حجاب


تحریر فضل خان صاحب


اس موضوع پر بات اس لئے کر رہے ہیں کہ اگر معاشرے کے اندر بے پردگی جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی ہمارے گھروں کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی.

جب مرد ایسی خواتین کو دیکھیں گے تو ان کا اپنی بیوی سے مقائسہ کریں گے یا کم از کم اپنی بیوی سے ان کی توقعات زیادہ ہو جائیں گے دونوں صورتوں میں گھر کے شیرازہ بکھرنے کا کوئی امکان موجود ہے.

بعض افراد یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر بے پردگی کو روکنا ہے تو ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہیے. اور ہمیں ایسی خواتین کو بتانا چاہیے کہ یہ بات بری ہے اور اس کو انجام نہ دے.

جبکہ یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ہر مشکل کی جڑ جہالت کے اندر ہو. کچھ لوگ جانتے بھی ہیں اور اس کے باوجود عمل نہیں کرتے. لہذا ہمیں اس مسئلے کی اصل جڑ کو دیکھنا چاہئے.

کچھ ایسی خواتین سے انٹرویوز لیے گئے کہ جو پردے کی پابند نہیں تھیں ان کے انٹرویوز کے اندر چند باتیں مشترک تھی.

✅ان نقاط پر توجہ فرمائیے:
ان خواتین کی یہ سب سے پہلی دلیل یہ تھی کہ:

ہم حجاب اس لیے نہیں کرتی تاکہ ہم دیکھی جائیں اور دوسروں کو یہ پتہ چلے کہ ہم یہاں پر موجود ہیں.

ان کی اسی بات میں تھوڑا سا غور و فکر کرنا چاہئے .اس بات کے اندر ہمارےلیے پیغام موجود ہے کہ اگر والدین اپنی بیٹی کو شخصیت دے اور اسے پیار محبت دے تو یہ بات اس کا پردے پر مثبت اثر پڑے گا.

👈کیا ہم والدین اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں؟

تربیت کے اندر دو بڑے عناصر ہیں: ایک محبت اور دوسرا احترام .والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ اپنی شخصیت کے اندر کسی خلا کا احساس نہ کریں .

جب ایک لڑکی کو والدین کی طرف سے گھر میں محبت نہیں ملے گی تو وہ اس چیز کا ازالہ کرنے کے لیے اس انداز میں باہر جائے گی کہ وہ دیکھی جائے اور لوگ اس پر توجہ کریں.

دوسروں کی نگاہیں اسے اس کے موجود ہونے کا احساس دلاتی ہیں. اسی طرح گھر کے اندر بڑوں اور سکولوں کے اندر بھی ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں کا احترام کریں.

حتیٰ کہ جس کا پردہ اچھا نہیں ہوتا اس کے ساتھ بھی احترام سے پیش آنا چاہیے.

ان کے بے پردہ ہونے کی دوسری دلیل یہ تھی کہ ہمارے لئے کوئی ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں پر ہم اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کر سکیں اور ہم چادر کے بغیر اپنے جذبات و احساسات اور جوانی کا اظہار کرتی ہیں.

اگر واقعا ہم اپنی بیٹیوں کے لیے کوئی ایسا کام کرنا چاہیے کہ جس میں وہ باعزت طریقے سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کر سکیں تو اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ہم کو ایسی ورزش گاہیں بنانی چاہییں جو صرف خواتین سے مربوط ہوں، ایسے پارک ہونے چاہیے جو صرف خواتین اور لڑکیوں سے مربوط ہو یا اسی طرح کے بہت سارے کام انجام دیئے جا سکتے ہیں.

تیسری دلیل یہ تھی کہ ہمارے پاس کوئی کام کاج نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے بناو سنگھار میں وقت صرف کرتی ہیں اور چادر کے بغیر اپنے گھروں سے باہر آتی ہیں.

اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ ایسی واقعیت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا.

ایک عورت کا سب سے زیادہ وقت اس کا بیوی ہونے کے عنوان سے اور والدہ ہونے کے عنوان سے اپنا ذمہ داری ادا کرنے میں گزرنا چاہیے لیکن جب اس دور میں شادی پہلے کی نسبت زیادہ دیر سے ہوگی تو ان کے پاس کوئی کام کاج نہیں ہوگا تو یہ ان کے پاس فضول اور اضافی وقت کا ہونا فساد کا باعث بنتا ہے.والدین کو چاہیےکہ اپنی بیٹیوں کو مثبت مصروفیات میں رکھیں اور حتی الامکان فارغ نہ رہنا دیا جائے.

چوتھی دلیل یہ تھی کہ جب لوگ ہمیں اس بات سے منع کرتے ہیں کہ تم چادر کرو اور پردہ کرو تو ہم ان کی ضد میں یہ کام کرتی ہیں.

حق یہ بنتا ہے کہ جب ہم کسی فرد کو کسی بات سے روکتے ہیں تو اس کا متبادل بھی ہمیں اس کو بتانا چاہیے کہ یہ کام کریں.

اگر صرف ایک کام سے منع کریں گے اور اس کی جگہ کوئی متبادل نہیں بتائیں گے تو وہاں پر ضد اور ہٹ دھرمی آڑے آ جائے گی. مثال کے طور پر ہم بچے سے کہتے ہیں کہ یہ خطرناک گیم ہے آپ یہ نہ کھیلیں ممکن ہے کہ بچہ ہماری بات نہ مانے لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی جگہ کوئی دوسری گیم اس کو بتائیں تو ممکن ہے ہماری بات مان جائے.

اگر ہم واقعیت کی نگاہ سے دیکھیں کہ جب ایک خاتون پردے کا خیال نہیں رکھتی تو ممکن ہے وہ کچھ افراد کو اپنی طرف جذب کر لے اور اسی وجہ سے ان کے گھر خراب ہو جائیں تو اس جرم میں دونوں برابر کے شریک ہیں.

تحریر: فضل خان