صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام مہدی ؑ کی غیبت اور دلائل


بادشاہِ وقت خلیفہ معتمد بن متوکل عباسی جو اپنے آباؤ اجداد کی طرح ظلم و ستم کا خوگر اور آلِ محمدؐ کا جانی دشمن تھا۔ اس کے کانوں میں مہدی کی ولادت کی بھنک پڑ چکی تھی۔ اس نے حضرت امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد تکفین و تدفین سے پہلے علامہ مجلسی کے قول کے مطابق حضرت کے گھر پر پولیس کا چھاپہ ڈلوایا۔ اس کے کانوں میں مہدی کی ولادت کی اڑتی ہوئی خبر پہنچ چکی تھی۔ لہذا اس نے چاہا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کرائے لیکن امام مہدی علیہ السلام خدا کے حکم سے سرداب میں جا کر غائب ہوچکے تھے۔ جیسا کہ شواہد النبوۃ، نور الابصار، دمعہ ساکبہ، روضۃ الشھداء، مناقب الائمہ، انوار الحسینیہ وغیرہ سے مستبظ ہوتا ہے۔ حکم خدا کے مطابق غیبت میں تشریف لے جانے کی وجہ سے اس کو دستیاب نہ ہوسکے۔ جب آپؑ دستیاب نہ ہوسکے تو اس نے حضرت امام حسن عسکریؑ کی تمام بیویوں کو گرفتار کرالیا۔ ساتھ ہی اس نے یہ حکم بھی دیا کہ آیا ان میں سے کوئی حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر کوئی حاملہ ہو تو اس کا حمل ضائع کردیا جائے کیونکہ وہ حضرت سرور کائنات صلعم کی پیشن گوئی سے خائف تھا۔ حضورؐ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں میرا ایک فرزند ہوگا جس کا نام مہدی ہوگا جو کہ کائنات عالم کے انقلاب کا ضامن ہوگا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ وہ مہدی امام حسن عسکریؑ کا فرزند ہی ہوگا۔ لہذا اس نے آپ کی تلاش اور آپ کے قتل کی پوری کوشش کی۔
امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد جب معتمد خلیفہ عباسی نے آپ کے قتل کرنے کے لیے آدمی بھیجے تو آپ ؑسرداب ’’سرمن رائے‘‘ میں حکم خدا کے مطابق غیبت میں تشریف لے گئے۔ اہل سنت کے بعض علما کا بھی اسی پر اتفاق ہے۔ چنانچہ ملا جامی نے شواہد النبوۃ میں امام عبدالوہاب شعرانی نے لواقع الانوار والیواقیت والجواہر میں شیخ احمد محی الدین ابن عربی نے فتوحات مکیۃ، خواجہ پارسا نے فصل الخطاب میں، عبدالحق محدث دہلوی نے رسالہ آئمہ طاہرین میں، جمال الدین محدث نے روضۃ الاحباب میں، ابوعبداﷲ شامی صاحب کفایت المطالب نے کتاب التبیان فی اخبار صاحب الزمان میں، سبط جوزی نے تذکرۃ الخواص الامۃ میں، ابن صباغ نور الدین علی مالکی نے فصول المہمہ میں، کمال الدین ابن طلحہ نے مطالب السئول میں، شاہ ولی اﷲ نے فضل المبین میں، شیخ سلیمان خنفی نے ینابع المودۃ میں اور بعض دیگر علما نے بھی اس طرح لکھا ہے اور جو لوگ آنحضرت کے طول عمر میں تعجب کر کے انکار کرتے ہیں۔ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کی قدرت سے دور نہیں ہے جس نے حضرت آدمؑ کو بغیر ماں باپ کے اور حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ تمام اہل اسلام نے حضرت خضر کو اب تک زندہ مانا ہوا ہے، ادریس بہشت میں۔ حضرت عیسیٰ کو آسمان میں اب تک زندہ مانے جاتے ہیں۔ لہذا اگر خدائے تعالیٰ نے آلِ محمدؐ میں سے ایک شخص کو طول عمر عنایت کی تو کیا تعجب ہے؟ بہرحال اہل اسلام کو دجال کے موجود ہونے اور قیامت کے قریب ظہور ہونے سے بھی انکار نہیں ہے۔ مولوی امیر علی لکھتے ہیں کہ خاندان نبوۃ کے ان اماموں کے حالات انتہائی دردناک ہیں۔ ظالم متوکل حضرت امام حسن عسکریؑ کے والد ماجد علی نقیؑ کو مدینہ سے سامرہ زبردستی بلایا تھا اور وہاں انہیں ان کی وفات تک نظر بند رکھا۔ آخر میں زہر سے شہید کر دیا۔ اسی طرح متوکل کے جانشینوں نے بدگمانی اور حسد کے مارے حضرت امام حسن عسکریؑ کو قید رکھا۔ ان کے کمسن صاحبزادے مہدیؑ جن کی عمر اپنے والد کے وفات کے وقت تقریباً پانچ سال کی تھی قتل کیے جانے کے خوف سے اپنے گھر کے قریب ایک غار میں چھپ گئے اور غائب ہوگئے (یعنی خدا کے حکم سے غیبت میں تشریف لے گئے)۔ علامہ ابن حجر مکی کا ارشاد ہے کہ امام مہدی سرداب میں غائب ہوئے ہیں:
فلم یعرف این ذھب
پھر معلوم نہیں کہاں تشریف لے گئے۔

غیبت امام مہدی ؑ پر علمائے اہلسنت کا اجماع
جمہور علماء اسلام امام مہدیؑ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس میں شیعہ اور سنی یا نوربخشی کا سوال نہیں۔ ہر فرقہ کے علما یہ مانتے ہیں کہ آپ پیدا ہوچکے ہیں اور موجود ہیں۔ ہم علمائے اہلسنت کے اسماء مع ان کی کتابوں اور مختصر اقوال کے درج کرتے ہیں:
(۱) علامہ محمد بن طلحہ شافعی کتاب مطالی السوال میں فرماتے ہیں کہ امام مہدیؑ سامرہ میں پیدا ہوئے ہیں جو بغداد سے ۲۰ فرسخ کے فاصلہ پر ہے۔
(۲) علامہ علی بن محمد صباغ مالکی کتاب فصول المہمہ میں لکھتے ہیں کہ امام حسن عسکری ؑ گیارہویں امام نے اپنے بیٹے امام مہدی ؑ کی ولادت بادشاہ وقت کے خوف سے پوشیدہ رکھی۔
(۳) علامہ شیخ عبداﷲ بن احمد خشاب کی کتاب تاریخ موالید میں ہے کہ امام مہدی ؑ کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ آخری زمانے میں ظہور کریں گے۔
(۴) علامہ محی الدین ابن عربی حنبلی کی کتاب فتوحات میں ہے کہ جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو امام مہدی ؑ ظہور کریں گے۔
(۵) علامہ شیخ عبد الوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہر میں ہے کہ امام مہدی ؑ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اب اس وقت یعنی ۹۵۸ہجری میں ان کی عمر ۷۰۳ سال ہے۔ یہی مضمون علامہ بدخشانی کی کتاب مفتاح النجاۃ میں بھی ہے۔
(۶) علامہ عبدالرحمن جامی حنفی کی کتاب شواہد النبوۃ میں ہے کہ امام مہدی ؑ سامرہ میںپیدا ہوئے اور ان کی ولادت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ وہ امام حسن عسکری ؑ کی موجودگی میں غائب ہو گئے ہیں۔ اسی کتاب میں ولادت کا پورا واقعہ حکیمہ خاتون کی زبانی مندرج ہے۔
(۷) علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب مناقب الائمہ میں ہے کہ امام مہدی ؑ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے ہیں۔ امام حسن عسکری ؑ نے ان کے کان میں اذان اور اقامت کہی۔ اور تھوڑے عرصے کے بعد آپ نے فرمایا کہ وہ اس مالک کے سپرد ہوگئے جن کے پاس حضرت موسیٰ بچپنے میں تھے۔
(۸) علامہ جمال الدین محدث کی کتاب روضتہ الاحباب میںہے کہ امام مہدی ؑ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے اور زمانہ معتمد عباسی میں بمقام سرمن رائے ازنظر رعایا غائب شد۔ لوگوںکی نظر سے سرداب میں غائب ہوگئے۔
(۹) علامہ عبدالرحمن صوفی کی کتاب مرأۃ الاسرار میں ہے کہ آپ بطن نرجس سے ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔
(۱۰) علامہ شہاب الدین دولت آبادی صاحب تفسیر بحر مواج کی کتاب ہدایت السعدا میں ہے کہ خلافت رسول حضرت علیؑ کے واسطے سے امام مہدی تک پہنچی۔ آپ ہی آخری امام ہیں۔
(۱۱) علامہ نصر بن علی جہمنی کی کتاب موالید آئمہ میں ہے کہ امام مہدی ؑنرجس خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔
(۱۲) مولانا ملاعلی قاری کی کتاب مرقات شرح مشکوۃ میں ہے کہ امام مہدی بارہویں امام ہیں۔ شیعوں کا یہ کہنا غلط ہے کہ اہل سنت اہل بیت کے دشمن ہیں۔
(۱۳) علامہ جواد ساباطی کی کتاب براہین ساباطیہ میں ہے کہ امام مہدی اولاد فاطمہ سے ہیں۔ وہ بقولے ۲۵۵ھ میں پیدا ہو کر ایک عرصے کے بعد غائب ہوگئے ہیں۔
(۱۴) علامہ شیخ حسن عراقی جن کی تعریف کتاب الواقع میں ہے کہ انہوں نے امام مہدی سے ملاقات کی ہے۔
(۱۵) علامہ علی خواص جن کے متعلق شعرانی نے الیواقیت میں لکھا ہے کہ انہوں نے امام مہدی ؑسے ملاقات کی ہے۔
(۱۶) علامہ شیخ سعد الدین کا کہنا ہے کہ امام مہدی پیدا ہو کر غائب ہوگئے ہیں۔ دور آخر زمانہ آشکار گردو اور وہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوں گے جیسا کہ کتاب مقصد اقصیٰ میں ہے۔
(۱۷) علامہ علی اکبر ابن سعد اﷲ کی کتاب مکاشفات میں ہے کہ آپ پیدا ہو کر قطب ہوگئے ہیں۔
(۱۸) علامہ احمد بلازری احادیث لکھتے ہیں کہ آپ پیدا ہو کر محجوب ہوگئے ہیں۔
(۱۹) علامہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کے رسالہ نوادر میں ہے کہ محمد بن حسن المہدی کے بارے میں شیعوں کا کہنا درست ہے۔
(۲۰) علامہ شمس الدین جزری نے بحوالہ مسلسلات بلازری اعتراف کیا ہے۔
(۲۱) علامہ علاالدولہ احمد سمنانی صاحب تاریخ خمیس در احوال نفس نفیس اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امام مہدی غیبت کے بعد ابدال پھر قطب ہوگئے۔
(۲۲) علامہ نوراﷲ کتاب بیان الاحسان میں لکھتے ہیں کہ امام مہدی تکمیل صفات کے لیے غائب ہوئے۔
(۲۳) علامہ ذہبی اپنی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں کہ امام مہدی ۲۵۶ھ میں پیدا ہو کر معدوم ہوگئے ہیں۔
(۲۴) علا ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں ہے کہ امام مہدی ؑپیدا ہو کر سرداب میں غائب ہوگئے ہیں۔
(۲۵) علامہ عصر کی کتاب وفیات الاعیان کی جلد ۲، ص ۴۵۱ میں ہے کہ امام مہدی کی عمر امام حسن عسکریؑ کی وفات کے وقت ۵ سال کی تھی۔ وہ سرداب میں غائب ہو کر پھر واپس نہیں ہوئے۔
(۲۶) علامہ سبط ابن جوزی کی کتاب تذکرۃ خواص الامہ کے ص ۲۰۴ میں ہے کہ آپ کا لقب القائم المنتظر الباقی ہے۔
(۲۷) علامہ عبیدا ﷲ امرتسری کی کتاب ارجح المطالب، صفحہ نمبر ۳۷۷ پ بحوالہ کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان مرقوم ہے کہ آپ اسی طرح زندہ باقی ہیں جس طرح عیسیٰ، خضر اور الیاس وغیرہم زندہ اور باقی ہیں۔
(۲۸) علامہ شیخ سلیمان قندوزی نے کتاب ینابیع المودۃ ص ۳۹۳ میں ذکر کیا ہے۔
(۲۹) علامہ ابن خشاب نے کتاب موالید اہل بیت میں ذکر کیا ہے۔
(۳۰) علامہ شبلنجی نے نور الابصار کے ص ۱۵۲ طبع مصر ۱۲۲۲ ھ میں بحوالہ کتاب البیان لکھا ہے کہ امام مہدی غائب ہونے کے بعد اب تک زندہ اور باقی ہیں اور ان کے وجود کے باقی اور زندہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ اسی طرح زندہ اور باقی ہیں جس طرح حضرت عیسیٰ حضرت خضر اور حضرت الیاس وغیرہ زندہ اور باقی ہیں۔ ان اﷲ والوں کے علاوہ دجال اور ابلیس بھی زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید، صحیح مسلم، تاریخ طبری وغیرہ سے ثابت ہے۔ لہذا لا امتناع فی بقائہ ان کے باقی اور زندہ ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ حلی کتاب کشف الظنون کے ص ۲۰۸ پر لکھتے ہیں کہ کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان ابو عبداﷲ محمد بن یوسف کنجی شافعی کی تصنیف ہے۔ علامہ فاضل روز بہان کی ابطال الباطل میں ہے کہ امام مہدی قائم و منتظر ہیں۔ وہ آفتاب کی مانند ظاہر ہو کر دنیا کی تاریکی ِ کفر کو زائل کردیں گے۔
(۳۱) علامہ علی متقی کی کتاب کنز العمال کی جلد ۷ کے ص ۱۱۴ میں ہے کہ آپ غائب ہیں۔ ظہور کر کے ۹ سال حکومت کریں گے۔
(۳۲) علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب در منثور، ج ۳، ص ۲۳ میں ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ ؑنازل ہوں گے۔
حضرت امام مہدیؑ کی غیبت کی وجہ
مذکورہ بالا تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ علماء اسلام کا اعتراف ثابت ہوچکا ہے کہ امام مہدیؑ کے متعلق جو عقائد اہل نور بخشیہ کے ہیں وہی اعتقاد منصف مزاج اور غیر متعصب اہل تسنن اور اہل تشیع کے علما کے بھی ہیں۔ قرآن کی آیتوں نے بھی مقصد اصلی کی تائید کی ہے
قال اللّٰہ تعالیٰ: الٓمٓ ذلک الکتب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یؤمنون بالغیب۔
حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان بالغیب سے مراد امام مہدی علیہ السلام ہیں۔ وہ لوگ نیک بخت ہیں جو حضرت امام مہدی ؑکی غیبت پر صبر کریں اور وہ سمجھ دار لوگ جو حضرت امام مہدی ؑکی غیبت کے باوجود ان کی حجت پر قائم رہیں۔ وہ لوگ مبارک باد کے قابل ہیں۔
اب رہی امام مہدیؑ کی غیبت میں تشریف لے جانے کی وجہ اور ضرورت، اس کے متعلق چند وجوہات درج ذیل ہیں:
(۱) خلاق عالم نے ہدایت خلق کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور کثیر التعداد میں اوصیا بھیجے۔ پیغمبروں میں سے ایک لاکھ تئیس ہزار ۹ سو ننانوے انبیا کے بعد چونکہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے لہذا ان کے جملہ صفات و کمالات و معجزات حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم میں اﷲ تعالیٰ نے جمع کر کے مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا اور آپؐ کو تمام انبیا کا جلوہ بردار بنایا بلکہ اﷲ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کا مظہر بھی قرار دیا۔ حدیث قدسی میں ارشاد ہے:
کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقتک یا محمد
چونکہ آپ کو بھی اس دنیائے فانی سے بظاہر ایک دن جانا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐ نے اپنی زندگی ہی میں حضرت علیؑ کو ہر قسم کے کمالات سے بھرپور کر دیا تھا جیسا کہ غدیر خم کے مقام پر حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر جب وہاں پہنچے تو حکم خدا کے مطابق علیؑ کے بارے میں اٹھارہ ہزار حاجیوں کے سامنے فرمایا:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
یعنی حضرت علیؑ اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ نبوی کمالات سے بھی ممتاز ہوگئے تھے۔ سرور کائنات کے بعد کائنات عالم میں صرف ایک علیؑ کی ہستی تھی جو کمال انبیا کی حامل تھی۔ آپ کے بعد سے یہ کمالات اوصیا میں منتقل ہوتے ہوئے امام مہدی تک پہنچے۔ بادشاہ وقت امام مہدیؑ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ یعنی بادشاہ وقت امام زمانہ کو شہید کر دیتا تو دنیا سے انبیا و اوصیا کا نام و نشان مٹ جاتا اور سب کی یادگار بیک ضرب شمشیر ختم ہوجاتی اور چونکہ انہیں انبیا کے ذریعے سے خداوند عالم متعارف ہوا تھا۔ لہذا اس کا بھی ذکر ختم ہوجاتا۔ اسی لیے ضرورت تھی کہ ایک ایسی ہستی کو محفوظ رکھا جائے جو جملہ انبیا اور اوصیا کی یادگار اور تمام کمالات کی مظہر ہو۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے اپنے حکم سے امام مہدیؑ کو بادشاہ وقت کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھنے کے لیے امام حسن عسکریؑ کی وفات کے بعد جبکہ امام مہدیؑ کی عمر ۵ سال تھی انہیں پردۂ غیبت میں قرار دے دیا۔
(۲) دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ’’وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ‘‘ ابراہیم کی نسل میں کلمہ باقیہ قرار دے دیا ہے۔ نسل ابراہیم دو فرزندوں سے چلی ہے۔ ایک اسحاق اور دوسرے اسماعیل۔ اسحاق کی نسل سے خداوند عالم نے جناب عیسیٰ کو زندہ و باقی قرار دے کر آسمان پر محفوظ کرچکا تھا۔ اب یہ مقتضائے وقت و انصاف ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل سے بھی کسی ایک کو باقی رکھے۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے امام مہدی کو جو نسل اسماعیل سے ہیں۔ زمین پر زندہ اور باقی رکھا اور انہیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شر سے محفوظ کر دیا جس طرح حضرت عیسیٰ کو محفوظ رکھا ہے۔
(۳) یہ مسلماتِ اسلامی سے ہے کہ زمین حجتِ خدا اور امام زمانہؑ سے خالی نہیں رہ سکتی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ، قصار الحکم، قول ۱۴۰ میں فرماتے ہیں:
اللھم بلٰی لا تخلوا الارض من قائم للّٰہ بحجۃ اما ظاہراً مشہوراً و اما خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج اللّٰہ و بیناتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اولئک واللّٰہ الاقلون عددا والا عظمون عند اللّٰہ قدرا یحفظ اللّٰہ بھم حجتہ و بیناتہ حتی یودعوھا نظرأھم و یزرعوھا فی قلوب اشباھم۔
ترجمہ: زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہتی یا وہ ظاہر و معلوم ہوگا یا خوف خدا سے پردہ غیب میں ہوگا اور یہ وجود امام اس لیے کہ کہیں حجت الٰہی اور بینات خداوندی سے زمین خالی نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔ بخدا یہ لوگ عدد میں کم اور خدا کے نزدیک بہت عزت والے ہیں جن سے خدا اپنی صحبتوں اور آیتوں کی حفاظت کراتا ہے۔ یہ حفاظت اس وقت ہے کہ جبتک وہ امام اپنے جیسے کو وہ اعانت سپرد نہیں کردیتا (اس کا منصب پورا نہیں ہوتا)۔ وہ ان حقائق کو اپنے جیسے منصب دار (معصوم) کے دل میں بو دیتے ہیں۔
چونکہ اس وقت کائنات پر حجت خدا امام مہدیؑ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ دشمن آپ کو شہید کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے انہیں محفوظ و مستور کر دیا۔ حدیث میں ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعے سے روزی تقسیم کی جاتی ہے۔ (بحار) باالفاظ دیگر کائنات کا نظام آپ کے حکم سے منشائے الٰہی کے مطابق چل رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ملت نور بخشیہ کے عقیدت مندوں نے پنجگانہ نماز کے بعد دعائے تشفع میں دعا کرتے ہیں:
اللھم انی اسئلک بقائم آل محمد المہدی علیہ السلام و اجازتہ۔
ترجمہ: پروردگار قائم آل محمد مہدی حق اور ان کے اجازت کے واسطے جیسا کہ اس دعا کے کلمہ کی تائید میں شاہ سید محمد نور بخش نے بھی کشف الحقیقت میں شعر کے انداز میں فرماتے ہیں:
(۱) این دوعالم زیر دستش چون خمیر
زیر حکمش بندہ ایں بالا و زیر
یعنی یہ دونوں عالم امام کے ہاتھوں کے نیچے گندے ہوئے آٹے کی طرح بالکل نرم ہے۔ عرش علا سے تحت سرا تک آپ کے حکم میں مثل غلام کے ہیں۔
(۲) صاحب الامر است و ہر دور زمان
زو رسد بر فیض برخلق جہان
اس دور میں آپؑ احکامِ الٰہی کے مالک ہیں یعنی آپ کے حکم سے اس دنیا میں تمام چیزوں کی حیات ہے۔ امام مہدیؑ کے وجود سے تمام مخلوق پر اس جہاں میں فیض پہنچتا ہے۔
(۴) یہ مسلم ہے کہ امام مہدیؑ تمام انبیا کے مظہر ہیں۔ اسی لیے ضرورت تھی کہ انہیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی۔ جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اپنے عہد حیات میں مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے۔ اسی طرح یہ بھی غائب ہیں۔
(۵) قیامت کا آنا مسلم ہے اور واقعہ قیامت میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر بتاتا ہے کہ آپؑ کی غیبت مصلحت خداوندی کی وجہ سے ہوئی۔
(۶) سورئہ قدر سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ شب قدر میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ نزول ملائکہ انبیا و اوصیا پر ہی ہوا کرتا ہے۔ امام مہدیؑ کو اسی لیے موجود اور باقی رکھا گیا ہے تاکہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض پوری ہوسکے۔
(۷) حکیم کا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ عام لوگ اس حکمت و مصلحت سے واقف نہ ہوں۔ امام مہدیؑ کی غیبت بھی خداوند کی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہے۔ مثلاً کعبہ کا طواف اور رمی جمرہ وغیرہ جس کی اصل مصلحت خداوند عالم ہی کو معلوم ہے۔
(۸) امام جعفر صادقؑ کا فرمان ہے کہ امام مہدی کو اس لیے غائب کیا ہے تاکہ خداوند عالم اپنی ساری مخلوق کا امتحان کر کے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اور باطل پرست کون لوگ ہیں۔