صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

اقوال امام زین العابدین علیہ السلام


(۱) ان ابغض الناس الی اللہ عزوجل من یعتقد بسنۃ امام ولایقتدی باعمالہ
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو امام کی سنت پر اعتقاد رکھے مگر اس کے اعمال کی پیروی نہ کرے۔
(۲) الزھد عشرۃ اجزاء فاعلیٰ درجات الزھد ادنیٰ درجات الورع واعلیٰ درجات الورع ادنیٰ الیقین واعلیٰ درجات الیقین ادنیٰ الرضیٰ ان الزھد فی آیۃ من کتاب اللہ’’لکی تأسو علی مافاتکم ولاتفرحوا ما آتٰکم‘‘
ترجمہ: زہد کے دس حصے ہیں۔ زہد کا اعلیٰ درجہ پرہیز گاری کا سب سے ادنی درجہ ہے۔ پرہیز گاری کا سب سے اعلیٰ یقین کا سب سے پہلا(ادنی) درجہ ہے۔ اور یقین کا اعلیٰ درجہ رضا خداوندی کا سب سے پہلادرجہ ہے۔ قرآن کریم کی روشنی میں زہد یہ ہے کہ ہاتھوں سے فوت ہونے والی چیزوں پر غم نہ کھاؤ اور آئندہ ملنے والی چیزوں کے بارے میں خوشی محسوس نہ کرو۔
(۳) وکفیٰ بالمرء شغلاً بعیبہ لنفسہ عن عیوب الناس
ترجمہ: آدمی کیلئے لوگوں کے عیوب ڈھونڈھنے کے بجائے اپنے عیوب کو ڈھونڈھنا ہی کافی ہے۔
(۴) اتقوا الکذب الصغیر منہ والکبیر فی کل جد وھزل
ترجمہ: جھوٹ سے بچنا چاہئے چھوٹا ہو یا بڑا سنجیدہ ہو یا مزاح کے طور پر۔
(۵) وایاکم وصحبۃ العاصین ومعونۃ الظالمین‘ ومجاورۃ الفاسقین احذروا فتنتہم‘ وتباعدوا من ساحتہم‘ واعملوا انہ من خالف اولیاء اللہ ودان بغیر دین اللہ واستبد بامرہ دون امر ولی اللہ فی نار تلتہب‘ تاکل ابداناً (قدغابت عنہا ارواحھا) غلبت علیہا شقوتھا (فہم موتی لایجدون حر الدنیا) فاعتبروا یا اولی الابصار واحمدوا اللہ علی ماھداکم واعملوا انکم لاتخرجون من قدرۃ اللہ الی غیر قدرتہ وسیر اللہ عملکم ثم الیہ تحشرون فانتفعوا بالعظۃ وتأدبوا باٰداب الصالحین
ترجمہ: خبردار گنہگاروں کی صحبت اختیار نہ کرو اور نہ ظالموں کی مدد کرو اور نہ بدکاروں سے تقرب حاصل کرو۔ (بلکہ) ان کے فتنوں سے بچو ان کی قربت سے دور رہو یہ جان لو کہ جو خاصان خدا کی مخالفت کرے گا‘ دین خدا کے علاوہ کسی اور دین کی پیروی کرے گا اور اپنے امور میں اپنی رائے کو مستقل سمجھے گا‘ اور ولی خدا کے امر کو اہمیت نہ دے گا اسے ایسی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا جو ان بدنوں کو کھالیتی ہے جن پر ان کی بدبختی غالب ہوتی ہے۔ لہذا اے صاحبان بصیرت عبرت حاصل کرو اور خدا نے تم کو جو ہدایت بخشی ہے اس پر اس کا حمد کرو اور یہ سمجھ لو کہ خدا کی قدرت سے نکل کر کسی غیر کی قدرت میں نہیں داخل ہوسکتے‘ اور خدا تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ پھر تمہارا حشر بھی اسی کی طرف ہونے والا ہے۔ لہذا موعظوں سے منع حاصل کرو اور صالحین کے آداب اختیار کرو۔
(۶) فی کتاب لہ الی محمد ابن مسلم الزہری ۔۔۔ اخذ علی العلماء فی کتابہ اذ قال لتبننہ للناس ولاتکتمونہ واعلم ان ادنی ماکتمت واحق مااحتملت ان آنست وحشۃ الظالم وسہلت لہ طریق الغی بدنوک منہ حین دنوت ۔۔۔او لیس بدعاۂ ایاک حین دعاک جعلوک قطباً اذاروابک رحی مظالمہم وجسراً یعبرون علیک الیٰ بلا یاھم وسلماً الی ضلالتہم الی غیہم سالکاً سبیلھم یدخلون بک الشک علی العلماء ویقتادون بک قلرب الجہال الیہم فلم یبلغ اخص وزراۂم ولا اقویٰ اعوانہم الا دون مابلغت من اصلاح فسادھم واختلاف الخاصۃ والعامۃ الیہم فما اقل مااعطوک فی قدر مااخذوا منک وما اسیرما عمروا لک فکیف ماخربوا علیک فانظر لنفسک فانہ لا ینظرلھا غیرک۔
ترجمہ: امام زین العابدین ؑ نے محمد بن مسلم زہری کو ایک خط میں (زہری اس زمانہ کے درباری علماء میں سے تھے) تحریر فرمایا خداوند عالم قرآن میں علماء سے عہد وپیمان لیتے ہوئے فرمایا ہے۔ تم کتاب خدا کو صاف صاف بیان کردینا اور(خبردار) اس کی کوئی بات چھپانا نہیں۔
پس تم جان لو کہ چھپانے کا سب سے آسان طریقہ اور سب سے ہلکا بوجھ جو تمہارے کندھوں پر پڑے گا وہ یہ ہے کہ تمہاری قربت کی وجہ سے ظالموں کی وحشت انسیت سے بدل جائے گی اور گمراہی کا راستہ ان کے لئے آسان ہوجائے گا۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ظالم حضرات جو تمہاری دعوتیں کرتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد حرف یہ ہوتا ہے کہ صرف اپنے ظلم وستم کی چکی کا قطب تم کو قراردیں؟ اور اپنی ستمگری کا پہیہ تمہاری وجہ سے گھمائیں‘ تم کو اپنی بلاؤں سے بچنے ایک پل قرار دیں تاکہ تم ان کی گمراہوں کی سیڑھی اور مبلغ بنو‘ وہ اس طرح تم کو اسی راستہ پر لگانا چاہتے ہیں جس پر خود چل رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ذریعے سچے علماء کو لوگوں کی نظر میں مشکوک بنادیں اور عوام کے قلوب کو اپنی طرف مائل کرلیں۔
وہ لوگ تم سے جو کام لے لیں گے وہ مخصوص ترین وزیروں‘ اور طاقتور ترین ساتھیوں سے بھی نہیں لے سکتے۔ تم ان کی خراب کاریوں اور فساد کی عیب پوشی کروگے اور ہر خاص وعام کو دربار میں کھینچ بلاؤ گے۔ پس جو چیز وہ تم سے لیں گے وہ کہیں عظیم ہوگی اس چیز کے مقابلہ میں جو وہ تم کو دیں گے اور کتنی بے قیمت ہے وہ چیز جس کو تمہارے لئے آباد کریں گے بمقابلہ اس چیز کے جس کو تمہارے لئے ویران کریں گے۔ لہذا اپنے بارے میں خود سوچو‘ اسلئے کہ دوسرا تمہارے لئے نہیں سوچے گا۔
(۷) ثلاث من کن فیہ من المومنین کان فی کنف اللہ واظلہ اللہ یوم القیامۃ فی ظل عرشہ وآمنہ من فزع الیوم الاکبر من اعطی من نفسہ ماھو سائلھم لنفسہ ورجل لم یقذم بذأ لم یقدم ولا رجلاً حتی یعلم انہ فی طاعۃ اللہ قد نہا اوفی معصیتہ ورجل لم یعب اخاہ بعیب حتی یترک ذلک العیب من نفسہ۔
ترجمہ: تین باتیں جس مومن کے اندر ہوگی وہ خدا کی حمایت میں رہے گا۔ قیامت میں خدا اس کو عرش کے زیر سایہ جگہ دے گا اور روز قیامت کے خوف سے امن رکھے گا (اور وہ باتیں یہ ہیں) ۱۔ جن چیزوں کی تم سے خواہش رکھتے ہو’’مثلاً تمہارا احترام کریں‘‘وہی چیز ان کو پیش کرو ۲۔ جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس میں خدا کی اطاعت ہے، یا معصیت اس وقت تک کسی کیلئے نہ ہاتھ بڑھاؤ نہ کوئی اقدام کرو۔ ۳۔ جب تک اپنے عیب دور نہ کرلو دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو۔ ’’اپنے عیوب کی طرف متوجہ رہنا (ایسا مشغلہ ہے کہ) دوسرے کی عیب جوئی سے انسان باز رہتا ہے‘‘
(۸) تفکروا واعملوا لماخلقتم لہ فان اللہ لم یخلقکم عبثاً
ترجمہ: غور و فکر کرو اور جس کے لئے پیدا کئے گئے ہو اس کے لئے عمل کرو کیونکہ خدا نے تم کو بیکار وعبث نہیں پیدا کیا ہے۔
(۹) مجالس الصالحین داعیۃ الی الصلاح
ترجمہ: صالح وشائستہ افراد کے ساتھ نشت وبرخواست شائستگی کی دعوت دیتی ہے۔
(۱۰) والمومن خلط عملہ بحلمہ یجلس لیعلم وتنصت یسلم لایحدث بالامانۃ الا صدقاء ولایکتم الشہادۃ للبعداء ولایعمل شیئاً من الحق ارثأً ولایترکہ ضیاءً ان زکی خاف ممایقولون ویستغفر اللہ لما لایعلمون ولایضرہ جہل من جہلہ۔
ترجمہ: مومن کے خصوصیات یہ ہیں کہ ’’اس کا عمل حلم سے مخلوط ہوتا ہے‘ وہ ایسی جگہ بیٹھتا ہے جہاں علم سیکھے‘ خاموش رہتا ہے تاکہ سالم رہے‘ جو بات بطور امانت اس کو بتائی جائے وہ دوستوں پر بھی ظاہر نہیں کرتا‘ غیروں کی گواہی بھی نہیں چھپاتا‘ کسی کام کو بطور ریا کاری انجام نہیں دیتا‘ اور نہ شرم کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیتا ہے‘ اگر اس کی تعریف کی جائے تو تعریف کرنے والوں کی گفتگو سے ڈرتا ہے(کہ کہیں مجھے غرور نہ پیدا ہوجائے) اور جن گناہوں کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوتی ان سے استغفار کرتا ہے‘ جاہلوں کی نادانی اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔
(۱۱)ان احبکم الی اللہ احسنکم عملا و ان اعظمکم عند اللہ عملاً
اعظمکم فیّ عند اللہ رغبۃً و ان انجاکم من عذاب اللہ اشد کم خشےۃ اللہ و ان اقربکم من اللہ اوسعکم خلقا و ان ارضاکم عنداللہ اسبغکم علی عیالہ و ان اکرمکم علی اللہ اتقاکم اللہ
ترجمہ:۔تم میں سے زیادہ خدا کے نزدیک محبوب وہ ہے جس کا عمل سب سے اچھا ہو اور خدا کے نزدیک از رو ے عمل تم میں سب سے عظیم وہ ہے جس جزائے الہی پر اشتیاق زیادہ ہو۔اور سب سے زیادہ عذاب الہی سے نجات پانے والا وہ ہے ھجو سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہو اور جو سب سے بااخلاق ہے وہی سب سے زیادہ خدا سے قریب ہے اور تم میں سب سے زیادہ خدا کو راضی رکھنے والا وہ ہے جو اپنے عیال پر سب سے زیادہ کشائش عظا کرے اور خدا کے نزدیک تم میں سب سے محترم وہ ہے ھجو سب سے زیادہ پر ہیزگار ہے۔
(۱۲) نظر المومن فی وجہ اخیہ للمودۃ و المحبۃ لہ عبادۃ
ترجمہ:۔ مومن بھائی کا دوسرے مومن بھائی کے چہرے کی طرف دیکھنا مودت ہے اور اسے محبت کرنا عبادت ہے۔
(۱۳) لو یعلم الناس ما فی طلب العلم لطلبوہ و لو سبغک الملھج و خوض اللجج
ترجمہ:۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جاے کی طلب علم میں کیا فوائد ہیں تو خون بہا کر اور دریا کے موجوں میں گھس کر بھی حاصل کرتے۔
(۱۴) والذنوب التی ترد الدعاء سوء النےۃ و خبث السریرۃ والنفاق مع الاخوان و ترک التصدیق بالاجابۃ و تاخیر الصلوٰت المفروضات حتی تذھب اوقاتھا و ترک التقریب الی اللہ عزوجل بالبر والصدقۃ و استعمال البذاء و الفحش فی القول
ترجمہ:۔وہ چیزیں جو دعاوں کے قبول نہ ہونے کی سبب بنتی ہیں ان میں سے (کچھ) یہ ہیں ۱۔ بدنیتی ۲۔ باطن کا ناپاک ہونا ۳۔ دینی بھائیوں کے ساتھ منافقت ۴۔ دعا قبول ہونے پر اعتقاد نہ رکھنا ۵۔ واجب نمازوں کو وقت پر نہ پرھنا اور ان میں اتنی تاخیر کا کہ ان کا وقت ہی گزر جائے ۶۔ صدقہ و احسان نہ کر کے تقرب اللہ کو چھوڑ دینا۷ فحش باتیں کرنا اور رفتارمیں برائی کرنا
(۱۵) من اشفق من النار بادر بالتوبۃ الی اللہ من ذنوبہ وراجع عن المحارم۔
ترجمہ: جو جہنم کی آگ سے ڈرے گا وہ اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کے بارے میں جلد توبہ کرے گا اور حرام کاموں سے اجتناب کرے گا۔
(۱۶) ایاک والانتہاج بالذنب فان الانتہاج بہ اعظم من رکوبہ۔
ترجمہ: خبردار گناہوں پر خوش نہ ہونا کیونکہ گناہوں پر خوش ہونا گناہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔
(۱۷) الذنب التی تغیر النعم : البغی علی الناس‘ والزوال عن العادۃ فی ا لخیر‘ واصطناع المعروف‘ وکفران النعم‘ وترک الشکر۔
ترجمہ: جو گناہ نعمتوں کو بدل دیتے ہیں ان میں (کچھ) یہ ہے۔ ۱: لوگوں پر ظلم کرنا ۲: اچھی عادت کو چھوڑنا ۳: نیک پروگرام کو ترک کردینا ۴: کفران نعمت کرنا ۵: شکر نہ کرنا۔
(۱۸) لاتمتنع من ترک القبیح وان کنت قدعرفت بہ
ترجمہ: برائی کے چھوڑنے میں کوئی تامل نہ کرو چاہے اس سے جتنا بھی آشنا ہوچکے ہو۔
(۱۹) مامن شئ احب الی اللہ بعد معرفتہ من عفۃ بطن وفرج
ترجمہ: خدا کی معرفت کے بعد شکم وشرمگاہ کی عفت سے زیادہ کوئی چیز خدا کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔
(۲۰) کم من مفتون بحسن القول فیہ وکم من مغرور بحسن الستر علیہ وکم من مستدرج بالاحسان الیہ
ترجمہ: کتنے ایسے لوگ ہیں جو ان کے تعریف سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور کتنے ایسے لوگ ہیں جو خدا کی اچھی پردہ پوشی کی وجہ سے مغرور ہوجاتے ہیں اور کتنے ایسے لوگ ہیں جو خدا کے لطف وکرم کی وجہ سے غافل ہوجاتے ہیں۔
(۲۱) من کرمت علیہ نفسہ ھانت علیہ الدنیا
ترجمہ: جس کے نزدیک اس کا نفس محترم ہوگا اس کی نظر میں دنیا حقیر ہوجائے گی۔
(۲۲) قیل لہ : من اعظم الناس خطراً ؟ فقال علیہ السلام من لم یر الدنیا خطراً لنفسہ
ترجمہ: حضرت سجاد سے پوچھاگیا : سب سے زیادہ کس کو خطرہ ہے؟ حضرت ؑ نے فرمایا جس نے اپنے لئے دنیا کو خطرہ نہ سمجھا۔
(۲۳) خیر مفاتیح الامور الصدق‘ وخیر خواتیمھا الوفاء
ترجمہ: سچائی بہترین کلید امور ہے‘ اور وفاداری تمام امور کا بہترین خاتمہ ہے۔
(۲۴) الرضا بمکروہ القضاء ارفع درجات الیقین
ترجمہ: ناپسند مقدرات پر راضی رہنا یقین کا سب سے بلند درجہ ہے۔
(۲۵) کف الاذی من کمال العقل وفیہ راحۃ البدن
ترجمہ: دوسروں کو اذیت دینے سے اپنے آپ کو روکنا کمال عقل اور بدن کی راحت کی نشانی ہے۔
(۲۶) المومن یصمت لیسلم وینطق لیغنم
ترجمہ: مومن سلامتی کیلئے خاموش رہتا ہے اور فائدہ اٹھانے کیلئے بولتا ہے۔
(۲۷) من قنع بما قسم اللہ لہ فھو من اغنی الناس
ترجمہ: جو خدا کی تقسیم پر قناعت کرے وہ سب سے بڑا تونگر ہے۔
(۲۸) عجبت لمن یحتمی من الطعام لمضرتہ کیف لایحتمی من الذنب لمعرتہ
ترجمہ: مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو بیمار ہونے کے خوف سے غذا ترک کرتا ہے مگر برے انجام کے خوف سے گناہ ترک نہیں کرتا۔
(۲۹) ھلک من لیس لہ حکیم یرشدہ
ترجمہ: وہ شخص ہلاک ہوا جس کی رہنمائی کے لئے کوئی عقلمند موجود نہ ہو۔
(۳۰) من رمی الناس بما فیہم رموہ بما لیس فیہ
ترجمہ: اگر کوئی شخص لوگوں کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت دے جو ان میں ہیں تو لوگ اس کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت دیں گے جو اس میں نہیں۔
(۳۱) اصبر علی النوائب ولاتتعرض للحقوق
ترجمہ: ناگواریوں پر صبر کرو اور دوسروں کے حقوق پر ہاتھ مت ڈالو۔
(۳۲) من اشتاق الی الجنۃ سارع الی الحسنات وسلا عن الشہوات
ترجمہ: جو کوئی جنت کا مشتاق ہے تو اسے چاہئے کہ نیکیوں میں جلدی اور خواہشات کو ترک کرے۔
(۳۳) ایاک ومصاحبۃ الفاسق فانہ یایعک بأکلۃ او اقل
ترجمہ: خبردار فاسق کی دوستی سے بچو کیونکہ وہ تمہیں پیٹ بھر کھانے یا اس بھی کم پر بیچے گا۔
(۳۴) مامن قطرۃ احب الی اللہ عزوجل من قطرتین : قطرۃ دم فی سبیل اللہ وقطرۃ دمعۃ فی سواداللیل لایرید بھا عبد الا اللہ عزوجل
ترجمہ: بارگاہ خداوندی میں دو قطروں کے علاوہ کوئی اور قطرہ محبوب نہیں ہے: ۱ ۔ وہ خون کا قطرہ جو راہ خدا میں گرے ۲۔ وہ آنسو کا قطرہ جو رات کی تاریکی میں بندہ سے صرف خدال کے لئے گرے۔
(۳۵) ثلاث منجیات للمؤمن: کف لسانہ عن الناس واغتیابہم‘ واشغالہ نفسہ بما ینعہ لاٰخرتہ ودیناہ‘ وطول البکاء علیٰ خطیتہ
ترجمہ: تین چیزیں مومن کو نجات دینے والی ہیں۔
۱: لوگوں کے بارے میں زبان روکنا غیبت نہ کرنا ۲: ایسے کام کرنا جو اس کے لئے دنیا وآخرت میں مفید ہوں ۳: اپنے گناہوں پر بہت رونا۔
(۳۶) ورأی علیلاً قد برئ فقال علیہ السلام لہ یھنوک الطہور من الذنوب: ان اللہ قد ذکرک فاذکرہ واقالک فاشکرہ ۔
ترجمہ: امام ؑ نے ایک بیمار کو شفا یافتہ پاکر فرمایا: گناہوں سے (بیماری سے) نجات پانے پر تجھ کو مبارک ہو‘ خدا نے تجھ کو یاد رکھا پس تو بھی اس کا ذکر کر اور تیرے گناہوں کو ختم کردیا لہذا اس کا شکر ادا کر۔
(۳۷) قیل لعلی ابن الحسین علیہما السلام کیف اصبحت یا ابن رسول اللہ؟ قال أصبحت مطلوباً بثمانی خصال اللہ تعالیٰ یطلبنی باالفرائض والنبی بالسنۃ‘ والعیال بالقوت‘ والنفس بالشہوۃ‘ والشیطان بالمعصیۃ‘ والحافظان بصدق العمل‘ وملک الموت بالروح‘ والقبر بالجسد‘ فأنا بین ھذٰا الخصال مطلوب
ترجمہ: امام زین العابدین ؑ سے کہا گیا: مولا آپ ؑ کی صبح کیسی ہوئی؟ ارشاد فرمایا اس عالم میں میں نے صبح کی کہ مجھ سے آٹھ چیزوں کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ۱: خدا واجبات کا مطالبہ کررہا تھا‘ ۲: رسول خدا ؑ سنت کا مطالبہ کررہے تھے‘ ۳: بال بچے قوت لایموت کا مطالبہ کررہے تھے‘ ۴: نفس شہوت کا تقاضا کررہا تھا‘ ۵: شیطان معصیت پر آمادہ کررہا تھا‘ ۶: کراماً کاتبین درست عمل کا مطالبہ کررہے تھے‘ ۷: ملک الموت موت کا مطالبہ کررہا تھا‘ ۸: قبر جسم کا مطالبہ کررہی تھی۔ پس میں ان سب کا مطلوب تھا۔
(۳۸) کف الأذی رفض البذآء
ترجمہ: لوگوں کو اذیت دینے سے باز رہنا اپنے آپ کو گالیوں سے بچانا ہے۔
(۳۹) قلۃ طلب الحوائج من الناس ھو الغنی الحاضر
ترجمہ: لوگوں سے بہت کم ضرورتوں کو طلب کرنا نقدی مالداری ہے۔
(۴۰) ایاکم وصحبۃ العاصین ومعونۃ الظالمین
ترجمہ: خبردار! گناہ گاروں کی ہمنشینی اور ظالموں کی مدد سے دوری اختیار کرو۔