خواجہ اسحاق ختلانی قدس سرہ کی زندگی پر ایک اجمالی نظر


تحریر: محمد ابراہیم لودھی

تعارف
قطب آفاق ،پیر طریقت ،رہبر شریعت سلسلہ ذہب صوفیہ امامیہ حضرت خواجہ اسحاق ختلانی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ ذہب کے انیسویں پیر طریقت ہے۔آپ قطب الاقطاب حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی علیہ الرحمہ کے شاگرد خاص ، داماد اور خلیفہ تھے اور امام فقہ ،مجتہداعظم، غوث المتاخیرین ،سید العارفین میر سید محمد نوربخش نوراللہ مرقدہ کے پیر و مرشد ہیں۔
القاب
قطب الانام،مخدوم علی الاطلاق،کامل و مکمل با ستحقاق،مرکز دائر، نفس و آفاق،شاہ شہید
ولادت
قطب آفاق پیر طریقت رہبر شریعت سلسلہ ذہب صوفیہ امامیہ نوربخشیہ حضرت خواجہ اسحاق ختلانی رحمۃ اللہ علیہ موجودہ تاجکستان کے شہر ختلان کے ایک علمی اور رئیس خاندان علی شاہی میں پیدا ہوئے۔
خاندانی پس منظر
آپ کا اصل نام اسحاق اور لقب خواجہ ہے ،جائے پیدائش ختلان ہونے کی وجہ سے نسبتی نام ختلانی ہے۔ آپ کے والد کا نام امیر آرام شاہ تھا جن کا طریقتی نام اسماعیل آتا تھا۔ آپ کے والد محترم امیر تیمور گورگان (متوفی 807) کے وزیروں میں سے تھے۔ خواجہ اسحاق قدس سرہ کے دادا مبارک شاہ بن علی شاہ اپنے دور کے ایک جانی مانی شخصیت تھی۔ یعنی علی شاہی خاندان ختلان کے امیر اور روسا میں سے تھا۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی جب ختلان داخل ہوئے اس دوران خواجہ اسحاق ختلانی کے دادا مبارک شاہ کے ہاں قیام فرماتے تھے ۔نور الدین جعفر بدخشی فرماتے ہیں ۔ایک دفعہ میں جناب (امیر کبیر سید علی ) سے پوچھا کہ ختلان کے لوگوں کے میں مشہور ہے کہ علی شاہ رحمۃ اللہ نے خواجہ خضر کو پایا ہے اور خواجہ سے دین و دنیا مال اور اولاد کی تمنا کی ہے ، آیا یہ مشہور روایت درست ہے ؟ آیا انہوں نے پایا ہے یا نہیں ۔ جواب دیا یہ پایا ہوگا کیونکہ علی شاہیوں کو حق تعالیٰ نے دین اور دنیا میں سعادت اور برکت عطا کی ہے(خلاصۃ المناقب ، ص ۲۰۲)۔آپ کے خاندان کے کچھ افراد سلطان سکندر کے زمانے میں ہرات سے کشمیر ہجرت کرکے آئے تھے ،بادشاہ نے بہت عزت دیا اور حکومت میں دیوان مقرر کر دیا اس وقت سے اب تک اس خاندان کو دیوانی سے یاد کیے جاتے ہیں۔( مکمل تاریخ اقوام کشمیر، ص ۳۴۶)
تعلیم و تربیت
حضرت خواجہ اسحاق ختلانی رحمۃ اللہ علیہ ختلان کے ایک علمی اور رئیس خاندان علی شاہی کا چشم چراغ تھے ۔مورخین کا خیال ہے کہ ابتدائی تعلیم و تربیت شاہی طریقے سے ہوئی ہو گی تاہم حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کے ختلان میں قیام کے دوران خواجہ اسحاق کے دادمبارک شاہ بن علی شاہ نے حضرت امیر کے روحانی کمالات ،مجمع مراتب، اطوار ولایت منبع معارف کا مطالعہ کیا اور یقین ہوا کہ آپ صاحب کمال ،ارباب کمالات ہے تو مبارک شاہ نے خوائش ظاہر کیا کہ حضرت خواجہ کو جو کہ اس وقت کم سن تھے، آپ کی حلقہ ارادت میں لیں اور مرید بنائی۔ں ابتدا میں حضرت امیر نے لینے سے انکار کیا ۔مگر بعد میں شدید اصرار پر حامی بھر لی اور فرمایا: میں آپ کے فرزند کو قبول کرتا ہوں خدا کیلئے تجھے سے گزرش ہے کہ میرے راز کو لوگوں کے سامنے افشا نہ کریں ۔ اس کے بعد حضرت امیر سیاحت کیلئے ختلان سے کوچ کر گئے ۔تقریبا بارہ سال بعد واپس تشریف لائے اور راستے میں ہی دریا ئے اقسو کے کنارے حضرت خواجہ سے ملاقات ہوئی۔جہاں حضرت خواجہ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شکار کھیلنے گئے ہوئے تھے۔وہاں حضرت امیر بھی انتطار میں تھے ۔اتنے میں حضرت خواجہ، امیر کے قریب گیا اور پوچھا: اے درویش کیا دریا عبور کرنا ہے ؟ امیر نے جواب میں کہا : جی میں اسی انتظار میں ہوں۔ اس طرح حضرت امیر خواجہ کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوئے ۔ دریا عبور کرتے ہوئےمعنی خیز روحانی مکالمے ہوئے جو کہ کچھ یوں ہے:
خواجہ نے فرمایا:
درويش مي بايد که مرا مضبوط گرفته باشي
ترجمہ:درویش کو چاہیے کہ مجھے مضبوطی سے پکڑے رکھیں ۔
چونکہ حضرت امیرکبیر نے خواجہ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا،آ پ نے فرمایا :
چنان مضبوط گرفتمت که تا قيامت ترا از دست نگذارم
ترجمہ: تجھے اس قدر مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے کہ قیامت تک تم کو نہیں چھوڑوں گا۔
دریا پار کرنے کے بعد خواجہ کے اصرار پر حضرت میرسید علی ہمدانی خواجہ کے گھر تشریف لے گئے ۔خواجہ نے تجدیدو توبہ کیا اور امیر کبیر سید علی ہمدانی کے ہاتھ پر بیعت کیا۔اس کے بعد حضرت امیر کئی سال تک خواجہ کی تربیت کی خاطر ختلان میں مقیم رہے اور ریاضت کی مختلف اقسام اور مجاہدات کے راستے طے کرواتے رہے۔امیر کبیر حضرت خواجہ کیلئے آداب طریقت،تعلیم ،تلقین،تربیت اور تادیب میں منہمک ہو گئے ۔آنحضرت کے حسن تربیت،رعایت کمال ارشاد اور ہدایت کی برکت سے خواجہ درجات ولایت مقامات جامعیت پر ترقی کرتے قطب کے مرتبے پر فائزہوگئے۔ اس کے بعد خواجہ کے دوست احباب ،رشتہ دار، بھائیوں اور علاقے کے کئی علمائے کرام اور اہل علاقہ آنحضرت کے تعلیم اور تربیت سے فیض یاب ہوئے۔( تحفتہ الاحباب : محمد علی کشمیری ،ترجمہ محمد رضا اخونذادہ ، ص 184)
نور الدین جعفر بدخشی لکھتے ہیں : ایک دن حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی نے مجھ فقیر پر غضب کا اظہار کیا اور فرمایا: جیسے میں کہتا ہوں ویسے کیا کرو تاکہ لمحہ بہ لمحہ ترقی پاتے رہو۔ شمس الدین (خواجہ اسحاق کے بڑے بھائی) اوراسحاق کو دیکھو کہ کس طرح مثال بن گئے ہو، انہوں نے تم سے قبل راہ سلوک احتیار کی تھی۔ اگر پچاس سال بھی ریاضت کرو تو اس مقام کو نہیں پہنچو گے ایک اور موقع پر فرمایا: شمس الدین صاحب قوت سالک ہے لیکن اسحاق بھی[ریاضت میں ] پہلوان ہے۔( خلاصتہ الناقب : نور الدین جعفر بدخشی ترجمہ ڈاکٹر سیدہ اشرف ظفر ص 203)
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کا خاندان ہمدان کے حکمران تھے انہوں نے از خود سلطنت کی حکمرانی کوخیر آباد کہہ کر دین کی طرف آئے تھے مگر بادشاہ ہمیشہ آپ کے درپے رہے ۔اسی بنا پر آپ نے ہمدان سے ختلان کی طرف ہجرت کیا تاکہ سکون سے اللہ تعالیٰ کی خوشبودی حاصل کر سکے۔حضرت خواجہ کی امیر کبیر کے ہاتھ پہ بیعت کے بعد حاسدوں نے بادشاہ کو خبردی کہ علی شاہی خاندان کے فرزند اسحاق بھی سید علی کے ساتھ مل کر بغاوت کی تیاری کر رہے ہیں ،چونکہ میر آرام شاہ امیر تیمور کے حکومت کا حصہ تھے ،لہذا ایک دن امیر تیمور نے حضرت خواجہ کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کا عطا کردہ سیاہ دستار اتار دو ۔جس پر آپ نے انکار کیا اور فرمایا: یہ میرے مرشد کا دیا ہوا دستار ہے یہ نہیں اتاروں گا جب تک میرے سر تن سے جدا نہ ہو۔ اس پر امیر تمور نے آپ پر جرمانہ کیا اور حضرت خواجہ نے جرمانہ ادا کیا۔
تصوف کی تاریخ میں انوکھا واقعہ
تاریخ کا انوکھا اور عجیب و غریب واقعہ یہ ہے کہ خواجہ اسحاق ختلانی نے ایک غیبی اشارے کے تحت آپ کے شاگرد خاص سید محمد کو نوربخش کا لقب دیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنا مرشد تسلیم کیا ۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کا خرقہ مبارک عطا کیا اور اپنے تمام شاگرد وں کو یہی حکم دیا۔ پہلے دن بارہ لوگوں سے بیعت لیا گیا یہ بارہ آئمہ کرام کی مناسبت سے کیا گیا۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی خود ایک عاشق اہل بیت تھے اسی لئے ان کے شاگردوں میں بھی یہ خوبی پائی جاتی ہے۔سید محمد نوربخش کے مرید ،شاگرد اور خلیفہ حضرت شیخ اسیری لاہجی اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
آمده از غیب نامش نوربخش
بود چون خورشید ذاتش نوربخش
ترجمہ: ان کو غیب سے نوربخش نام رکھا ، کیونکہ آپ کی ذات سورج کی طرح نور پھیلانے والا تھا ۔( مثنوی اسرار الشہود از شمس الدین اسیری لاہیجی)
خواجہ اسحاق ختلانی کے پاس سید محمد نوربخش کے ساتھ ایک اور لائق شاگرد بھی تھے جسے عبداللہ برزش آبادی کہتے تھے ۔برزش آبادی نے آپ کی زندگی میں ہی آپ کی حکم عدولی کرتے ہوئے حضرت شاہ سید محمد نوربخش کی بیعت کرنے سے انکار کیا ۔ تو خواجہ نے عبداللہ برزش آبادی کو سلسلہ ذہب سے خارج کردیا اور فرمایا: ذہب عبداللہ۔ یعنی عبداللہ ہم سے نکل گیا۔ عبداللہ برزش آبادی نے اپنا الگ سلسلہ طریقت شروع کیا اورسلسلہ ذہب میں پہلے اختلاف کا سبب بن گیا، لہذا طریقت کا یہ سلسلہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔١۔ سلسلہ نوربخشیہ ٢۔سلسلہ ذہبیہ (طبقات نوریہ و احوال مشائخ نوربخشیہ از صوفی محمد بن ملّا محمد ترجمہ :محمد سلیمان کیلانی ص 125)
شاگرد اور خلیفہ
شاہ ہمدان سید علی ہمدانی 786ھ بمطابق 1385ء کو بلتستان سے کشمیر کی طرف دوران سفر رحلت پائے اور 826ھ بمطابق کو خواجہ اسحاق ختلانی کو بلخ کے مقام پر شہید کیا گیا،یہ وہ چالیس برس کا درمیانی عرصہ ہے جس میں خواجہ اسحاق ختلانی سلسلہ ذہب کبرویہ کے پیر و مرشد کے عہدے پر فائز رہے ۔اسی دوران ہزاروں لوگ حلقہء ادارت میں شامل ہوئے اور آپ نے بہت سارے شاگردوں د اور خلفاء کو درجہ کمال تک پہنچایا ۔ان میں چند کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
1۔سید محمد نوربخش
سید محمد نوربخش ، خواجہ کی وہ خوش قسمت مرید اور شاگرد ہے جس کی قابلیت،زہانت دیکھ کر اور ایک غیبی اشارے پر مرشد نے مرید کے ہاتھ پر بیعت کیا اور باقی مریدوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔
2۔سید عبد اللہ برزش آبادی
سیدشہاب الدین عبد اللہ برزش آبادی مشہدی ،خواجہ اسحاق حتلانی کے مرید خاص اور داماد تھے اور سید محمد نوربخش کے ہم عصر تھے۔حضرت خواجہ کے سید محمد کے ہاتھ پر بیعت اور مرید وں کو بھی حکم ملنے کے بعد برزش آبادی نے خواجہ کی حکم مانے سے انکار کیا خواجہ نے اس انکار کو سلسلہ سے بغاوت تصور کیا اور ذہب عبد اللہ کہہ کر خارج کر دیا ۔ برزش آبادی نے اس دن سے اپنا الگ سلسلہ طریقت شروع کیا جو آج تک سلسلہ ذہبیہ کے نام سے مشہور ہے
3۔شیخ بہاو الدین کشمیری
شیخ بہاو الدین کشمیری ، خواجہ اسحاق ختلانی کے مرید تھے آپ کا تعلق کشمیر کے نواحی علاقہ پقس سے تھا۔ میر سید محمد نوربخش نے کتاب صحیفہ اولیاء میں ان الفاظ میں یاد کئے ہیں۔
بهاؤالدین کشمیر مرد خداست خداوند اطوار و کشف و صفاست
گر اطوار دل و دانی تو نام گویم بترتیب بشنو تمام
لسانی و قلبی و نفسی شم چو سری و روحی خفی ای پسر
بغیب الغیوب است پایان آن فنادی حقیقی است روی نشان
ترجمہ:بہائو الدین کشمیری ولی اللہ میں سے ہے ،قلبی اطوار اور کشف و صفا کا ملک ہے ۔ سن لے اگرتجھے قلبی اطوار کا نام نہیں آتے تو میں ان تمام کو ترتیب سے بتا دیتا ہوں اے بیٹے، لسانی ،نفسی قلبی سری روحی اور خفی کو شمار کر۔ قلبی اطوار میں سے آخری طور غیب الغیوب ہے جس کی علامت فنائے حقیقی ہے۔( صحیفة اولیاء ،میر سید محمد نوربخش )
4۔شیخ سلطان کبرٰی کشمیری
شیخ سلطان کبرٰی کشمیری بھی حضرت خواجہ کے مریدین میں سے تھے، آپ کا تعلق کشمیر کے علاقہ گبرکہ سے تھا ۔شاہ سید محمد نوربخش نے کتاب سلسلة ذہب میں شیخ بہائو الدین کشمیری اور شیخ سلطان کبرٰی کشمیری کا ذکر ان لفظوں میں کیا ہے۔
صاحب اطوار سبعه قلبيه و انوار مونوعيه غيبيه واز جمله ارباب مکاشفات وحالات و اصحاب مراتب و مقامات بود و مشغولند بارشاد سالکان و تربیت طالبان بباده ند و ممالک کشمیر۔
ترجمہ: سبعینہ و قلبیہ کے صاحب اطوار ،غیبی قسم قسم کے نور جانے والے ،ارباب مکاشفات ،حالات ، اصحاب مراتب مقامات میں سے ہیں۔ دونوں ہند اور ممالک کشمیر میں طالبین اور سالکین کیلئے ارشاد کرنے میں مشغول ہیں۔( تحفتہ الاحباب ،ترجمہ محمد رضا اخونذادہ ، صَ264)
5۔سید ابراہیم ختلانی
سید ابراہیم ختلانی بھی حضرت خواجہ کی مرید تھے آپ کی دعوت پر میر سید محمد حلقہء خواجہ اسحاق ختلانی ،سلسلہ کبرویہ ہمدانیہ میں شامل ہوااور بعد میں اپنی قابلیت اورذہانت سے خانقاہ میں اعلیٰ مقام پایا اور ایک غیبی اشارے کے تحت نوربخش کا لقب ملا اور مرشد کے مقام پر فائز ہوا۔
ظلم کے خلاف قیام
شہر ختلان کے کوہ تیری کے ایک قلعے میں بتاریخ14 رجب 846ہجری بروز جمعہ کو آپ نے سیدمیر سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ کے ساتھ طریقت کے رسم کے مطابق مخصوص لباس اور سیاہ عمامہ باندھ کر دعوت حق شروع کیا، ریاضت اور مجاہدے کی تبلیغ کی اور لوگوں سے بیعت لیا ۔اس وقت امیر تیمور کی وفات کے بعد مرزا شاہ رخ، باپ کی سلطنت کا وارث بن گیاتھا، آپ کے دشمنوں نے ختلان کے حاکم سلطان بایزید کو خبر دیا اور انہوں نے خواجہ اسحاق ختلانی اور شاہ سید محمد نوربخش کی دعوت تبلیغ اور بیعت کو اپنی حکومت کے لئے خطرہ سمجھا اوررات کے اندھیرے میں حملہ کرکے اسّی80 مریدوں جس میں خواجہ اسحاق ختلانی کے دو فرزند بھی شامل تھے ،کو شہید کر دیا ۔
شہادت
ختلان کے حاکم سلطان بایزید نے خواجہ اسحاق ختلانی اور شاہ سید محمد نوربخش کو گرفتار کرکے دارالحکومت ہرات روانہ کردیا اس سے پہلے قاصد کے ذریعہ واقعہ کے بارے میں خبر پہنچا دیا۔ بادشاہ نے قاصد کے ذریعہ حکم دیا کہ راستے میں خط جہاں بھی ملے خواجہ اور آپ کے تمام ساتھیوں کو قتل کیا جائے۔ اس دوران وہاں بادشاہ کو پیٹ میں سخت درد ہوا اور حکیم نے بادشاہ مرزا شاہ رخ کو کہا کہ تم نے سید محمد نوربخش کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ اس دور میں آپ کا زہد و تقوی علم و عرفان ریاضت میں کوئی ثانی نہیں ہے، اس درد کا علاج یہی ہے کہ حکم واپس لو۔ بادشاہ نے حکم واپس لیتے ہی درد ختم ہوا مرزا شارخ نے نیا حکم جاری کیا کہ خواجہ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیں اور سید محمد نوربخش کو گرفتار کر کے دارالحکومت ہرات لایا جائے اس طرح خواجہ اسحاق ختلانی قدس سرہ کو اپنے بھائی سمیت یکم شوال 826ھ کو بمطابق 1423ء کو91 سال کی عمر میں بلخ کے مقام پر شہید کرکے سر مبارک کو تن سے الگ کرکے ہرات روانہ کر دیا اورسید محمد کو قید کر دیا۔جب خواجہ کو شہید کرنے کیلئے لے جایا جا رہا تھا اس وقت آپ یہ رباعی پڑھ رہے تھے:
باچرخ سیتزه کار مستیز و برو چون نوبتِ تو رسید برخیز و برو
اين جام جهان نما نامش مرگ است خوش درکش و جرعه بر زمین ریز و برو
ترجمہ:اس تند و تیز گردش سےصف آراء نہ ہو اور جب اپنی باری آئی تو تیار ہو جا۔اس بڑی پیالی کو جو درحقیقت موت ہے خوشی سے منہ میں اُنڈیل دو اور جسم کو زمین کے حوالے کر دو۔
شاہ سید نوربخش نے اس موقعہ پر ان الفاظ میں مرثیہ پڑھا :
پیریم و مرید خواجه اسحاق آن شیخ شهيد و قطب آفاق
وی بود مرید پیر فانی شاه همدان علی ثانی
دادند زي حال ما شهادت بردند سعادت شهادت
رجمہ:ہم خواجہ اسحاق کے پیر بھی اور مرید بھی ہیں۔ وہ مرحوم پیر حضرت سید علی ہمدانی شاہ ہمدان کے مرید تھے۔ انہوں نے ہمارے حال پر گواہی دی اور شہادت کی سعادت حاصل کی۔(صحیفہ اولیا )
آستانہ عالیہ
826ھ بمطابق 1423ء کوبلخ کے مقام پر بھائی سمیت شہید کرنے کے بعد سر مبارک کو تن سے الگ کرکے اس وقت کے درالحکومت ہرات روانہ کر دیا بعد میں مریدوں اور عقیدت مندوں نے کابل لا کر سپرد خاک کر دیا۔آپ کا آستانہ 1769ء میں افغانستان کے بادشاہ،فاتخ ہندوستان احمد شاہ ابدالی جس نے شاہ ولی اللہ کی دعوات پر ہندوستان پر حملہ کرکے فتح کیا تھااور ولیوں اور بزرگان دین سے عقیدت رکھتے تھے۔عالی شان طریقے سے بنایا ۔آج بھی افغانستان میں وہ جگہ زیارت ْ خواجہ اسحاق کے نام سے مشہور ہے اور خواجہ اسحاق ختلانی ِ خود شاہ شہید کے لقب سے معروف ہے۔شہادت کے بعد آپ کے بدن مطہر کو ختلان لے جایا گیا ۔ آج بھی کولاب اور ختلان کے درمیان ایک گاوں میں آپ کا عالی شان آستانہ واقع ہے صاحب ِتحفتہ الاحباب کے مطابق خواجہ اسحاق کا بدن مطہر موجودہ افغانستان کے صوبہ بلخ میں مسجد بلخ کے پہلو میں دفن ہے اور سر مبارک بدخشان میں سپرد خاک کیا گیا۔
اولاد
حضرت خواجہ کی تین اولاد کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے ۔دو بیٹے جن کو مرزا شاہ رخ کے سپاہیوں نے وادی تیر ی کے مقام پر اَسّی80 مرید صوفیوں کے ساتھ شہید کردہے تھےاور ایک بیٹی جو کہ عبد اللہ برزش آبادی کے عقد میں تھا۔

منابع و مآخذ

1. احوال آثار شاہ سید محمد نوربخش قہستانی ،ازخادم حسین پندوی ۔
2. تاریخ و تعلیمات سلسلہ نوربحشیہ (پی ایچ ڈی مقالہ) ، غلام مہدی ، یونیورسٹی آف کراچی ۔
3. تحفۃ الاحبات ، ملا محمد علی کشمیر ی ، ترجمہ : محمد رضا آخوندزادہ ۔
4. تذکرہ شاہ ہمدان سید علی ہمدانی، از ڈاکٹر سیدہ اشرف ظفر بخاری۔
5. خلاصۃ المناقب ، نورالدین جعفر بدخشی، ترجمہ ڈاکٹر سید ہ اشرف ظفر بخاری۔
6. طبقات نوریہ و احوال مشائخ نوربخشیہ از صوفی محمد بن ملّا محمد ،ترجمہ :محمد سلیمان کیلانی ۔
7. عظیم مجاہد حمد شاہ ابدالی ،تحقیق قیصر علی آغا ۔
8. کاروان نور فارسی، عبدلحی خاکروب (افغانستان)۔
9. کشف الحقائق ، میرسید محمد نوربخش ، نسخہ خطی
10. مثنوی اسرار شہود، شمس الدین اسیری لاہیجی
11. مقدمہ الافقہ الاحو ط، اردو ترجمہ : اعجاذ حسین غریبی۔
12. مکمل تاریخ اقوام کشمیر : محمد الدّین فوق