اصحاب صفہ کی فضیلت تصوف کی نظر میں


اصحاب صفہ کی فضیلت تصوف کی نظر میں

تحریر: سید حسن شاہ سرمیک

ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اے حبیب ﷺآپ اپنے نفس پر صبر کرو ان لوگوں کے ساتھ رہنے کو جو کہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر اپنے رب کی بارگاہ میں پکارتے ہیں اور ان کی طرف سے آپ ﷺ اپنی نظر رحمت نہ ہٹاو کہ تم دنیا کی زینت چاہتے ہو۔“

جب اللہ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا تو آپ ﷺنے یہ تجویز بھی مسترد کر دی تو کفار قریش نے تیسری بار آپ ﷺسے عرض کیا کہ آپؐ اپنے اس گروہ سے نظر رحمت بھی ہٹانا گوارا نہیں کرتے  تو ہماری تیسری تجویز بھی قبول فرمائیں، اگر اآپ ﷺاسلام کے بارے میں کوئی مشورہ لینا چاہیںتو ہم سے مشورہ کریں۔ہم آپ کو بہتر مشورہ دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا

ترجمہ: ”اے حبیب آپ ؐ ان لوگوں کی پیروی نہیں کرنا جن کے دلوں کو ہم نے ذکر الٰہی سے غافل کر دیا ہے کیوں کہ انہوں نے اپنے نفس کی پیروی یعنی اپنی چاہت اور نفس کی اتباع کی۔ اور ان کے کام حد سے تجاوز کر گئے۔“

یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رب کائنات کے ہاں اصحاب صفہ کی شان اور قدر منزلت ہے۔ اسی لئے حضورﷺ اس گروہ کی شان میں فرماتے ہیں ”اگر بندے کو اللہ کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی تمنا ہے کوئی بندہ یہ چاہتا ہے کہ میں اللہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تو اس کے لئے چاہئے کہ اولیا کی محفل میں بیٹھے۔ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے غوث المتاخرین شاہ سید محمد نوربخشؒ اپنی کتاب کشف الحقیقت میں فرماتے ہیں کہ

ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا

گو نشین اندر حضور اولیا

اگر کوئی اللہ کے ساتھ قرب حاصل کرنا چاہتا ہو یا اس کی محفل کا حصہ بننا چاہتا ہوں تو اولیاکے محفل میں بیٹھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کی اتنی تعریف کیوں کی؟ اتنی اہمیت کیوں دی کہ اپنے حبیب ﷺجس کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اے پیارے حبیب اگر تو نہ ہوتا تو میں اس کائینات کو  ہی خلق نہ کرتا“ اتنی شان و مرتبہ والے نبیؐ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں اگر آپ ؐ نے اس گروہ کے ساتھ تعلق ختم کیا اور ان کو اپنی محفل سے الگ کیا تو آپ ؐ کا شمار ظالموں میں سے ہوگا۔ آخر یہ گروہ کونسے ذکر و اذکار اور ورد وظائف پڑھتے تھے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی اتنی قدر و منزلت  تھے۔ قرآن خود کہہ رہا ہے اے میرے حبیب آپ ان لوگوں کو اپنی محفل سے الگ نہ کیجئے جو کہ صبح شام میری تسبیح بیان کرتے ہے میرا ذکر اذکار بیان کرتے ہیں۔ جب حضور ؐ اس گروہ کی تلاش میں نکلے اور آپ ؐ جب مسجد نبوی میں پہنچے تو آپ ؐنے دیکھا کہ یہ گروہ گول دائرہ بنا کر کبھی اوراد صبحیہ کی شکل میں
الھم جعلنا ھادین و مھدین غیر مناتین و لا مضلین

تو کبھی اوراد فتحیہ کی صورت میں
یا دائما بلا فناء و قائما بلا زوال و یا مدبرا بلا وزیر سھل علینا

تو کبھی اوراد عصریہ کی صورت میں
یا رب رباہ یا سیدا یا سنداہ یا مولاہ

لہٰذا آپ اور میرا مذہب حقہ اسی گروہ کی پیروی کرتے ہوئے رات کے آخری پہر میں اوراد صبحیہ پھر نماز فجر کے بعد اوراد فتحیہ اور نماز عصر کے بعد اوراد عصریہ کا اہتما م کرتے ہیں اور ہمارے بزرگان دین کا بھی یہی معمول تھا۔ انہی ورود و وظاءئف کی بدولت آپ اور میرے بزرگان دین نے اعلیٰ مقام حاصل کئے۔ الحمداللہ یہ ذکر و اذکار آج بھی ہماری محفلوں کی زینت ہیں اور اب تک مسلک حقہ نوربخشیہ کے پیروکار اسی پر عمل پیرا ہیں۔ مولا متقیان علی ابن ابی طالبؑ تصوف کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں

”التصوف علی اربعہ احرف“ لفظ تصوف چار حروف کا مجموعہ ہیں یعنی ت، ص، و، ف۔ ہر حرف کے تین تین صفات ہیں

التاء توبۃ، وترک، وتقیٰ

تقویٰ اختیار کرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنے کو تصوف کہتے ہے۔

ان اکرمکم عند اللہ التقکم۔ واتقواللہ اوعلمو ان اللہ مع المتقین


الصاد صدق، صبر،

صدق یعنی سچائی، سچ بولنا ہے۔ جس کسی کے ساتھ کوئی معاملہ ہو اس کے ساتھ سچائی سے پیش آنا۔ جتنی بھی مشکل حالات درپیش  ہو صدق پر ثابت قدم رہنا۔

صبر، حقیقی صوفی کی صفت یہ ہے کہ اس کے اوپر اللہ کی طرف سے کوئی بھی آزمائش ہو حضرت امام حسین ؐ نے جس طرح کربلا میں صبر کیا اسی صبر کے مظاہرے کو تصوف کہتے ہیں۔

الصاد سے مراد یہ بھی ہے کہ یعنی دل کو تمام برے افعال و گناہ کبیرہ و صغیرہ سے پاک صاف رکھنا اور کسی سے بھی بغض و حسد، کینہ، تکبر نہ رکھنے کا نام تصوف ہے۔

الواو ورد، وفا

ہمیشہ ذکر الٰہی میں مشغول رہنا۔ حضور ؐ اور آل رسول سے محبت رکھنا ان کے دشمنوں سے بغض اور ان کے دوستون سے محبت رکھنا۔دین و  دنیاوی معاملات میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ حق بات پر وفاداری کا مظاہرہ کرنا۔ جیسے عباس علمدار نے کربلا میں امام حسین ؐ کے ساتھ جو وفاداری کا مظاہرہ کیا اسی کا نام تصوف ہے۔

الفاء فرد، فقر، و فنا

یعنی خلوت نشینی اختیار کرنا۔ دنیا کے لوگوں سے الگ تھلگ رہنا۔ جاہلوں کی صحبت میں نہ رہنا بلکہ ہر وقت تنہائی میں ذکر و اذکار کرتے رہنا۔

فقر سے مراد حقیقی فقر اختیار کرنا جیسے رسولؐ نے فخر کیا کہ الفقرافخری فقر پوشی اختیار کرنا میرا فخر ہے صرف ذات خدا وندی کا محتاج

الفاء سے مراد فنا ہونایعنی ہر وقت عشق الٰہی میں فنا فی اللہ ہونا۔ صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دنیا کی لالچ اور مال طمع کی لالچ سے باز رہنا۔

اگر یہ بارہ صفات کسی کے اندر موجود ہو تو حقیقت میں وہ صوفی کہلاتا ہے۔

صوفی کی تعریف کر تے ہوئے حضرت شیخ جنید بغدادی فرماتے ہیں۔

الصوفی من لبس الصوف علی الصفاوعاسن الناس علی الوفاء وجعل الدنیا علی خلف القفا ء وسلک طریق المصطفٰی محمد ؐ۔الا فکلب الکوفی خیر من الف صوفی۔

ترجمہ :صوفی وہ ہے جو پاک ،صاف اونی کپڑا پہنتاہو۔اور لوگوں کے ساتھ وفادار ہوتا ہے ۔اور دنیا کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں۔اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے راستے پر گامزن رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو ایسے ہزار صوفی کوفی کتا بہتر ہے۔

محمد مصطفےؐ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہونا تصوف  ہے۔

ہمچو صوفی درلباس صوف باش

در صفت ھائ خدا موصوف باش

 

 صوفیہ میں حمد خدا، نعت نبیؐ، مدح علیؐ ہے

یہ رب کی عنایت ہے فضیلت سے بھری ہے