حیات مبارکہ؛ پیامبرِ خداؐ قسط ۱


تحریر سید ازلان علی شاہ


آپؐ کا اسم مبارک محمد ہے۔ کنیت میں ابوالقاسم اور لقب میں مصطفیٰ مشہور ہے۔
والد کا نام عبد اللہ بن مطلب بن ہاشم بن عبد المناف بن قصی بن کلاب ہے۔ جبکہ والدہ کا نام آمنہ بنت وھاب بن عبد المناف زھرہ بن کلاب بن مرہ ہے۔ آپؑ کا نسب چھٹی پشت سے حضورؐ سے ملتا ہے۔
تاریخ ولادت
سرکار دو عالم حضرت محمدؐ کی ولادت کے سال کے بارے میں یہ رائے متفقہ ہے کہ یہ عام الفیل کا سال تھا، چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے سال ہوئی”
” زاد المعاد في هدي خير العباد ” ( 1 / 76 )
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن سوموار کو بنتا ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن پیدا ہوئے، اسی دن رسالت سے نوازا گیا، اور اسی دن آپ نے وفات پائی، چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوموار کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپؐ نے فرمایا: (اس دن میں پیدا ہوا، اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا- یا مجھ پر وحی نازل ہوئی-) مسلم : ( 1162 )
حضرت محمدؐ کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مورخین کے نزدیک آپؐ کی ولادت ۹ ربیع الاول (شبلی نعمانی سیرت النبی)، بعض کے نزدیک ۱۲ جبکہ بعض کے نزدیک ۱۷ ربیع الاول (منتہی الامال) ایک عام الفیل بمطابق ۵۷۰ عیسوی کو ہوئی۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمة حیات القلوب ج ۲ ص ۴۴ میں تحریرفرماتے ہیں کہ علماء امامیہ کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ آپ ۱۷ ربیع الاول ۱ عام الفیل یوم جمعہ بوقت شب یابوقت صبح صادق”شعب ابی طالب“ میں پیدا ہوئے ہیں، اس وقت انوشیرواں کسری کی حکومت کا بیالیسواں سال تھا۔
جبکہ مشہور موٴرخ امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: وُلِدَ رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم یومَ الاثنین لاثنتی عشرة (۱۲) لیلةً خَلَتْ مِنْ شَہْرِ ربیعِ الأول عامَ الفیل․(السیرة النبویة لابن ہشام۱/۲۸۴
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش ربیع الاول کی بارہویں رات عام فیل (۵۷۱ عیسوی) میں ہوئی۔
احادیث اور روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اکرمؐ کا ظہور عالم ارواح میں تمام مخلوقات سے پہلے ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐ سے ماقبل جتنے انبیا و پیغمبر گزرے آپ کی بشارت دیتے نظر آتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت رسول خداؐ سے پوچھا ’’یا رسول اللہؐ نبوت آپ پر کب لازم کر دی گئی‘‘ تو آپؐ نے فرمایا ’’ اس وقت سے پہلے جب کہ جب خداوند تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا اور ان کے جسم میں روح پھونکی۔ حضرت سلمانؑ سے روایت ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا ’’ مجھے اور علیؑ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کی خلقت سے چار ہزار سال پہلے ایک نور سے پیدا کیا تھا۔ جب اللہ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا تو یہ نور پشت آدم میں منتقل کیا گیا پھر یہ نور منقسم نہیں ہوا یہاں تک کہ عبد المطلبؑ کی پشت میں آکر دو حصے ہوگیا اور مجھے نبوت ملی اور علیؑ کو خلافت اور وصایت ملی۔
(جاری ہے)