صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام زین العابدین ؑ کی سخاوت


سفیان بن عینیہ نے زہری سے روایت کی ہے کہ سردی کی ایک رات بارش ہورہی تھی۔ میں نے امام زین العابدین ؑ کو دیکھا کہ پشت مبارک پر آرد وسوختہ لے جارہے ہیں۔ عرض کیا یابن رسول اللہ ؑ آپ اس وقت کہاں جارہے ہیں۔ فرمایا سفر کا ارادہ ہے اس لئے زاد راہ ایک محفوظ مقام میں جمع کررہا ہوں۔
زہری نے عرض کی مولا یہ میرا غلام ہے بوجھ یہ اٹھالے گا۔ آپ ؑ نے انکار فرمایا دوبارہ عرض کی یہ خدمت میں خود انجام دینے کیلئے حاضر ہوں۔ فرمایا مجھے ان اشیاء کے اٹھانے میں کوئی عار نہیں جو میرے لئے توشۂ راہ ہوں۔ آپ ؑ نے فرمایا اے زہری خدا کے واسطے تو جہاں جانا ہے جاؤ میرا کام میں دخل مت دے دو۔ زہری وہاں سے چلاگیا کچھ عرصہ بعد امام ؑ سے ملاقات ہوئی تو عرض کی یابن رسول اللہ ؑ جس سفر کا آپ ؑ ذکر فرما رہے تھے اس کا کچھ آثار نہیں پاتا فرمایا۔ اے زہری جس سفر سے تو قصد لے رہا ہے وہ سفر مراد نہیں بلکہ میرا سفر سے مراد موت ہے۔ میں اس موت کے سفر کیلئے آمادہ ہورہا ہوں۔ زہری کہتا ہے جب آپ ؑ کو وفات کے بعد غسل دینے کیلئے تیار کیا تو پشت مبارک پر کچھ نشان دکھائی دیئے دریافت کرنے پر معلوم ہوا آپ ؑ راتوں کو مسکین ضعیف وناتواں ہمسایوں کو کھانا لیجایا کرتے تھے یہ اس کے گھٹے پڑے ہوئے ہیں۔

آپ ؑ کے چچازاد بھائی کی مدد کرنا
آپ ؑ کے ایک چچازاد بھائی تھے جو اپنی فضول خرچی کے باعث ہمیشیہ محتاج اور تنگدست رہتے تھے۔ امام زین العابدین ؑ انہیں فضول خرچی سے منع فرماتے تھے لیکن وہ باز نہ آتے۔ تاہم جب فاقہ کی نوبت آتی آپ ؑ رات کی تاریکی میں ان کے پاس جاتے اور امداد کرتے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ مدد کرنے والا شخص کون ہے۔ چچازاد بھائی آپ ؑ سے کہتے اے بندۂ خدا صرف تم ہو جو میری مدد کرتے ہو لیکن علی ابن الحسین ؑ میرا بھائی ہوتے ہوئے میری مدد نہیں کرتا خدا انہیں اس صلۂ رحم کا برا بدلہ دے۔ حضرت یہ کلمات سن کر خاموش ہوجاتے۔ جب آپ ؑ اس دنیا سے رحلت فرماگئے اور خفیہ خیرات بند ہوگیا تب انہیں معلوم ہوا کہ مدد کرنے والا علی ابن الحسین ہی تھے۔
امام باقر ؑ سے مروی ہے کہ ہمارے پدر بزرگوار علی ابن الحسین ؑ سال میں دو مرتبہ اپنے گھر کی اثاثہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے جس میں سے آدھا اپنے لئے اور آدھا فقراء مساکین کو عطا فرما دیتے۔

ایک سائل کو انگور دینا
ایک دفعہ فصل ختم ہونے کے بعد مدینے میں کہیں سے انگور بکنے کیلئے لائے۔ چونکہ آپ ؑ پھلوں میں زیادہ انگور کو چاہتے تھے اس لئے آپ ؑ کی ام ولد کنیز نے انگور کا ایک خوشہ خرید لیا اور شام کی افطاری میں پیش کیا۔ ابھی آپ ؑ نوش فرمانے لگے ہی تھے ایک سائل نے دروازے پر دستک دی۔ آپ ؑ نے کنیز سے فرمایا یہ انگور سائل کو دے دو کنیز نے عرض کی حضور چند دانے اپنے لئے بھی رکھ لیں۔ فرمایا لا واللہ اور تمام انگور سائل کو بھیج دیئے ام ولد نے اگلے روز پھر انگور خریدلیا پہلے دن کی طرح سائل کو دے دیا۔ اس طرح تین دن آپ ؑ نے انگور سائل کو عطا فرمایا تیسرے روز ام ولد نے سائل سے وہ انگور خریدلیا اور آپ ؑ نے انگور نوش فرمایا۔

حصین بن نمیر کیساتھ آپ ؑ کی کرم نوازی
مسلم بن عقبہ ملعون نے مدینۃ الرسول کو تباہ کرنے کے بعد مرتے وقت حصین بن نمیر کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔ حصین ملعون مکہ جاکر خانہ کعبہ پرسنگ باری کی اور اس میں آگ لگادی۔ اس کے بعد مکمل محاصرہ کرکے عبد اللہ ابن زبیر کو قتل کرنا چاہا محاصرے کو چالیس روز گزرے تھے یزید ملعون واصل جہنم ہوگیا۔ یزید کی واصل جہنم کیوجہ سے عبد اللہ ابن زبیر نے حصین پر غلبہ حاصل کرلیا۔ حصین ملعون مکہ سے بھاگ کر مدینہ آیا مدینہ میں قیام کے دوران ایک رات فوج کے غذائی سامان کی فراہمی کیلئے ایک گاؤں کی طرف نکلا راستے میں اس ملعون کی ملاقات حضرت امام زین العابدین سے ہوگئی۔ آپ ؑ کے ہمراہ کچھ اونٹ تھے جن پر مسکینوں‘ غریبوں کی خاطر سامان لدا ہوا تھا۔ حصین نے آپ ؑ سے وہ غلہ خریدنا چاہا توآپ ؑ نے فرمایا اے بندہ اگر تجھے ضرورت ہو تو ایسے ہی لے جاؤ میں اسے فروخت نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اموال‘ میں مسکینوں کیلئے لے جارہا ہوں۔ حصین نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا میرا نام علی ابن الحسین ؑ ہے۔ پھر آپ ؑ نے دریافت کیا کہ تیرا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا میرا نام حصین بن نمیر ہے۔ آپ ؑ نے فرمایا اے حصین اگر تجھے مال کی ضرورت ہو تو یہ لیجاؤ مسکینوں کیلئے میں اور انتظام کرتا ہوں۔ سبحان اللہ خاندان دشمن کے ہوتے ہوئے بھی مال عطا فرمایا۔ آپ ؑ کے اس کرم نوازی پر حصین نے عرض کیا مولا یزید مرگیا ہے۔ آپ ؑ زیادہ خلافت کے مستحق ہیں آپ ؑ میرے ساتھ چلیں مسند خلافت پر آپ ؑ کو بٹھادوں گا۔ آپ ؑ نے جواب دیا اے حصین میں نے خداوند عالم سے عہد کرچکا ہوں کہ ظاہری خلافت قبول نہ کروں گا۔ یہ فرماکر آپ ؑ اپنے دولت سرا کو تشریف لے چلے۔
حضرت امام زین العابدین ؑ غرباء مدینہ کے سوگھرانوں کی کفالت فرماتے تھے ان گھرانوں میں سے اکثر کو معلوم نہیں تھا کہ یہ سارا خورد ونوش کون دے جاتا ہے۔ آپ ؑ کا اصول یہ تھا کہ بوریاں پشت پر لاد کر گھروں میں روٹی اور آٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تا بحیات جاری رہا۔