حضرت زینبؑ اور تحفظ اسلام


تحریر: بختاور ظہیر شگری

خلاصہ
تاریخ ِ اسلام میں ایسی صاحبِ ایمان و ایثار خواتین کی کمی نہیں جنہوں نے نازک سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں اپنے سرگرم اور فعّال کردار سے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا ہے ،ان خواتین میں سے ایک اہم اور نمایاں نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ہے ۔ مورخین نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے ان کی زندگی کا تجزیہ کیا اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں کو اجاگر کیا ہے اور کئی سو کتابیں اور کئی ہزار مضامین اب تک اس عظیم خاتون کے بارے میں مختلف زبانوں میں لکھے جا چکے ہیں۔ میں نے اس مقالے میں حضرت زینبؑ اور تحفط اسلام پر روشنی ڈالنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے۔زیر نظر مقالے میں مقدمےاور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مختصر تعارف کے بعد تحفط اسلام میں حضرت زینب کا کردار،امامت کا تحفط ،کوفہ وشام میں حضرتؑ کے خطبے،دشمن سے مقابلہ وغیرہ کو بیان کیا ہے۔
مقدمہ
اس اللہ کے لیے حمد وثناء ہے جو مخلوقات میں اپنا دامن فضل پھیلائے ہوئے اور اپنا دست کرم بڑھائےہوئے ہے اور ہم تمام امور میں اس سے مدد مانگتے ہیں ۔
خدا نے شریعت اسلام کی ترویج کے لیے اپنے پیغمبر ﷺ کا انتخاب کیا اور اس کے لے اسلام کو آخری دین کے طور پر منتخب کیا اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ۔پاک پیغمبرﷺ کے بعد اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری آئمہ ؑ کو سونپی ،لیکن اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک اہم چیز جو دیکھنے میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کچھ خواتین کا احسان مند نظر آتا ہے ۔ان میں سے ایک ہستی جناب زینب (سلام اللہ علیہا)ہیں آپ سلام اللہ علیہا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد وہ دوسری ہستی ہیں جن کا نام ہر شخص کی زبان پر آتا ہے۔ آپ کی شہامت ،شجاعت فداکاری صبر،اور ظالموں کے سامنے سر تسلیم خم نہ ہونا ذہن میں آتا ہے۔تمام مورخین اس نقظہ پر پہنچے ہیں کہ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا میں نہ ہوتیں اور آپ کے خطبے کوفہ اور شام میں نہ ہوتے تو کربلا اس طرح روشن نا ہوتی ،اگر امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنا خون بہایا تو آپ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے پیغام اور اسلام کی بقاء اور خون حسین علیہ السلام کو قیامت تک کےلیےواضع کر دیا اگر آپ سلام اللہ علیہا کو” بطلہ کربلا”(کربلا کی شیر دل خاتون) کا لقب دیا گیا تو یہ بے جا نہیں ہے ۔ آپؑ زندگی میں بھی مظلومہ تھیں اور رحلت کے بعد بھی مظلومہ ہیں کیونکہ آپ سلام اللہ علیھا کے بارے میں تاریخ میں لکھا اور بتایا گیا ہے لیکن پھر بھی ہم نے اس کو نظر انداز کردیا ہے۔آپ ؑنے اسلام کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور اسلام کو پھر سے زندہ کر دیا ۔
بی بی زینبؑ کا تعارف
سب سے پہلے تاریخ اور سیرت کی کتابوں کی روشنی میں جناب زینب بنت علی علیہما السلام کا مختصر تعارف پیش کریں گے :
۱۔تاریخ ولادت
حضرت زینب ؑ کی تاریخ ولادت کے بارے میں اختلاف ہے ۔”ریاحین الشریعہ” میں آیا ہے کہ آپ ؑ کی ولادت کو بعض نے” پانچ جمادی الاول ہجرت کے چھٹے سال” اور بعض نے” شعبان کے اوائل اور چھٹے سال” میں ذکر کیا ہے۔ بعض نے” رمضان” جبکہ بعض نے “ربیع الثانی کے آخری عشرہ “ميں لکھا ہے اور ایک نقل کے مطابق “ماہ محرم ہجرت کے پانچویں سال “میں ذکر کیا ہے لیکن ان اقوال کے ساتھ کوئی تاریخی محکم دلیل موجود نہيں ہے۔[ ہاشم رسولی محلاتی، زینب عقیلہ بنی ہاشم ، بی تا ،ص۸،۹]
اسی طرح آپ ؑ کی ولادت با سعادت کے متعلق جو قول مشہور ہے وہ یہ ہے کہ آپ ؑ کی ولادت پانچ جمادی الاول پانچ ہجری مدینہ منورہ میں ہوئي ہے اور ایک قول ہے کہ چھ ہجری میں آپ پیدا ہوئی ہيں۔[ ابراہیم حسین بغدادی، زینب بنت علی فیض النبوہ عطاء الامامہ،ص ۵، جعفر نقدی ،حضرت زینب کبری ، ص ۲۸ ]
ب۔کنیت
حضرت زینبؑ کی کنیت” ام کلثوم “اور” ام عبداللہ “بیان ہوئی ہے ایک نقل کی بنا پر کنیت “ام کلثوم کبری ” ہے۔[ عباس عزیزی، فضائل و خصائص زینب کبری، بی تا ، ص:۸] بعض دیگر کتب کی روشنی میں آپؑ کی کنیت ام المصائب ہے۔[ نورالدین ،جزائری ،الخصائصہ الزنیبیہ ، ص۴۸ ؛ باقر شریف القرشی ،السیدۃ الزینب، ص ۳۹]
حضرت زینب ؑ اور تحفط اسلام
حضرت زینب سلام اللہ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اسلام کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ آپ نے اسلام کے خاطر بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور بہت سےمظالم برداشت کیے اپنے عزیز و اقارب کی قربانی دی ۔کربلا میں بی بی کی قربانیاں لازوال ہیں ۔اس میں سے چند کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے ۔
۱۔ حضرت زینبؑ تحفط اسلام کی ضامن
عصر عاشور کے بعد حضرت زینبؑ کے لئے مشکل ترین اور مہم ترین کام عاشورا کا پیغام اور حسینی اہداف کوپہنچانا تھاتاکہ شہداء کا خون ضائع نہ جائے۔ بنت الشاطی کا کہنا ہے :”حضرت زینبؑ نے واقعہ کربلا کے اثرات کو ابدیت بخشی۔[ بنت الشاطی،حضرت زینب بانوی قہرمان کربلا، ص ۱۲۱]
۲۔ حضرت زینبؑ کے خطبے تحفظ اسلام کا زریعہ
حضرت زینبؑ کے شعلہ ور خطبوں کو طبرسی ،علی ابن طاووس ،علامہ مجلسی ،عبد اللہ بحرانی،سید محسن امین عاملی اور احمد علی شبلی اور دیگر کافی دانشمندوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیاہے۔[ طبرسی،الاحتجاج،ج۲،ص:۲۹؛ طاؤوس،اللھوف، ص۱۷۶، مجلسی بحار الانوار،ج۴۵،ص:۱۰۹و ۱۶۵]
۱۔خطبہ کوفہ
حذیم بن بشیر کہتا ہے:” جب قافلہ کوفہ پہنچا مرد وں عورتوں نے گریہ کیا اور گریبان چاک کئے ۔”امام زین العابدین ؑابھی بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئے تھے آپ ؑنے آہستہ سے فرمایا:” انّ هولاء یبکون فمن قتلنا غیرهم”یہ ہم پر رورہے ہیں حالانکہ انکے سوا کسی نے ہمیں نہیں مارا ہے ” [طبرسی ،الاحتجاج،ج۲،ص۲۹؛ بحار الانوار،ج۲، ص۱۶۲]حضرت زینب ؑنے اپنے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :خاموش ہوجاؤ! راوی کہتا ہے :”خدا کی قسم میں نے اس دن تک کسی خاتون کو اس عفت و حیاء کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ایسے خطبہ دیا جیسے امیرالمومنین ؑخطاب فرمارہے ہوں”۔ حضرت زینب ؑنے اپنے سخن کے آغاز میں اپنے ہاتھ سے مردوں کی طرف اشارہ کیا حضرت زینب ؑکے اشارے سے انسان حتی اونٹوں کے گلے میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کی آوازیں بھی آنا بند ہوگئیں۔
“سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال اکرم کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمدؐ پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ!اے اہل فریب و مکر !کیا اب تم روتے ہو؟ (خدا کرے) تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغاں کبھی بند نہ ہو ۔۔۔۔۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول ؐ کے کس جگر کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے اعمال شنیعہ کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں ، زمین شگافتہ ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امامؑ کا جرم شنیع کیا ہے جو پہنائی و وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔اگر اس قدر بڑے پر آسمان سے خون برسا ہے تو تم تعجب کیوں کرتے ہو ؟ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور رسوا کن ہوگا۔ ”
پھر بی بیِ ؑعالم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ حیران و سرگرداں ہیں اور تعجب سے انگلیاں منہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔کوفہ میں بی بی زینب ؑکے علاوہ امام سجادؑ اور بی بی ام کلثوم ؑنے بھی خطبہ دیا ۔
۲۔شام میں خطبہ
کوفہ کے بعد اسیران اہل بیت ؑ کا لٹا ہوا قافلہ دربارِ ابن زیاد کی طرف روانہ ہوا۔ ادھر ابن زیاد نے تمام لوگوں کو حاضری کا اذن عام دے رکھا تھا۔ اس لئے دربار، درباریوں اور تماش بینوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے شہداء کے سر دربار میں پہنچائے گئے اور اس کے بعد اسیران کرب و بلا کو دربار میں پیش کیا گیا۔ یہ زینب سلام اللہ علیہا ہی تھیں کہ جنہوں نے آراستہ دربار میں سینکڑوں کے مجمع میں اثبات حق کے لئے اپنے لبوں کو جنبش دی اور فرمایا :شکر ہے عالمین کے رب کا، درود و سلام وہوآل رسول ؐپر، خدائے پاک نے صحیح فرمایا ہے کہ “عم کان عاقبة الذین اباؤ االسوء ان کنبو ابأیات الله و کانو ايها یستهزئون”برے کام کرنے والوں کا انجام برا ہے کہ ان لوگوں نے آیات خدا کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا ۔اے یزید! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کے دروازوں کو بند کر دیا ہے اور ہم کو غلاموں کی طرح پھرایا ہے تو ہم خدا کے نزدیک ذلیل ہو گئے اور تو ذی وقار ؟ اور اس طرح سے ہم پر تیرا غلبہ ہو گیا، لہٰذا خدا کے نزدیک تیری عزّت اور سر بلندی کے مترادف ہے ؟ پس تو نے تکبّر کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ فاتح عالم ہے تھوڑا قدم بڑھا، کیا قول خدا کو بھلا بیٹھا ہے :
“ولا یحسبنّ الذین کفروا انّما نملی لهم لیزدادوا انسمأ و لهم عذاب الیهم”کافروں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انہیں مہلت دی اس لئے کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں ، نہ ! ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ گناہ زیادہ کریں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے”۔
پڑھ کے نہج البلاغہ دنیا میں لوگ اچھے ادیب ہوتے ہیں
تیرے خطبوں کا فیض ہے زینب ؑ آج ہم میں خطیب ہوتے ہیں
حضرت زینب ؑنے موقع سے فائدہ اٹھایا آپ ؑجانتی تھیں کہ عزاداری کے ذریعے عوام کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاسکتا ہے او رشہداء عاشور کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے اور آگاہ کرکے غافلوں کو بیدار کیا جاسکتا ہے اسی وجہ سے آپ ؑ نے شام میں سات دن تک عزاداری کی شام کی عورتوں نے ان مجلسوں میں شرکت کی ان مجلسوں کے حقائق کے بیان کرنے کا اس قدر اثر ہوا کہ نزدیک تھا کہ لوگ یزید کے محل پر حملہ کرکے اسے قتل کردیں۔ مروان جو اس وقت شام میں تھا وہ خطرے کو بھانپ گیا اس نے یزید سے کہا اھل بیت ؑ کو شام میں رکھنا مصلحت کے خلاف ہے جتنا جلدی ہوسکے انہیں مدینہ بھیج دیں یزید نے یہ تجویز قبول کرلی۔[ معالی السبطین، ج۲، ص ۱۷۳ تا ۱۷۵]
۳۔امامؑ وقت کی حفاظت تحفط اسلام کی بنیاد
جب حضرت زینب ؑنے باقی ماندگان کی سرپرستی کی تو سب سے پہلے امام سجادؑ کی محافظت اور نگہداشت کی اور خورشید امامؑ کی حفاظت کی اس وقت جب امام حسینؑ کا استغاثہ بلند ہواتو عورتوں کی آوازیں بلند ہوئیں اس وقت حضرت علی ابن الحسین ؑمریض تھے بیماری کی شدت سے طاقت نہ تھی کہ تلوار کو اٹھاسکیں لیکن آپ ؑ اپنے والد بزرگوار کی مدد کے لئے باہر آئے۔[ مجلسی،بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۶/ کریمی ،جھرمی ،تکرار حماسہ علی در خطبہ حضرت زینب،ص۱۵]جب یزید کی فوج نے امام حسین ؑ کے خیام کا رخ کیا تو بچے اور عورتیں بکھرگئیں حضرت زینب ؑنے اپنی توجہ امام سجاد ؑسے نہ ہٹائی اور آپ مسلسل ان کی حفاظت کرتی رہیں۔
حمید ابن مسلم کہتا ہے : میں نے علی ابن الحسینؑ کو دیکھا آپؑ بستر بیماری پر تھے اور اچانک شمر ایک سنگدل اور آوارہ لوگوں کا گروہ لے کر آگیا اس نے کہا اس بیمار کو قتل نہیں کیا اس لعین نے آپؑ کو قتل کرنےکے لئے آمادگي ظاہر کی ۔ حمید بن مسلم کہتا ہے کہا سبحان اللہ کہا اس نوجوان کو اس بیماری کی کسالت کی وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہو ۔ شمر نے اپنی تلوار باہر نکالی اس وقت حضرت زینب ؑنے خود کو آپ ؑ پر گرادیا اور فرمایا خدا کی قسم تم اس کو قتل نہیں کرسکتے جب تک مجھے قتل نہ کرو گے۔[ بحرانی،العوالم،ص۳۰۶]
امام سجادؑ نے فرمایا: میری آنکھیں ان پاک جسموں کی وجہ سے جو زمین پر پڑے ہیں ان کے لئے گریان ہیں یعنی رورہی ہیں یہ منظر میرے لئے گران اور بہت سخت تھا۔ میں بہت زیادہ ناراحت تھا اس طرح کہ میں ان کے نزدیک جاتا تو میری جان نکل جاتی میری پھوپھی میری طرف متوجہ ہوئی اور مجھ سے فرمایا:اے میرے جد و بابا اور میرے بھائی کے باقی ماندہ کیوں اپنی جان کی بازی لگاتے ہو۔
میں نے کہا کس طرح میں بے تاب نہ ہوں درحالی کہ میرےاپنے بھائی چچا،چچازادے اورہمارے رشتہ دار خاک پرخون میں غلطاں ہیں ان کے لباس لوٹ لئے گئے ہيں کوئی نہیں آرہاہے کہ ان کو دفن کریں جیسے یہ لوگ کافر ہیں حضرت زینب ؑنے فرمایا:” آپ ؑپریشان نہ ہوں یہ عہدہ رسولؐ خدا اور میرے بابا کی طرف سے آپ کے لئے ہے خداوند نے ایک گروہ کو مقرر کیا ہے کہ جو آئیں گے اور ان پاک اجسام کی تجہیز و تدفین کریں گے اور یہ چاہنے والوں کے لئے جو دورو نزدیک سے ہوں گے ان کے جمع ہونے کی جگہ بن جائے گا۔[ جعفر بن قولویہ قمی،کامل الزیارات، ص۴۴۵ ؛ مجلسی،بحارالانوار،ج۴۵،ص ۱۷۹]
اہل بیت ؑ کا ابن زیاد کے دربار میں وارد ہونا
پس اہل بیت ؑ ابن زیاد کے دربار میں وارد ہوئے تو اس نے امامؑ کو مخاطب کرکے کہا: آپ کون ہیں حضرت ؑنے فرمایا: علی ابن حسینؑ ہوں ۔ ابن زیاد نے کہا مگر خداوند نے علی ابن حسین ؑ کو کربلا میں قتل نہیں کیا؟حضرت ؑ نے فرمایا میرا بھائی تھا جس کا نام علی ؑ تھا اس کو لوگوں نے شہید کیا ابن زیاد نے کہا بلکہ خدا نے اسے قتل کیا ۔ حضرت ؑنے فرمایا :” الله یتوفی الانفس حین موتها”[سورہ زمر ،آیت ۴۲]
خدا کسی کو اس کی موت کے وقت مارتا ہے ابن زیاد غضب ناک ہوا اور کہا آپ ابھی بھی جواب دینے کی جرات رکھتے ہیں جلاد سے کہا لے جاؤ اور اس کی گردن کو کاٹ دو۔اچانک حضرت زینب ؑ آئی اور علی ابن الحسین ؑ کو پکڑا اور فرمایا: “والله ما افارقه فان قتلته فاقتلنی معه” خداکی قسم میں ان سے جدا نہیں ہوں گی اگر ان کو قتل کرنا چاہتے ہو تو مجھے بھی ان کے ساتھ ہی قتل کردو۔[ سلیمان ،قندوزی حنفی، ینابیع المودہ، ج۳، ص ۸۷]ابن زیادہ نے ایک نظر حضرت زینبؑ اور امام زین العابدین ؑ کی طرف کی اور کہا کہ میں حیران ہوا ” کتناتعجب ہے رشتہ داری کی محبت نے زینب ؑکے ساتھ کیاکیا ہے؟ جو اس جوان کی محبت میں جان نچھاور کرنے پر بھی تیار ہے۔ میرا دل چاہتا کہ ان دونوں کو قتل کروں!لیکن اسے رہا کیاجائے اس کے مرنے کے لئے اس کی بیماری ہی کافی ہے۔ [شیخ مفید، الارشاد، ص ۱۱۶]حضرت زینبؑ نے اس اقدام سے دشمنوں کے آسیب سے امام زین العابدین ؑ کی حفاظت کی ۔
۳۔حضرت زینبؑ کا حقیقی وظیفہ واقعہ کربلا
ڈاکٹر بنت الشاطی کہتی ہیں: میری نظر میں حضرت زینبؑ کا حقیقی وظیفہ واقعہ کربلا کے بعد شروع ہوا وار آپ ؑ موظف بنی کہ بنی ہاشم کے وہ مرد جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کی اولاد کی سرپرستی کی اور ان کی حمایت و نگہداری کی آپؑ نے جوان امام زین العابدینؑ کہ جو مریض تھے ان کا بھی دفاع کیا اور ایسا دفاع کیا کہ اگر حضرت زینب ؑ نہ ہوتیں تو آپؑ کا سرتن سے جدا کردیتے اور آپ ؑ کے قتل ہونے سے کوئی امام حسین ؑ کی نسل سے باقی نہ رہتا اور دوسرا وظیفہ یہ تھا کہ خون شہداء کی حفاظت کریں تاکہ ان کا یہ قیام ضائع نہ ہوجائے اگر کہے کہ حضرت زینبؑ کی ماموریت کربلا کے بعد شروع ہوئی اور وہ تھا بھی کہ اس واقعہ کےاثرات کو ابدیت بخشی اورگمان نہ کریں کہ مبالغہ ہوا ہے یا فضول کوئی بات ہے۔[ بنت الشاطی، قہرمان کربلا، ص۸]
۴۔ دشمنوں سے مقابلہ ، قیام کودوام بخشنا اور دین کی بقا ء
حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام اور تحریک کے کچھ مقاصد و اہداف تھے کہ جو کربلا کے بعد زندہ رہنے والوں کی ذمہ داری تھی کہ ان اہداف کو زندہ رکھیں۔ یہ واضح ہے کہ اہم ترین ہدف اس واقعہ کے حالات کو لوگوں تک پہنچانا ہے تاکہ لوگ اس عظیم واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے وہ مطالب حاصل کریں جو مقصد امام حسین علیہ السلام ہے تاکہ حضرت ؑ کی تحریک اور قیام زندہ رہ سکے اور آپ ؑ کی شہادت کو اس واقعہ کی انتہا فرض نہ کی جائے بلکہ اس کو ایک کامیابی کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس شعار ” شمشیر پر خون کامیاب ہے” کو اپنے قیام کا ادامہ دینے کا سرمشق قرار دیا جائے۔
عقیلہ بنی ہاشمؑ ان افراد میں سے تھیں کہ جنہوں نے اس عظیم ذمہ داری اور رسالت کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا ، ان کے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے نہ صرف یہ کہ آپ کی ہمت اور حوصلہ کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس، حضرت امام حسین علیہ السلام کا خون حضرت زینب ؑ کی رگوں میں جوش مارنے لگا اور تشنہ لب و مظلوم کے بدن مبارک کے زخم ایک شعلہ ور آگ کی مانند بھڑک اٹھے کہ جس سے قیام و تحریک کے مقاصد کو حرارت اور حیات نصیب ہوئی۔آپؑ نے اس عظیم ذمہ داری کو وہاں سے شروع کیا کہ جب مقتل میں اپنے بھائی کے لاشے کے ٹکڑے ٹکڑے دیکھے اور ان کو اپنی آغوش میں لیا اور فرمایا:«اللَّهمَّ تقبَّل مِنَّا هذا القُربانَ »؛ پروردگارا! ہماری اس قربانی کو قبول فرما۔[ شاکری، حسین. العقیله و الفواطم ص۶۱]
اس دلسوز منظر کے دیکھنے کے بعد تمام عالم میں ہرزمان و ہرمکان میں حضرت زینب ؑ کا یہ نغمہ گونج اٹھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی راہ کو دوام بخشنے ، حیات ابدی دینے اور ظالم و ستمگاروں سے مقابلہ کرنے کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہموار ہو گیا اس طرح اسلام کا تحفط ممکن ہوا۔
نتیجہ
عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب سلام اللہ علیہانے اہل بیت علیہم السلام کی آغوش میں اس طرح سے تربیت پائی تھی کہ جس کی وجہ سے واقعہ کربلا کے مظالم نے آپ ؑکے عزم و ارادے سست اور حوصلے کمزور نہیں ہوئے ۔آپ ؑ نےایک صاحب اقتدار سفیر کی طرح ایک عظیم کردار کو نبھایا اور عاشورا کے ابدی پیغام کو آئندہ کی نسل تک پہنچایا ۔شاعر کیا خوب کہتا ہے: “اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”
تبلیغات و پروپیگنڈہ ، دشمن کے نقشوں کو ملیامیٹ کرنا اور اہداف کی محافظت جیسے عظیم کارنامے تھے کہ جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بہت ہی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے ۔آپ نے اپنے سیاسی کردار سے دنیا والوں کو یہ بتادیا کہ اسلام کی نظر میں ، جہاد اور سیاسی فعالیت و کارکردگی صرف مردوں سے مخصوص نہیں ہے ، بلکہ خواتین بھی اس میدان میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لے سکتی ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق کردار ادا کرسکتی ہیں۔آپ ؑ نے دم توڑتے دین کو پھر سے زندگی دی اور اسلام کے تحفط میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیاآپ ؑ نے اسلام کو تا قیامت تک آنے والوں کے لیے زندہ کردیا ۔یہ واقہ کربلا کا ہی اثر تھا کہ اسلام ایک دفعہ پھر زندہ ہوا۔

منابع ومآخذ
قرآن مجید
۱۔ا بی عبداللہ بن محمد نعمان ،شیخ مفید، الارشاد،بی جا دار مفید ، فضل بن الحسن طبری، اعلام الوری ۔
۲۔ابراہیم حسین بغدادی، زینب بنت علی فیض النبوہ عطاء الامامہ، مؤسسہ الاعلمی بالمطبوعات،بیروت، ۱۴۳۱ھ۔
۳۔احتجاج ، احمد ابن علی طبرسی، دار نعمان ،نجف اشرف ،۱۳۸۶ش۔
۴۔مجلسی ، محمد باقر،بحار الانوار، موسسۃ الوفاء، بیروت ، ۱۴۰۳ھ۔
۵۔بنت شاطی، عائشہ، حضرت زینب بانوی قہرمان کربلا، نشر معشر، تہران،۱۳۷۴۔
۶۔ عباس عزیزی، فضائل و خصائص زینب کبری، اصفہان
۷۔علی بن محمد علوی، المجدی فی انساب الطالبین، قم کتاب خانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی۔
۸۔محلاتی، ہاشم رسولی ، زینب عقیلہ بنی ہاشم ، مشعر،دیجیتلی مرکز تحقیقات رایانہ ای قائمۃ اصفہان، بی تا.
۹۔نورالدین ،جزائری ،الخصائصہ الزنیبیہ ،قم ،انتشارات المکتبۃ الحیدریہ الاولی ۱۴۲۵ھ۔