صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں کراچی کی ۵۰ سالہ کارکردگی


غلام حیدر جاوید
سابق جنرل سکریٹری
ضبط کہتا ہے خاموشی سے بسر ہو جائے
درد کی ضد ہے کہ دنیا کو خبر ہوجائے
جس طرح انسان کا بدن مختلف اعضاء سے ملکر بنا ہے اور ان اعضاء کے درمیان فطری رابطہ موجود ہے اسی طرح معاشرہ بھی چھوٹے بڑے خاندانوں سے ملکر بنتا ہے۔ جب کسی خاندان کے افراد میں اتحاد اور یگانگت ہوتی ہے تو اس سے ایک مضبوط اور سالم معاشرہ بنتا ہے۔ انسان محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ ہے۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان معاشرہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کی کئی ضروریات ہیں جو ایک معاشرہ میں رہ کر ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی علاقے کے کچھ لوگ کہیں بھی جمع ہوجائیںوہ اپنے خوشی و غمی اور دوسرے طور طریقوں کی انجام دہی کیلئے مل بیٹھ کر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی عمل کو ہم معاشرہ کہتے ہیں۔ معاشرے کی سرگرمیاں احسن طریقے سے نبھانے کیلئے اصول و ضوابط اور اغراض و مقاصد بنائے جاتے ہیں۔ لیکن محض قوانین نہ تو انسان کی زندگی کو سنوارتے ہیں اور نہ ہی اسکی سعادت کی ضمانت لے سکتے ہیں، بلکہ قوانین کے ساتھ کچھ اشخاص کا ہونا بھی ضروری ہے جو ان قوانین کو عملی جامہ پہنائیں، تب ہی یہ قوانین موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ تنظیم، جماعت جو قوانین کو نافذ کرتی ہے اور معاشرے کے امور کی ذمہ دارہوتی ہے حکومت کہلاتی ہے اور انسان کی ضروریات میں شمارہوتی ہے حکومت کے بغیر انسانی معاشرہ ہرج و مرج کا شکار ہو کر زوال اور نابودی کی راہ اختیار کرلیتا ہے۔
انسان فطری طور پر اجتماعی ہے اسی وجہ سے اجتماعی اور سماجی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور جو حضرات حکومت کے قائل نہیں ہیں وہ یا تو وحشی ہیں یا مافوق بشر موجودات ہیں۔ چونکہ انسان فطرتا و بالطبع دولت اور حکومت کو اپنی اجتماعی زندگی کی سب سے پہلی ضرورت سمجھتا ہے، لہذا تاریخ کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ملے گا جس میں حکومت نہ رہی ہو اگرچہ ابتدائی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔
یوں تو نوربخشی برادری قیام پاکستان سے پہلے ہی کراچی میں بسلسلہ روزگارآتے جاتے رہے ہیں مگر فیملی کی صورت میں تقریباً 50 کی دہائی میں آباد ہونا شروع ہوئی۔ اُس وقت نوربخشی اور شیعہ برادری غم اور خوشی کے ایام اور محرم کے مجالس تقریباً مشترکہ منعقد کیا کرتے تھے۔ اس مقصد کیلئے ابی سنیا لائن میں جگہ حاصل کررکھی تھی ۔ بعد میں لوگوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ جملہ مسائل بھی آتے گئے اس طرح نوربخشی برادری نے اپنا الگ جگہ بنانے پر غور شروع کیا اس مقصد کیلئے جتنے بھی لوگ اُس وقت کراچی میں تھے سب نے اپنے اپنے حسب استطاعت چندہ و عطیات جمع کئے اور آخرکار 60 کی دہائی میں محمودآباد گلی نمبر 33 میں جگہ حاصل کی اور جملہ مذہبی رسومات کی ادائیگی شروع کی۔ جیسے جیسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیاآمدنی میں بھی اضافہ ہوتا گیالوگوں میں جوش عروج پر تھا کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی تھے ان لوگوں نے ایک ایسے پلیٹ فارم کیلئے جس کے زیر سایہ آئے دن جملہ مسائل کی حل کیلئے ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی اور شبانہ روز محنت کے بعد اس تنظیم کی اغراض و مقاصدکو حتمی شکل دیکر سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ، 1860 کے تحت رجسٹریشن کیلئے جمع کیا اور یوں بالآخر 1965 میں ’’انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں‘‘ کے نام سے یہ تنظیم رجسٹرڈ ہوئی۔ الحمداللہ آج یہ تنظیم 50 سال کا ہوگیا ہے یعنی گولڈن جوبلی کر چکا ہے۔ سلام پیش کرتا ہوں اُن ہستیوں کو جنہوں نے انتہائی قلیل آمدنی کے باوجود مسلک نوربخشیہ کیلئے گرانقدر خدمات کا سلسلہ شروع کیا۔
شروع میں کچی مسجد تعمیر کرکے مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے رہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد کو توسیع دیتا رہا۔ ریکارڈ کے مطابق 1970 میں اس مسجد کو پہلی پکی چھت ڈالی گئی۔ اس وقت مسجد میں تقریباً 150 لوگوں کیلئے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔ جبکہ صحن میں 450 اور دیگر جگہوں میں اتنے ہی اور نمازیوں کی گنجائش ہے یوں اس وقت 1000 سے زائد نمازیوں کیلئے گنجائش موجود ہے
انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں (رجسٹرڈ) کراچی کے ان 50 سالوں میں جو کام تمام کارہائے نمایاں پر فوقیت رکھتا ہے اور اُن کرداروں کو جنہوں نے سوچا، غور و فکر کیا اور عملی جامہ پہنایا اور 1990 میں جو نوربخشی شمع اس انجمن کے سائے تلے روشن کی ہے وہ جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ ہےجو آج اپنے قیام کے 25 سال پورے کرکے سلور جوبلی منا رہی ہے۔ خراج تحسین اور سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مسلک نوربخشیہ میں جب علماء کا قحط تھا کراچی میں یہ جامعہ قائم کرکے اس قحط الرجال کو ختم کرنے کا آغاز کیا۔الحمدللہ یہ جامعہ اب تک 120 طلباء کو فارغ التحصیل کرکے علماء کی صف میں شامل کرنے کا اعزاز حاصل کرچکی ہے جو اپنے اپنے علاقوں میں مسلک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ خراج عقیدت پیش کرتا ہوںپیرطریقت و رہبر شریعت الحاج سید عون علی عون المومنینؒ کی ذات اقدس پر جن کی فکرانگیز قیادت نے یہ شمع روشن کی اور موجودہ پیرطریقت و رہبر شریعت حضرت سید محمدشاہ نورانی مدظلہ العالی کی ذات اقدس کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی ولولہ انگیز قیادت میں یہ جامعہ تمام تر سازشوں، تکلیف دہ آزمائشوںکے باوجود کامیابی کی طرف رواں دواں ہے۔سلام پیش کرتا ہوںاُن تمام کوجنہوں نے انجمن میں آ کر مختلف عہدوں پر اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق کام کیا اورسلام پیش کرتا ہوں اُن تمام خواتین و حضرات کو بھی جنھوں نے جانی،مالی، قولی اور فعلی ہر لحاظ سے اس جامعہ کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔
ان 50 سالوں میں اس انجمن نے لازوال کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔ دستیاب انجمن کے کارروائی رجسٹر میں سے چند ایک کا تذکرہ قارئین کی نذر کررہا ہوں:
() 20 فروری 1965 کو اہلیان بلتستان کے نوربخشی حضرات کا ایک جلسہ زیر صدارت سردار محمد ابراہیم ہوا جس میں ایک مذہبی انجمن کے قیام پر غور کیا گیا اور کثرت رائے سے فیصلہ کرتے ہوئے اغراض و مقاصد پیش کیا۔ انجمن کا نام ’’انجمن تحفظ حقوق نوربخشی بلتستانیاں کراچی رکھا گیا۔

  • 30 مارچ 1965 کے اجلاس میں انجمن کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
  • 03 مئی 1965 کے اجلاس میںانجمن کی رجسٹریشن سے متعلق نام کی تبدیلی کی وجوہات پیش کی اور نام ’’انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی بلتستانیاں‘‘ رکھا گیا۔
  • 24ستمبر 1965 کے اجلاس میں پاکستان کی شاندار کامیابی اور فتح پر شکرانہ ادا کیا اور افواج پاکستان کو مبارک باد پیش کی اور شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
  • 19 دسمبر1965 کو جامع مسجد بلتستانی کی رسم افتتاح ادا کی گئی ۔
  • 05 اپریل 1985 کے اجلاس میںانجمن صوفیہ نوربخشی بلتستان مرکز سکردو کی ایک چٹھی جناب فقیر محمد ابراہیم مہتمم اعلیٰ مرکزی چندہ کمیٹی کی جانب سے موصول ہوئی کہ پیر نوربخشی کے احکام کے حوالے سے کہ کراچی کی تمام انجمنوں کو ختم کرکے ایک انجمن کی تشکیل کی جائے۔ اجلاس میں گرما گرم مباحثہ کے بعد یہ طے پایا کہ فقیر ابراہیم صاحب یہ وضاحت کریں کہ موجودہ انجمن کو برقرار رکھنا ہے یا اس انجمن کو کالعدم قرار دینگے اور انجمن ہذا اپنے کاغذات حسب ہدایت آپ کے حوالے کریں گے۔ آئندہ کیلئے آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم سب اتفاق کریں گے۔ اکثریت نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔
  • 09اپریل 1985کے اجلاس میںوفد کے سربراہ فقیر محمد ابراہیم نے کہا کہ جناب آقائے نوربخشیہ سید عون علی صاحب پیر نوربخشیہ کے حکم کے مطابق کراچی کی تمام انجمنوں کو ختم کرکے ایک فعال انجمن تشکیل دی جائے۔ اسلئے کہ ایک انجمن تشکیل دے کر سب کو ایک انجمن میں ضم کیا جائے اور تمام انجمنوں کے قابل لوگوں کو بھی اس میں شریک کریں۔ لہٰذا انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی کراچی نے جناب پیر نوربخشیہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے تمام کاغذارت و حساب کتاب جناب فقیر ابراہیم کے حوالے کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ تشکیل نو کے دوران اس مرکزی انجمن کے اغراض و مقاصد کو بھی مدنظر رکھا جائےگااور آقائے سید عون علی صاحب کی تحریری چٹھی حاضرین کو پڑھ کر سنایا گیا۔کارروائی پر درج ذیل حضرات کے دستخط ہیں: کوثر علی (جنرل سکریٹری)، محمد ابراہیم (نگران اعلیٰ)، غلام حسین (نائب صدر)، محمد اقبال (صدر)، محمد خان، غلام حیدر، غلام محمد، کاچو علی کھرکوی، عبداللہ، فدا حسین کوروی، محمد علی خان، محمد خان، فدا علی، محمد حسین درویشی، حاجی یعقوب، شمس الدین اور مراد علی۔نوٹ:قارئین کرام میں نے خود پیر طریقت کا چٹھی پڑھا ہے جس کی عبارت آپ کیلئے پیش خدمت ہے فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں:
  • 28 اپریل 1989 کے اجلاس میں انجمن کے نام پر ’’انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی‘‘ یا انجمن صوفیہ نوربخشیہ‘‘ پر بحث ہوئی اور ’’انجمن فلاح وبہبودی نوربخشی‘‘ پر اکثریت نے اتفاق کیا اور بحال کیا۔اجلاس میں چوبیس نمائندوں نے شرکت کی۔
  • وٹ: یہاں یہ بات کہتا چلوں کہ کچھ عرصہ سے انجمن میں موجود لوگ اصلی نام کے بجائے ’’انجمن صوفیہ نوربخشیہ‘‘ کے نام سے چلارہے تھے۔ن
  • () 01دسمبر 1989کے اجلاس میں دارالعلوم کے قیام کے سلسلے میں انجمن نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا اور معلمین کیلئے پیر طریقت حضرت سید عون علی شاہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں چودہ نمائندوں نے شرکت کی۔
  • () 18 مئی 1990 کے اجلاس میں جامعہ کے نام پر تفصیلی بحث کے بعد ’’جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ‘‘ رکھا۔ مختلف ناموں پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر یہی نام تجویز کیا ور تمام اراکین نے اس نام کو تسلیم کیا۔ اجلاس میں اکیس نمائندوں نے شرکت کی ۔
  • () 07 ستمبر 1990 کے اجلاس میں بلتستان کے دورے سے واپسی پر ماموں عبداللہ صاحب نے بلتستان کےحالات سے آگاہ کیا اور تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان بھر میں لوگوں نے جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے قیام کو سراہا ہے اور ہر سطح پر انجمن فلاح و بہبودیٔ نوربخشی کراچی سے تعاون کا یقین دلایا۔نیز بوا پیر کے حکم کے مطابق جناب شیخ سکندر حسین صاحب کو جامعہ کا استاد مقرر کیا ہے جو میرے ساتھ کراچی پہنچ چکے ہیں۔
  • () 28ستمبر 1990 کے اجلاس میں جامعہ میں تدریس کا آغاز بروز پیر 17ربیع الاول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بمطابق 18 اکتوبر 1990سے کرنے کا فیصلہ ہوا یوںبروز پیر 17ربیع الاول۔۔۔۔۔۔۔ بمطابق 18 اکتوبر 1990سے تدریس کا آغاز ہوا۔
    () 17جولائی 1991 کے اجلاس میں عشرۂ محرم الحرام کی مجالس کے بعد جامع مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ محمودآباد میں بھی زیارت جو پیر طریقت سید عون علی عون المومنین نے جس ترتیب سے پڑھی ہے اور جس کی آڈیو کیسٹ موجود ہے، ہو بہوپڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ اراکین کے سامنے لکھوایا اور سنایا گیا۔جسے نوربخشیہ یوتھ فیڈریشن کے اراکین کو بھی بلا کر سنایا گیا، جنھوں نے بھی اسے ایک مستند دستاویز قرار دیا۔
    () 01 فروری 1993 کے اجلاس میں پیر طریقت نے جامعہ کو ٹرسٹ رجسٹریشن کی اجازت عنایت کی اور مسلک سے متعلق کئی احکامات دیئے اور آئندہ کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ جامعہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
    () 19 جنوری 1996 کو جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ(ٹرسٹ رجسٹرڈ) سے پانچ سالہ کورس کی تکمیل پر فارغ ہونے والے پہلے دس طلباء کرام کی تقسیم اسناد و دستار فضیلت کا پہلا جلسہ جامع مسجد میں ہوا۔جس میں بلتستان بھر سے علمائے کرام نے شرکت کی اور پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی نے تقسیم اسناد و دستار فضیلت کا شرف حاصل کیا۔اس جلسہ میں پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی کے ہمراہ اُستاد العلماء سید علی شاہ گلشن کبیر،سید حمایت علی شاہ، سید محمد شاہ تھلوی، سید مہدی شاہ تھلوی، مولوی محمد عبداللہ، علامہ محمد بشیراور شیخ محمد محسن اشراقی نے اپنی شرکت سے جلسہ کو رونق بخشی۔
    () 06 دسمبر 1996 کے اجلاس میں وہ تمام ممبران جنہوں نے ابھی تک مسلسل نوٹس بھجوانے کے باوجود چندہ ادا نہیں کیا، ان تمام کی رکنیت منسوخ کرنے کی منظوری دی اور ممبرشپ ختم کی گئی۔
    () 08 فروری 1998کو نوربخشی تاریخ کا عظیم تاریخی دوسراجلسہ تقسیم اسناد و دستار فضیلت منعقد ہوا۔ جس میںپیر طریت حضرت سید محمد شاہ نورانی کے ہمراہ بلتستان بھر سے علمائے کرام اُستاد العلماء سید علی شاہ گلشن کبیر، سید محمد شاہ تھلوی،سید شمس الدین تھگس، سید محمد عراقی شگر، سید حسن شاہ شگری، سید مہدی شاہ تھلوی نے شرکت کی۔ مخالفین کی بے جا مداخلت پر مسجد کی بجائے راتوں رات انتظام کرکے گلی نمبر 31 میں جلسہ کیا گیا۔ عوام نے ایک نئے جوش و ولولے سے اس جلسہ میں شرکت کرکے مخالفین کو جواب دیا۔اس دفعہ بھی دس طلباء کرام کو دستار فضیلت کا شرف حاصل ہوا۔
    () 15 فروری 1998 کو پیر طریقت کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں اب تک کی کارکردگی کو سراہا اور آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے پیر طریقت سے رہنمائی لی گئی۔
    () 26 فروری 1998 کو پیر طریقت کی سربراہی میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں مولوی عبدالحلیم کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ جمعۃ المبارک کے خطبات اکثر جامعہ کے طلباء کو دیا کریں۔ امن و امان برقرار رکھنا انجمن کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا پیش امام انجمن کے مشورے پر عمل کرے۔ آپس میں صلح و صفائی ، امن و آشتی سے رہنے کی کوشش کرے۔
    () 05 جولائی 1998 کے اجلاس میں سید زاہد حسین (مرحوم) کھرکوی کے پاس موجود نایاب نسخوں کو محفوظ کرنے کیلئے آخوند غلام کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ ان کے ورثا سے ان نسخوں کو ہدیہ یا عطیہ کے ذریعے حاصل کرے۔
    () 26 جولائی 1999 کے اجلاس میں پیر طریقت کے دورہ کراچی کے موقع پر صلح بلغاراور آئندہ کا لائحہ عمل پر شق وار تفصیل سے اراکین کو سمجھایا اور اراکین نے آپ کے ہر حکم پر لبیک کہنے کا تجدید عہد کیا۔ اس دورے میں پیر طریقت سے تین سیشن ہوئی۔
    () 29 جنوری 2001 کے اجلاس میں جنرل کونسل اور سنٹرل منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے متفقہ رائے سے انجمن کے اغراض و مقاصد میں ترامیم کی منظوری دی۔
    () 08 اگست 2001 کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد غازی نعیم اور اس کے موئیدین کے خلاف ’’سید محمد نوربخش اور مسلک نوربخشیہ‘‘ نامی کتاب میں مسلک کی بنیادی عقائد کے خلاف ہرزہ سرائی پرقرارداد مذمت پاس کی گئی۔
    () 15 جنوری 2002 کے اجلاس میں پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی کے دست مبارک سے نئی منتخب کابینہ (جنرل کونسل اور سنٹرل منیجنگ کمیٹی ) کے اراکین کو حلف کی سعادت حاصل ہوئی۔
    () 03 فروری 2002 کے اجلاس میں اغراض و مقاصد میں ترامیم کی رجسٹریشن آفس حکومت سندھ سے منظوری ملنے کی خوشخبری دی گئی۔
    () 04 اگست 2002 کے اجلاس میں سیرہ معصومینؑ جلد دوم کے سلسلے میں تاریخ ساز فیصلے پر مسلک نوربخشیہ کے روحانی پیشوا و پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قرارداد مبارک پاس کی اور اس سلسلے میں تمام تعاون کنندہ گان مولوی محمد عبداللہ سمیت علمائے کرام، شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ، امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر، چیف سکریٹری و ڈپٹی چیف ایگزیکیٹواور خصوصاًضلع گانچھے کے ممبران قانون ساز اسمبلی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے داد آفرین پیش کی جنہوں نے اس نازک ترین موقع پرفرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کو روکنے میں مسلک نوربخشیہ کے پیر طریقت کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ کیا۔
    () 27 ستمبر2002کے اجلاس میں پیر طریقت کی گاڑی کو نذر آتش کرنے کے واقعہ پر انتہائی دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور اس گھناؤنی سازش کو ایک خطرناک سازش قرار دیا گیا اور قرارداد مذمت پاس کرکے میڈیا کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
    () 04 مئی 2003 کے اجلاس میں سیرہ معصومین ؑ جلد دوم کے سلسلے میں ہوم ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کا مراسلہ پیش کیا گیا جس کے مطابق شیخ سکندر حسین صاحب کو مکمل بری کیا گیا جس پر تمام اراکین نے اللہ کے حضور شکرانہ ادا کیا۔
    () 06 جون 2003کے اجلاس میں سیرہ معصومینؑ جلد دوم کی ترمیم شدہ ایڈیشن پرنٹ ہو کر پیش کیا گیا۔ اراکین کو آگاہ کیا گیا کہ اس کی کاپیاں تمام متعلقہ اداروں ہوم سکریٹری سندھ، ٹی پی او جمشید ٹاون، وزارت داخلہ حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان کو ارسال کیا گیا۔ اراکین نے اس پر تسلی کا اظہار کیا ۔ اسی اجلاس میں ٹرسٹ کیس عدم پیروی اور عدم دلچسپی پر خارج کرنے کا فیصلہ بھی پیش کیا جسے اہم کامیابی قرار دیا گیا۔
    () 03 اگست 2003 کے اجلاس میں تیسرا تقسیم اسناد و دستار فضیلت پیر طریقت کی رضا مندی سے کراچی میں کرنے کا فیصلہ کیاجس کیلئے یکم ستمبر سے 15 ستمبرکی تاریخیں رکھی گئیں۔ یوں پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالیٰ کی صدارت میںیہ عظیم الشان جلسہ 14ستمبر 2003 کو جامع مسجد میں منعقد ہوا۔اس جلسہ میں آخوند محمد ابراہیم کاندے، صوبائی وزیر تعلیم حکومت سندھ عرفان اللہ مروت، شیخ غلام علی عارفی نے شرکت کی۔اس جلسہ کے ذریعے بائیس طلباء کرام کوتقسیم اسناد و دستار فضیلت کو شرف حاصل ہوا۔
    () 03 فروری 2004کے ہنگامی اجلاس میںتاریخی فیصلہ کرتے ہوئے مولوی عبدالحلیم نوربخشی کو خطیب و پیش امام کی منصب سے سبکدوش کرکے آئے دن کے فتنوں سے نجات حاصل کی۔ ان کی جگہ پرجناب شیخ محسن اشراقی کو پیش امامی کا اضافی ذمہ داری دیدی گئی۔
    () 06 اپریل 2005 کے اجلاس میں پیر طریقت نے آئندہ کا لائحہ عمل اور جاری اقدامات سے متعلق اراکین کو آگاہ کیا اور ہدایات جاری کیں۔
    () 27مئی 2005کو ایک ریلی گوانتانامو میں قرآن پاک کے توہین پر دیگر عالم اسلام کی طرح مسلک نوربخشیہ کے پیروکاروں نے جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد زبردست جلوس نکالاجس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور کفار و مشرکین کے خلاف قراردادیں پاس کی۔
    () 24 فروری 2006 کو ایک ریلی یورپی اخبارات میں توہین نبوت کے خلاف چھپنے والی کارٹون کے خلاف نکالا جس میں سینکٹروں نوربخشی عوام اور علمائے کرام نے شرکت کی۔
    () 05 نومبر 2006کے اجلاس میں جامعہ میں آخوند کلاس کا دورانیہ تین سال سے پانچ سال کرنے کا فیصلہ کیا۔
    () 08اپریل 2007 کے اجلاس میں صدر انجمن غلام رضا نے 26-03-2007کو مخالفین کے ساتھ ایک مذاکرات کی نشست ہوئی تھی جس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
    () 03جون 2007کے اجلاس میں صلح کے حالیہ پروسس کی منظوری دی گئی۔
    () 12اگست 2007کے اجلاس میں صلح کیلئے نگران کمیٹی کو صلح کے طے شدہ نکات پر عمل درآمد کیلئے اختیارات دیا گیا۔
    () 26اگست 2007 کے اجلاس میں صلح کمیٹی کے اختیارات کو آخری شکل دیتے ہوئے نکات کو کارروائی میں لایا گیا۔
    () 19 اکتوبر 2008کو پیر طریقت کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں کئے گئے اقدمات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا۔
    () ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے اجلاس میں اعجاز حسین غریبی جن کو 28-09-2008 کو سانگھڑ کیس میں گرفتار کیا تھا کی ضمانت ہونے پر بھر پور طریقے سے استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔
    () 02اگست 2009کے اجلاس میںپیر طریقت کی رضا مندی سے چوتھا تقسیم اسنا د و دستار فضیلت ضلع گانچھے خپلو میں کرنے کا فیصلہ کیا۔جس کے مطابق خپلو میں ایک پر رونق جلسہ ہوا جس میں پیر طریقت حضرت سید محمد شاہ نورانی کے ہمراہ بلتستان بھر سے علمائے کرام نے شرکت کی اور سینتس طلباء کرام کو تقسیم اسناد و دستار فضیلت سے نوازہ گیا۔
    () 07فروری 2010کے اجلاس میں بلتستان خصوصاً خپلو میں مسلمانوں کو اپس میں لڑانے اور امن و عامہ خراب کرنے کیلئے کی جانی والی سازش کی اراکین نے پرزور مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
    () 09 مئی 2010 کی ہنگامی اجلاس میں لیگل کمیٹی کے ساتھ مصالحت کا پیغام کہ ٹرسٹ کیس میں اپیل دائر نہ کی جائے پر غور کیا گیا اور اراکین نے متفقہ طور پر کہا کہ صلح کسی بھی منطقی انجام تک پہنچنے تک کسی بھی کیس میں قانونی اقدامات کو نہیں روکا جائے گا۔ طے پایا کہ جو کمیٹی ٹرسٹیز اور انجمن نے 12-08-2007 میں بنائی تھی وہی کمیٹی کام کرے گی۔
    () 18 اکتوبر 2010 کے اجلاس میں کریس میں پیر طریقت کی لائبریری کو آگ لگا کر قرآن پاک کے علاوہ نوربخشی بزرگان کی اہم قلمی نسخوں کو جلا کر نقصان پہنچایا۔ جس کی شدید مذمت کی گئی اور اسے پیر صاحب کی گاڑی اور آستانہ میر مختار اخیار کو نذر آتش کرنے کی کڑی قرار دیا۔ قرارداد میں شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائی اور سخت سزاکا مطالبہ کیا ۔قرارداد میں پیر صاحب کی حفاظت اور نوربخشی سمیت اہم اسلامی کتابوں اور دیگر املاک کی حفاظت کیلئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
    () 10جولائی 2011 کے اجلاس میں شیخ سکندر صاحب جن کو 03-03-2011 کوسانگھڑ کیس میں گرفتار کیا تھا کی ضمانت ہونے پر بھر پور طریقے سے استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔
    () 24 جولائی 2011 کی اجلا س میں سید بشارت اور ضامن علی صاحبان سے اظہار تشکر کیا گیا جنہوں نے بنا کسی عہدے اور اپنے تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر کئی مہینوں سے انجمن کیلئے کام کیا اور اعجاز حسین غریبی اور شیخ سکندر صاحب کی ضمانت کیلئے دن رات کام کیا۔
    () 02 اکتوبر 2011کے اجلاس میں خپلو میں ہونے والی مصالحت کی روشنی میں جناب شیخ سکندر صاحب کو مولوی محمد عبداللہ سے ممکنہ مناظرے کیلئے بلایا گیا تھا، انجمن نے انہیں فائدہ مند مصالحت کے امکان کی صورت میں تمام تر لوازمات پورا کرکے گاؤں جانے کی اجازت دی۔
    () 23اکتوبر2011 کے اجلاس میں شیخ محسن اشراقی کی ہائی کورٹ کراچی سے ضمانت ہونے پر اراکین انجمن نے مبارک باد دی۔اسی اجلاس میں مخالف گروپ کی جانب سے مصالحت کی باتوں پر غور کیا۔ اراکین نے کہا کہ کسی بھی سطح پر مسلک کے عظیم تر مفاد میں مصالحت کیلئے تیار ہے۔ انجمن نے اس سے قبل بھی مصالحت کیلئے بااختیار کمیٹی تشکیل کر رکھی ہے۔
    () 04 دسمبر 2011کے اجلاس میں جناب سید علامہ حمایت علی شاہ صاحب کی رہائش گاہ جلانے کی کوشش کی بھر پور مذمت کی اور قرار دیا کہ یہ نوربخشی اثاثوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش ہے۔ اراکین نے مطابلہ کہ اس شرپسندی کے سرغنہ افراد کی تلاش کے بعد قرار واقعی سزا دی جائے۔
    () 06 جون 2012 کے اجلاس میں بذریعہ غلام مہدی ایڈوکیٹ معلوم ہوا کہ مخالفین صلح چاہتے ہیں اور انجمن والے صلح نہیں چاہتے۔ اس سلسلے میں نائب صدر جناب عبدالحمید صاحب جناب غلام مہدی ایڈوکیٹ سے رابطہ کرکے حقائق سے آگاہ کریں گے۔
    () 07 اپریل 2013 کے اجلاس میں فقہ الاحوط کی طباعت کیلئے پیر صاحب نے حکم دیا ہے کہ میر مختار اخیار کا فقہ شائع کیا جائے لہذا اس اصل نسخہ کی ہو بہو فوٹوکاپی پہلے کیا جائے تاکہ اصل نسخہ محفوظ رہے۔
    () 12 مئی 2013 کے اجلاس میں شیخ سکندر صاحب نے اپنے دورہ ایران کی تفصیل بیان کی جنہوں نے ایران میںعالمی بیداری کانفرس میں 29 اپریل سے 08مئی ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں مسلک صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کی جانب سے پیرزادہ جناب سید شمس الدین صاحب اور شیخ سکندرصاحب نے نمائندگی کی۔اسی اجلاس میں جناب شیخ محسن اشراقی کی سربراہی میں وفد کی معززین اور عمائیدن سے ملاقات کی رپورٹ اور سفارشات پیش کی جس کے مطابق:
    () جامع مسجد سے سنجیدہ اور فکری خطبات دئے جائیں۔
    () سب سے پہلے بلتستان میں صلح کیلئے کوششیں کی جائیں۔
    () محرم میں صرف فلسفہ کربلا بیان کیا جائے اور اختلافی امور سے گریز کیا جائے۔
    () مقدمات پہلے ختم کئے جائیں۔
    () دیگر انجمنوں سے رابطے کئے جائیں۔
    ان تمام سفارشات اور سابقہ اقدامات و تجاویز کی روشنی میں صلح کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز زیر غور آئی اور لیگل کمیٹی نوربخشیہ سے رابطہ کرکے انجمن کو رپورٹ سے آگاہ کرنے کا کہا گیا۔
    () 22 ستمبر 2013 کے اجلاس میں این وائی ایم (NYM) کی باقاعدہ قیام کی منظوری دی گئی۔
    () 20اکتوبر 2013کے اجلاس میںسابق صدر انجمن جناب محمد حسین صاحب سے نشست کی اور جامع مسجد سمیت دیگر اہم امور پر تجاویزدی جن کو سراہاگیا۔
    () 24 نومبر 2013کے اجلاس میں خواتین کیلئے باقاعدہ کلاسوں کا آغاز 20 محرم الحرام سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    () 16 دسمبر 2013 کی ہنگامی اجلاس میں صلح کمیٹی تشکیل دی جو مخالفین کے ساتھ صلح کے عمل کو آگے بڑھائے گا۔
    () 29مارچ2014 کے اجلاس میں فقہ الاحوط قلمی نسخہ بنام سراج الاسلام کی اشاعت کیلئے پیر طریقت صاحب کی طرف سے بھیجا ہوا اجازت نامہ پڑھ کر سنایا گیا اور اشاعت کا فیصلہ کیا گیا۔اسی اجلاس میں صلح کیلئے مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ مسودہ پیش کیا گیاجس پر مذاکراتی کمیٹی اپنے اگلے اجلاس میں بحث کریگی۔
    () 04مئی 2014 کے اجلاس میں صلح سے متعلق مذاکرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی۔
    () 01جون 2014 کے اجلاس میںصلح پر بریفنگدی گئی اور صلح کیلئے ہر راستہ کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیاگیا۔
    () 03 اگست 2014کے اجلاس میں بلتستان خصوصاً خپلو میں ہونے والی شرپسندی اور بدآمنی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی گئی اور قرارداد منظورکرتے ہوئے ملوث شرپسندوں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
    () 29 مارچ 2015 کے اجلاس میں سانگھڑ کیس میں باعزت بری ہونے پر شرکاء اجلاس نے مبارک باد دی اور شکرانہ ادا کیا۔ خصوصاً جناب شیخ سکندر حسین، شیخ محسن اشراقی اور اعجاز حسین غریبی کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی۔اس جیت کو چہاردہ معصومینؑ، پنجتن پاکؑ اور پیران طریقت کی مدد قراردیا۔
    () 02 اگست 2015 کے اجلاس میں جامعہ اسلامیہ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ(ٹرسٹ رجسٹرڈ) کی سلور جوبلی اور انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں (رجسٹرڈ) کراچی کی گولڈن جوبلی کو شاندار انداز میں منانے کیلئے پیر طریقت کی رضامندی سے ایک عظیم الشان جلسہ 09 جنوری 2016 کومنعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔اس جلسہ میں، مسلک نوربخشیہ کے علمائے کرام، دیگر مکاتب فکر کے علمائے کرام، دانشوروں، اسکالروں اورسیاسی قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نوربخشی مساجد کے تمام خطیبوں و پیش اماموں اور جامعہ سے فارغ ہونے والے علمائے کرام کو شرکت کا دعوت نامہ جاری کرے گا۔
    ان کے علاوہ انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں (رجسٹرڈ) کراچی نے دنیاوی علوم کے حصول میں طالب علموں کو سہولیات دیتے ہوئے نوربخش اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (NSO) کے زیر انتظام ہوسٹل کھولنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں مالی سپورٹ بھی فراہم کی جارہی ہے۔ اب تک چار ہوسٹلز کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جن میں سے منظور کالونی میں دو محمود آباد اور گلشن اقبال میںایک ایک ہوسٹلز ہے۔
    کراچی میںاس وقت محمودآباد کے علاوہ عوامی کالونی کورنگی، کراسنگ کورنگی اورکواری کالونی منگھوپیر میں نوربخشی مساجد آباد ہیں۔
    جامع مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ محمودآبادجو کراچی میں نوربخشیوں کی اولین اورمرکزی جامع مسجد ہے۔ اب تک اس عظیم اور روحانی مسجد کی خطیب و پیش امامی کی نصیب جن حضرات کو ہوئی ہے وہ درج ذیل ہے:
    () سید شمس الدین بیوغدانگ () آخوند مہدی کریسی ()آخوند غلام مہدی سکسا () مولانا خادم حسین پنداہ
    () سید علی مرچھاچھوربٹ () مولانا عبدالحلیم نوربخشی کوروی () شیخ محمد محسن اشراقی بلغاری
    جب مولانا عبدالحلیم نوربخشی اس جامع مسجد کا خطیب و پیش امام تھے تو جامعہ کے طلباء کرام کیلئے جمعہ، عیدین اور مجالس کے مواقع پر پریکٹیکل مواقع بہت کم ملتے تھے تاہم اللہ کے فضل سے ان کے نکالے جانے کے بعد جامعہ کے طلباء کرام کو اسی جامع مسجد سے خطبات، خطابت اور پیش امامی کی عملی تربیت مل رہی ہے ۔
    اس مسجد میں کراچی بھر سے لوگ مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے جمع ہوتے ہیں خاص کر عشرہ محرم الحرام کیلئے لوگ بیتاب ہوکر چلے آتے ہیں۔ خصوصاً جب ذاکر مقامی نہ ہو اور خاص محرم الحرام کی مجالس کیلئے بلایا گیا ہو اُس وقت لوگوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا ہے اور مسجد میںتل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتا۔انجمن نے مجالس محرم الحرام کو پُر رونق بنانے کیلئے کراچی سے باہر کے علماء کو بلانے کا سلسلہ شروع کیاجس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔اب تک درج ذیل علمائے کرام کو یہ شرف حاصل ہوا ہے:
    () سید محمد شاہ تھلوی مفتی دین () سید حسن شاہ شگری () سید خورشید عالم گلشن کبیر () سید ناصر حسین سینو () سید عباس علی گلشن کبیر
    () سید محمد مچلو () سید منیر حسین مچلو () سید شمس الدین پیرزادہ () علامہ شیخ محمد یونس صاحب () سید بشارت حسین صاحب تھگسوی
    کورٹ کچری میں لاکھوں کے اخراجات کے باوجود 1990 سے اب تک پُر خلوص مخیر نوربخشی عوام کی بھرپور تعاون سے اس انجمن نے پیرطریقت و رہبر شریعت حضرت سید محمدشاہ نورانی مدظلہ العالی کی ہدایت کی روشنی میں مسلک کیلئے اثاثہ جات بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے جو جامع مسجد اور جامعہ کی عمارت کے علاوہ ہے کی تفصیل یہ ہیں:

جامع مسجد اور جامعہ کی عمارتوں کے علاوہ انجمن کے دو مکانات اور جامعہ کی چار عمارتیں موجود ہیں جن میں مجموعی طور پر اٹھارہ مکانات شامل ہیں۔ حال ہی میں ایک اور پلاٹ خریدا ہے جس پر چار منزلہ تعمیرات جاری ہیں۔ ان تمام کی مارکیٹ قیمت لگ بھگ چار کروڑ سے زائد ہے ۔

یوں تو تقریباً ہر نوربخشی نے اس انجمن کیلئے اپنے حصے کاکام کیا ہے جن کی تعاون سے آج کا یہ دن نصیب ہو رہاہے تاہم اس میں زیادہ حصہ وقت کے کابینہ کو حاصل ہے اور ان سے بڑھ کراس انجمن کے صدور، جنرل سیکریٹریز اور فناس سیکریٹریز خراج تحسین کے مستحق ہیں جن کی دن رات کی کاوشوں اور قربانیوں کی مرہون منت ہے کہ اس انجمن نے نوربخشی مسلک کی آبیاری میں بے بہا، گرانقدر اور قابل رشک کردار ادا کیا ہے۔جن کانام نہ لیاجائے تو انتہائی ناانصافی ہوگی۔میں قارئین کرام کی معلومات اور خراج تحسین کیلئے ان کا نام ضبط تحریرمیں لا رہا ہوں جو درج ذیل ہیں:

صدور

علی حسین خپلو 1962 تا   1965
ولایت علی خپلو 1995 تا1966
حسین علی خان خپلو 1967تا 1968
محمد عبداللہ کریس 1984

محمد اقبال تھلے 1984 تا 1989
بابر علی خپلو 1989 تا1990
عبدالحمید غورسے 1991تا 1995
محمد حسین خپلو 1996 تا 1998
عبدالعزیز سرموں 1999 تا 1999
غلام رضا خپلو 2000تا 2001
عبدالحمید غورسے 2001 تا 2002
غلام رضا خپلو 2003 تا 2009
سید مرتضیٰ کورو 2010  تا تا حال

جنرل سکریٹریز

محمد عبداللہ بلغار 1962 تا 1965
محمد اقبال تھلے 1966 تا 1967
بابو ابراہیم خپلو 1967تا 1968
غلام حسین چھوربٹ 1968
ابراہیم چھوربٹ
کوثر علی خپلو 1984تا 1989
محمد حسن خپلو 1989 تا 1990
کاچو آصف علی خپلو 1991 تا1995
نور محمد چھوربٹ 1996 تا1997
سید حامد علی خپلو 1998 تا 1999
نور محمد چھوربٹ 2000 تا 2001
غلام حیدر جاویدسرموں 2002 تا 2007
اعجاز حسین غریبی خپلو 2007تا 2015
غلام حیدر سرموں 2015   تا حال

فناس سیکریٹریز

ملا عبدالرحمن کریس 1995 تا 1965
محمد حسین خپلو 1965 تا1966
غلام محی الدین  چھوربٹ1966 تا 1966
آخوند علی 1966تا 1968
قلی خان کریس 1968
محمد علی 1984تا 1991
عبدالعزیز سرموں 1991تا 1999
آخوند غلام رسول خپلو 2000تا 2009
غلام حیدر سرموں 2010 تا2015
پروفیسرمحمد اسماعیل خپلو 2015   تا حال