صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

سوال:  دوسری ،تیسری یا آخری رکعت پہنچنے والے کی نماز کس طرح مکمل ہو۔؟


جواب: جماعت کے دوران اگر مقتدی امام کی دوسری رکعت میں پہنچے یا تیسری یا آخری رکعت میں ۔ جماعت کے احترام میں تمام اضافی عمل روا ہے تاہم یہ خیال رکھا جائے کہ کوئی رکن ادا ہونے سے نہ رہ جائے۔ چنانچہ دوسری رکعت میں پہنچنے والے مقتدی کو قنوت اور دو اضافی تشہداضافی ارکان کے طور پر ادا کرنے پڑینگے جو جماعت کے احترام اور اقتداء کے باعث روا ہیں۔ لیکن امام کی تیسری رکعت اور اپنی دوسری رکعت کے بعد وہ تشہد کیلئے بیٹھیں گے ورنہ اس کا رکن ادا ہونے سے رہ جائےگا۔ اسی طرح امام کے سلام پھیرتے ہی امام کی اقتدا کی بجائے وہ اپنی باقی ماندہ رکعات کیلئے اٹھے گا تاکہ باقی ارکان کو پورا کیا جاسکے۔ اس عمل سے بھی ظاہر ہوا کہ امام کی اقتدا کسی واجب رکن کو چھوڑ کر جائز نہیں۔ امام کی تیسری رکعت میں پہنچنے والے مقتدی کیلئے سورہ الحمد شریف کیساتھ ایک چھوٹی سی سورہ جلدی پڑھنی چاہئے تاہم اگر وقت نہ بچے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ امام کے رکوع کا ملنا ہی پوری رکعت ملنے کے برابر ہے ۔ امام کی تیسری رکعت میں پہنچنے والے کیلئے کوئی اور اضافی عمل نہیں۔ امام کی چوتھی رکعت میں پہنچے والے مقتدی کیلئے ایک اضافی تشہد ادا کرنا پڑے گا ۔ امام کے سلام پھیرتے ہی مقتدی کی دوسری رکعت شروع ہوگی جو وہ حسب طریقہ مکمل کرےگا۔