صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

اور پھر حق جیت گیا…..سانگھڑ کیس حقیقت کے آئینے میں


اعجاز حسین غریبی، سابق جنرل سیکریٹری انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی

نوربخشیوں کو تحفظ مسلک مبارک ہو
فان مع العسر یسرا، ان مع العسر یسرا
پس بے شک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکلات کے ساتھ آسانی ہے۔
مشکلات کے بعد آسانی اللہ تعالیٰ کا تکرار کیساتھ وعدہ ہے ۔ وعدہ یہ نہیں ہے کہ آسانی کے بعد مشکلات لازمی آئینگی بلکہ وعدہ یہ ہے کہ مشکلات کے بعد آسانی ہے۔
عرصہ دراز سے مسلک حقہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کی حقانیت کو داغدار اور مشکوک کرنے کی سازش کی جارہی تھی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ناپاک سازشوں کا جال بچھا دیا گیا تھا لیکن سادہ لوح نوربخشی عوام بے خبر تھے۔ سازشی عناصر نے نوربخشیت کا وجود مٹانے کیلئے کئی مراحل پر مشتمل منصوبہ ترتیب دیا ۔ پہلے مرحلے میں کچھ عرصہ نوربخشوں کو آپس میں لڑانے کیلئے بعض اختلافی معاملات کو ہوا دی گئی اور اس مقصد کیلئے بعض ’’اپنوں‘‘ کا سہارا لیا گیا، یہ عناصر مسلک کو ’’صوفیہ امامیہ نوربخشیہ‘‘ اور صوفیہ نوربخشیہ‘‘ گروپ کا رنگ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ کئی صلح کے دورے ناکام ہوئے، معاہدے ہوتے رہے لیکن سیاہی خشک ہونے سے پہلے انہیں توڑ دیا گیا۔ علما ملتے رہے لیکن قوم کو ایک جگہ جمع کرنے میں ناکام رہے ۔ گروہی مقاصد کو پروان چڑھایا جاتا رہا مسلک کے مجموعی تحفظ کیلئے کوششیں کمزور پڑ گئیں۔ ہر کوئی بزعم خویش مسلک کی خدمت کررہا تھا لیکن اس گروہی خدمت کے باعث مسلک کی مرکزیت اور استحکام کو نقصان پہنچتا رہا۔ سازش کے دوسرے مرحلے میں باہمی تنازعات کا حل باہمی افہام و تفہیم کے بجائے عدالتوں تک لے جانے کیلئے کام کیا گیا جس میں یہ بھی عناصر بہت حد تک کامیاب رہے۔ ہماری اپنی غیرسنجیدگی اور غفلت کے باعث معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اب باہمی اتحاد کا نعرہ صرف الفاظ کی حد تک رہ گیا۔ خپلو، تھگس، سکردو، راولپنڈی اور کراچی میں یکے بعد دیگرے ایسے مقدمات قائم کئے گئے جن سے نوربخشیوں میں مزید دوریاں پیدا ہونے لگیں۔ ہر کوئی خود کو دین دوست اور دوسرے کو دین دشمن سمجھنے لگا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پہلے تو غیر نوربخشی نوربخشیوں کو کفر و الحاد کے فتوے دیتے تھے اور اب نوربخشی ہی نوربخشیوں کو اس حلقے سے نکالنے پر مصر گئے۔ سازش کے تیسرے مرحلے میں غیرنوربخشیوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلک کی حقانیت کا خاتمہ کرنے اور اس کا وجود قصہ پارینہ بنانے کیلئے ایک منظم سازش اور منصوبے پر عملدر آمد شروع ہوگیا۔
مقدمہ سانگھڑ کسی اتفاق یا غلط فہمی کا نتیجہ نہیں۔ من گھڑت واقعہ بنا کر اس کیس کی بنیاد رکھی گئی۔ 26 ستمبر 2009 کو نوربخشی علمائے کرام کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس میں بنیادی طور پر دو الزامات لگا گئے ۔
٭… یہ کہ نوربخشیہ مسلک کے یہ پیروکار (نعوذ بااللہ) موجودہ قرآن پاک کو اصلی نہیں مانتے۔
٭ … یہ کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اصلی قرآن حضرت امام مہدی علیہ السلام لے کر آئینگے (نعوذ بااللہ)۔
مدعی مقدمہ کے مطابق یہ باتیں رسالہ تبیان شمارہ 22، 24 اور 25 کے مختلف صفحات، رسالہ الفرقان فی جمع القرآن اور رسالہ حقائق سے پردہ اٹھتا ہے میں موجود تھیں۔ مدعی کا یہ بھی الزام ہے کہ ان رسالوں کے مالکان و ذمہ داران میں سید محمدشاہ نورانی، شیخ سکندر حسین ، شیخ حسن اشراقی ، غلام رضا اور اعجاز حسین قریشی، بلتی، غریبی شامل ہیں۔ ان کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 295-A, 298-A/B کے تحت کارروائی کی جائے اور سزا دی جائے۔

قادیانی بنانے کی سازش
انتہائی خوفناک بات یہ ہے کہ اس مقدمے میں دفعات 298 A, B بھی استعمال کی گئیں جس کا مقصد نوربخشیوں کو قادیانی قرار دلوانا تھا۔
ایف آئی آر کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔
’’فر یاد ہے کہ آج میں نے ظہر کی نماز جامع مسجد ٹنڈو آدم میں پڑھنے کے بعد ہر ایک شاہنواز ابڑو اور یار محمد ابڑو کے ساتھ مسجد کے اوپر بنے ہوئے ختم نبوت کے آفس میں بوقت 3:30بجے پہنچے ۔جہاں ہم نے دیکھا کہ ایک لفافہ خاکی رنگ کا رکھا ہوا تھا ۔جس کو ہم نے کھول کر دیکھا تو ان میں رسالے موجود تھے ۔رسالہ تبیان شمارہ نمبر 22ماہ جنوری 2003ء اور شمارہ نمبر 24ماہ اپریل 2003 ء اور شمارہ نمبر 25ماہ مئی 2003ء اور ’’رسالہ الفرقان ‘‘اور’’ حقائق سے پردہ اٹھتا ہے ’’ کے صفحہ نمبر 6پر موجودہ قرآن پاک کے بارے میں شکوک اور شبہات ظاہر کئے گئے ہیں۔اور رسالہ ’’ حقائق سے پردہ اٹھتا ہے ’’کے صفحہ نمبر 13پر لکھا ہے کہ اصلی قرآن حضرت امام مہدی ؑ لے کر آئیں گے ۔جس کا مطلب کہ موجودہ قرآ ن پاک اصلی نہیں ہے ۔ایسے ہی ان جیسے الفاظ صفحہ نمبر 46پر لکھے ہوئے ہیں ۔ان رسالوں میں دیگر قابل اعتراض جیسی باتیں لکھی ہوئی ہے ۔جو کہ نا معلوم فرد پھینک کر چلاگیا ہے ۔جس پر ان رسالوں کے مالکان محمد شاہ اور تنظیم کے صدر غلام رضا اور رسالوں کے ممبران اعجاز حسین قریشی ،شیخ سکندر ،شیخ محمد حسن اشرافی جو کہ ادارۃ الصفاء جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ٹرسٹ کراچی کہ ذمہ دار ہیں ۔انھوں نے اور دیگر ذمہ داران کے خلاف فریادی ہونے کے ناطے ایسا کیس داخل کرایا ہے ۔‘‘
یہ خوفناک اور بے بنیاد ایف آئی آر نوربخشی مسلک کی بنیادیں ہلانے کیلئے کافی تھی۔ مسلک کے پیر طریقت سمیت جید علمائے کرام کا اس کیس میں نامزدگی سے واضح ہو رہا تھا کہ نشانہ صرف چند افراد نہیں بلکہ پورا مسلک ہے۔
مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ایک معتدل، پرامن اور مضبوط عقائد رکھنے والا مکتب فکر ہے۔ اس مسلک کی تعلیمات کے مطابق قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے والے مسلمان کو کافر کہنا جائز نہیںنہ ہی اپنے کسی سطحی نظرئیے کا اتفاق نہ کرنے والے کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی تکفیری رائے قائم کرنا جائز ہے ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت ختمی المرتبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول، قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ، دین اسلام آخری دین ہے اور ان بنیادی عقائد کا انکار کرنے والے اسلام سے خارج ہیں۔
تنظیم ختم نبوت
یہاں یہ بات واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ایسے بے بنیاد مقدمے کیلئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیسے بڑے ادارے کی حدود کو استعمال کیا گیا۔ تحفظ ختم نبوت کیلئے ہماری ہزار جانیں قربان جائیں۔ ایسے لوگ عظیم لوگ ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ یقینا دنیا میں اس مقدس عقیدے کیخلاف منظم طریقے سے کام ہو رہا ہے اور تمام مسلمانوں کو کسی مسلک اور فرقہ کی تفریق کے بغیر اس عظیم مقصد کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین کو یقینا اس بے بنیاد واقعے کی خبر نہیں ہوگی۔ انہیں اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ اس عظیم مقصد کی آڑ میں ایسے من گھڑت واقعات کا سہارا لے کر مسلمانوں کو تنگ کیا جارہا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تحفظ ختم نبوت جیسے عظیم مقصد کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کو اس مشن کا حصہ بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے پوری مسلم امہ کو یکجا ہو کر کام کرنا چاہئے تاکہ غیر مسلم دنیا کو پیغام ملے کہ اس مقدس عقیدے پر مسلمانوں میں کوئی تفریق نہیں اور پوری مسلم امہ اس عقیدے کے تحفظ کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔ لیکن ان اداروں کی آڑ میں ایسے واقعات رونما ہوں جو دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کیلئے تکلیف کا باعث بنے اور بلاتحقیق کسی دوسرے مسلمان کو کافر، مرتد اور زندیق جیسے الفاظ استعمال کئے جائیں تو یقینا اس معاملے پر مسلمان ہی بددل ہو نگے اور ختم نبوت کے تحفظ کا عظیم مشن کمزور پڑ جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ذمہ داران اس معاملے پر غور کرینگے اور ایسے واقعات کے سد باب کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔
بہرحال ٹنڈآدم میں درج مقدمہ سانگھڑ کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں عرصہ سات سال تک زیر سماعت رہا۔ دو علمائے کرام پابند سلاسل بھی رہے جنہیں معزز ہائی کورٹ حیدر آباد نے ضمانتیں منظور کرکے رہائی کے احکامات جاری کئے۔
انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی نے اس مقدمے کو مسلک کی بقا کا سوال سمجھ کر اس بات کا عزم کرلیا کہ معزز عدالت کے سامنے تمام تر حقائق رکھے جائیں گے اور عدالت سے انصاف کی استدعا کی جائے گی۔ اس کیلئے انجمن نے تمام تر حقائق کو جمع کیا اور مندرجہ ذیل دستاویزات تیار کی۔
٭ تمام رسالوں میں موجود عبارتوں کے حوالہ جات
٭ تمام رسالوں میں قرآن مجید کے بارے میں متفق علیہ عقیدے کی نشاندہی
٭ موجودہ کیس کے اندراج کے پس پردہ حقائق اور وجوہات
٭ الزامات کی تردید جو رسالوں میں سرے سے موجود ہی نہیں
٭ علمائے کرام کے فتاوے ۔ جن میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلک نوربخشیہ ایک پرامن اسلامی مکتب فکر ہے ۔
ایف آئی آر کے بعد فرد جرم عائد کی گئی ہے تمام علمائے کرام نے جرم کی صحت سے انکار کیا اورعدالت سے استدعا کی کہ کیس چلایا جائے اور ہم اپنے دفاع میں تمام تر ثبوت اور حقائق عدالت کے سامنے رکھ دینگے۔ عدالت نے مدعی اور اس کے گواہوں کو بیان کے لئے بلایا۔ وکیل سرکار کی جانب سے استغاثہ کے بیانات کے بعد وکلائے صفائی نے ان گواہوں پر جرح کی ۔ پندرہ مہینوں کے دوران ریکارڈ ہونے والے بیانات اور جرح کے دوران مدعی اور اس کے گواہ لگائے گئے الزامات ثابت نہیں کر سکے ۔
اس موقع ہم جناب حسن جعفر رضوی ایڈووکیٹ (مرحوم) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے مدعی پر ایک برادرانہ ماحول میں جرح کی اور کیس میں لگائے گئے الزامات کا کامیاب دفاع کیا۔ تاہم وہ اس دوران بستر علالت پر جا بیٹھے اور اس دوران اس دارفانی سے کوچ کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ انہیں چہادرہ معصومین ؑکے صدقے میں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین
اس کے بعد جناب سید سعید الحسن نقوی ایڈووکیٹ، جناب نثار احمد چنہ ایڈووکیٹ ، جناب امیر علی لسکانی ایڈووکیٹ، جناب منظور حسین لاشاری ایڈووکیٹ نے ہماری بھرپور پیروی کی اور انتہائی کٹھن اور سخت مراحل کو انتہائی خوش اسلوبی سے طے کیا۔
معزز عدالت کے سامنے تمام تر حقائق رکھے گئے۔ تحریری بیان میں علمائے کرام نے واضح کیا کہ ہم مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں اس کیس میں جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔ ہم اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ہیں اور اللہ جل جلالہ کی ذات مبارکہ، تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام اور تمام آسمانی مقدس کتابوں پر مضبوط عقیدہ رکھتے ہیں۔ خصوصی طور پر ہم ختم المرسلین محمد مصطفیٰ ؐ کے آخری نبی ہونے اور قرآن پاک کے آخری آسمانی کتاب اور مکمل اور قیامت تک بنی نوع انسان کیلئے کتاب ہدایت ہونے پر بھی غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں۔ اس قرآن پاک میں کوئی بھی شک وشبہ نہیں۔ یہ کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے اللہ پاک کی وحدانیت، قرآن پاک، اور آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ؐ، چہاردہ معصومین، اہل بیت کرام ؑ، صحابہ کرام ؓ اور دیگر مقدس و معزز شخصیات کا احترام کرتے ہیں۔ بحیثیت ذمہ دار مسلمان ہم نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ مختلف مکاتب فکر اور ان کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی اور اچھے تعلقات رہیں۔ مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ایک پرامن اسلامی مکتب فکر ہے ۔ دیگر مسالک کے علمائے کرام نے بھی ہمارے مسلک کے پرامن اور مستقل اسلامی مسلک ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ علمائے کرام نے عدالت کو یہ بھی کہا کہ رسالۃ الفرقان سمیت کسی بھی رسالے میں مدعی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سرے سے موجود ہی نہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ بحیثیت ذمہ دار مسلمان ہم نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مختلف مکاتب فکر اور ان کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی اور اچھے تعلقات رہیں اور کراچی میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے باہمی اتفاق و اتحاد اور مسلکی ہم آہنگی کیلئے قائم کی جانیوالی فکری تنظیم متحدہ علما محاذ کے ممبر کی حیثیت سے بھی ہم اسلامی بنیادی تعلیمات کے فروغ کیلئے کام کرتے ہیں تاکہ مسالک کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی کو برقرا ررکھا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم علوم اسلامیہ میں ایم اے اسلامیات کے مساوی تعلیم کے علاوہ مختلف مدارس سے فارغ التحصیل ہیں اور دینی علوم کا سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ ہم انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں (رجسٹرڈ) کراچی کے تحت جامع مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ اور جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ (رجسٹرڈ )کراچی کا انتظام و انصرام کرتے ہیں۔ ہمارا کراچی کے علاقے محمود آباد میں واقع ایک مسجد اور جامع مسجد کے انتظامی امور کے حوالے سے ہمارے اپنے مسلک کے بعض افراد کیساتھ تنازعہ چل رہا ہے ۔ یہ لوگ عقیدتا ہمارے مسلک کے پیروکار ہیں تاہم یہ افراد ہمیں درخواستوں اور تھانہ کچہری کے ذریعے ایک عرصے سے ہمیں تنگ کر رہے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس گروہ نے مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر مزید منافرت پھیلانے کیلئے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کراچی سمیت کئی مدارس سے رابطے کرکے ہمارے خلاف غلط معلومات فراہم کرکے فتوے لئے اور انہیں عدالتوں میں ہمارے خلاف استعمال کیا تاکہ عدالتوں کے ذریعے اپنے عزائم کو پورا کیا جاسکے۔ اس گروہ نے ہماری کتابوں میں موجود عبارتوں کا غلط ترجمہ اور تشریح کرکے انہیں ہماری طرف منسوب کیا اور انہیں اچھالا تاکہ عوامی سطح پر ہماری ساکھ کو خراب کیا جاسکے۔ عدالت کے روبرو بیان دیا گیا کہ ہم نے عالم اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کا اپنے ادارے کا دورہ کرایا کتابیں دکھائیں ، ملاحظے کے بعد انہوں نے مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کو ایک امن پسند اسلامی مکتب فکر قرار دیا ۔ علمائے کرام نے اپنے فتویٰ میں مسلک کیخلاف کئے جانیوالے پروپیگنڈے کی مذمت کی ۔ کراچی میں پرائیویٹ کمپلین میں کوئی خاص کامیابی نہ ہونے پر اسی مواد کو بنیاد بنا کر ہمارے خلاف اندراج مقدمہ کیلئے ایک درخواست سیشن جج کراچی سائوتھ میں زیر دفعہ 22-A دائر کی گئی جس میں تبیان شمارہ 22 ، تیبان شمارہ 24، رسالہ حقائق سے پردہ اٹھتا ہے ، رسالۃ الفرقان کو شامل کیا گیا اس درخواست پر معزز عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیدیا اور ایف آئی آر نمبر 76/2007 درج کی گئی ۔ دوران تحقیقات مدعی کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے اور پولیس حکام نے اس کیس کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سی کلاس کرکے کینسل کر دیا جسے بعد میں معزز عدالت نے منظور کرکے کیس کے خاتمے کا حکم دیدیا۔
معزز عدالت کے سامنے بتایا گیا کہ اس کیس کے سی کلاس ہونے کے بعد دیگر مذکورہ افراد کی ایما پر کراچی سے کوسوں دور ٹنڈ وآدم میں فریادی طارق محمود کے ذریعے موجودہ مقدمہ قائم کیاگیا۔ کیس کے اندراج کیلئے 22-A کی درخواست میں انہیں مواد کو بنیاد بنایا گیا جو جو ایف آئی آر نمبر 76/07 کی درخواست میں پیش کیا گیا تھا ۔ اس ایف آئی آر میں جو الزامات لگائے گئے ہیں جو اصل رسالوں اور کتابوں میں سرے سے ہی موجود نہیں تاہم صوبائی وزارت داخلہ اور آئی جی سندھ کے حکم پر تین ڈی ایس پیز کی نگرانی میں کیس دوبارہ تحقیقات کرائی گئیں جنہوں نے تمام تر حقائق کو مد نظر رکھتے ہو ئے کیس کو من گھڑت اور جھوٹا قرار د ے کر ’’B‘‘ کلاس کر دیا جو عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہے ۔
تحریری بیان میں کہا گیا کہ ہماری نمائندہ انجمن نے کراچی میں سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ سے درخواست کی کہ وہ معاملے پر تحقیقات کراتے ہوئے ہمارے علمائے کرام کو حراساں کرنے کا سلسلہ بند کروایا جائے اور متعلقہ افراد کو ان کے غیر قانونی کاموں سے روکا جائے۔ جنہوں نے خصوصی برانچ سے تحقیقات کروا کر آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کی روشنی میں اس معاملے پر علامہ سکندر حسین کیخلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے ۔ 2002 میں تھگس کے مقام پر زیر دفعہ 295اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جس میں ایک فرد کو نامزد کیا گیا۔ 2003 ؁ء ہمارے خلاف پرائیویٹ کمپلین میںسیکشنز295-B, 295-Cاور 298-A لگائے گئے اور 15 افراد کو نامزد کیا گیا ۔ 2007 ؁ء میں ایف آئی آر نمبر 76/07 میں 295-C کادفعہ لگایا گیا اور 8 افراد کو نامزد کیا گیا جو سی کلاس ہو کر ختم ہو چکا ہے ۔ 2008؁ء میں ایف آئی آر نمبر 264/08 میں 295-B, 298-Aاور 298- سیکشنز لگائے گئے اور 5 افراد کو نامزد کیا گیا۔
معزز عدالت کو بتایا گیا رسالہ الفرقان میں تمام تر مواد مستند ترین اسلامی کتابوں کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے ۔ اس رسالے کی تالیف کی وجوہات یوں ہیں۔ قرآن پاک اللہ پاک کی جانب سے انسانیت کی ہدایت کیلئے نازل کی جانیوالی کتاب ہے ۔ اس کے مکمل ہونے اور ہر طرح کی تحریف سے پاک ہونے پر یقین رکھنا ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ بدقسمتی سے مسلکی اختلافات کے باعث عوامی سطح پر قرآن پاک کے بارے میں بعض سطحی غلط فہمیاں موجود تھیں ۔ ہم نے جب تحقیق کی تو اس نتیجے پر پہنچے کہ تراجم اور تفاسیر سے قطع نظر قرآن پاک کے متن کے حوالے سے تمام اسلامی کتابوں میں ایک ہی بات تھی کہ حضور پاک ؐ کے حیات مبارکہ اور وصال کے بعد اہل بیت ؑاور صحابہ کرامؓ میں جن ہستیوں نے قرآن پاک کو جمع کیا ہو سب نے اصل قرآنی متن کو محفوظ کیا ہے۔ قرآن پاک کے تمام نسخوں میں متن میں کوئی فرق نہیں اور اس بات میں اللہ تعالیٰ کی اس چیلنج کی جھلک نمایاں تھی کہ ’’ہم نے اس قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘ ۔ تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کی اس قیمتی رائے کو ان کی کتابوں کے حوالے سے ہم نے ایک رسالے میں جمع کیا جس کا نام رسالہ الفرقان فی جمع القرآن و عدم تحریفہ رکھا۔ یعنی اس رسالے کا موضوع ہی جمع قرآن اور قرآن میں میں تحریف نہ ہونے کو ثابت کرنا تھا۔ چنانچہ اس رسالے میں سینکڑوں حوالوں اور مولفین و مصنفین کی رائے زنی کے بعد درجنوں مقامات پر خلاصہ پیش کیا گیا ہے کہ قرآن پاک میں متن کے اعتبار میں کسی بھی مسلک میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ موجودہ قرآن نعوذ باللہ اصلی نہیں یا اصلی قرآن امام مہدی لے کر آئینگے۔ بیان کے ساتھ رسالۃ الفرقان اور تبیان میں شائع شدہ تمام عبارتوں کے حوالوں پرمشتمل فہرست بھی شامل کی گئی جس میں صفحہ وار عبارتوں کے حوالے درج کئے گئے اور عدالت کے سامنے تمام کتابیں پیش کی گئیں ۔ مدعی مقدمے کو اس کی کاپی فراہم کی گئی تاکہ اس کی غلط فہمی بھی دور کی جاسکے۔
اس کے علاوہ عدالت کے روبرو تحریری دلائل بھی جمع کرائے گئے جو ستر نکات پر مشتمل ہیں ۔ عدالت کے سامنے رسالہ الفرقان اور تبیان کے مختلف شماروں میں شائع شدہ قرآن پاک کے بارے میں ہمارے عقائد بھی واضح کئے گئے ۔
مقدمے کے اختتامی مراحل میں وکیل استغاثہ اور فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کرلئے اور عدالت نے 26 مارچ 2015 کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں علمائے کرام کو بری کر دیا ۔
عدالتی فیصلے کے چیدہ چیدہ نکات کچھ اس طرح ہیں۔
’’ملزمان اعجاز حسین ،شیخ سکندر حسین اور شیخ محسن اشراقی عرف حسن کے بیانات زیر دفعہ 342 لئے گئے (منسلکہ 20 سے 22 ) ،ملزم شیخ سکندر حسین نے رسالہ الفرقان کے تمام حوالہ جات (منسلکہ 21.A to C ) پیش کئے ۔ ملزمان نے اپنے بیانات میںکہا کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں جان بوجھ کر اس کیس میں پھنسایا گیا ہے۔زیر دفعہ حلفیہ بیان کا حق استعمال کیا نہ ہی کسی گواہ کو پیش کرنیکی استدعا کی ۔انہوں نے ( تحریری بیانات کی روشنی میں ) انصاف کی فراہمی بیان کا حق اور بری کرنیکی درخواست کی‘‘
’’ میں نے ملزمان کے وکلاء اور سرکار کی طرف سے پیش ہونے والے وکلا کو سنا اور ریکارڈ پر موجود تمام تر مواد کا بھی مطالعہ کیا اور مندرجہ ذیل نکات کو قابل غور پایا ۔
نکتہ نمبر 1۔ آیا کیا ملزمان نے جو رسالہ بنام الفرقان ،حقائق سے پردہ اٹھتا ہے وغیرہ شائع کیا ہے اور کیا قرآن پاک کے بارے میں مشکوک اور بدگمانی پر مبنی مواد موجود ہے ۔ کیا کہیں یہ لکھا ہوا ہے کہ اصلی قرآن حضرت امام مہدی ؑ لیکر آئیں گے ؟
نکتہ نمبر 2۔ مقدمے کا فیصلہ کیا ہونا چاہیے ؟
مذکورہ بالا دونوں نکات پر تمام تر دلائل اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معزز عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ پہلے نکتے کو ثابت ہی نہیں کیا جاسکا ۔ یعنی رسالۃ الفرقان، میں قرآن پاک کے بارے میں کوئی مشکوک اور بدگمانی پر مبنی کوئی مواد نہیں تھا۔ کہیں یہ لکھا ہوا نہیں پایا گیا کہ اصلی قرآن حضرت امام مہدی ؑ لے کر آئینگے۔
نکتہ نمبر ایک کے تحت مقدمے کو ثابت کرنیکی ذمہ داری استغاثہ کی تھی اور استغاثہ نے اس بوجھ کو اتارنے کیلئے مدعی طارق محمود کا بیان لیا ۔جس میں اس نے مو قف اختیار کیا کہ مورخہ 7.8.08 کو اسکے آفس میں ایک خاکی رنگ کا لفافہ ملا جس میں ( 5 ) رسائل جن میں تین رسالہ تبیان ایک رسالہ الفرقان اور ایک رسالہ حقائق سے پردہ اٹھتا ہے موجود تھے ۔اس کا موقف تھا کہ ان رسائل کا مطالعہ کیا اور موجودہ قرآن پاک کو مشکوک کرنیوالے مواد پائے اور یہ لکھا ہواتھا کہ اصل قرآن امام مہدی ؑلیکر آئینگے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایف آئی آر کے اندارج کیلئے تھانہ گیا لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔جس پر انہوں نے ایف آئی آر کیلئے سیشن کورٹ سانگھڑ سے رجوع کیا اور عدالتی حکم پر ایف آئی آر درج ہوئی ‘‘
’’ریکارڈ سے ظاہر ہوتاہے کہ ملزمان پر بنیادی طورپر الزامات ہیں کہ جو رسالے ملزمان نے شائع کیے ہیں ان میں ایسے مواد ہیں جن میں لکھا ہے کہ موجودہ قرآن پاک اصلی نہیں ہے ۔اور اصلی قرآن حضرت امام مہدی ؑ لے کرآئیں گے ۔ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مواد کے حامل کتابیں ریکارڈ پر موجود ہیں میں نے رسائل کا مطالعہ کیا تو رسالہ الفرقان کے صفحہ 41 اور 42 پر یہ بحث موجود ہے۔

’’ مصحف علی ؑ پر تفصیلی بحث :
مصحف علی ؑ میں کیا ہے ؟
تاریخی واقعات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ حضرت علی ؑ نے جمع قرآن کا کارنامہ انجام دیا ہے لیکن اس مصحف کا کوئی نسخہ مسلمانوں کے پاس نہیں ۔اس مصحف میں آپ ؑ نے نہ صرف متن قرآن کو جمع کیا بلکہ آیات کی تشریح وتوسیخ کے ساتھ تاویلات بھی لکھ دیا ہے۔ مزید برآں متشابہات ،محکمات ،ناسخ ومنسوخ وغیر ہ بھی مرقوم تھا۔گویا آپ ؑ کا یہ مصحف متن قرآنی اور مختصر تفسیر پر مشتمل تھا ۔متن کے لحاظ سے موجود قرآن سے متفاوت نہیں ‘‘۔
’’مـذکورہ بالا عبارت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ موجودہ قرآن اصل نہیں ہے اور جو نسخہ حضرت علی ؑ نے جمع فرمایا تھا وہ اصل ہے بلکہ اس کے برعکس واضح الفاظ میں لکھا ہواہے کہ تما م جمع شدہ نسخے موجودہ قرآن سے متفاوت یامتصادم نہیں ‘‘
’’استغاثہ کے پیش کردہ مواد میں کہیں نہیں لکھا کہ کسی مذہبی فرقہ /گروہ کو دل آزاری ہوئی ۔استغاثہ نے ملزمان کے جورسالے عدالت میں پیش کئے ہیں ان میں قرآن کے بارے میں ایسا کوئی موا دموجود نہیں ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ موجود ہ قرآن درست نہیں ہے۔یا یہ لکھاہو کہ یہ اصلی نہیں ہے ۔بلکہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ قرآن کے متن کیساتھ حضرت علی ؑ نے بعض دوسرے تفسیر کیساتھ قرآن پاک کو جمع کیا اور یہ امام علیہ السلام لیکر آئیں گے‘‘
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’’یہ بات واضح طور پر طے ہے کہ مقدمات میں ثبوت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ استغاثہ کے کندھوں پر ہوتی ہے اور استغاثہ کو اس ذمہ داری سے عہد برآ ہونے کیلئے اپنی اہلیت پہچاننا ہوتی ہے۔الزامات کوثابت کرنے کیلئے تسلی بخش ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں ۔اگر استغاثہ کی جانب سے کسی کے حوالے سے اہلیت ثابت نہ کر پائے اور الزامات کے ثبوت میں کو ئی تسلی بخش مواد پیش نہ کرپائے تو ایسی صورت حال مقدمات میںاستغاثہ کی ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔اس مقدمات میں بھی استغاثہ اپنی اہلیت ثابت کرنے اور الزامات کے ثبوت میں قابل اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکا م رہی ۔ اس لئے میں نے دیکھا کہ استغاثہ افسوسناک طور پر ملزمان کیخلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ‘‘۔
نکتہ نمبر 2 ۔ نکتہ نمبر 1 پر میری تحقیق کی روشنی میں اعجاز حسین ،شیخ سکندر حسین محمدمحسن عرف حسن کو زیر دفعہ 265.H کے تحت شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتاہے ‘‘۔
اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مملکت خداداد پاکستان کی عدالتوں میں اب بھی انصاف کی امید موجود ہے اور عدالتیں تمام تر حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب مسلک نوربخشیہ جو عرصہ دراز سے ایک غلیظ الزام کے تحت زیر عتاب تھا اس ظلمت کدہ سے باہر نکل آیا اور پوری ملت نے خوشی کا اظہار کیا۔ سانگھڑ سے کراچی تک مسلسل تہنیتی ٹیلیفون اور پیغامات سے اس خوشی کا برملا اظہار ہو رہا تھا۔ غیور نوربخشی خواتین تاریخ میں پہلی بار جیت کی خوشی میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور پرنم اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ سرخرو ہونے والے علمائے کرام کا روحانی اور پررونق طریقے سے استقبال کیا۔ ہم اس کو کبھی نہ بھلاسکیں گے۔ اس موقع پر بلا کسی تفریق نوربخشی نوجوانوں، بزرگوں، خواتین حتی کہ بچوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے خوب خوشیاں منائیں اور رب ذوالجلال کے حضور سجدہ ریز ہو گئے اور شکرانے کے نوافل ادا کئے ، کراچی سے سیاچن تک نوربخشی مسلک کا درد رکھنے والی شخصیات ایک طرف ہمیں جیت کی مبارکباد دے رہی تھیں تو دوسری پوری قوم کو پیغام تہنیت دے رہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے پوری ملت نوربخشیہ کو ایک امتحان و آزمائش میں سرخرو کیا ۔
اس موقع پر انجمن فلاح وبہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی عدالت عالیہ کی شکر گزار ہے کہ جس نے حق و انصاف پر مبنی فیصلہ دیا۔ ساتھ ہی تمام وکلا ء صفائی صاحبان کی شکر گزار ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے حق و انصاف کیلئے قانونی میدان میں مقابلہ کیا اور عدالت کے سامنے تمام تر حقائق رکھے۔ انجمن پوری ملت نوربخشیہ کی بھی شکر گزار ہے جن میں خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے شامل ہیں جنہوں نے اپنی بساط کے مطابق قلم، مالی تعاون، بہترین مشورے، دعائوں اور آنسو بہاکر حق و سچ کی فتح میں اپنا حصہ ڈالا۔ میں انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی کے تمام عہدیداروں اور عمومی ممبران کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے کٹھن دور میں کیس کے فیصلے تک بہترین حوصلے اور ہمت سے کام کیا۔ خصوصی طور پر جناب ضامن علی کھرکوی، سید بشارت الموسوی تھگسوی، شبیر حسین خپلو، کاچو شبیر حسین خپلو ، محمد ابراہیم خپلو ، موسیٰ روزی مچلو ، محمد علی بلغاری، عبدالحکیم سرمو، حاجی عبدالحلیم سرمو، محمد علی لعل سرمو، غلام رضا خپلو ، علی میرسرمو ، غلام علی سعودی غورسے، غلام حیدرسرمو ، عبدالحمیدغورسے، اخوند غلام رسول خپلو، منظور حسین کورو، عارف حسین خپلو ، محمد شہبازچھوربٹ، غلام حیدر جاویدسرمو ، مولانا محمد حسن شاد کریس، علامہ سید علی الموسوی خپلو و دیگر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے اس سات سالہ کٹھن وقت میں خوف و ہراس کو شکست دے کر سانگھڑ جیسے علاقے میں علمائے کرام کے ساتھ بھرپور ہمکاری کی اور مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ مندی سے کام کیا۔
متحدہ علما محاذ کے رہنما مولانا امین انصاری(اہل سنت مسلک دیوبند) ، مولانا محمد اسلم نعیمی (مرحوم) چیئرمین مسلم متحدہ محاذ و معروف عالم دین مسلک بریلوی اہل سنت ، ڈاکٹر عامر محمدی جماعت اہلحدیث ، مناظر ختم نبوت علامہ الیاس ستار صدر صورت الاسلام ٹرسٹ ، علامہ مرزا یوسف حسین محرک شیعہ علما کونسل، علامہ عبدالخالق آفریدی جمعیت غربا اہل حدیث، علامہ انتظار الحق تھانوی رہنما مسلک اہل سنت دیوبند ، علامہ یوسف میمن رہنما مسلک اہل سنت ، علامہ قاری شمس الرحمن صدیقی چیئرمین جمعیت مشائخ اہل سنت، علامہ احمد غنی جاجروی مسلک اہل سنت جامعہ بدر العلوم کراچی، مولانا حافظ عبد البادی اہل سنت ، مولانا شیخ صلاح الدین (فقہ جعفریہ) صدر ہیئت ائمہ مساجد پاکستان، علامہ غلام عباس موحدی جامعہ علوم اسلامیہ کراچی، علامہ محمد علی صابری خطیب جامع مسجد محمدی ملیر، علامہ عباس حیدری مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ ملیر بھی لائق صدر تحسین ہیں جنہوں نے مسلک نوربخشیہ کے تعلیمی مرکز جامعہ اسلامیہ صوفیہ امایہ نوربخشیہ ٹرسٹ رجسٹرڈ کراچی کا دورہ کیا اور تمام تر حقائق کی روشنی میں دلائل سے بھرپور تصدیق نامہ جاری کیا اور کہا کہ مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے پیروکار راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور خدا و رسول ، قرآن پاک، ملائکہ ، قیامت پر اسی طرح عقیدہ رکھتے ہیں جیسے دوسرے مسلمان رکھتے ہیں۔ ان کے لٹریچر اور کتابوں سے کوئی ایسی اہانت ثابت نہیں ہوتی۔ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے پیروکار مکتب فکر کی حیثیت سے ایک پرامن اور اتحاد بین المسلمین کا داعی مسلک ہے ان کیخلاف کئے جانے والے پروپیگنڈے اور مقدمات امت اسلامیہ کو پراگندہ کرکے فرقہ واریت پھیلانے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ ان علمائے کرام کے ناموں کے ساتھ ان کے مسالک کو واضح اگرچہ نامناسب تھاکیونکہ میں اسے اسلامی وحدت کے منافی محسوس کررہا تھا تاہم دوسرے ہی لمحے میں نے یہ بات زیادہ شدت سے محسوس کی کہ اتحاد امت و وحدت ملت کیلئے ان علماء نے مختلف مسالک سے وابستگی کے باوجود انتہائی موثر اور قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ چنانچہ قارئین کیلئے یہ وابستگی بھی معلوم ہونی چاہئے کہ اگر علمائے دین چاہیں تو دین کودوبارہ وحدت و یگانگی کا آئینہ دار بنا سکتے ہیں اور یہ علما اس روش کی بہترین مثال و مشعل راہ ہیں۔ اس تصور نے مجھے ان کی وابستگی بتانے پر مجبور کر دیا۔ ہم مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کی جانب سے ان تمام مسالک کے علمائے کرام کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہیں کہ انہوں نے اپنی عالمانہ اور اعلی سوچ و اقدار کا بھرپور لحاظ کرتے ہوئے حقائق کو دبنے نہیں دیا اور مسلک نوربخشیہ کے بارے میں اپنی علمی و تحقیقی رائے سے ہمیں نواز ا اور ہمیں بھرپور روحانی و علمی حوصلہ دیا۔
مجموعی طور پر تمام نوربخشی برادران و خواہران کاتہہ دل اورا تھاہ گہرائیوں سے مشکور و ممنون ہیں کہ جنہوں نے اس کیس کو نوربخشی مسلک کی بقاء کی جنگ سے تعبیر کیا اور علمائے کرام کی ہر طرح سے مدد کی ، حوصلہ دیا اور ہر طرح کی قربانی دے کر فتح مبین حاصل کی ۔
ملت نوربخشیہ کی فتح
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کامیابی چند افراد یا کسی گروہ کی کامیابی نہیں بلکہ مجموعی طور پر مسلک ہی کی کامیابی ہے ۔ تمام نوربخشی برادران کو بھی اسے پورے مسلک کی حقانیت کی فتح سمجھنا چاہئے۔ اس فیصلے کی روشنی میں ہمیں یہ پیغام بھی عام کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بہت بڑے بحران سے بچالیا ہے اب ہمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بھلا کر جناب پیر طریقت کی سرپرستی میں مسلک کی خدمت کیلئے باہم اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اختلافات کسی بھی سطح کے ہوں ، ہوتے رہتے ہیں لیکن ان اختلافات کو بنیاد پر مسلک کی حقانیت کو دائو پر لگانا کسی بھی صورت عقلمندی نہیں۔ ہم تمام نوربخشی علما، طلباء، دانشور، بزرگ اور سرکردگان سے اپیل کرتے ہیں کہ مسلک کی خدمت کیلئے تمام اختلافات کو بھلائیں اور باہمی صلح و مصالحت کیساتھ مسلک کی بنیادی تعلیمیات کے فروغ کیلئے کام کریں۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی حقانیت کو سمجھتے ہوئے اس کی بہتر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں غیر ضروری الزامات سے گریز کرتے ہوئے ہر کسی کو اچھا مسلمان سمجھنے اور اس کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرنے کی توفیق نصیب ہو۔
یہاں ہم قارئین کو کچھ ایسے واقعات و حادثات کا ذکر کریں گے جو ہمیں مزید حق و سچ کے یقین میں اضافہ کرتے ہیں۔
ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے ایک فرضی واقعہ گھڑنے کے بعد اہم الزام یہ لگایا تھا کہ شیخ سکندر حسین اور دیگر ہمکاران قرآن پاک کے بارے میں جو عقیدہ رکھتے ہیں وہ سراسر غلط ہے۔ بقول مدعی کے ، شیخ صاحبان و دیگر ان کے ہمکاران موجودہ قرآن پاک کو اصل نہیں سمجھتے اور ان کا عقیدہ ہے کہ اصل قرآن امام مہدی علیہ السلام لے کر آئینگے۔ اس کے ثبوت کے طور پر انہوں نے تبیان نوربخشیہ، حقائق سے پردہ اٹھتا ہے نامی رسالہ اور رسالہ الفرقان کے بعض صفحات کے حوالہ جات دئیے اور الزام لگایا کہ ان صفحات پر ایسے عقیدے کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ایف آئی آر میں نشاندہی کئے گئے صفحات پر ایسی عبارتیں سرے سے ہی موجود نہیں تھیں۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد جب مدعی کا بیان ریکارڈ کیا گیا تو وہ ایف آئی آر میں درج صفحات سے مذکورہ الزام کو نہ صرف ثابت کرنے میں ناکام رہے بلکہ انہوں نے اس بات کا برملا اقرار کیا کہ انہوں نے یہ الزامات ان کی کم علمی کی وجہ سے لگائے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ دونوں شیخ صاحبان اسلامی علوم میں مدعی سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور یہ کہ انہیں قرآن پاک کی تدوین اور اس کی تاریخ کے بارے میں گہری معلومات نہیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ مصحف علی ؑ تاریخ کی ایک حقیقت ہے اور تمام مکاتب فکر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت علی ؑ نے بھی ایک مصحف تدوین کی تاہم بدقسمتی یہ نسخہ مسلمانوں کے پاس نہیں۔
مصحف علی ؑ کے حوالے ہم نے معزز عدالت کے سامنے مختلف مکاتب فکر کی انتہائی معتبر کتابوں کے حوالے سے یہ بات انتہائی مؤثر انداز میں ثابت کیا کہ مصحف علی ؑ سمیت تمام تدوین شدہ مصاحف میں قرآن کریم کا متن ایک ہی ہے اور رسالہ الفرقان لکھنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ صحابہ کرام ؓ کے جمع کردہ مصاحف میں متن قرآنی میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں مصحف علی ؑ میں تفسیر کے طور پر آیات کی شان نزول، جائے نزول اور ترتیب نزول کا بھی تذکرہ ہے اور یہ باتیں تفسیر میں شمار ہوتی ہیں اور متن قرآن ان سے متاثر نہیں ہوتا۔ مقدمہ کے گواہوں نے اسی موقف کی تائید کی اور کہا کہ اس مسئلے کو گہرائی سے وہ بھی نہیں جانتے اور انہوں نے اس موقف کی تائید کی۔
معزز عدالت کے سامنے ہم نے مندرجہ ذیل تحریری دستاویزات پیش کیں
٭… رسالوں کے وہ صفحات جن میں معترضہ جملوں کی موجودگی کا الزام لگایا گیا جبکہ ان صفحات پر ایسی کوئی عبارت موجود نہیں۔
٭… رسالہ الفرقان اور تبیان کے تینوں شماروں میں معترضہ عبارتوں کے تمام تر حوالے۔ اصل کتاب کیساتھ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کیلئے کتابوں کا سرورق، شناسنامہ اور متعلقہ صفحہ جہاں سے عبارتیں نقل کی گئی تھیں۔
٭… مذکورہ دونوں رسالوں میں موجودہ ان عبارتوں کے حوالے اور صفحات کی کاپیاں جن میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ قرآن پاک کا موجودہ متن تمام تر شبہات و شکوک سے بالاتر ہے اور صحابہ کرامؓ کے تدوین شدہ مصاحف میں متن قرآنی کے حوالے سے کوئی فرق نہیں۔
٭… مقدمہ کے اندراج کی وجوہات، اس عنوان کے ذیل میں یہ واضح کیا گیا کہ موجودہ مقدمہ مدعی مقدمہ نے کسی کے ایماء پر درج کرایا اور اس حوالے سے کراچی میں درج مقدمات اور تنازعات کا جامع اور موثر انداز میں تذکرہ کیا گیا تاکہ معزز عدالت کے سامنے واضح ہو جائے کہ مقدمہ کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں۔
٭… مدعی مقدمہ اور گواہوں کے وہ تمام بیانات جن میں انہوں نے نہ صرف اپنے الزامات کے غلط ہونے کا اقرار کیا بلکہ بعض مواقع پر ہمارے موقف کی بھرپور تائید کی۔
٭… مدعا علیہان کے تحریری بیانات جن میں ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کیا گیا اور تمام تر وجوہات اور حقائق سے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا۔
ہمارے وکلا نے اس موقع پر انتہائی مؤثر اور جامع تحریری دلائل تیار کئے اور اس کے ساتھ مذکورہ بالا تمام منسلکہ جات شامل کرکے حتمی دلائل دئیے اور اس طرح مورخہ 26 مارچ 2015 ء کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ائمہ معصومین ؑ کی خصوصی مدد سے ہم اس مقدمہ سے بری ہوئے۔

حقیقی فتح ہونے کی وجوہات
یہ فتح کسی گروپ یا کسی شخص کی فتح نہیں بلکہ پوری نوربخشی قوم، نوربخشی عقیدہ اور نوربخشی نظرئیے کی فتح ہے ۔ اس فتح کے بعد یقینا قوم کا درد رکھنے والوں نے سکھ کا سانس لیا تاہم جب میں بعض امور کا تجزیہ کرتا ہوں تو کچھ ایسے حقائق آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں جن سے ایمان کو مزید تازگی اور پختگی عطا ہوتی ہے اور سانگھڑ کا یہ مقدمہ نوربخشی مسلک کیلئے کیا کیا کامیابیاں دے گیا۔ آئیے ان پر میں اپنا تجزیہ آپ کی نذر کرتاہوں۔

٭… قرآن مجید کے حوالے سے عقیدۂ نوربخش کی فتح
سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ جو لوگ ہمیں منکر قرآن سمجھتے تھے ان کے سامنے بھی یہ بات واضح ہو گئی کہ قرآن پاک کے حوالے سے ہمارا عقیدہ ان سے زیادہ صاف، واضح اور قابل تقلید ہے اور ہم اس مقدس کتاب کے بارے میں ایسا نظریہ رکھتے ہیں کہ جو ’’حفاظت قرآن اللہ کی ذمہ داری‘‘ کی سچائی کا آئینہ دار ہے کیونکہ اگراس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ کچھ لوگ قرآن پاک میں تحریف یا متن قرآن میں تبدیلی میں کامیاب ہو گئے ہیں تو یہ سوچ یقیناً اللہ تعالیٰ کے اس دعوے کی مکمل طور پر نفی کرتی ہے کہ
بے شک اس ذکر (قرآن) کو ہم نے اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
چنانچہ متن قرآنی ہر دور میں محفوظ رہا اور یہ قیامت تک محفوظ ہی رہے گا اور یہ ایک سچے اور کامل مسلمان کا پکا عقیدہ ہونا چاہئے کہ جس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لی ہو اس میں کسی قسم کی تحریف یا تبدیلی کبھی ممکن نہیں۔

٭… سازش کی ناکامی
شاید ملکی سطح پر مسلک کو دیوار سے لگایا جارہا تھا اس کیلئے انہوں نے قرآن پاک کے حوالے سے ہمارے عقیدے کو غلط رنگ دے کر پیش کیا۔ تاہم اس فتح نے نہ صرف ہمارے خلاف سازشیں ناکام بنادیں بلکہ ہمارے بارے میں غلط فہمی کا شکار مکاتب فکر کے علمائے کرام نے نہ صرف ہمارے عقیدے کو سراہا بلکہ تقریری اور تحریری طور پر ہمارے موقف کی بھرپور تائید کی اور ان کا تحریر کردہ فتویٰ اور تصدیق نامہ اب ہمارے ریکارڈ کا درخشندہ حصہ بن چکا ہے۔

٭… نوربخشیوں کی سرخروئی
نوربخشیوں پر مظالم عالم اسلام کی تاریخ کا ایک سیاہ حصہ رہا ہے۔ کشمیر کے ظالم حکمرانوں نے ہمارے اثاثے خاکستر کئے، پیران طریقت اور مشائخ کو قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن سلام ہے ان ہستیوں پر جن پر مظالم کے پہاڑ توڑنے جانے کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ حالیہ مقدمہ میں بھی ان ہستیوں کے پیروکاروں نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا مقدمہ بھرپور ، موثر اور قابل تقلید انداز میں لڑا اور اللہ تعالیٰ نے انتہائی مشکل حالات، مشکل مقام اور مشکل زمانے میں ہمیں سرخرو کیا۔ (شکر الحمد للہ)

٭… وقت کا تقاضا
گزشتہ تین دہائیوں میں ہم بدقسمتی سے آپس میں دست و گریبان ہیں اور ہمارے علماء، زعما، پڑھے لکھے اور معززین کی اکثریت خود گروپ و شخصیت پرستی کا شکار ہو کر اس انتشار کا سبب بن رہے تھے۔ اس حوالے سے بھی عقیدہ قرآن پر بھی کافی تنازعات سامنے آئے اور بلاوجہ الزاما ت کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ سانگھڑ میں کیس کے اندراج کے بعد ہمیں یہ کہا جانے لگا تھا کہ اب اتحاد کا وقت گزر گیا، اب اس کیس سے بری ہونا ناممکن ہے ۔ بعض مخالفین نے اسے حق و باطل کا معیار بنا کر بھی پیش کیا تھا کہ اگر شیخ سکندر حسین و دیگر سچے ہیں تو بری ہو کے دکھائو۔ شاید ان کو گمان تھا کہ یہاں سے حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا اور شاید انہیں اس بات کا زیادہ یقین تھا کہ شیخ صاحبان کو سزا ہو جائے گی اور مخالفین کی لیکن اس فتح نے ملت نوربخشیہ کے مذکورہ تمام معززین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ملت کے اندرایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ اگر شیخ صاحبان سچے نہ ہوتے تو بری نہ ہوتے۔ اس سوچ کا پیدا ہونا بھی نوربخشیوں کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کیس میں فتح نے عالم نوربخشیت میں ایک بار پھر اتحاد و اتفاق کی ضرورت کی سوچ کو دوبارہ بیدار کیا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مزید دست و گریبان رہنے کے بجائے مسلک میں مرکز پر دوبارہ جمع ہو جائیں اور باہمی صلح و امن سے مسلک کی خدمت و آبیاری کریں ۔