صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی امامت پر نصوص


نص رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
عن ابن مسرور، عن ابن عامر، عن المعلّٰی، عن جعفر بن سلمان، عن عبداللّٰہ بن الحکم، عن ابیہ، عن سعید بن جبیر، عن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ان خلفائی و اوصیائی و حجج اللّٰہ علی الخلق بعدی اثنا عشر اولھم اخی و اخرھم ولدی و قیل یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم و من اخوک؟ قالؐ علی بن ابی طالب قیل فمن ولدک؟ قال المھدی یملأھا قسطاً و عدلاً کما ملئت جوراً و ظلماً و الذی بعثنی بالحق نبیاً لولم یبق من الدنیا الا یوم واحد لا طال اللّٰہ ذالک الیوم حتی یخرج فیہ ولدی المھدی فینزل روح اللّٰہ عیسی بن مریم فیصلی خلفہ و تشرق الارض بنور ربھا و یبلغ سلطانہ المشرق و المغرب۔
ترجمہ: ابن مسرور نے ابن عامر سے انہوں معلی سے معلی نے جعفر بن سلمان سے جعفر نے عبداﷲ بن حکم سے عبداﷲ نے اپنے والد سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک میرے بعد مخلوق خدا پر میرے وصی، خلیفہ اور اﷲ کی حجت بارہ ہیں۔ ان بارہ حجتِ خدا میں پہلا میرا بھائی اور آخری میرا بیٹا ہے۔ عرض کی اے اﷲ کے رسول آپ کا بھائی کون ہے۔ آپؐ نے فرمایا: میرا بھائی علی ابن ابیطالب ہیں۔ عرض کیا گیا آپؐ کا بیٹا کون ہے ؟ فرمایا: میرا بیٹا مہدی ؑہے جو روئے زمین کو عدل و انصاف سے پر کردے گا۔ جس طرح (اس سے پہلے) فسق و فجور اور ظلم سے پر ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا۔ اگر ایام دنیا سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اﷲ تعالیٰ اس دن کو اتنا طویل کردے گا یہاں تک کہ میرا بیٹا مہدی ظہور کرے۔ پس روح اﷲ عیسی بن مریم نازل ہوں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ زمین اس کے نور سے روشن ہوجائے گا اور اس کی بادشاہت مشرق اور مغرب تک پہنچ جائے گی۔
باسنا دالتمیمی عن الرضا عن آبائہ علیہ السلام قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم لا تقوم الساعۃ حتی یقوم القائم الحق منا و ذالک حین یأذن اللّٰہ عزوجل لہ و من تبعہ فنجا و من تخلف عنہ ھلک اللّٰہ عباداللّٰہ فاتوہ و لو علی الثلج فانہ خلیفۃ اللّٰہ عزوجل و خلیفتی
ترجمہ: تمیمی امام رضا سے اور آپؑ اپنے پدر بزرگوارؑ سے روایت کرتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک ہم اہلبیت میں سے قائم الحق کا ظہور نہ ہوجائے۔ یہ اس وقت ہوگا جب اﷲ تعالیٰ اسے خروج کا اذن دے گا اور جو اس کی اتباع کرے گا نجات پائے گا اور جو شخص اس کے حکم کی خلاف ورزی کرے گا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کو ہلاک کرے گا۔ اﷲ انہیں لائے گا۔ اگرچہ وہ برف پر ہوں کیونکہ مہدی اﷲ کے خلیفہ اور میرے جانشین ہیں۔
عن علی علیہ السلام قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یا علی انت وصی حربک حربی و سلمک سلمی و انت الأمام و ابوالائمۃ الاحدی عشر الذین ھم المطھرون المعصومون و منھم المھدی الذی یملا الارض قسطا و عدلا فویل لمبغضیھم یا علی لو ان رجلا احبک و اولادک فی اللّٰہ لحشرہ اللّٰہ معک و مع اولادک و انتم فی الدرجات العلی و انت قسیم الجنۃ والنار تدخل محبیک الجنۃ و مبغضیک النار۔
ترجمہ: علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اے علی تم میرے وصی ہو۔ تم سے جنگ کرنا میرے ساتھ جنگ کی مانند ہے۔ تمہاری دوستی میری دوستی ہے۔ تم امام ہو اور گیارہ آئمہ کے باپ ہو جو کہ سب کے سب پاک اور معصوم ہیں۔ انہیں گیارہ میں سے مہدی علیہ السلام ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے پرکردے گا۔ پس ان سے بغض رکھنے والوں کے لیے بربادی ہے۔ اے علی اگر کوئی شخص فی اﷲ تم سے اور تمہاری اولاد سے محبت رکھے۔ اﷲ تعالیٰ اس شخص کو تمہاری اور تمہاری اولاد کے ساتھ محشور کرے گا اور تم لوگ بلند درجے پر ہوگے۔ اے علی تم جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنے والے ہو۔ تم اپنے چاہنے والوں کو جنت میں اور اپنے سے دشمنی رکھنے والے کو دوزخ میں داخل کروگے۔
علی ابن احمد عن محمد بن ابی عبداللّٰہ الکوفی عن موسٰی بن عمران النخعی عن عمہ الحسین بن یزید النوفلی عن الحسن بن علی ابن ابی حمزہ عن ابیہ عن یحیٰی ابن ابی القاسم عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ عن علی علیہ السلام قال: قال رسول اللّٰہ الائمۃ بعدی اثنا عشر اولھم علی بن ابی طالب و اخرھم القائم خلفائی و اوصیائی و اولیائی و حجج اللّٰہ علی امتی بعدی المقربہم مؤمن والمنکر لھم کافر۔
ترجمہ: علی ابن احمد نے محمد بن ابی عبداﷲ سے محمد نے موسیٰ بن عمران نخعی سے موسیٰ نے ان کے چچا حسین ابن یزید نوفلی سے حسین نے حسن بن علی بن ابی حمزہ سے حسن نے اپنے والد سے انہوں نے یحییٰ ابن ابی القاسم سے یحییٰ نے جعفر ابن محمد سے جعفر نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے انہوں نے علیؑ سے روایت کی ہے کہ علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہوں گے۔ ان میں سے پہلا علی ابن ابی طالب اور آخری قائم ہوگا۔ یہ سب میرے خلیفہ، وصی، ولی اور میرے بعد میری امت پر اﷲ کی حجت ہیں۔ قائم مہدیؑ ہے۔ ان کی امامت کا اقرار کرنے والا مومن ہے اور ان کا منکر کافر ہے۔
(یہی حدیث کفایۃ الاثر میں بھی نقل ہوئی ہے لیکن راوی مختلف ہے )۔
القطان عن ابن ذکریا القطان عن ابن حبیب عن الفضل بن صقر عن ابی معویۃ عن الاعمش عن عبابۃ بن ربعی عن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم انا سید النبین و علی ابن ابیطالب سید الوصیین و ان اوصیائی اثنی عشرۃ اولھم علی ابن ابیطالب و اخرھم القائم المہدی۔
ترجمہ: قطان نے ابن ذکریا اور ابن حبیب سے، ابن حبیب نے فضل ابن صقر سے فضل نے ابی معویہ سے ابی معویہ نے اعمش سے اعمش نے عبابہ ابن ربیعی سے عبابہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمام پیغمبروں کا سردار ہوں اور علی تمام اوصیا کے سردار ہیں اور بیشک میرے بارہ وصی ہوں گے۔ ان میں سے اول علیؑ ہیں اور آخری قائم آل محمدؐ مہدی آخر الزماں علیہ السلام ہیں۔
نوٹ: یہ حدیث ینابع المودۃ، ص ۲۵۸، ۴۴۵، فرائد السبطین اور کشف الاسنار اور بحار الانوار میں عیون اخبار الرضا سے مختصر لفظی فرق کے ساتھ مگر مطلب ہر ایک کتاب میں ایک جیسے ہیں گرچہ مختلف راویوں سے نقل کیا گیا ہے۔
عن الصادق علیہ السلام قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ان اللّٰہ اخذ میثاقی و میثاق اثنی عشر امام بعدی و ھم حجج اللّٰہ علی خلقہ الثانی عشر منھم القائم الذی یملأ بہ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً و جوراً۔
ترجمہ: امام جعفر صادقؑ بحق ناطق فرماتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالیٰ نے میرے بارے میں اور میرے بعد میں آنے والے بارہ اماموں کے بارے میں عہد و پیمان لیا اور وہ بارہ امام اﷲ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں۔ ان میں سے بارہواں قائم آل محمدؐ المہدیؑ ہے جو کہ زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا۔ جس طرح فسق و فجور اور ظلم سے پر ہے۔
علی بن محمد عن محمد بن احمد الصفوانی عن فیض بن مفضل الحلیبی عن مسعر بن کدام عن سلمۃ بن کمیل عن ابی الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یقول الائمۃ بعدی اثنا عشر تسعۃ من صلب الحسین والمھدی منھم۔
ترجمہ: علی بن محمد نے محمد بن احمد الصفوانی سے محمد نے فیض ابن مفضل الحلبی سے فیض نے مسعر بن کدام سے مسعر نے سلمۃ بن کمیل سے سلمہ نے ابی صدیق الناجی سے ابی صدیق نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد بارہ امام ہوں گے۔ ان میں سے نو حسین کے صلب سے ہوں گے۔ قائم آل محمدؐ مہدی آخر زماں انہیں میں سے ہے۔
ابو عبداللّٰہ احمد بن محمد بن عبداللّٰہ الجوہری عن عبدالصمد بن علی بن محمد بن مکرم عن الطیالسی ابیی الولید عن ابی الزیاد عبداللّٰہ بن ذکوان عن ابیہ عن الاعرج عن ابی ھریرۃ قال: قال سئلت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عن قولہ عزوجل (و جعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ) قال جعل الامام فی عقب الحسین یخرج من صلبہ تسعۃ من الائمۃ و منھم مہدی ھذہ الامۃ ثم قال لو ان رجلأ صفق بین الرکن والمقام ثم لقی اللّٰہ مبغضا لاھل بیتی دخل النار۔
ترجمہ: ابوعبداﷲ احمد بن محمد بن عبداﷲ جوہری نے عبدالصمد بن علی بن محمد بن مکرم سے عبدالصمد نے طیالسی سے اس نے ابوزیاد سے ابوزیاد نے اس کے باپ سے انہوں نے اعرج سے اعرج نے ابوہریرہ سے نقل کیا ہے۔ ابوہریرہ کہتے ہیں:
میں نے اﷲ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں یعنی (وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ) کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا: امام (مہدی) کو حسین کی نسل میں قرار دیا گیا ہے اور حسینؑ کے صلب سے نو آئمہ ہوں گے اور ان نو میں سے مہدی اس امت کا (آخری) امام ہوگا پھر آپ نے فرمایا: اگر کوئی شخص رکن و مقام کے درمیان چلا جائے پھر میرے اہلبیت کے ساتھ بغض رکھنے کی حالت میں مر جائے گا تو اسے دوزخ میں داخل کر دیا جائے گا۔
عن سلیم بن قیس الھلالی عن سلمان الفارسی قال دخلت علی النبیؐ فاذا الحسین علی فخذیہ و ھو یقبل عینیہ و یقبل فاہ و یقول انت سید ابن السید و انت امام ابن الامام و انت حجۃ ابن الحجۃ و انت ابو حجج تسعۃ من صلبک تاسعھم قائمھم۔
ترجمہ: سلیم بن قیس ہلالی نے سلمان فارسی سے روایت کی ہے کہ میں آنحضرتؐ کے خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ حسین علیہ السلام آنحضرتؐ کی رانوں پر بیٹھے ہیں اور آپؐ کبھی ان کی آنکھوں کے بوسے لیتے ہیں اور کبھی لبوں کو چومتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تو سید ہے اور سید کا بیٹا ہے اور امام ہے اور امام کا بیٹا ہے۔ حجت خدا ہے اور حجت خدا کا بیٹا ہے اور توحجت ہائے خدا کا باپ ہے جو تیری پشت سے ہوں گے کہ ان کا نواں قائم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوگا۔

عن جابر بن عبداﷲ انصاری قال دخلت علٰی فاطمۃ بنت رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم و بین یدیھا لوح فیہ اسماء الاوصیاء والائمۃ من ولدھا فعددت اثنی عشر اسماء آخرھم القائم من ولد فاطمۃ ثلاثۃ منھم محمد و ثلاثۃ منھم علی۔
ترجمہ: جابر ابن عبداﷲ انصاری کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے سامنے ایک تختہ ہے جس میں آپ سلام اﷲ علیھا کی اولاد میں سے آئمہ اور اوصیاء کے نام مندرج تھے۔ پس میں نے ان کی تعداد گنی تو بارہ اسماء تھے۔ فاطمہ ؑ کی اولاد میں سے آخری قائم آل محمدؐ (مہدی آخر الزماں) ہیں۔ ان بارہ اسماء میں سے تین محمدؑ اور تین علیؑ ہیں۔
عن ایاس بن سلمۃ قال سمعت ابا سعید الخدری یقول سمعت رسول اللّٰہ یقول الخلفاء بعدی اثنی عشر تسعۃ من صلب الحسینؑ والتاسع قائمھم و مہدیھم فطوبی لمحبیھم والویل لمبغضیھم۔
ترجمہ: ایاس بن سلمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری کو یہ کہتے سنا۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول خداؐ سے سنا: کہ آپؐ فرما رہے تھے کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے۔ نو خلیفے حسین کی صلب سے ہوں گے۔ ان میں سے نواں قائم آل محمد مہدیؑ ہیں۔ ان سے محبت رکھنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ افسوس ہو۔ ان لوگوں کے لیے جو ان سے بغض رکھتے ہوں گے۔
الھمدانی عن علی، عن ابیہ، عن ابن ابی عمیر، عن غیاث ابن ابراہیم، عن الصادق عن ابائہؑ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم من انکر القائم من ولدی فقد انکرنی
ترجمہ: ہمدانی نے علی سے، علی نے ان کے والد سے انہوں نے ابن ابی عمیر سے اس نے غیاث بن ابراہیم سے غیاث نے امام صادقؑ سے آپؑ نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جو کوئی میری اولاد میں سے قائم (مہدی آخرالزماں) کا منکر ہوجائے بتحقیق وہ شخص مجھے انکار کرنے والا ہے۔

نص حضرت علی علیہ السلام
الھمدانی عن علی عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن غیاث ابن ابراہیم عن الصادق علیہ السلام عن آبائہ عن الحسین بن علی علیہ السلام قال: سئل امیر المومنین علیہ السلام عن معنی قول رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم (انی مخلف فیکم الثقلین: کتاب اللّٰہ و عترتی) من العترۃ؟ فقال انا والحسن والحسین والائمۃ التسعۃ من ولد الحسین تاسعھم مہدیھم و قائمھم لا یفارقون کتاب اللّٰہ ولا یفارقھم حتی یردوا علی رسول اللّٰہ حوضہ؟
ترجمہ: ہمدانی نے علی سے علی نے ان کے باپ سے انہوں نے ابن ابی عمیر سے ابن ابی عمیر نے غیاث بن ابراہیم سے غیاث نے امام صادق علیہ السلام سے امام صادقؑ نے اپنے پدربزرگوار سے۔ آپؑ نے حسین بن علی علیھما السلام سے روایت کی ہے کہ امام حسینؑ فرماتے ہیں: امیر المومنینؑ سے کسی نے رسولؐ اﷲ کے اس قول ’’بیشک میں تم میں اپنے پیچھے دو بھاری چیزیں کتاب اﷲ اور میری عترت چھوڑے جا رہا ہوں‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا کہ اے علی عترت کون ہیں تو حضرت علیؑ نے فرمایا: میں، حسن، حسین اور حسین کی اولاد میں سے نو امام۔ ان میں سے نواں امام قائم آل محمد مہدیؑ ہے۔ یہ ہستیاں کتاب اﷲ سے جدا نہیں ہوں گی اور کتاب ﷲ ان سے جدا نہیں ہوگی یہاں تک کہ حوض کوثر پر محمد رسول اﷲ کے پاس پہنچ جائیں۔

نص امام حسن علیہ السلام
علی بن محمد عن محمد بن عمر الجعابی عن احمد بن واقد عن ابراہیم ابن عبداﷲ عن عبداﷲ بن عبدالحمید عن ابی ضمرہ عن عبابۃ عن الاصبغ قال سمعت الحسن بن علی علیہ السلام یقول: الائمۃ بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اثنا عشر تسعۃ من صلب اخی الحسین و منھم مھدی ھذہ الامۃ۔
ترجمہ: علی بن محمد نے محمد بن عمر جعابی سے محمد نے احمد بن واقد سے احمد نے ابراہیم بن عبداﷲ سے ابراہیم نے عبداﷲ بن عبدالحمید سے عبداﷲ نے ابی ضمرہ سے ابی ضمرہ نے عبابہ سے عبابہ نے اصبغ سے اصبغ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بارہ امام ہوں گے۔ بارہ اماموں میں سے نو امام میرے بھائی حسین کی اولادوں میں سے ہوں گے۔ اس امت کے قائم آل محمد مہدی علیہ السلام انہیں میں سے ہیں۔
عن زین العابدین علیہ السلام قال: قال الحسن بن علی علیھما السلام الائمۃ بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عدد نقباء بنی اسرائیل و منا مہدی ھذہٖ الامۃ۔
ترجمہ امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسنؑ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امام بنی اسرائیل کے نقیبوں کے عدد کے برابر ہوں گے (یعنی بارہ ) اور اس امت کا مہدی ہم میں سے ہے۔

نصوص امام حسین علیہ السلام
الھمدانی عن علی عن ابیہ عن الھروی عن وکیع عن الربیع بن سعد عن عبدالرحمن بن سلیط قال: قال الحسین بن علی بن ابی طالب علیھما السلام منا اثنا عشر مھدیا اولھم امیر المومنین علی بن ابیطالب و اخرھم التاسع من ولدی و ھو القائم بالحق یحیی اللّٰہ بہ الارض بعد موتہا و یظھر بہ الدین الحق علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون لہ غیبۃ یرتد فیھا قوم و یثبت علی الدین فیھا آخرون فیؤذون فیقال لھم متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین اما ان الصابر فی غیبتہ علی الاذی والتکذیب بمنزلۃ المجاھد بالسیف بین یدی رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم۔
ترجمہ: ہمدانی نے علی سے علی نے ان کے والد سے انہوں نے ہروی سے ہروی نے وکیع سے وکیع نے ربیع ابن سعد سے ربیع نے عبدالرحمن ابن سلیط سے روایت کی ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے فرمایا: ہم میں سے بارہ ہادی ہیں۔ ان میں سے پہلے امیر المومنین علیؑ ابن ابی طالب ہیں اور ان بارہ اماموں میں سے آخری امام میری اولاد میں سے نواں ہے۔ وہ حق کے ساتھ قیام کرنے والا ہے۔ زمین کے مردہ ہونے کے بعد اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعے زمین کو زندہ کرے گا اللہ تعالیٰ رسی کے ذریعے دین حق کو باقی ادیان باطلہ پر ظاہر کرے گا۔ اگرچہ مشرکین ناپسند کیوں نہ کریں۔ میری اولاد میں سے نویں امام کے لیے غیبت ہے۔ (بعض ) لوگ اس دین سے پلٹ جائیں گے اور بقیہ اس دین پر ثابت قدم رہیں گے۔ پس ان کو اذیت پہنچائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا اگر تم لوگ سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ بہرحال وہ لوگ جو اذیت پہنچنے اور جھٹلائے جانے کے باوجود صبر کریں گے۔ ان کا مقام رسول اﷲ کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے برابر ہوگا۔

نص امام زین العابدین علیہ السلام
عن ابی خالد الکابلی عن علی بن الحسین علیھما السلام قال قلت لہ کم الائمۃ بعدک؟ قال ثمانیۃ لان الائمۃ بعد رسول اللّٰہ اثنا عشر الی ان قال: و من ابغضنا وردنا اوردّ واحداً منا فھو کافر باللّٰہ و بایاتہ۔
ترجمہ: ابوخالد کابلی سے روایت ہے۔ ابوخالد کہتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین سے میں نے پوچھا آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے ؟ آپؑ نے فرمایا: میرے بعد آٹھ امام ہوں گے کیونکہ رسولؐ اﷲ کے بعد بارہ امام تھے۔ یہاںتک کہ آپؑ نے فرمایا: جو شخص ہم اہلبیت سے بغض رکھے اور ہم اہلبیت رسولؐ کی امامت کو نہ مانے یا ہم میں سے کسی ایک کی امامت کو نہ مانے تو وہ شخص اﷲ اور اس کی آیات کا کافر ہے۔

نصوص امام باقر علیہ السلام
عن ابی بصیر عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال یکون تسعۃ آئمۃ بعد الحسین بن علی تاسعھم قائمھم۔
ترجمہ: ابوبصیر سے روایت ہے۔ ابوجعفر محمد باقرؑ نے فرمایا کہ حسینؑ ابن علیؑ کے بعد نو امام ہوں گے۔ ان سے نواں قائم آل محمدؐ مہدی علیہ السلام ہے۔
ابوالقاسم عن محمد بن یعقوب عن علی بن ابراہیم عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن سعید بن غزوان عن ابی جعفر علیہ السلام قال یکون بعد الحسین تسعۃ ائمۃ تاسعھم قائمھم۔
ترجمہ: ابوالقاسم نے محمد بن یعقوب سے محمد نے علی بن ابراہیم سے علی نے ان کے والد سے انہوں نے ابن ابی عمیر سے انہوں نے سعید بن غزوان سے سعید نے ابو جعفرؑ سے حضرت امام باقرؑ نے فرمایا: حسینؑ کے بعد نو امام ہوں گے۔ ان میں سے نواں قائم آل محمد مہدی ؑہے۔
عن ابی سعید الخدری قال سمعت رسول اللّٰہ یقول علی المنبر ان المھدی من عترتی من اہل بیتی یخرج فی آخر الزمان تنزل لہ السماء قطرھا و تخرج لہ الارض بذرھا فیملأ الارض عدلاً و قسطاً کما ملاھا القوم ظلماً و جوراً۔
ترجمہ ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک مہدی میرے اہلبیت میں سے اور میری عترت میں سے ہیں جو کہ آخری زمانہ میں ظہور کرے گا اور آسمان اس کے لیے بارش کے قطرے برسائے گا اور زمین سبزہ جات اگائے گی۔ پس مہدی زمین کو عدل و انصاف سے پر کردے گا جس طرح لوگوں نے اس کو فسق و فجور اور ظلم سے پر کیا ہوا ہوگا۔
عن انس بن مالکؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم لما عرج بی الی السماء رأیت علی قوام العرش مکتوبا لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ایدتہ بعلی و نصرتہ بہ و رأیت اثنا عشر اسماء مکتوبا بالنور فھم علی بن ابیطالب و سبطای و بعدھما تسعۃ اسماء علیاً علیاً علیاً ثلث مرات و محمد و محمد مرتین و جعفر و موسیٰ والحسن و الحجۃ یتلا لامن بینھم فقلت یا رب اسامی من ھولاء فنادانی ربی جل جلالہ ھم الاوصیاء من ذریتک بہم اثیب و اعاقب۔
ترجمہ: انس بن مالک سے روایت ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے آسمان کی طرف معراج ہوئی میں نے عرش کے ستون پر دیکھا کہ اس پر لکھا ہوا تھا: لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ و ایدتہ بعلی و نصرتہ بہ یعنی اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد اﷲ کے رسول ہیں۔ علی ابن ابی طالب کے ذریعے اس کی مدد کی۔ اس کے بعد فرمایا: میں نے یہ بارہ اسما کو بھی نور سے لکھے ہوئے دیکھا۔ پس وہ ہستیاں علی بن ابی طالب، میرے دونوں نواسے، ان دونوں کے بعد نو اسم جس میں تین علی کے نام کے، دو محمد کے نام کے اور جعفر، موسیٰ، حسن اور حجت قائم آل محمد مہدی کے نام تھے۔ میں نے درگاہ الٰہی میں عرض کی: پروردگار! یہ اسماء کن ہستیوں کے ہیں۔ میرے پروردگار کی طرف سے ندا آئی: اے محمد یہ ہستیاں تیری ذریت میں سے وصی ہیں۔ ان سے محبت پر ثواب اور ان سے بغض پر عقاب کروں گا۔
عن علی علیہ السلام قال دخلت علی رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فی بیت ام سلمہ و قد نزلت ھذہ الآیۃ (انما یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطہرکم تطہیرا) فقال رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یا علی ھذہ الایۃ نزلت فیک و فی سبطيّ والائمۃ من ولدک قلت یا رسول اللّٰہ و کم الائمۃ بعدک قال انت یا علی ثم ابناک الحسن و الحسین و بعد الحسین علیّ ابنہ و بعد علی محمد ابنہ بعد محمد ابنہ جعفر بعد جعفر موسٰی ابنہ بعد موسٰی علی ابنہ بعد علی محمد ابنہ بعد محمد علی ابنہ و بعد علی الحسن ابنہ و بعد الحسن ابنہ الحجۃ ھکذا وجدت اسامیھم مکتوبۃ علی ساق العرش فسالت اللّٰہ عزوجل عن ذلک فقال یا محمد ھم الائمۃ بعدک مطہرون و معصومون و اعدائھم ملعونون۔
ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کے گھر میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بتحقیق اس وقت یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی (بیشک اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہلبیت آپ لوگوں سے ناپاکی کو دور کرے اور آپ لوگوں کو پاک کرے جس طرح پاک کرنے کا حق ہے)۔ پس رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی ! یہ آیت آپ کی شان اور آپ کے دونوں بیٹے حسن و حسین اور آپ کی اولاد میں آئمہ علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ میں (علیؑ) نے عرض کیا: یا رسول اﷲ آپؐ کے بعد کتنے امام ہوں گے؟ تو آپؐ نے فرمایا: اے علی تم اور تمہارے دونوں بیٹے حسن و حسین۔ حسین کے بعد اس کا بیٹا علی، علی کے بعد اس کا بیٹا محمد، محمد کے بعد اس کا بیٹا جعفر، جعفر کے بعد اس کا بیٹا موسیٰ، اس کے بعد علی، علی کے بعد اس کا بیٹا محمد، محمد کے بعد اس کا بیٹا علی، علی کے بعد اس کا بیٹا حسن، حسن کے بعد اس کا بیٹا حجت قائم (آل محمد ) مہدی امام ہوگا۔ اسی طرح میں (رسولؐ) نے شب معراج عرش کے ستون پر ان کے یہ اسما لکھے ہوئے دیکھے تھے۔ پس میں نے درگاہ الٰہی میں ان اسما کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر اﷲ رب العزت نے فرمایا: اے محمد یہ اسماء ان ہستیوں کے ہیں جو کہ پاک و منزہ اور معصوم ہیں۔ آپ کے بعد امام ہوں گے اور ان کے دشمن ملعون ہیں۔

نصوص امام جعفر صادق علیہ السلام
علقمۃ بن محمد الحضرمی عن الصادق علیہ السلام قال: الائمۃ اثنا عشر قلت یا ابن رسول اللّٰہ فسمھم لی قالؑ من الماضین علی ابن ابی طالب والحسن و الحسین و علی بن الحسین و محمد بن علی ثم انا قلت فمن بعدک یابن رسول اللّٰہ ؟ فقال انی قد اوصیت الی ولدی موسٰی و ھوا الامام بعدی قلت فمن بعد موسٰی ؟ قالؑ علی ابنہ یدعی الرضا یدفن فی ارض الغربۃ من خراسان ثم بعد علی ابنہ محمد و بعد محمد ابنہ علی و بعد علی الحسن ابنہ والمھدی من ولد الحسن۔
ترجمہ: علقمہ سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام بارہ ہیں تو میں نے امام سے عرض کی: یابن رسول اﷲ ان کے نام مجھے بتائیے۔ آپؑ نے فرمایا: وہ امام جو پہلے گزر چکے ہیں۔ ان میں علی ابن ابی طالب، حسن، حسین، علی بن الحسین، محمد بن علی پھر میں (یعنی صادق) ہوں۔ علقمہ کہتے ہیں پھر میں نے عرض کی: آپؑ کے بعد کون امام ہے ؟ آپؑ نے فرمایا: بتحقیق میں نے اپنے بیٹے موسیٰ کے لیے وصیت کی ہے۔ وہ میرے بعد امام ہے۔ میں نے دوبارہ عرض کی: یابن رسول اﷲ موسیٰ کے بعد کون امام ہے۔ حضرت امام صادقؑ نے فرمایا: اس کے بعد اس کا بیٹا علی جو کہ رضا کے نام سے پکارا جائے گا اور خراسان میں حال غریبی میں آپؑ کو دفن کیا جائے گا۔ علی کے بعد اس کا بیٹا محمد، محمد کے بعد اس کا بیٹا علی، علی کے بعد اس کا بیٹا حسن، حسن کے بعد اس کا بیٹا مہدی امام ہوگا۔
عن ابی بصیر عن ابی عبداللّٰہ علیہ السلام قال: یکون بعد الحسین تسعۃ آئمۃ تاسعھم قائمھم۔
ترجمہ: ابو بصیر سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: حسین ابن علی کے بعد نو امام ہوں گے۔ ان میں سے نواں امام قائم آل محمد مہدی ؑ ہوگا۔
عن المفضل قال: قال الصادقؑ ان اللّٰہ تبارک و تعالٰی خلق اربعۃ عشر نورا قبل خلق الخلق باربعۃ عشر الف عام فہی ارواحنا فقیل لہ: یابن رسول اﷲ و من الاربعۃ عشر ؟ فقال محمد و علی و فاطمۃ و الحسن والحسین والائمۃ من ولد الحسین اخرھم القائم الذی یقوم بعد غیبۃ فیقتل الدجال و یطہر الارض من کل جور و ظلم۔
ترجمہ مفضل روایت کرتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالیٰ نے مخلوقات کو خلق کرنے سے چودہ ہزار سال پہلے چودہ نور کو پیدا کیا۔ پس یہ انوار ہماری روح ہیں۔ کسی نے عرض کی: یابن رسول اﷲ وہ چودہ ارواح کون ہیں ؟ آپؑ نے فرمایا: محمد، علی، فاطمہ، حسن، حسین اور حسین کی اولاد میں سے آئمہ علیہم السلام ہیں۔ ان میں سے آخری قائم آل محمد مہدیؑ جو کہ غیبت کے بعد قیام کرے گا۔ پس وہ دجال کو قتل کرے گا اور روئے زمین کو تمام فسق و فجور اور ظلم سے پاک کرے گا۔
سید بن محمد الحمیری فی حدیث طویل یقول فیہ قلت للصادق جعفر بن محمدؑ: یابن رسول اللّٰہ قدروی لنا اخبار عن ابائکؑ فی الغیبۃ و صحۃ کونہا فاخبرنی بمن تقع؟ فقالؑ ستقع بالسادس من ولدی والثانی عشر من الائمۃ الھداۃ بعد رسول اللّٰہؐ اولھم امیر المومنین علی ابن ابیطالبؑ و آخرھم القائم بالحق بقیۃ اللّٰہ فی ارضہ صاحب الزمان و خلیفۃ الرحمان و اللّٰہ لو بقی فی غیبتہ مابقی نوح فی قومہ لم یخرج من الدنیا حتی یظہر فیملآ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما۔
ترجمہ: سید بن محمد حمیری سے روایت ہے۔ سید نے ایک طویل حدیث میں کہتے ہیں کہ جعفر صادقؑ سے عرض کی: یا ابن رسول ؐ اﷲ بتحقیق آپ کے پدر بزرگوار سے ہمارے لیے غیبت کے بارے میں اور اس کے صحیح ہونے میں اخبار روایت ہوچکی ہے۔ آپ مجھے بتائیں کون (غیبت میں) واقع ہوگا ؟ آپؑ نے فرمایا: عنقریب میری اولاد میں سے چھٹے کے ساتھ واقع ہوگی۔ وہ ہستی ائمہ ہدیٰ میں سے بارہویں ہیں۔ رسول کے بعد ان بارہ آئمہ میں سے پہلے حضرت علی بن ابی طالب اور ان میں سے آخری قائم بالحق آل محمد مہدیؑ ہیں۔
روئے زمین پر وہ بقیۃ اﷲ اور صاحب الزمان ہیں رحمن کے خلیفہ ہیں۔ اﷲ کی قسم اگر وہ غیبت میں اتنی مدت رہے جتنی مدت حضرت نوح اپنی قوم میں رہے تب بھی دنیا فنا نہیں ہوگی یہاں تک کہ آپؑ کا ظہور ہوجائے۔ پس ظہور فرما کر روئے زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے جس طرح فسق و فجور اور ظلم سے پر ہے
الطالقانی عن ابی علی بن ھمام قال سمعت محمد بن عثمان العمری یقول سمعت ابی یقول سئل ابو محمد الحسن بن علی علیہ السلام و انا عندہ عن الخبر الذی روی عن ابائہؑ ان الارض لا تخلو من حجۃ اللّٰہ علی خلقہ الی یوم القیامۃ و انّ من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاہلیۃ فقال علیہ السلام ان ھذا حق کما ان النہار حق فقیل لہ: یابن رسول اللّٰہ فمن الحجۃ والامام بعدک؟ فقال ابنی محمد و ھو الامام و الحجۃ بعدی من مات و لم یعرفہ مات میتۃ جاہلیۃ۔
ترجمہ: طالقانی نے ابو علی بن ھمام سے روایت کرتے ہیں۔ ابو علی کہتے ہیں: میں نے محمد بن عثمان عمری سے سنا ہے۔ محمد کہتا ہے میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے ہیں کہ جس وقت ابو محمد حسن بن علی سے سوال کیا گیا۔ میں وہاں تھا۔ آپؑ نے اپنے بزرگوں سے روایت کی کہ بیشک روئے زمین قیام قیامت تک مخلوقات خداوندی پر اﷲ کی حجت سے خالی نہیں ہوگی۔ وہ شخص جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرا گویا کہ وہ جہالت کی موت مرا۔ پس امام حسن عسکریؑ نے فرمایا: بیشک یہ حق ہے جس طرح دن حق ہے۔ کسی نے آپ سے کہا: یا بن رسول اﷲ آپؑ کے بعد امام اور حجت کون ہوگا۔ آپ نے فرمایا: میرا بیٹا محمد امام اور حجت خدا ہوگا کیونکہ وہ میرے بعد امام اور حجت ہے جو شخص اس کی معرفت کے بغیر مرے تو گویا جہالت کی حالت میں مرا۔

نصوص امام حسن عسکری علیہ السلام
عن احمد بن اسحاق قال: سمعت ابا محمد الحسن بن علی العسکریؑ یقول الحمد اللّٰہ الذی لم یخرجنی من الدنیا حتی ارانی الخلف من بعدی اشبہ الناس برسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم خلقاً و خلقاً یحفظہ اللّٰہ تبارک و تعالٰی فی غیبتہ ثمہ یظہرہ فیملأ الارض عدلا و قسطا کما ملئت جوراً و ظلماً۔
ترجمہ: احمد بن اسحاق سے روایت ہے۔ احمد نے کہا: میں نے حسن عسکریؑ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپؑ فرما رہے تھے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہے جس نے مجھے دنیا سے نہیں اٹھایا یہانتک کہ مجھے اپنے بعد آنے والے جانشین کو دیکھا دیا۔ خَلق و خُلق میں لوگوں کی نسبت رسول خدا سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس کو غیبت میں (دشمنوں کے شرسے) محفوظ رکھے گا پھر آپؑ غیبت سے ظہور فرمائیں گے۔ پس اس وقت زمین کو عدل اور انصاف سے اس طرح پر کرے گا۔ جس طرح فسق و فجور اور ظلم سے پر ہے۔
عن محمد بن عثمان العمری قال عرض علینا ابو محمد الحسن بن علی و نحن فی منزلہ و کنا اربعین رجلا فقال ھذا امامکم من بعدی و خلیفتی علیکم اطیعوہ ولا تتفرقوا من بعدی فی ادیانکم لتہلکوا اما انکم لاترونہ بعد یومکم ھذا۔
ترجمہ: محمد بن عثمان عمری سے روایت ہے کہ ابو محمد حسن بن علی تشریف لائے۔ ہم آپؑ کے گھرمیں تھے۔ ہم چالیس نفر تھے۔ آپؑ نے فرمایا: یہ میرے بعد تم لوگوں کا امام اور میرا خلیفہ ہے۔ تم لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔ تم لوگ دین میں میرے بعد تفرقہ نہ کرنا تاکہ تم ہلاکت میں نہ پڑجاؤ۔ بہرحال بیشک تم لوگ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھو گے۔
عن ایوب بن نوح فی خبر طویل مشہور قالوا جمیعا: اجتمعنا الی ابی محمد الحسن بن علی علیھما السلام نسئلہ عن الحجۃ من بعدہ و فی مجلسہ علیہ السلام اربعون رجلا فقام الیہ عثمان فقال لہ یابن رسول اللّٰہ اریدان اسئلک عن امرانت اعلم بہ منی فقال لہ اجلس یا عثمان فقام علی قدمیہ فقال اخبرکم بما جئتم قالوا نعم یابن رسول اللّٰہؐ قال جئتم
تسئلونی عن الحجۃ من بعدی قالوا نعم فاذا غلام کانہ قطع قمر اشبہ الناس بابی محمدؑ فقال ھذا امامکم من بعدی و خلیفتی علیکم اطیعوہ و لا تتفرقوا من بعدی فتھلکم فی ادیانکم الا وانّکم لا ترونہ من بعد یومکم۔
ترجمہ: ایوب بن نوح ایک طویل مشہور حدیث روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم ایک جماعت کی صورت میں امامؑ کے پاس پہنچے (یعنی ان میں علی بن بلال، احمد بن ہلال، محمد بن معویۃ بن حکیم وغیرہ بھی تھے)۔ ہم حضرت امام حسن عسکری ؑکی خدمت میں جمع ہوئے۔ ہم نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپؑ کے بعد حجت خدا کون ہے ؟ اس وقت آپؑ کے مجلس میں چالیس آدمی تھے۔ عثمان (ابن سعید) کھڑا ہوا اور آپ سے عرض کیا: یابن رسول اﷲ ہم آپؑ سے ایک ایسے امر کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہم سے زیادہ آپ جانتے ہیں۔ تو آپؑ نے فرمایا: اے عثمان بیٹھ جاؤ۔ آپؑ کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں تم لوگوں کو اس چیز کے بارے میں خبر دوں گا جس کے لیے تم لوگ آئے ہو۔ انہوں نے کہا: ہاں یابن رسول اﷲ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے میرے بعد آنے والے حجت کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہو۔ اتنے میں ایک ایسا بچہ تشریف لایا گویا کہ چاند کے ٹکڑے کی طرح تھا اور لوگوں میں ابو محمد ؑسے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ آپؑ نے فرمایا: یہ میرے بعد تمہارا امام اور تم لوگوں پر میرے خلیفہ ہیں۔ اس کی اطاعت کرو۔ میرے بعد تفرقہ بازی نہ کرو ورنہ تم لوگ اپنے دین میں ہلاک ہوجاؤ گے۔ آگاہ رہو بتحقیق تم لوگ اس کو آج کے بعد سے نہیں دیکھو گے۔
{اللہم صل علیٰ محمد و آل محمد}