صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

ولادت باسعادت کے واقعات


آپ کا اسم گرامی محمد اور آپؑ کے القابِ شریفہ مہدی، خاتم، منتظر، حجت اور صاحب امر ہیں۔ ابن بابویہ اور شیخ طوسی نے سند ہائے معتبر کے ساتھ بشر بن سلیمان بردہ فروش (غلام فروخت کرنے والے) سے روایت کی ہے جو کہ ابوایوب انصاری کی اولاد میں سے تھے امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے خاص دوستداروں میں سے ہیں اور شہر سامرہ میں آپؑ کے پڑوس میں رہتا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ایک دن کافور امام علی نقیؑ کا خادم میرے پاس آیا اور مجھے بلا کر لے گیا۔ جب میں آپؑ کی خدمت میں گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ تم انصاری کی اولاد میں سے ہو ہم اہل بیتؑ کی ولایت و محبت رسولؐ خدا کے زمانے سے لے کر اب تک تم میں موجود ہے اور تم ہمیشہ ہمارے مورد اعتماد رہے ہو اور میں تجھے مشرف کرتا ہوں۔ ایسی فضیلت کے ساتھ جس کی وجہ سے تو ہمارے باقی دوستداروں سے ہماری ولایت میں سبقت لے جائے اور تجھے دوسرے رازوں سے مطلع کرنا چاہتا ہوں اور ایک کنیز کے خریدنے کے لیے بھیجتا ہوں۔ پس آپ نے ایک عمدہ خط لغت فرنگی میں لکھا اور اس پر اپنی مہر شریف لگائی اور ایک تھیلی نکالی جس میں دو سو بیس اشرفیاں تھیں۔ فرمایا: یہ خط اور رقم لے لو اور بغداد چلے جاؤ اور فلاں روز چاشت کے وقت پل پر جاؤ۔ جب قیدیوں کی کشتیاں ساحل پر پہنچیں تو ان کشتیوں میں کچھ کنیزیں دیکھو گے اور کچھ خریدار امراء بنی عباس کے وکیل اور چند عرب نوجوان نظر آئیں گے جو قیدیوں کے گرد جمع ہوں گے۔ پس دور سے سارا دن اس بردہ فروش پر نگاہ رکھنا کہ جس کا نام عمرو بن یزید ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ خریداروں کے لیے ایسی کنیز ظاہر کرے کہ جس کے فلاں فلاں صفات ہیں پھر آپ نے اس کے تمام اوصاف بیان کیے اور اس نے گاڑھ ریشمی لباس پہنا ہوگا اور وہ اس سے انکار کرے گی کہ مشتری اس کی طرف دیکھیں اور اسے ہاتھ لگائیں اور تو سنے گا کہ پردے کے پیچھے سے اس کی رومی آواز بلند ہوگی تو سمجھنا کہ وہ رومی زبان میں کہہ رہی ہے کہ ہائے افسوس کہ میری حرمت ضائع ہو رہی ہے۔ پس ایک خریدار کہے گا کہ میں تین سو اشرفی اس کنیز کی قیمت دیتا ہوں کیونکہ اس کی پاکدامنی اس کے خریدنے میں میری زیادہ رغبت کا باعث ہوئی ہے تو وہ کنیز اسے عربی زبان میں کہے گی: اے جوان اگر تو سلیمان بن داود کی شان و شوکت میں بھی ظاہر ہو اور اس کی حکومت حاصل کرے تب بھی میں تیری طرف راغب نہیں ہوں گی۔ اپنا مال ضائع نہ کر اور میری قیمت ادا نہ کر۔ پس وہ بردہ فروش کہے گا کہ کیا چارہ کروں کہ تو کسی خریدار پر راضی نہیں ہوتی۔ بالآخر تیرے بیچنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تو وہ کنیز کہے گی تجھے کیا جلدی ہے۔ البتہ ایک خریدار آئے گا کہ جس کی طرف میرا دل مائل ہوگا اور مجھے اس کی وفاداری اور دیانت پر اعتماد ہوگا۔ پس اس وقت تم اس کنیز کے مالک کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میرے پاس ایک شریف اور بزرگ شخص کا خط ہے کہ جسے اس نے بڑی ملاطفت و شفقت کے ساتھ لغت فرنگی میں لکھا ہے کہ جس میں اس نے اپنے کرم و سخاوت وفاداری اور بزرگی کا ذکر کیا ہے اور یہ خط اس کنیز کو دے دو تاکہ وہ اسے پڑھے اور اگر اس خط لکھنے والے پر راضی ہوجائے تو میں اس کی طرف سے وکیل ہوں کہ یہ کنیز میں اس کے لیے خریدوں۔
بشر بن سلیمان کہتا ہے جو کچھ حضرت نے فرمایا تھا وہ سب واقع ہوا اور جو کچھ آپؑ نے مجھ سے فرمایا تھا۔ میں نے اس پر عمل کیا اور جب اس کنیز نے خط پڑھا تو رونے لگی اور عمرو بن یزید سے کہنے لگی کہ مجھے اس خط لکھنے والے کے ہاتھ بیچ دو اور اس نے بڑی قسمیں کھائیں کہ اگر مجھے اس کے ہاتھ فروخت نہ کیا تو میں خود کو ہلاک کردوں گی پھر میں نے اس کے ساتھ اس کی قیمت کے سلسلہ میں بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ وہ اس قیمت پر راضی ہوگیا جو امام علی نقیؑ نے مجھے دی تھی۔ پس میں نے وہ رقم اس کے سپرد کی اور کنیز کو لے لیا اور وہ کنیز بڑی خوش تھی۔ وہ میرے ساتھ اس حجرہ میں آئی جو میں نے بغداد میں لیا ہوا تھا۔ جس وقت وہ اس کمرے میں پہنچی تو اس نے حضرتؑ کا خط نکالا اور وہ اس کے بوسے لیتی اور اس کو آنکھوں پر ملتی اور چہرے پر رکھتی اور اپنے جسم پر ملتی تھی۔ پس میں نے از روئے تعجب کہا کہ تو اس خط کو بوسہ دیتی ہے کہ جس کے لکھنے والے کو تو نہیں پہچانتی۔
وہ کنیز کہنے لگی کہ اے عاجز اور اولاد اوصیا و انبیا کی بزرگی کی کم معرفت رکھنے والے تو اپنے کام میرے حوالے کر اور دل کو میری باتیں سننے کے لیے آمادہ کر تو میں تجھے اپنے حالات کی تفصیل بتاؤں۔
میں ملیکہ دختر یشوعائے فرزند قیصر بادشاہ روم ہوں اور میری والدہ شمعون بن حمون بن صفا وصی حضرت عیسیٰ ؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ میں تجھے ایک عجیب چیز کی خبر دیتی ہوں۔ واضح ہو کہ میرے دادا قیصر نے چاہا کہ میرا عقد اپنے بھتیجے سے کر دے اور اس وقت میری عمر ۱۳ سال تھی۔ پس اس نے اپنے قصر و محل میں حواریین عیسیٰ کی اولاد و علمائے نصاریٰ اور ان کے عباد میں سے تین سو افراد جمع کیے اور صاحبان قدر و منزلت میں سے سات سو اشخاص اور امرائے لشکر اور افسران عسکر اور بزرگان فوج اور سرداران قبائل میں سے چار ہزار نفر اکٹھے کیے اور حکم دیا کہ اس تخت کو حاضر کیا جائے کہ جسے اس نے اپنی سلطنت کے زمانہ میں مختلف قسم کے جواہرات سے مرقع کیا تھا۔ اس تخت کو چالیس پایہ پر درست اور کھڑا کیا گیا بتوں اور صلیبوں کو اونچی جگہ پر رکھ دیا اور اپنے بھتیجے کو تخت پر بیٹھنے کے لئے بھیجا۔ جب قیسین نے انجیلیں اپنے ہاتھ میں اٹھائیں تاکہ انھیں پڑھے تو بت اور صلیبیں سر نگوں ہو کر زمین پر گر پڑیں اور تخت کے پائے خراب ہوگئے اور تخت زمین پر گر گیا اور بادشاہ کا بھتیجا تخت سے گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا تو قیسین کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ کانپنے لگا اور ان میں سے جو بزرگ تھے انھوں نے میرے دادا سے کہا: اے بادشاہ ہمیں معاف کر ایسے امر سے کہ جس سے کئی نحوستیں رونما ہوئیں اور جو دلالت کرتا ہے کہ دین مسیحی بہت جلد زائل ہو جائے گا۔ پس میرے دادا نے اس کام کو فال بد سمجھا اور علماء و قیسین سے کہا کہ اس تخت کو دوبارہ اس کی جگہ پر رکھو اور صلیبیں اپنے مقام پر قرار دو اور اس برگشتہ روز گار بدبخت کے بھائی کو حاضر کرو تاکہ اس لڑکی کی اس سے شادی کروں تاکہ اس بھائی کی سعادت اس بھائی کی نحوست کو دور کردے۔
جب ایسا کیا گیا اور اس کے بھائی کو تخت کی طرف لے چلے اور قیسین نے انجیل پڑھنی شروع کی تو دوبارہ پہلی والی کیفیت ظاہر ہوئی۔ تو اس برادر کی نحوست اس برادر کے برابر ہوگئی۔ لیکن وہ اس کے راز کو نہ سمجھ سکے کہ یہ ایک سرور کی سعادت سے ہے نہ کہ ان دو بھائیوں کی نحوست ہے۔ پس لوگ منتشر ہوگئے اور میرے دادا غمناک حالت میں واپس آگئے اور خجالت کے پردے آویزاں کئے۔جب رات ہوئی تو میں سو گئی اور عالم خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح شمعون اور کچھ حوارین میرے دادا کے قصر میں جمع ہوئے اور نور کا ایک منبر نصب کیا جو رفعت و بلندی میںآسمان سے باتیں کرتا تھا اور وہاں اس کو رکھا کہ جہاں میرے دادا نے تخت رکھا تھا۔ پس حضرت رسالت پناہ ؐ اپنے وصی و داماد علی ابن ابی طالبؑ کچھ افراد ائمہؑ اور اپنے فرزندوں کے ساتھ آئے اور اس قصر کو اپنے قدوم میمنت سے منور فرمایا۔ پس حضرت مسیح بقدوم ادب از روئے تعظیم و اجلال حضر ت خاتم الانبیاؐ کے استقبال کے لئے آگے بڑھے اور اپنے ہاتھ آنجنابؐ کی گردن میں ڈال دیں۔ تو حضرت رسالت پناہؐ نے فرمایا: اے روح اﷲ ہم اس لئے آئے ہیں کہ ملیکہ آپ کے وصی شمعون کی بیٹی کی اپنے فرزند سعادت مند کے لئے خواستگاری کریں اور آپؐ نے اشارہ کیا ماہ امامت و خلافت امام حسن عسکری کی طرف، جو فرزند ہیں۔ اس بزرگوار کے جن کا خط تو نے مجھے دیا ہے۔ پس حضرتؐ نے حضرت شمعون کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ دونوں جہانوں کے شرف و بزرگی نے تیرا رخ کیا ہے۔ اپنے رحم کو رحم آلِ محمدؐ کے ساتھ پیوند کردے۔ پس شمعون نے عرض کیا کہ میں نے کر دیا۔ حضرت رسول اکرمؐ نے خطبۂ نکاح انشاء کیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ مل کر میرا عقد حضرت امام حسن عسکری ؑ کے ساتھ کر دیا حضرت رسولؐ اور فرزندان رسولؑ حواریوں کے ساتھ گواہ ہوئے۔ جب میں اس خواب سعادت مآب سے بیدار ہوئی تو قتل کے خوف سے میں نے وہ خواب اپنے دادا سے بیان نہ کیا اور اس خزینہ کو اپنے سینہ میں پنہاں رکھا اور اس خورشید فلک امامت کی محبت کی آگ میرے سینے میں روز بروز شعلہ زن ہوتی رہی اور سرمایۂ صبر و قرار میرا بادفنا کے حوالے ہوگیا۔ یہاں تک کہ کھانا پینا میرے لیے حرام ہوگیا ہر روز میرا چہرہ اور بدن زرد و لاغر ہوتا گیا اور چھپے ہوئے عشق کے آثار آشکار ہونے لگے۔ پس شہروں میں کوئی ایسا طبیب نہ تھا کہ جسے میرے دادا نے علاج کے لیے نہ بلایا ہو اور اس سے میرا علاج نہ پوچھا ہو، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جب وہ میرے علاج سے مایوس ہوا تو ایک دن مجھ سے کہنے لگا کہ نور چشم تیرے دل میں دنیا کی کوئی خواہش ہے جسے میں عمل میں لاؤں۔ جب میں نے کہا: دادا جان میں گشائش کے دروازے اپنے اوپر بند پاتی ہوں مگر یہ کہ آزار و تکلیف ان مسلمان قیدیوں سے جو آپ کی قید میںہیں، ان کی زنجیریں، بیڑیاں کھول دیں اور انہیں آزاد کردیں تو مجھے امید ہے کہ جناب مسیحؑ اور ان کی والدہ مجھے عافیت و صحت بخشیں گے۔
انھوں نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کہا تو میں نے اپنی جانب سے صحتیاب ہونے کا اظہار کیا۔ جب تھوڑا سا کھانا کھایا تو وہ خوشحال و شاد ہوا اور اب مسلمان قیدیوں کی عزت کرنے لگا۔ پس چودہ راتوں کے بعد میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ عالمین کی عورتوں میں سے بہترین عورت فاطمہ ؑمجھے دیکھنے کے لئے تشریف لائیں۔ اور جناب مریم ایک ہزار حوران جنت کے ساتھ ان کی خدمت میں نکلیں، پس جناب مریم نے مجھے کہا کہ یہ خاتون بہترین خواتین اور تیرے شوہرحسن عسکری ؑ کی جدہ ماجدہ ہیں پس میں ان کے دامن سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔ اور شکایت کی کہ امام حسن ؑ نے مجھ پر جفا کی ہے اور مجھے دیکھنے سے انکار کرتے ہیں۔
پس آپ نے فرمایا کہ کس طرح میر ابیٹا تجھے دیکھنے آئے، تو خدا کے ساتھ شریک قرار دیتی ہے اور عیسائی مذ ہب کی پیروکار ہے اور میری بہن مریم بنت عمران خدا کی بارگاہ میں بیزاری چاہتی ہیں تیرے دین و مذہب سے، اگر تیرا دل چاہتا ہے کہ خدا و مریم تجھ سے خو ش ہو اور امام حسن عسکری ؑ تجھے ملنے اور دیکھنے آئیں تو پھر کہہ:
اشھد ان لا الہ الا اﷲ و اشھد ان محمدا رسول اﷲ میں نے یہ دو طیب اور پاک کلمات کہے تو جناب سیدۃ النسا نے مجھے سینے سے لگایا اور میری دلداری فرمائی اور فرمایا کہ اب میرے بیٹے کے آنے کی منتظر رہ کہ میں اسے تیرے پاس بھیجوں گی۔ پس میں جب بیدار ہوئی تو کلمہ شہادتین کو اپنا ورد زبان بنایا اور حضرت کی ملاقات کا انتظا ر کرنے لگی۔ آئندہ رات ہوئی تو آپ کا خورشید جمال طالع ہوا۔ میں نے کہا کہ اے میرے محبوب میرے دل کو اپنی محبت میں قید کرنے کے بعد کیوں حسن و جمال کی جدائی میں مجھ پر اتنی جفا کرتے ہیں۔ فرمایا: میرے آنے میں تاخیر کاسبب سوائے اس کے اور کوئی نہ تھا کہ تو مشرک تھی۔ اب تو مسلمان ہوگئی ہے۔ تو میں ہر رات تیر ے پاس رہوں گا۔ یہاں تک کہ خدا وند عالم مجھے اور تجھے ظاہراً ایک جگہ اکٹھا کردے اور اس ہجر جدائی کو وصال میں تبدیل کرے پس اس رات سے لے کر اب تک ایک را ت بھی ایسی نہیں گزری کہ میرے درد ہجران اور جدائی کا تربت وصال سے مدارا فرماتے رہے۔
بشیر بن سلیمان نے کہا کہ تو قیدیوں میں کیسے آ گئی۔ کہنے لگی، ایک رات مجھے امام حسن عسکریؑ نے بتایا کہ فلاں روز تیرا دادا ایک لشکر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بھیجے گا، پھر اس کے پیچھے خود بھی جائے گا تو خود کو کنیزوں اور خدمتگاروں میں اس طرح داخل کرلینا کہ وہ پہچان نہ سکے اور اپنے دادا کے پیچھے چلی آنا اور فلاں راستہ سے جانا۔ میں نے ایسا ہی کیا تو مسلمانوں کے لشکر کا طلایہ (گشتی دستہ) ہمارے قریب سے گزرا اور وہ ہمیں قید کر کے لے گیا اور میرا آخری معاملہ وہ تھا جو تونے دیکھا اور اب تک سوائے تیرے کسی کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں بادشاہِ روم کی بیٹی ہوں اور اس بوڑھے شخص نے کہ جس کے مال غنیمت کے حصے میں آئی تھی مجھ سے میرا نام پوچھا تو میں نے کہا کہ میرا نام نرجس ہے۔ وہ کہنے لگا کہ یہ کنیزوں والا نام ہے۔ بشیر نے کہا کہ یہ تعجب ہے کہ تم اہل فرنگ ( اہل یورپ) ہونے کے باوجود عربی زبان بہت اچھی جانتی ہو۔ وہ کہنے لگی چونکہ میرے دادا کو مجھ سے بہت محبت تھی، لہذا وہ چاہتا تھا کہ مجھے آداب حسنہ سکھائے۔ اس بنا پر اس نے ایک مترجم عورت جو انگریزی اور عربی زبانیں جانتی تھی، مقرر کی جو ہر صبح و شام آتی اور مجھے عربی زبان سکھاتی تھی۔ یہاں تک کہ میری زبان پر یہ لغت روانی سے جاری ہوگئی۔ بشیر کہتا ہے کہ میں اسے سامرا لے گیا اور امام علی نقیؑ کی خدمت میں پہنچا دیا۔ حضرت نے اس کنیز سے فرمایا کہ کس طرح خداوندعالم نے تجھے دین اسلام کی عزت اور دین نصاریٰ کی ذلت اور محمدؐ و آلِ محمد ؑکا شرف و بزرگی دکھایا ؟ تو وہ کہنے لگی: اے فرزند رسولؑ میں وہ چیز کس طرح آپؑ کی خدمت میں بیان کروں کہ جس کو آپؑ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
پس حضرت نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تجھے عزت بخشوں اور تیرا احترام رکھوں۔ کون سی چیز تیرے نزدیک بہتر ہے۔ آیا تجھے دس ہزار اشرفی دوں یا مشرف ابدی کی بشارت دوں۔ اس نے کہا کہ میں مشرف ابدی کی بشارت چاہتی ہوں اور مال کی مجھے ضرورت نہیں۔ حضرت نے فرمایا: تجھے بشارت ہو ایسے فرزند کی جو مشرق و مغرب عالم کا بادشاہ ہوگا اور زمین کو عدل انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے پر ہوگئی تھی۔ وہ کہنے لگی کہ یہ فرزند کس سے عالم وجود میں آئے گا۔ فرمایا: اس شخص سے کہ جس کے لیے حضرت رسالت مآبؐ نے خواستگاری کی تھی پھر آپؐ، حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے جانشین نے جس کے ساتھ تیرا عقد کیا تھا۔ اس نے کہا کہ آپ کے فرزند حضرت امام حسن عسکریؑ سے۔
آپؑ نے فرمایا: کیا اسے پہچانتی ہو کہنے لگی کہ جس رات سے میں بہترین خواتین کے ہاتھ پر اسلام لائی ہوں۔ کوئی ایسی رات نہیں گزری کہ آپؑ مجھے دیکھنے کے لیے نہ آئے ہوں۔ پس حضرت نے کافور غلام کو بلایا اور فرمایا: جاؤ میری بہن حکیمہ خاتون کو بلا لاؤ۔ جب جناب حکیمہ آئیں تو حضرت نے فرمایا: یہ وہ کنیز ہے کہ جس کے متعلق میں کہتا تھا۔ حکیمہ خاتون نے اسے بغل گیر کیا اور بہت نوازش و شفقت فرمائی اور خوش ہوئیں۔ پس حضرت نے فرمایا: اے رسولؐ کی بیٹی اسے اپنے گھر لے جاؤ اور واجبات مستحبات سکھاؤ کہ یہی حسن عسکریؑ کی بیوی اور صاحبِ الامرؑ کی ماں ہے۔
کلینی، ابن بابویہ، سید مرتضی اور ان کے علاوہ باقی ذی قدر محدثین نے سندہائے معتبر کے ساتھ حکیمہ خاتون سے روایت کی ہے کہ ایک دن امام حسن عسکریؑ میرے گھر تشریف لائے اور انہوں نے تیز نگاہ نرجس خاتون کی طرف کی۔ پس میں نے عرض کی کہ اگر آپ کو اس کی خواہش ہو تو اسے آپ کی خدمت میں بھیج دوں۔ فرمایا: اے پھوپی جان میرا تیز نظر سے اس کی طرف دیکھنا تعجب کی بنا پر ہے کیونکہ عنقریب خداوندعالم اس سے ایسا فرزند پیدا کرے گا جو عالم کو عدالت سے بھردے گا بعد اس کے کہ وہ ظلم و جور سے پر ہوگا۔ میں نے کہا: اسے آپ کے پاس بھیج دوں۔ فرمایا: میرے والد گرامی سے اجازت لے لیں۔ حکیمہ خاتون کہتی ہیں کہ میں نے کپڑے پہنے اور اپنے بھائی امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں ان کے گھر گئی۔ جب میں سلام کر کے بیٹھ گئی تو بغیر اس کے کہ میں کوئی بات کرتی حضرتؑ نے ابتداً فرمایا: اے حکیمہ نرجس کو میرے بیٹے کے پاس بھیج دو۔ غرض میں نے کہا: اے میرے سید و سردار میں اسی لیے حاضر ہوئی تھی کہ اس معاملہ میں آپ سے اجازت لوں۔
آپ نے فرمایا: اے بزرگوار صاحب برکت ! خدا چاہتا ہے کہ تمہیں اس ثواب میں شریک کرے اور خیر و سعادت کا عظیم حصہ تمہیں کرامت ہوئے۔ تبھی تو تمہیں اس جیسے معاملے میں واسطہ قرار دیا ہے۔ حکیمہ کہتی ہیں کہ میں فوراً اپنے گھر گئی اور اس معدن فتوت و سعادت کے زفاف کا اہتمام اپنے گھر میں کرنے لگی۔ چند دنوں کے بعد اس سعد اکبر کو زہرہ منظر کے ساتھ خورشید انور یعنی ان کے والد مطہر کے گھر لے گئی۔ کچھ دنوں کے بعد اس آفتاب مطلع امامت نے عالم بقا کی جانب راہسپار ہوئے اور ماہ برج خلافت امام حسن عسکریؑ امامت میں ان کے جانشین ہوئے اور میں ہمیشہ ان کے والد کے زمانے کی مقررہ عادت کے ماتحت اس امام البشر کی خدمت میں حاضری دیتی رہی۔ پس ایک دن نرجس خاتون میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ اے خاتون معظم اپنے پاؤں آگے کیجیے تاکہ میں آپ کے پاؤں سے جوتا اتاروں میں نے کہا کہ اب تم خاتون اور میری مالکن ہو۔ میں اب کبھی اپنے پاؤں سے جوتا نہیں اتارنے دوں گی اور نہ کوئی خدمت کرنے دوں گی بلکہ میں تمہاری خدمت کروں گی اور اس کو اپنے اوپر صفت و احسان سمجھوں گی جب امام حسن عسکریؑ نے میری بات سنی تو فرمایا کہ اے پھوپھی جان خدا آپؑ کو جزائے خیر دے۔
حکیمہ بیان کرتی ہیں کہ میں نرجس خاتون کے پاس گئی رات کو وہیں رہی اور افطار کر کے نرجس خاتون کے قریب لیٹ گئی اور ہر گھڑی اس کی خبر گیری کرتی رہی اور وہ اپنی جگہ سوئی رہی اور ہر لحظہ میری حالت بڑھتی جاتی تھی اور اس رات باقی راتوں کی نسبت زیادہ میں نماز اور تہجد کے لیے اٹھی اور نماز تہجد ادا کی۔ جب میں نماز وتر میں پہنچی تو نرجس بیدار ہوئی اور وضو کر کے نماز تہجد بجالائی۔ جب میں نے دیکھا تو صبح کاذب طلوع کر چکی تھی۔ اس وقت میں نے نرجس میں کچھ اضطراب کا مشاہدہ کیا۔ پس میں نے اسے سینے سے لگایا اور اس پر اسمائے خدا پڑھے۔ حضرت امامؑ نے بھی آواز دے کر حکم دیا کہ سورئہ انا انزلناہ کی تلاوت کرو پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تیرا کیا حال ہے۔ وہ کہنے لگی کہ مجھ میں اس کا اثر ظاہر ہوچکا ہے۔ پس میں نے سورئہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر پڑھنا شروع کی تو میں نے سنا کہ وہ بچہ بھی شکم مادر میں میرے ساتھ پڑھتا ہے اور اس نے مجھ کو سلام کہا تو میں ڈر گئی۔ حضرت امام حسن عسکریؑ نے آواز دی کہ قدرت خدا پر تعجب نہ کرو کیونکہ وہ ہمارے بچوں کو حکمت سے گویا کرتا ہے اور ہمیں بڑے ہوتے ہی زمین میں اپنی حجت قرار دیتا ہے۔ پس امام حسنؑ کی گفتگو ختم ہوئی تو نرجس میری آنکھوں سے غائب ہوگئی۔ گویا میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوگیا۔ پس میں فریاد کرتی ہوئی دوڑ کر امام حسنؑ کے پاس گئی۔ حضرت نے فرمایا: اے پھوپھی واپس جاؤ۔ اسے اپنی جگہ پر پاؤگی۔ جب میں واپس ہوئی تو پردہ ہٹ گیا تھا اور نرجس میں ایسا نور دیکھا کہ جس نے میری آنکھوں کو خیرہ کر دیا اور حضرت صاحب الامر کو دیکھا کہ وہ قبلہ رخ سجدہ میں زانو کے بل پڑے ہیں اور اپنی شہادت کی انگلیاں آسمان کی طرف بلند کی ہوئی ہیں اور کہہ رہے ہیں:
اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و ان جدی رسولؐ اللّٰہ و ان ابی امیر المومنینؑ وصی رسول اللّٰہ۔
پھر آپ نے ایک ایک امام کا نام لیا۔ یہاں تک کہ اپنے نام پر پہنچے تو فرمایا:
اللھم انجزلی وعدی و اتمم لی امری و ثبت و طاتی و املاء الارض بی عدلا و قسطا۔
خداوندا جو نصرت کا وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے۔ اسے پورا فرما اور میرے امر خلافت و امامت کو تمام کر اور میرا استیلا اور دشمنوں سے انتقام لینا ثابت کر دے اور میرے ذریعہ سے زمین کو عدل و انصاف سے پر فرما۔
دوسری روایت میں ہے کہ جب صاحبِ الامرؑ پیدا ہوئے تو آپ سے ایسا نور ساطع ہوا جو آفاق آسمان پر پھیل گیا اور میں نے سفید پرندے دیکھے جو آسمان سے نیچے آئے اور وہ اپنے پر و بال حضرت کے سر و چہرہ و بدن سے ملتے اور پرواز کر جاتے تھے۔ حضرت امام حسن عسکریؑ نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اے پھوپھی جان میرے فرزند کو میرے پاس لائیں جب میں نے انہیں دیکھا تو انہیں ختنہ شدہ، ناف بریدہ اور پاک و پاکیزہ پایا۔ ان کے دائیں بازو پر لکھا ہوا تھا:
جاء الحق و ذھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔
حق آیا اور باطل محو ہوگیا اور بیشک باطل محو ہونے والا ہے اور اس کے لیے بقا و ثبات نہیں۔ پس حکیمہ کہتی ہیں کہ جب میں اس فرزند ارجمند کو حضرت کے پاس لے کر گئی تو اس کی نگاہ اپنے باپ پر پڑی تو سلام کیا۔ پس حضرت نے اس کو اٹھایا اور اپنی زبان مبارک اس کی دونوں آنکھوں اور اس کے منھ اور دونوں کانوں پر پھیری اور اسے اپنے ہاتھ کی بائیں ہتھیلی پر بٹھا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے بیٹا قدرت الٰہی سے بات کرو۔ پس صاحبِ الامرؑ نے اعوذ باﷲ کے بعد کہا:
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمۃ و نجعلھم الوارثین و نمکن لھم فی الارض و نریٰ فرعون و ھامان و جنودھما منھم ما کانوا یحذرون۔
یہ آیہ شریفہ حدیث معتبرہ کی بنا پر حضرتؑ اور آپؑ کے آبائے کرام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا ظاہری ترجمہ یہ ہے:
ہم منت و احسان رکھنا چاہتے ہیں ان لوگوں پر کہ جنہیں ستمگروں نے زمین پر کمزور کر دیا ہے اور ہم انہیں دین کا پیشوا قرار دیتے ہیں اور انہیں زمین کا وارث بناتے ہیں اور انہیں زمین میں تمکین اور غلبہ بخشتے ہیں اور ہم فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان ائمہ سے وہ چیز دکھائیں گے جس سے وہ ڈرتے تھے۔
پھر حضرت صاحب الامر صلوات اﷲ علیہ نے حضرت رسالت مآبؐ، امیر المومنینؑ اور اپنے والد گرامی تک تمام آئمہ پر صلوات بھیجی۔ پس اس وقت بہت سے پرندے آپؑ کے سرہانے جمع ہوگئے تو آپ نے ان میں سے ایک پرندے کو آواز دی کہ اس بچہ کو اٹھالو اور اس بچہ کی اچھی طرح حفاظت کرنا اور چالیس دن میں ایک مرتبہ ہمارے پاس لے آنا۔ وہ پرندے حضرت کو لے کر آسمان کی طرف پرواز کر گیا اور باقی پرندوں نے بھی اس کے پیچھے پرواز کی۔ پس حضرت امام حسن العسکری علیہ السلام نے فرمایا کہ تجھے اس کے سپرد کرتا ہوں کہ موسیٰ کی والدہ نے حضرت موسیٰ ؑکو جس کے سپرد کیا تھا۔ پس نرجس خاتون رونے لگیں۔ تو آپؑ نے فرمایا: خاموش رہو۔ گریہ نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے علاوہ کسی کے پستان سے دودھ نہیں پئے گا اور بہت جلد اسے تیرے پاس لوٹا دیں گے کہ جس طرح کہ موسیٰ ؑکو مادر موسیٰ ؑ کی طرف پلٹا دیا تھا۔ جس طرح کہ خدا فرماتا ہے کہ پس میں نے موسیٰ ؑکو اس کی ماں کی طرف پلٹا دیا تاکہ اس کی ماں کی آنکھیں روشن ہوں۔ پس حکیمہ نے پوچھا کہ یہ پرندہ کون تھا کہ صاحبِ الامرؑ کو آپؑ نے جس کے سپرد کیا تھا۔ فرمایا کہ وہ روح القدس ہے جو کہ آئمہؑ کے ساتھ موکل ہے جو انہیں خدا کی طرف سے مدد کرتا ہے اور خطا سے ان کی نگاہ داری کرتا ہے اور انہیں علم کے ساتھ زینت دیتا ہے۔ حکیمہ کہتی ہیں کہ جب چالیس دن گزر گئے تو میں حضرت کی خدمت میں گئی۔ جب وہاں پہنچی تو دیکھا کہ ایک بچہ گھر کے اندر چل پھر رہا ہے۔ تو میں نے عرض کی: اے میرے سید و سردار یہ دو سال کا بچہ کس کا ہے۔ حضرتؑ نے تبسم کیا اور فرمایا کہ اولاد انبیا و اوصیا جب امام ہوں تو وہ دوسرے بچوں سے مختلف نشوونما پاتے ہیں اور وہ ایک ماہ کا بچہ عام ایک سالہ بچوں کے برابر ہوتا ہے اور وہ شکم مادر میں بات کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی شیرخوارگی کے زمانے میں ملائکہ ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور ہر صبح و شام ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
پس حکیمہ فرماتی ہیں کہ امام حسن عسکری ؑ کے زمانے میں چالیس دن میں ایک مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتی یہاں تک کہ میں حضرت کی وفات سے چند دن پہلے ان سے ملاقات کی تو انھیں مکمل مرد کی شکل و صورت میں دیکھ کر نہ پہچان سکی اور اپنے بھتیجے سے عرض کیا کہ یہ شخص کون ہے۔ آ پ نے مجھے فرمایا کہ میں اس کے پا س بیٹھوں۔ اس کے بعد فرمایا: یہ نرجس کا بیٹا ہے اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے اور میں عنقریب تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں۔ تم اس کی بات کو قبول کرنا اور اس کے حکم کی اطاعت کرنا۔ پس چند دنوں کے بعد امام حسن عسکریؑ نے عالم قدس کی طرف کوچ کیا اور اب میں ہر صبح و شام حضرت صاحب الامر سے ملاقات کرتی ہوں اور جس چیز کا میں ان سے سوال کرتی ہوں۔ وہ مجھے اس کی خبر دیتے ہیں اور کبھی تو میں سوال کرنے کاارادہ کرتی ہوں کہ آپ ؑمجھے سوال کرنے سے پہلے جواب دے دیتے ہیں۔
دوسری روایت میں وارد ہوا ہے۔ حکیمہ خاتون کہتی ہیں کہ میں حضرت صاحب الامر کی ولادت کے تین دن بعد ان کی مشتاق ہوئی تو میں امام حسن عسکری ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرے مولاکہاں ہیں۔ فرمایا: میں نے اسے اس کے سپرد کیا ہے جو ہماری اور تمہاری نسبت اس کا زیادہ حقدار ہے۔ یعنی جب ساتواں دن ہوا تو پھر ہمارے پاس آنا۔ اور جب میں ساتویں دن گئی تو میں نے ایک گہوارہ دیکھا۔ میں دوڑ کر گہوارے کے پاس گئی۔ تو اپنے مولا کو چودھویں کے چاند کی طرح دیکھا۔ آپ نے تبسم فرمایا۔ پس حضرت ؑ نے آواز دی کہ میرے بیٹے کو میرے پاس لے آ و۔ جب میں انھیں آپ کے پاس لے گئی تو آ پ ؑنے اپنی زبان مبارک ان کے منہ میںپھیری اور فرمایا: اے بیٹا بات کرو۔
حضرت صاحب الامر نے شہادتین پڑھی اور رسالت ماب ؐ اور ائمہ ؑ پر صلوات پڑھی اور بسم اﷲ پڑھ کر گزشتہ آیت کی تلاوت فرمائی۔ پس اما م حسن عسکری ؑ نے فرمایا کہ پڑ ھو اے بیٹا وہ کچھ جو خدا وند عالم نے اپنے انبیا پرنازل فرمایا ہے۔ آپؑ نے صحف آ دم سے شروع کیا اور زبان سریانی میں اسے پڑھا اور کتاب ادریس ؑ و کتاب نوح ؑ و کتاب ہودؑ و کتاب صالح ؑ و صحف ابراہیم ؑ و تورات موسیٰ ؑو زبور داودؑ و انجیل عیسیٰ ؑ اور میرے جد مصطفیٰ ؐ کا قرآن پڑھا، پھر انبیا کے واقعات بیان کیے۔
پھر امام حسن عسکری ؑ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اس امت کا مہدی عطا فرمایا اور ایک فر شتہ بھیجا تاکہ اسے سراپردہ عرش رحمانی میں لے جائیں تو خدا وند عالم نے اسے خطاب کیا کہ مرحبا تجھے اے میرے بندے کہ تجھے میں نے اپنے دین کی مددا ور اپنے امر شریعت کے اظہار کے لئے خلق کیا ہے۔ تو میرے بندوں میں سے ہدایت یافتہ ہے۔ میں اپنی ذات کی قسم کھا تا ہوں کہ تیری اطاعت پر لوگوں کو ثواب دوں گا۔ اور تیری نافرمانی پر عتاب کروں گا۔ اور تیری شفاعت و ہدایت کی وجہ سے اپنے بندوں کو بخشوں گا اور تیری مخالفت کی بنا پر انہیں سزا دوں گا۔ اے دو فرشتو! اسے اس کے باپ کے پاس لے جاو اور میری طرف سے اسے سلام پہنچانا اور کہنا کہ یہ میری حفیظ اور حمایت کی پناہ میں ہے۔ میں دشمنوں کے شر سے اس کی حفاظت کروں گا۔ یہاں تک کہ میں اسے ظاہر کرکے حق کو اس کے ذریعہ برپا اور باطل کو اس کے ذریعے سر نگوں کروں گا۔ پس اس وقت دین حق میرے لئے خالص ہو گا۔
علامہ حائری لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ کو جبرئیل پرورش کے لئے اٹھا کر لے گئے۔
کتاب شواہد النبوت اور وفیات الاعیان اور روضتہ الاحباب میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو مختون اور ناف بریدہ تھے۔ اور آپ کے داہنے بازو پر آ یت منقوش تھی:
جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
یعنی حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کے قابل تھا۔ یہ قدرتی طور پر بحر متقارب کے دو مصرع بن گئے ہیں۔ حضرت نسیم امروہوی نے اس پر کیا خوب تضمین کی ہے وہ لکھتے ہیں:
چشم و چرا غ دیدہ نرجس
عین خدا کی آنکھ کا تارا

بدر کمال نیمہ شعبان !!!
چودھواں اختراوج بقا کا

حامی ملت ما حی بدعت
کفر مٹانے خلق میں آیا

وقت ولادت ماشا اﷲ
قرآن صورت دیکھ کے بولا

جا الحق و زھق الباطل
ان الباطل کان زھوقا