حضرت فاطمۃ الزہرا علیہا السلام صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت فاطمۃ الزہرا علیہا السلام


بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تعالیٰ فی قرآن الحکیم
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھلبیت ویطہرکم تطہیراً ۔(سورہ احزاب ۳۲(
ترجمہ : اے اہل بیت سوائے اس کے نہیں ہے کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں ایسا پاک کردے جیساکہ پاک کرنے کا حق ہے۔
خداوند عالم نے اپنے رسول ؐ سے فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہے یعنی میں فقط اور فقط یہ چاہتا ہوں کہ آپ کی اہلبیت سے الائش خلقیت اور اوصاف بشریت کو دور کریں اور رجس سے یہاں مراد اخلاق ذمیمہ ہے اللہ تعالیٰ نے ا ہل بیت رسول ؐ کو بخل کے بجائے سخاوت، حرص کے بدلے قناعت اور قطع رحمی کے عوض محبت و شفقت عنایت فرمایا ہے۔
تفسیر کشف الاسرارادبی و عرفانی مشکوٰۃ شریف باب مناقب اہل بیت ص ۵۶۸ میں حضرت عائشہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ اپنے اوپر کالی کملی اوڑھے ہوئے بیٹھ گئے اپنے پیارے بڑے بیٹے حسن ؑ آئے تو انہیں اس چادر میں داخل کردیا پھر حسین ؑ آئے وہ بھی داخل ہوگئے پھر فاطمہ ؑ آئیں ان کو بھی داخل کرلیا پھر علی ؑ آئے ان کو بھی داخل کرلیا تب رسول خدا ؐ نے فرمایا کہ
اللھم ھؤلاء اھلبیتی(مشکوٰۃ شریف، مودۃ القربیٰ (
اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۲۸۵ پر لکھا ہے کہ ام سلمہ پاس کھڑی تھی جب پانچوں چادر کے نیچے آگئے تو آسمان سے نور کی بارش برسنے لگی میں نے عرض کی یارسول اللہ ؐ کیا میں بھی اندر آسکتی ہوں تو حضور ؐ نے فرمایا
انت علی الخیر ولکن انت من ازواج النبی وھؤلاء اھلبیتی
ام سلمہ ؓ تو نیک ہے لیکن تو میری بی بیوں میں سے ہے اور یہ میر ے ا ہلبیت ہیں معلوم ہوا کہ بیویاں اور ہوتی ہیں ا ور اہلبیت اور ہوتے ہیں اس آیت میں انما کلمہ حصر ہے جس کے معنی ہے سوائے اس کے نہیں، فقط اور فقط جہاں انما آئے وہ چیز غیر کے ساتھ نہیں ملتی جس طرح رب ذوالجلال فرماتا ہے کہ قل انما انا بشرمثلکم یوحیٰ الی۔ انما ولیکم اللہ الخ اور بھی بہت ہیں لیکن جسے اللہ اس کا رسول اور رکوع میں زکوٰۃ دینے والے ولی ہیں ایسا کوئی اور ولی نہیں ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب الخ فرمایا پاک اور بھی بہت ہیں لیکن جیسے پنجتن پاک ؑ ہیں ایسا کوئی اور پاک نہیں ہے۔
ولادت
اکثر علماء نے حضرت امام محمد باقر ؑ سے روایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ بیس ماہ جمادی الاخر بروز جمعہ بعثت رسالت پناہ کے پانچ سال بعد ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بطن سے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ جب آپ ؑ کی ولادت کا وقت قریب آیا تو حضرت خدیجہ ؓ نے کسی شخص کو اپنے قریبوں کے ہاں بھیجا کہ ان کی عورتیں میری مدد کے لئے آئیں قریش کی عورتوں نے جواب دیا کہ اے خدیجہ ؓ تو نے ہماری بات نہ مانی اور عبد اللہ کے یتیم کی زوجہ بن گئی تو نے فقیری کو امیری پر ترجیح دی ہے اس لئے ہم تیرے پاس نہیں آئیں گے اور نہ ہی تیری مدد کریں گے۔ حضرت خدیجہؓ ان کے جواب سے غمزدہ و محزون ہوگئیں پس رات کے وقت اچانک کمرے میں گندمی رنگ اور لمبے قد کی چار خواتین آپ کے سامنے ظاہر ہوگئیں اور بنی ہاشم کی عورتوں کی طرح گفتگو کرنے لگیں حضرت خدیجہ ؓ انہیں دیکھ کر ڈر گئیں تو ان میںسے ایک نے کہا اے خدیجہ ؓ غم نہ کر اور نہ ہی تجھے ڈرنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تیرے لئے بھیجا ہے اور ہم تیری بہنیں ہیں میں سارہ ہوں دوسری مریم تیسری موسیٰ ؑ کی ہمشیرہ کلثوم ؓ ہیں اور چوتھی آسیہ زن فرعون ہیں یہ سب بہشت میں تیری ساتھی ہیں بعد اذن ان میں سے ایک خاتون آپ کے دائیں ایک بائیں ایک سامنے ایک پیچھے بیٹھ گئیں تو حضرت خدیجہ ؓ کو نیند کی حالت میں خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہر ا ؑ پیدا ہوئی۔ بانوے جنت ؑ جب زمین پر تشریف لائیں تو آپ کا نور مبارک درخشان ہوگیا چنانچہ آپ کے نور نے مکہ معظمہ کے مکانوں کو گھیر لیا اور زمین کے شرق و غرب میں کوئی جگہ نہ تھی جسے نور نے روشن نہ کیا ہو اسی وجہ سے آپ کا لقب مشہور ’’زہرا ‘‘ہے۔
حضور اکرم ؐ نے آپ کا نام فاطمہ ؑ رکھا آپ کی کنیت ام ابیھا، ام الحسنین لقب راضیہ، مرضیہ زکیہ، بتول اور زہرا ہیں اور آپ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔ (روضۃ الشہداء ملا حسین واعظ کاشفی ص ۲۶۲)
احادیث متواترہ میں آیا ہے کہ بنت رسول ؐ کو اس وجہ سے فاطمہ ؑ نام رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بروز قیامت ان کو شفاعت سے ان کے دوستوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرے گا اور بتول اس لئے رکھا کہ آپ دوسری عورتوں کے برخلاف الائش نسوانیت سے پاک تھیں ( مودۃ القربیٰ سید علی ہمدانی قد س اللہ سرہ )
اور زہرا کی شان میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ
عن مسعود بن منحرصہؓ ان النبی قال فاطمۃ بضعۃ منی فمن ابغضھا فقد ابغضنی۔
رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ فاطمہ ؑ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس شخص نے فاطمہ ؑ کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا اور ایک روایت میں ہے کہ اضطراب میں ڈالتی ہے مجھ کو وہ چیز جو فاطمہ ؑ کو اضطراب میں ڈالتی ہے اور تکلیف دیتی ہے مجھ کو وہ چیز جو فاطمہ ؑ کو تکلیف دیتی ہے ۔
وفات فاطمتہ الزہرا ؑ
حضور اکرم ؐ کی وفات کے بعد معتبر روایات کے مطابق چھ ماہ گزرنے کے با وجود باپ کے غم میں بی بی فاطمہ ؑ کے آنسوؤں کی روانی میں کوئی کمی نہیں آئی باپ کے فراق کے غم میں روتے رہنے کے علاوہ آپ کاکوئی کام نہ رہا ۔ پدر بزرگوار ؐ کی جدائی ٗ علی ؑ کی تلخ تنہائی ٗ خلوت گزینی کی کیفیات اور مسئلہ فدک کی پیچیدگیوں کی وجہ سے آپ کو ذہنی اذیت پہنچی اور آپ اکثر و بیشتر مغموم رہتی تھیں ۔ مودۃ القربی میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب فاطمہ زہرا ؑ کی وفات کا وقت قریب آیا تو نہ اس معصومہ کو بخار آیا نہ درد سرعارض ہوا بلکہ حسن اور حسین ؑ کے ہاتھ پکڑے اور دونوں کو ہمراہ لیکر قبر رسول ؐ پر گئیں قبر اور منبر کے در میان دو رکعت ماز پڑھی پھر دونوں کو سینے سے لگا لیا اور ان سے لپٹ کر فرمایا کہ اے میرے بچوتم دونوں ایک ساعت اپنے باپ ؑ کے پاس بیٹھو اور امیر المومنینی اس وقت مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے اس کے بعد بتول ؑ نے اسماء ؓ زوجہ جعفر طیار ؓ کو فرمایا اے اسماء ؓ تم میرے پاس سے الگ نہ ہونا کیونکہ میں اس گھر می چند دقیقے لیٹنا چاہتی ہوں جب ایک ساعت گزر جائے اور میں با ہر نہ نکلوں توتم مجھ کوہی آوازیں دینا ار میں جواب نہ دوں تو سمجھ لینا کہ میں رسول خدا ؐ سے ملحق ہوگئی ایک ساعت کے بعد اسما ء ؓ نے جناب فاطمتہ الزہرا ؑ کی طرف مخاطب ہو کر آواز دی ۔ اے دختر رسول ؐ مگر کچھ جواب نہ ملا پھر اسماء ؓ نے اپنا گریباں پھاڑا اور بولی کہ رسول خدا ؐ نے مجھے تیری وفات سے کیوں آگاہ نہیں کیاتھا کیادیکھتے ہیں کہ جناب فاطمہ ؑ لیٹی ہوئی ہیں جب رات ہوگئی تو فاطمتہ زہرا ؑ کو جناب امیرالمومنین حضرت علی ؑ نے غسل دیا اور تابوت میں رکھا اور نماز پڑھی اور حسنین ؑ سے فرمایا آؤجب ان حضرات نے اس معصومہ کو دفن کرنا چاہاتو بقیع کے ایک مقام سے آواز آئی میری طرف لاؤاس جگہ ایک قبر کھدی نظر آئی اور اس معصومہ کو اس قبر میں دفن کیا اور فرمایا کہ اے زمین یہ دختر رسول خدا ؐ ہے تب اس زمین سے آواز آئی اے علی ؑ غم نہ کیجئے اﷲ مہربان ہے یہ دختر رسول ؐ ہے تب اس زمین سے آواز آئی اے علی ؑ غم نہ کیجئے اﷲ مہربان ہے یہ دختر رسول ؐ خود شافعۂ روز جزا ہے ۔ مودتہ القربی مودت نمبر ۱۴ ص ۱۳۵ سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ ؑ کی تاریخ وفات کے متعلق علمائے مسلمین میں اختلاف ہے ۱۵ ماہ جمادی الاول ٗ ۳ ماہ جمادی الاخر اور ۳ ماہ رمضان المبارک ۱۱ ھ مکتب نور بخشیہ کے نزدیک مو خر الذکر درست ہے ۔ ہم اس تاریخ کو دو رکعتیں نماز زیارت فاطمتہ الزہرا ؑ پڑھتے ہیں اس کی نیت یہ ہے ۔
اصلی صلواۃ زیارۃ فاطمۃ الزہراء رکعتین قربۃ الی اﷲ ۔(دعوات صوفیہ امامیہ ص ۲۱۲)
دعائے تشفع میں ہم پڑھتے ہیں کہ
و بشر افۃ الفاطمۃ الزہراء و نسبتھا ۔ (دعوات صوفیہ امامیہ (
جناب فاطمہ زہرا ؑ کی شرافت اور نسبت پدری کا واسطہ وے کر دعائے توسل خمسہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ
الھی بحرمۃ الخمسۃ ن التی ھو محمد و علی و الفاطمۃ و الحسن و الحسین و ساد سھم جبرئیل ؑ ان تحفظنا من اٰفات الدنیا و الاخرۃ برحمتک یا ارحم الراحمین۔ (دعوات صوفیہ امامیہ (
اے میرے اﷲ ! ان پانچ ہستیوں یعنی محمد ٗ علی ٗ فاطمہ ٗ حسن ٗ حسین اور ان کا چھٹا جبرئیل ؑکی حرمت و عزت کا واسطہ ہم کو دینا اور آخرت کی آفتوں سے محفوظ رکھ اے سب سے زیادہ رحم والی ذات! ہمیں تیری رحمت کاسہارا ہے۔
زیارت کی نماز اور تعقیبات کے بعد مجلس عزا منعقد کی جاتی ہے ۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ نے بنت رسول ؐ حضرت فاطمتہ الزہرا ؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے ۔
مریم از یک نسبت عیسٰی عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمت اللعالمین
ان امام اولین وآخرین
بانوئے آن تاجدار ھلاتی
مرتضٰی مشکل کشا شیر خدا
مادر آن مرکز پرکار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
آنی کے شمع شبستان حرم
حافظ جمعیت خیر الامم
(جاوید نامہ)