حیات مبارکہ؛ پیامبرِ خداؐ قسط ۲


تحریر سید ازلان علی شاہ


نسب اور خاندانِ رسالت
حضرت محمد مصطفےٰؐ کا تعلق خاندان بنی ہاشم اور قبیلہ قریش سے ہے جو کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد سے ہے۔ یوں تو قریش کا خاندان عرب خاندانوں میں سب سے بڑا خاندان تھا جو نہایت شریف اور معروف ترین قبیلہ تھا۔ قریش انہیں کہا جاتا ہے جو حضورؐ کے بارہویں جد امجد حضرت نضر بن کنانہ کی نسل سے ہوں۔ السیر الحلبیہ ض ۱ ص ۱۶۔ آپؐ کے چوتھے جد امجد حضرت قصی بن کلاب قبیلہ قریش کے معروف اور معزز افراد میں شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے ہی کعبہ کی تولیت اور کنجی قبیلہ خزاعہ کے قبضے سے چھڑا لیا تھا۔ تاریخ یعقوبی کے مطابق قصی بن کلاب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قبیلہ قریش کو مذید عزت بخشی۔ تاریخ یعقوبی ج ۱ ص ۲۴۰ قبیلہ قریش میں بھی خاندان بنی ہاشم بہت ہی شریف خاندان تھا۔
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَی رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَکَأَنَّهُ سَمِعَ شَیْئًا، فَقَامَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ: مَنْ أَنَا؟ فَقَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ ﷲِ عَلَیْکَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ ﷲَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ قَبِیْلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ بَیْتًا وَخَیْرِهِمْ نَفْسًا۔
سنن ترمذی 3608،
’’حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایسا لگ رہا تھا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ناگوار بات سنی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: میں کون ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: آپ پر سلامتی ہو، آپ رسولِ خدا ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں (رسولِ خدا تو ہوں ہی اس کے علاوہ نسبًا میں) محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ جب خدا نے مخلوق کو پیدا کیا تومجھے بہترین خلق (یعنی انسانوں) میں پیدا کیا، پھر مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، تو مجھے بہترین طبقہ میں رکھا۔ پھر ان کے مختلف قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ میں پیدا کیا، پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانہ میں پیدا کیا اور ان میں سے بہترین نسب والا بنایا، (اس لئے میں ذاتی شرف اور حسب و نسب کے لحاظ سے تمام مخلوق سے افضل ہوں)۔‘‘
تاریخ کے مطابق آپکے آبا و اجداد میں حضرت عدنان تک اکیس بشتوں کے نام متفقہ طور پر ملتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:
محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔ السیرۃ النبویہ ج۱ ص۲۱۔ حضرت عدنان کے آبا و اجداد سے حضرت ابراہیمؑ تک اور اس سے اوپر کے سلسلہ نسب میں اختلاف ہے جو کہ تورات سے ماخوز ہے۔ اس بارے میں رسول خدا خود ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب میرے نسب کے بارے میں حضرت عدنان تک پہنچو تو توقف کرو۔ بحار الانوار ، ج 15 ، ص105
ذیل میں حضورؐ کے چند قریبی آبا و اجداد کا مختصراً ذکر کرتے ہیں۔
حضرت ہاشم
حضرت ھاشم بن عبد مناف، ان کا اصل نام عمرو تھا اور ان کے بھائی عبد الشمس جڑواں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہی کے اولادوں میں کشمکش رہی جو ظہور اسلام کے بعد بھی جاری رہی۔ السیرۃ الحلبیہ ج۱ ص۴۔ عبد الشمس کا پہلا لڑکا امیہ تھا جس نے حضرت ہاشم کی مخالفت شروع کی۔
کعبہ کی تولیت، مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے اور انکی خدمت حضرت ہاشم کے ذمہ تھا۔ آپ ہی کی کوششوں سے مکہ میں تجارت و اقتصادی حالت بہتر ہوئی۔
حضرت عبد المطلب
حضرت ہاشم کی وفات کے بعد ان کے بھائی ’مطلب‘ کو قبیلہ قریش کی سرداری سونپی گئی۔ جب ان وفات ہوئی تو حضرت ہاشم کے فرزند حضرت شیبہ جو کہ عبد المطلب سے مشہور تھے قریش کے سردار مقرر ہوئے۔
حضرت عبد المطلب کو عاجز، جود بخشش اور دیگر نیک صفات کی وجہ سے اپنی قوم میں خاص مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ اسی وجہ سے ’فیاض‘ کے لقب سے نوازے۔ معجم البلدان ج۴ ص ۲۰۲۔ اپنی قوم کو اخلاق حسنہ، جوروستم سے بچنے کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ فرماتے تھے ’’ظالم آدمی اپنے کئے کی سزا اسی دنیا مین ہی پاتا ہے اور اگر اسے اس دنیا میں نہیں ملتا تو آخرت میں یہ سزا ضرور ملے گی۔ السیرۃ الحلبیہ ج ۱ ص۴
آپ ہی کی زندگی میں واقعہ فیل رونما ہوا۔ یہ واقعہ بعثت سے چالیس سال قبل پیش آیا۔
حضرت عبد اللہ
حضرت عبد اللہ عبد المطلب کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ آپ بڑے شجاع تھے ساتھ ہی حسن کی نعمت سے مالا مال تھی۔ اس چمک دمک کی ایک وجہ نور محمدؐ تھی جو آپ کے چہرے سے عیاں تھی۔ ہر باپ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کا عقد عبد اللہ سے ہو جائے۔ لیکن یہ سعادت آمنہ بنت وہب کی نصیب میں آئی۔ سیرہ معصومین ص۲۲۔ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد آپکا انتقال ہو گئے۔ حضرت عبد اللہ کی قبر شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے مغربی کنارے پر تھی جسے اب منہدم کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ کی وفات کے دو ماہ بعد رسول اکرمؐ کی ولادت ہوئی۔
وہ احادیث جو رسول خداؐ کے آباء اور ماؤں کی پاکیزگی اور طہارت پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: “جبرائیلؑ مجھ پر نازل ہوئے اور کہا ’’اے محمد! خداوند متعال نے آپ پر درود بھیجتا ہے اور فرماتا ہے: بےشک میں نے آگ کو حرام کردیا ہر صلب پر جس نے آپ کو اتارا ہے اور ہر رَحم ( کوکھ) پر جس نے آپ کو حمل کیا ہے، اور ہر دامن پر جس نے آپ کو پالا ہے اور آپ کی کفالت کی ہے۔ کلینی، الکافی، ج1، ص446۔
نیز آنحضرتؐ نے فرمایا: “خداوند عزّ و جلّ نے مجھے یکے بعد از دیگرے پاک صلبوں سے پاک اور مطہر کوکھوں میں منتقل کیا اور جاہلیت کی برائیاں مجھ تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ البحرانی، تفسیر برہان، ج3، ص312۔
(جاری ہے)