صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

الحاج سید سعادت جا ں رحمۃ اللہ علیہ کاسوانحی خاکہ


خانقاہ معلی کورو کے روح رواں، میرواعظ اور ہر دلعزیز شخصیت
الحاج سید سعادت جا ں رحمۃ اللہ علیہ کاسوانحی خاکہ
٭… اسم گرامی: سید سعادت جان
٭… تاریخ پیدایش: 1925
٭… جائے پیدائش گاؤں …… کورو۔
٭… وفات : 13 نومبر 2017 ، بمطابق 24 صفر المظفر 1439 ھ
٭… والد گرامی : سید مرتضیٰ

ابتدائی عمر:

مرحوم اپنی ابتدائی عمر میں ہی شفقت پدری سے محروم ہو گئے تھے۔ والد کا سایہ نصیب نہ ہوا اور یتیمی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ دریائے شیوق میں غواڑی سے کورو کی طرف آتے ہوئے والد گرامی جس کشتی پر سوار تھے وہ دریا کے پانی کے تھپیڑوں کی زد میں آگئی تھی۔ ملاحوں اور تیراکوں نے ان کےجسد خاکی کو کئی روز تلاش کیا لیکن نہ مل سکا تاہم بعد میں ان کی نعش کریس میں سطح آب سے برآمد ہوئی ۔ چنانچہ انہیں کریس میں سپرد خاک کر دیا گیا جو مرکز علمی اور معدن ادب کریس میں موجود ہے۔

زمانہ طفلی:

آپ اپنے والد گرامی کااکلوتا بیٹا تھے۔ زمانہ طفلی میں والد گرامی کی سایہ عاطفت سر سے اٹھ جانے کے بعد آپ کی والدہ مرحومہ اور دادی مرحومہ نے آپ کی تربیت کا بیڑا اپنے سر پہ اٹھالیا۔ ان دونوں پردہ نشینوں نے آپ کی انتہائی توجہ، احترام اور عزت کیساتھ تربیت کی اور آپ کی ہر خواہش کا خیال رکھا۔ کیونکہ والد گرامی کی وفات کے بعد اہلیان کورو کیلئے آپ ہی ایک امید تھی جس نے محراب و منبر کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنی تھیں۔
آپ کو بہت سے بزرگوں خصوصاً حضرت پیر سید محمد شاہ زین الاخیار خلف صدیق پسر سید اکبر شاہ کی دعائیں حاصل تھیں۔ آپ ایک خوش الحان، فصیح اللسان، ذہین شخصیت تھے۔ زمانہ طفلی میں ہی آپ مجلسوں کی زینت بنتے رہے اور بڑی تیزی سے لوگوں کے دلوں میں آپ نے اپنا مقام بنالیا۔

تعلیم و تربیت
ہوش سنبھالنے کے بعد آپ کی والدہ محترمہ نے آ پ کو بلتستان بھر میں اپنے علمی کمالات،فارسی زبان دانی، شعرو شاعری اور تصوف کے میدان میں شہرت رکھنے والی علمی شخصیت سید محمد علی کی حلقہ تلمذ میں دیدیا۔ سید سعادت جان نے تعلیمی میدان کے اس ابتدائی مرحلے میں اخوند روزی محمد اور وزیر محمد علی مرحوم، اخوند محمد قاسم اور اخوند بہادر کی زیر نگرانی قرآن مجید، دعوات اور چھوٹی چھوٹی دینی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد کریما، پند نامہ نامہ حق جیسی ابتدائی اخلاقی رسائل سید محمد علی کے مدرسے میں ہی اخوند روزی محمد سے پڑھ لئے۔ پھر بوستان سعدی اور روضۃ الشہدا جیسی کتابیں جناب سید محمد علی سے پڑھنے لگے تھے لیکن جناب سید کی عمر نے وفا نہ کیا اس طرح آپ کا تعلیمی تعلق کورو کی اس درسگاہ سے منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد مزید کسب علوم کیلئے کریس کا رخ کیا۔ کریس میں موجود جید علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا وہاں آپ نے جماعت اہل حدیث کے عالم دین مولانا رضاء الحق مرحوم سے علم صرف پڑھ ہی رہے تھے کہ مولانا رضاء الحق بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ آپ نے سلسلہ تعلم کو روکنے کے بجائے کریس ہی کے اہل تشیع کے عالم دین آغا سید علی کے پاس حصول علم کیلئے حاضر ہوئے۔ ان سے آپ نے کسب علوم کے علاوہ مجلس خوانی کے آداب بھی سیکھے۔ آغا سید علی کی وفات کے بعد آپ کچھ عرصہ کیلئے شیخ محسن نجفی صاحب جو عربی زبان میں یدطولیٰ رکھتے تھے ‘ان سے علمی منفعت حاصل کی۔
چونکہ آپ نے کورو کی خانقاہ معلیٰ کی خطابت و امامت کی بھاری ذمہ داری ادا کرنی تھی۔ کورو میں اس ذمہ داری کو نبھانے والا کوئی دوسرا نہ تھا اس لئے آپ کو دوران تعلیم بار بار کورو میں آنا پڑ رہا تھا۔ ایک طرف آپ کو خانقاہ کی ذمہ داری بھی تھی اور گھریلو ذمہ داریاں بھی دوسری جانب اہلیان کورو سید صاحب کو ایک جید عالم دین کی روپ میں دیکھنا چاہتے تھے تاہم گھریلو مجبوریاں بلتستان سے باہر جا کر حصول علم کیلئے آپ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن گئیں۔ چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ فخر العلما جید عالم دین علامہ سید علی شاہ ؒ گلشن کبیر کی خدمت میں حاضر ہو کر کسب علوم و فیض کرے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے آپ نے پھڑاوا موجودہ گلشن کبیر کا رخ کیا اور ضروری علمی تربیت کے بعد وہاں سے باجازت استاد عظیم المرتبت فارغ ہوئے۔

فصاحت و بلاغت:
اگرچہ سید صاحب کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع نہ ملا لیکن جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا ان پر ان کو بلا کی پختگی حاصل تھی۔ صاف قرأت، گرجدار و جاذب سماعت آواز کے حامل تھے۔
خطابت کی لیاقت کو دیکھا جائے تو وہ ہر محفل کی شان تھے۔ سلیقہ اور متانت کیساتھ مزاح میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ خطابت میں فصاحت و بلاغت ایسی کہ سننے والوں کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہو، بس دل مسلسل سننے کیلئے بے قرار رہے۔ شعر گوئی پر کمال درجے کی مہارت، آواز ایسی پرسوز کہ ان کے گنگناتے اشعار سننے والے کے دل میں اتر جائیں۔ غم محمد و آل محمد کا تذکرہ ہو تو اس طرح وجد میں بیان کرے کہ جیسے اہل بیت پر مظالم کا چشم دید گواہ ہو۔ آنسو ایسے بہائے کہ رکنے کا نام نہ لے۔ قصہ خوانی ایسی کہ سامعین پر سکتہ طاری کرے خود پر ایسا وجد طاری ہو جاتا کہ بے ہوش ہو جاتے۔ عشق اہل بیت ایسی کہ جب زبان محبت محمد و آل محمد کے دریا میں تیرتی تو اسی میں غرق رہتی۔ خطابت ایسی کہ ہر کوئی رشک کرتا کہ کاش میری بھی آواز ایسی ہی پرسوز، بلند اور دل کو چھولینے والی ہوتی ۔ خطا ب میں خلوص ایسا کہ خطاب کا مقصد ہی سامعین کے دل تک کوئی نہ کوئی پیغام پہنچانا۔
ہاتھ جب رب ذوالجلا ل کے حضور اٹھیں کہ آنسوئوں کا ایک ریلا بہہ نکلے۔ دعاگوئی میں شاید ہی ان کا کوئی ثانی ہو۔ اللہ کے حضور گڑگڑا کے، آنسو بہا کر، اپنی عاجزی دکھا کر، معصومین کا وسیلہ لے لے کر جو دعائیں وہ کرتے تھے کہ ہر سننے والا دل کی گہرائیوں سے والہانہ و عاشقانہ اور عقیدتمندانہ طور پر آمین کہنے پر مجبور ہوتے تھے۔ سوکھی، خضوع و خشوع سے عاری دعا کے وہ قائل ہی نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ہستی نیستی اور کسر نفسی سے جو دعا مانگی جائے اس کے قبول نہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ دعائوں اور تعویزات میں ایسی تاثیر کہ دوست و دشمن ہر کوئی معترف تھا۔

تواضع و انکساری :
کسر نفسی اور ہستی کو نیستی کے مقام پر رکھنا اس عالم باعمل، مخلص اور منکسر المزاج ہستی کا خاصہ تھا۔ آپ انتہائی متواضع، حلیم، سادہ طبیعت ، انسیّت شعار اور بے تکلف تھے۔ اُن میں کسی طرح کا ترفع اور تکلف نہ تھا جو ذی استعداد اہلِ علم کے لیے بالعموم لازم کا درجہ رکھتا ہے۔ خدا کی توفیق سے وہ یہ سمجھتے اور ہمہ وقت مستحضر رکھتے تھے کہ علم وکمال کا جو حصہ اُنھیں ملا ہے، وہ محض خدا کی طرف سے ہے، اُس میں اُن کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اُنھوں نے محنت کرکے اُسے حاصل کیاتو محنت بھی خدا ہی کی دَین تھی۔ لہٰذا ساری تعریف صرف اُسی خدائے یکتا ہی کیلئے سزاوار ہے۔
ہستی کو نیستی کی اصطلاح آپ کی زبان زد تھی۔ پیرطریقت اور علمائے کرام کی موجودگی میں جب بھی انہیں خطابت کا موقع ملتا ۔ ابتدائی کلمات میں وہ کسر نفسی اور انکساری کے جوبن پر نظر آتے تھے اور ہزاروں حرف تشکر ادا کرکے لب کشائی کرتے تھے۔ اُن کے کسی رویے سے تصنّع اوربناوٹ اور زندگی کی تراش خراش پر توجہ کا کوئی اشارہ نہیں ملتا تھا۔ وہ واقعی سچے پکے دین دار اور نمونے کے بزرگ تھے۔

خوش اخلاق :
وہ ایک ہنس مکھ اور خوش اخلاق تھے عموماً سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔ راقم کا آنکھوں دیکھا حال ہے کہ انہوں نے کبھی بھی کسی دوسرے کو سلام کا موقع نہیں دیا اور اکثر و بیشتر کہتے تھے کہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں سلام میں پہل کرنے والے کی زیادت عزت و توقیر ہے۔

کورو میں بحیثیت میر واعظ خدمات
جناب شمس العلما علامہ الحاج سید علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سے فراغت حاصل کرنے کے آپ نے باقاعدہ طور پر میر واعظ خانقاہ معلی صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کورو کا منصب سنبھالا اور دین مبین کی تعلیمات کی تبلیغ شروع کردی۔
آپ کے زمانے میں کورو کی نوربخشی آبادی اتنی بڑھی کہ خانقاہ معلی جمعہ کی نماز اور محافل و مجالس کیلئے چھوٹی پڑ گئی۔ اس لئے خانقاہ معلی کی توسیع کی ضرورت پڑی، اس دور کے سنگ تراشی کے نئے انداز اور اسلوب سے خانقاہ کی تعمیر شروع ہوئی۔ آپ کی قیادت میں کورو کے نوربخشی غیرتمندوں نے ایک مثالی اور جاذب نظر خانقاہ کی تعمیر مکمل کی خانقاہ کی تعمیر پر جو خطیرہ اخراجات آنے تھے وہ آپ کی خلوص بھری دعائوں اور چندہ جمع کرنے سے ہی ممکن ہوئے۔ اسی دوران بلبل تصوف مولوی محمد علی کورو آپ کے دست راست کے طور پر بھرپور طور پر معاون رہے۔ تعمیر خانقاہ کی سربراہی جناب حاجی غلام محمد المعروف مستری مرحوم نے کی جو سنگ تراشی، چوب کاری اور ڈیزائن بنانے کیلئے مشہور تھے۔ انہوں نے ہندوستان سے یہ ہنر سیکھا تھا۔ آپ نے صدر دروازے پر انتہائی خوبصورت کندہ کاری سے ’’خانقاہ معلی صوفیہ امامیہ نوربخشیہ‘‘ لکھا تھا جو بعد میں خیانت کاری کا شکار ہوا اور لفظ امامیہ کو اسلامیہ بنا دیا گیا۔ ازیں علاوہ منبر کے ساتھ مغربی دیوار پر کلمہ طیبہ کے ساتھ نگران اعلیٰ سید سعادت جان اور ہیڈ مستری غلام محمد بھی کندہ تھا تاہم بد خواہوں نے بعد میں آپ کا اسم گرامی وہاں سے محو کر دیا تاہم آج بھی یہ نشان آپ کے نام کی شہادت کی گواہی کیلئے موجود ہے ۔

مقامات مقدسہ کی زیارات
تعمیر خانقاہ معلی کے بعد آپ کے نمایاں کاموں میں مقدس مقامات کی زیارات شامل ہیں۔ آپ نے 1976 میں نوشکی کے راستے پشاور سے افغانستان، ایران اور عراق کے مقامات مقدسہ کی زیارات کرتے ہوئے حج کا اہم فریضہ بھی ادا کیا۔ پھر آپ واپسی پر بھی انہی روضات مقدسہ کی زیارت سے دوبارہ شرفیاب ہوئے۔

اندرون ملک سفراور علما کی صحبت
آ پ نے اندرون پاکستان بھی کئی سفر کئے، ان شہروں میں سکردو، گلگت، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور کوئٹہ شامل ہیں۔ کئی شہروں میں نوربخشی مساجد، لائبریریوں اورخانقاہوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ دوران سفر آپ کو بہت سے جید علما کی صحبت نصیب ہوئی۔ جن میں جناب پیر طریقت سید عون علی عون المومنین ؒ، فخر العلما سید علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ پھڑاوا(موجودہ گلشن کبیر) علامہ محمد بشیرؒاور دیگر علماء کرام شامل ہیں۔ جناب علامہ محمد بشیر ؒ نے آپ کی شان میں بزبان عربی شاعرانہ مدح سرائی بھی کی ہے۔ علامہ مرحوم کا کلام کئی انجمنوں اور تنظیموں کی جانب سے پیش کئے گئے سپاسناموں سمیت آج بھی سید صاحب کے دولت سرا میں موجود ہیں۔

کئی خانقاہوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی سعادت
جس طرح آپ کا نام سعادت جان ہے اسی طرح آپ عملی زندگی میں اسم بامسمٰی ثابت ہوئے۔ نوربخشی دنیا میں کئی خانقاہوں کا سنگ بنیاد رکھنے یا تعمیر نو کے آغاز کی سعادت بھی سید سعادت جان کے حصے میں آئی۔ ان خانقاہوں میں خانقاہ معلی صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کورو، جامع مسجد صوفیہ امامیہ نوربخشیہ محمود آباد کراچی، جامع مسجد نوربخشیہ کورنگی، جامع مسجد نوربخشیہ منگھوپیر اور دیگر شامل ہیں۔

ملک گیر چندہ
نوربخشی مسلک پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ غربت ہر طرف چھا گئی۔ چونکہ پورا خطہ غربت اور حکومت وقت کی جانب سے کالے قوانین کی زد میں تھا اس لئے نوربخشیوں کیلئے یہ وقت انتہائی سخت گزرا۔ تاہم مسلک کے مخلص معززین نے ہمت ہارنے کے بجائے پیر طریقت سید عون علی شاہ عون المومنینؒ کے حکم اور اجازت سے ایک ملک گیر چندہ کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کیلئے مسلک کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ اس کمیٹی میں سید صاحب کیساتھ مفتی محمد عبد اللہ مرحوم، محمد ابراہیم فقیر مرحوم اور اخوند محمد علی کوروی مرحوم کے علاوہ کچھ دیگر معززین بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے کراچی سے لے کر سیاچن تک تمام نوربخشی برادری سے چندہ اکٹھا کیا۔ سید صاحب نے راقم کو خود بتایا کہ اس چندے میں تین کروڑ روپے اور ایک من پینتیس کلو زیورات جمع ہوئے جبکہ زمینیں، درخت، چوپائے اس کے علاوہ ہیں ۔ یہ تمام رقم فقیر محمد ابراہیم مرحوم کے پاس جمع ہوئے۔ تاہم جن مقامات سے بعد میں چندہ دینے کا اعلان ہوا تھا ان رقوم کو جمع کرنے کیلئے سید صاحب نے ایک بار پھر دورہ فرمایا اور وصول شدہ رقوم جناب فقیر ابراہیم مرحوم نے وصول کیں۔ شاہ صاحب کی ایک ذاتی ڈائری میں حقیر نے خود ان جمع شدہ رقوم کی تفصیل پڑھی ہے۔

عوام چندہ کے فائدے سے محروم رہنے کا دکھ
بدقسمتی سے اس عظیم چندہ کا فائدہ نوربخشی عوام کو نہ پہنچ سکا اور چند مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ سید صاحب کو ابتدائی کامیابی کے بعد انتہائی طور پر ناکامی کا زندگی بھر دکھ رہا اور وہ بار بار اس کا تذکرہ کرکے اظہار افسوس کرتے تھے کہ اس عظیم چندہ کا کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ کراچی میں قیام کے دوران ایک بار راقم سے یہاں تک کہا کہ آپ لوگ میرے خلاف کیس کریں کہ چندے کا حساب قوم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ چندہ مسلک کی ترقی کی بجائے تفرقے کا سبب بنا۔ موجودہ دور کی چپقلش اسی چندے کا حساب دینے سے بچنے کیلئے پیدا کی گئی ہے اور اس چندے کا محاسبہ نہ ہونے کی وجہ سے نوربخشیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ سید صاحب فرماتے تھے کہ اگر ایمانداری کے ساتھ اس چندے کا محاسبہ ہوجاتا اور ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جاتا تو مذہبی اختلافات کبھی پیدا نہ ہوتے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

محنت سے بھرپور زندگی
جناب سید صاحب ایک جفاکش ، محنتی اور خود انحصاری پر یقین رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ زمین داروں کی طر ح اور کام کرنے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ وہ باورچی خانے میں بھی کام کرتے۔ پودے لگانے کا کام بھی کرتے اور پودوں کو پانی دینا تو ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ آپ علمی کتابیں جمع کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اس لئے آپ کے پاس ایک بڑا علمی ذخیرہ موجود ہے ۔ آپ نے کئی شادیاں بھی کیں۔ آپ کے چار بیٹے ور آٹھ بیٹیاں بقید حیات ہیں۔

بارعب لیکن سادہ انسان
آپ دیکھتے میں پر رعب اور تیز طراز نظر آتے تھے لیکن طبعی طور پر سادہ ، حلیم اور صاف دل تھے۔ اس لئے بعض لوگ آپ کی ان خوبیوں سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے۔ آپ لطیفہ گو بھی تھے، بے تکلفانہ گفتگو کے ماہر بھی۔ برمحل گفتگوکرنے اور حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے جو ایک بار آپ سے محو گفتگو ہوجاتا آپ کا دلدادہ ہو جاتا۔ آپ کی باتوں میں بلا کی کشش ہوتی تھی۔ نصیحت آموز باتیں اور تجربے سے بھرپور باتوں سے سننے والے بھرپور طریقے سے متاثر ہوئے نہ رہ سکتے تھے۔

مہمان نواز انسان
آپ کے گھر مہمان نہ آنے سے آپ غمگین رہتے۔ آپ کو مہمان کی تلاش رہتی اور مہمان کیساتھ شوق سے کھانا تناول فرماتے۔ اس لئے آپ کے گھر والے آپ کو کھلانے پلانے کیلئے باہر سے لوگوں کو بلاتے تاکہ سید صاحب ان مہمانوں کیساتھ خوشی سے کھانا کھالیں۔ میر مجلس ہونے کی وجہ سے آپ لوگوں میں گھل مل رہنے کو تنہا رہنے پر ترجیح دیتے تھے۔ آپ سادہ دل، مہمان نواز، سخی بلکہ مہمانوں کے خادم ہونے کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتے تھے۔ آپ کے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر اور آپ کے اخلاق و تواضع سے متاثر ہوئے بغیر کوئی واپس نہیں گیا۔

دعاگو انسان:
لوگوں کو دعائوں سے ملنا، دعائیں دیتے ہوئے رخصت کرنا آپ کا ایک خاصہ تھا اور اس دوران آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلتستان میں لو گ آپ کو ایک بہت ہی پرخلوص دعائیں دینے والی شخصیت کے طور پر ہی پہچانتے ہیں اور سید سعادت جان کے نام کے ساتھ ہی ان کی خلوصیت بھری دعائیں تصور میں چھا جاتی ہیں۔

انتقال پرملال
چوبیس صفر المظفر 1439 ھ بمطابق 13 نومبر 2017 کو آپ اس دار فانی سے ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کی طرف منتقل ہو گئے۔ آپ نے اپنی زندگی میں وصیت نامہ بھی لکھ رکھا تھا ۔ ہمیشہ دوسروں کے خیرخواہی کی زندگی کا اختتام کچھ اسی طر ح ہوا کہ کلمہ شہادتین پڑھتے ہوئے پورے ہوش و ہواس کیساتھ داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی۔ ان کے صاحبزادے سید بشارت کے بقول سید صاحب نے ان سے فرمایا کہ بیٹے مجھے کلمہ شہادتین پڑھ کر دم کرو اور میرے چہرے پہ اپنا ہاتھ پھیرو، جونہی انہوں نے چہرے پر ہاتھ پھیرا تب تک آپ کی روح پرواز کر چکی تھی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
خوشا چنین موتے کہ روح سوئے بہشت پرواز کرد

کرامت یا اتفاق
ارتحال سے ایک دن قبل خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ملک کے مختلف شہروں میں حصول علم اور کسب معاش میں مصروف ان کے تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں اور دیگر قریبی رشتہ دار گھر پہ پہنچ گئے تھے۔سب نے آپ کا آخری دیدار کیا ۔ عام طور پر جن کے زیادہ بچے اور رشتہ دار ہوتے ہیں ان کے انتقال پر یا تو ان رشتہ داروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے یا متعدد کا انتظار کئے بغیر تدفین کا عمل پورا کیا جاتا ہے اور کئی ایک دیدار سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن سید صاحب کی تمام اولادوں نے ان کا آخری دیدار کیا اور تمام تجہیز و تکفین اور تدفین کے موقع پر موجود تھیں۔
بلتستان کے طول و عرض سے آپ کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جوق در جوق نماز ہزاروں لوگوں نے جنازہ میں شریک ہونے کیلئے کورو کا رخ کیا۔ جناب پیر طریقت رہبر شریعت سید محمد شاہ نورانی مدظلہ العالی کے حکم پر جناب سید سید محمد میر واعظ خانقاہ معلیٰ سرمیک نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پیر محترم خود ناسازی طبیعت کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ جنازے میں نائب پیر طریقت میر واعظ خانقاہ معلی صوفیہ امامیہ نوربخشیہ خپلو سید حمایت علی الموسوی نے بھی شرکت کی۔ جنازے کے اجتماع کو دیکھ کر لوگوں کو معلوم ہوا کہ سید صاحب کے چاہنے والے کتنے ہیں۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
اللہ مرحوم کو اس دین کیلئے ان کی خدمات کے شایان شان جزا عطا فرمائے اور محمد ؐو آل محمد ؑ کی بارگاہ میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین و پسماندگان کو یہ صدمہ صبر کیساتھ برداشت کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین