے اساتذہ کو ہراساں کرنے کے لئے منصوبے بنائے گئے مگر ان باہمت شخصیات نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان مشکلات کا مقابلہ کیا۔
نتیجہ
مندرجہ بالامطالب کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر خلوص دل اور مادی مفادات سے عاری ہو کر صرف خدا کی خوشنودی کے لئے کوئی کام کیا جائے تو اس کا نتیجہ خداوند متعال مختصر مدت میں عطا کرتا ہے۔ اسی لئے تاریخ اسلام کے اندر جتنے بھی انقلابات دنیا کے تمام مخالفتوں کے باوجود اگر مختصر عرصے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس میں بھی خلوص و محنت کا ہی کمال ہے، خود رسالتماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اگر قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو مختصر مدت میں گرایا ہے تو بھی اسی خلوص نیت کا ہی مرہون منت تھا اگر حسین بن علی ؉نے یزید جیسے ظالم و جابر حکمران کو صرف بہتر افراد پر مشتمل فوج لیکر نابود کیا تو ان کے اندر صرف رضایت الہٰی کا پہلو مضمر تھا ۔تو آج بھی ہم نوربخشیوں کے اندر سے جہالت کا خاتمہ کرنا چاہیں تو ہمیں بھی محسن و سکندر جیسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو کم وسائل ،مالی مشکلات ، مادی پریشانیوں کو خلوص کی راہ کا رکاوٹ سمجھے بغیر دین و مکتب کی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ میں نے ایک شاگرد کی حیثیت سے ان کو مخلص اور بے لوث ان کو پایا ۔ اس کی گواہی چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں دینے کی کوشش کی ہے۔ میری دعا ہے پرورگار ان کو اس عظیم مشن کو جاری و ساری رکھنے اور ہمیں ان کی پیروی کرتے ہوئے یوسف زہرا، مہدی دوران، قائم آل محمد ،حضرت امام زمان علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو !

سید بشارت حسین تھگسوی
المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم المقدسہ ایران
+989013621990
+989102829705
s.basharatthagasvi@yahoo.com
thagasvi1992@gmail.com