شب قدر کی اہمیت و وفضیلت


بسم الراللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید وفر قانہ الحمید،بسم اللہ الرحمن الرحیم ،
إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ۔ لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ ۔
(سورہ قدر )
ترجمہ: خداوندعالم قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ بیشک ہم نے قرآن کو قدرکی رات میں نازل کیا اور تم کو کیا معلوم کہ شب قدر کیاہے۔ شب قدر (مرتبہ وعمل میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
شان نزول،حکایت شمسون:سورۂ قدر کے شان نزول کے بارے میں دو اقوال منقول ہیں۔ ثعلبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول خداؐ نے اپنے ا صحاب سے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جس کا نام شمسون تھا اُس نے ہزار مہینے تک اپنے بدن سے ہتھیار جدا نہ کیا اور ہمیشہ راہ خدا میں جہاد کرتا رہا۔ اصحاب کو تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ ہماری عمریں قلیل ہیں اور اعمال تھوڑے ہیں ہمیں یہ توفیق کہاں نصیب ہوسکتی ہے۔ وہ غازی بنی اسرائیل نہایت قوی ہیکل اور شجاع و بہادر تھا۔ اس کے جہاد سے سب کفار عاجزولاچار تھے، ایک مرتبہ وہ لوگ اُس کی زوجہ کے پاس گئے اور مال دنیا کا لالچ دے کر اسے اس بات پر تیار کرلیا کہ وہ اُسے ہلاک کر دیں گی۔ اُس کی عورت نے ویسا ہی کیا، جب اُسکا شوہر سوگیا تو اُس نے نہایت مضبوط رسی اُس کے بدن میں لپیٹ کر اُسے باندھ دیا، جب وہ بیدار ہوا، سب رسیوں کوتوڑ دیا اُس عابد نے عورت سے کہا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے کہا تمہاری قوت آزمانے کے لئے۔ اب بتاؤ کس چیز سے تم باندھے جاؤ تو اُس کو توڑ نہ سکوگے؟ اُس نے کہا اگر میں اپنے سر کے بال سے باندھا جاؤں تو البتہ نہ توڑ سکوںگا اُس مکارہ نے ویسا ہی کیا، جب عابد بیدار ہوا تو توڑ نہ سکا، عورت دوڑتی ہوئی گئی اور کفار کو خبر دی، وہ سب آئے اور اپنی جگہ پر اُس غازی کو اُٹھا لے گئے۔ اُس کی آنکھوں کو نکال ڈالا۔ ناک اور کان کاٹ ڈالے۔ عابد نے درگاہ خدا میں فریاد کی۔ خدانے اُس کی آنکھوں کو درست کر دیا ، اعضائے بریدہ کو اسی طرح بنادیا اور قید سے خلاصی عطا کی، صحت وتندرستی کے بعد وہ عابد بادشاہ کے قصر کی طرف آیا اور ستونوں کو ہلایا ،بادشاہ قصر سے گرا اورمرگیا۔ پھر یہ غازی اُس کے لشکر کی طرف بڑھے اور سب کو قتل کردیا، اسی طرح ہزار مہینے تک راہ خدا میں جہاد کرتا رہا۔
خدا نے اپنے رسول ؐ کو خبردی ہے کہ اے رسولؐ! تم افسردہ خاطر نہ ہو ہم نے تمہیں اور تمہاری اُمت کو ایک شب ایسی عطا کی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ شب عبادت میں بسر کرے تو اس کا ثواب اُن ہزار مہینوں کے ثواب سے، جس میں شمسون نے کفار سے جہاد کئے تھے اُس کو زیادہ ملے گا۔
(یہی شان نزول معمولی فرق کیساتھ ،،تفسیر نور الثقلین ج ۵ ص۶۲۲، الدر المنثور ج۶ ص۳۷۱،بحوالہ رمضان المبارک تربیت اورانسان سازی کا مہینہ، لواعج الاحزان)
حضرت امام محمد باقر علیہ اسلام نے فرمایا:
من قرا انّا انزلنا فی لیلۃ القدر یجھد بھا صوتہ ،کشّاھر سیفہ فی سبیل اللہ ،ومن قراھا سرّاً ، کان کالمشحط بدمہ فی سبیل اللہ۔
(کافی ج۲ ص۶۲۱، تفسیر نور الثقلین ج۵ ص ۶۱۲بحوالہ رمضان المبارک ۔۔۔کتاب)
ترجمہ: جو بھی شخص سورۂ انا انزلنا کو بلند آواز کے ساتھ تلاوت فرمائیگا اس آدمی کے مانند ہے جوتلوار کو اٹھائے راہ خدا میں مشغول جہاد ہے۔ اور جو شخص اس کو چھپاکے (آہستہ) پڑھے گا اس شخص کے مانند ہے جو راہ خدامیں اپنے خون سے آ غشتہ ہوگیا ہو۔
قدر کے معنی وفوائد :قدر کا معنی لغت کے لحاظ سے کسی چیز کی انتہاء اوراس کی بنیاد تک پہنچنے کو کہتے ہیں۔ یعنی کسی چیز کی معرفت اور تشخص کو کمیت کے ذریعیپہنچاننے کو کہتے ہیں۔
(معجم مقائیس اللغۃ ج ۵ ص۶۲ ،الصحاح ج۲ ۷۸۶)
قدر اسم مصدر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اس صورت میںاس کا معنی مقدار اور معین میزان ہوگا۔ اتقدر کے معنی ،معین کرناہے۔ (التحقیق فی کلمات القرآن ج ۹ ص ۲۰۶)
بہر کیف خدانے فرمایا إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ الْقَدْرِ
ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، پس جاننا چاہئیے کہ قدر سے کیا مراد ہے بعضوں نے کہا ہے کہ قدر بمعنی منزلت ومرتبت کے ہیںیعنی اس شب کا بڑا مرتبہ ہے۔ جو شخص اس شب میں عبادت کرے اُس کی قدر زیادہ ہوتی ہے جو اعمال، اس میں بجالائے مثل نماز، زکوٰۃ، صدقہ خیرات خداکے نزدیک اُن کی قدر زیادہ ہے، اور بعضوں نے کہا اس سبب سے اس کا نام شب قدرہوا کہ اسی شب میں کتاب ذیقدر قرآن شریف نازل ہوئی۔ رسولؐ ذیقدر پر اُمت ذیقدر کے لئے ایسے فرشتہ کے ہاتھ سے کہ وہ بھی ذی قدر ہے۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ قدر کے معنی قضاء وحکم کے ہے یعنی جو کچھ سال آئندہ تک ہونے والا ہے مثل زندگی وموت، روزی وبیماری ،قحط وارزانی و غیرہ سب اسی رات میں مقدر کیا جاتا ہے جیسا کہ سورۂ دخان میں بھی خدانے فرمایاہے۔
إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ
ہم نے اس قرآن کواُتارا ہے برکت والی رات میں یعنی شب قدر میںکہ اس شب میں خداوند عالم خیر وبرکت رحمت ومغفرت نازل فرماتاہے۔
فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ
ہر حکمت والا کام اُسی رات میں مقررکیاجاتا ہے یعنی شب قدر میں ہرچیز کا اندازہ کر لیا جاتا ہے جواُس سال ہونے والی ہو خواہ وہ خیر ہو یاشر، عبادت ہو یا معصیت، ولادت ہو یا وفات ، اسی طرح رزق وغیرہ، اور یہ تقدیر و تنظیم بھی انسان کے اوپر اجباری نہیں ہیں اور اختیار کے سلب کرنے کے باعث نہیں بنتے ہیں۔ مگر ہر اندازہ میں مشیت خدا کو بڑاداخل ہے، اس کو اختیار ہے جتنا چاہے بدل دے۔ جیسا مناسب سمجھے لکھ دیئے جانے سے اُس کے اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے دعائیں مانگنے کا حکم ہے۔
شب قدر کونسی رات ہے:شب قدر وہ رات ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں تقریبا ایک سو کے قریب احادیث فریقین کی کتابوں اور تفسیروں میں موجود ہیں۔ جو اس رات کی عظمت اور اہمیت پر دلالت کرتی ہیں کلی طور پر قرآن مجید آیات اور احادیث سے شب قدر کے معین کرنے کے بارے میں جومطلب ہمارے ہاتھ میںآتا ہے وہ اس طرح ہے۔ ۱۔ شب قدر ماہ مبارک رمضان میں واقع ہے اور اس میں کوئی شک و تردد نہیں کیونکہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کوماہ رمضان میں نازل فرمایا:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ۔
(س بقرہ آیہ۱۸۵)
اور دوسری طرف سورہ قدر میں خدا نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ الْقَدْرِ
پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شب قدر ماہ رمضان میںواقع ہے اور اسی بات پر سارے مفسرین قرآن اور محدثین کا اتفاق ہے۔۲۔شب قدر ماہ رمضان مبارک کے آخری دس دنوں میں واقع ہے۔ اس سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں اور مفسرین اہل سنت وشیعہ دونوںکا نظریہ اس بات پر حتمی ہے کہ شب قدر آخری دس دنوںمیں واقع ہے۔
(الدر المنثور ج۶ ص۳۷۶، تفسیرنور ثقلین ج۵ ص۶۲۹)
لیلۃ القدر کا تعین:لیلۃ القدر کے بارے میں ابن الحدید اپنی شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیںکہ جب امیرالمومنین ؑ سے شب قدر کو معین کرنے کے بارے میںسوال کیا گیا تو حضرت نے فرمایا:
لیس اشک ان اللہ انمایسترھا عنکم نظر الیکم ،لانکم لو اعلمکموھا عملتم فیھا وترکتم غیرھا،وارجو ان لاتخطئکم ان شاء اللہ ۔
(شر ح نہج البلاغہ ج۲۰ ص ۱۵۴،بحارالانوار ج۹۴ ص۵،بحوالہ رمضان المبارک تربیت اورانسان سازی کا مہینہ ص۲۳۹)
ترجمہ :اس بات میں کوئی تردد اور کوئی شک نہیںکہ اللہ تعالی نے تمہارے مصلحت اورخاص عنایت کے لئے شب قدر کو مخفی رکھا ہے۔ کیونکہ اگر اعلان کیا جاتا کہ کونسی رات شب قدر کے رات ہے تو تم لوگ اسی رات کو عبادت کرتے اور دوسری راتوں کوترک کرتے میں بھی اسی الٰہی ارادہ و عنایت کی وجہ سے (تاکہ زیادہ سے زیادہ عبادت سے بہرہ مند ہو جاؤ )تم لوگوںکو محروم نہیںکرنا چاہتا ہوں۔
تا ہم صحیح مسلم میںحضرت عبداللہ بن عمر کی روایت میں ہیںکہ رسولؐ نے ارشادفرمایا:
فاطلبو ھا فی الوترمنھا،
یعنی لیلۃ القدرکو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
(تفسیر مظہری)
وہ تمام احادیث جو تعین شب قدر کے متعلق آئی ہیں، ان میں عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں ۲۱ ،۲۳،۲۵، ۲۷،۲۹ ویںراتوں میں لیلۃ القدر ہونے کا ذکر آیا ہے۔
البتہ ستائیسویں شب ، شب قدر ہونے کا زیادہ اور قوی احتمال ہے، جمہورعلماء کا یہی قول ہے اس حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے اس پر غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، سات آسمانوں کا ذکر فرمایا، سات زمینوں کا ذکر کیا، انسان کی پیدائش کے بھی سات مرحلے ہیں، زمین سے اُگنے والی چیزیں بھی سات بیان کی گئی ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر سات چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، بندہ نماز میں سجدہ بھی سات اعضاء پر کرتا ہے، بیت اللہ کے طواف کے بھی سات چکریں ہیں، منیٰ میں حجاج شیطان کو جو کنکریاں مارتے ہیں ، ان کی تعداد بھی سات ہے، بعض روایات میں اور باتوں کا بھی ذکر ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ ’’سبع مثانی‘‘ (یعنی سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہیں)نازل فرمائی۔ صفا و مروہ کی سعی کی تعداد بھی سات ہے۔
(تفسیر در منثور)
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے سات کے عدد سے استدلال کرکے ستائیسویں شب میں ’’لیلۃ القدر‘‘ ہونے کو ترجیح دی ہے۔
فضیلت شب قدر: حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہؐ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ ؐنے خطبہ ارشاد فرمایا؛ اے لوگو!تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ، ایسا ماہ مبارک جس میں ایک ایسی رات ہے(لیلۃ القدر) جو ہزار مہینوںسے بہتر ہے، (یعنی اس ایک رات میں عبادت کا اجر وثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ہے)۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:
من حُرمھا فقد حُرم الخیر کلہ و لایحرم خیرھا الا کل محروم،،
جوشخص شب قدر سے محروم ہوگیا،وہ گویا پوری بھلائی سے محروم ہوگیا، اور شب قدر کی خیر سے وہی محروم ہوتا ہے جوکامل محروم ہو۔
(حوالہ سنن ابن ماجہ)
حضرت امام علی ؑ فرماتے ہیں: جو شخص شب قدرکو درک کرے اور اس رات کوجاگ کر گزارے اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ کے گناہوں کو بخش دے گا۔
(بحارالانوارج ۹۷ص ۱۴۴ بحوالہ رمضان المبارک و تربیت انسان)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ لیلۃ القدر ‘‘ میں جبرائیل ؑ ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں اور ہر اس شخص کے لئے جو(اس رات) کھڑے یا بیٹھے اللہ کا ذکر کررہا ہو اور عبادت میں مشغول ہو، دعائے رحمت کرتے ہیں۔
(سنن بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے امام الانبیا ء، سیدالمرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد ؐ کی امت کو جسے قرآن کریم میں’’خیرامت، امت اوسط ‘‘کے بلند القابات سے یاد کیا گیا ہے آپ ؐ کے صدقے اور وسیلے سے یہ مقدس اور بابرکت شب عطا فرمائی ہے، امت محمد ؐ کوجن انعامات اور اعزازات سے سرفراز فرمایا گیا ہے، ان میںایک عظیم ترین انعامات’’ لیلۃ القدر‘‘بھی ہے اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضیت سے زیادہ ہے اسکی مقدار سالوںکے اعتبار سے تراسی سال چارماہ بنتی ہے جسے قرآن نے
لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ
سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ رات کن معنوں میں ہزار مہینوں سے بہتر اور افضل ہے ؟ اس بارے میںمفسرین کے متعدد اقوال ملتے ہیں، اس حوالے سے امام رازی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں لکھتے ہیں۔ عربی زبان میںکسی شے کی کثرت اور بہت بڑی تعداد کو ظاہر کرنے کے لئے ہزار کا لفظ استعمال کیا جاتاہے۔ لہٰذا یہاں شہر سے مراد ایک ہزار مہینے نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مقدس رات ہزار ہا مہنیوںاور سالوں سے بہتر ہے۔ اب فرض کیجیے کسی بندۂ مومن کو دس سال شب قدر کی عبادت نصیب ہوجائے تو اسے ۸۸۳ برس چار ماہ کی عبادت کا ثواب مل جائے گا اور بیس سال’’لیلۃ القدر‘‘ نصیب ہو تو ۱۶۶۶ سولہ سو چھیاسٹھ برس آٹھ ماہ کا اجر و ثواب ملے گا۔ بلاشبہ امت کو یہ فضیلت، یہ اعزاز و اکرام امام الانبیاء،سید المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ؐ کے صدقے اورآپ کے طفیل سے نصیب ہوا ہے۔ اس لحاظ سے اس امت کے عبادت گزار بندے اجر و ثواب میں پچھلی امتوں کے عبادت گزاروں پر سبقت لے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم انعام ہے کہااس پر اسکا جتنا شکرادا کیا جائے کم ہے اللہ عزوجل امت محمدیہ ؐ کے ہر فرد کو اس عظیم سعادت سے مسلسل اور باربار بہرہ ور فرماتارہے۔آمین! اس طرح جابر ابن عبد اللہ ؓرسول اللہ ؐسے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں صدق دل سے قیام کرے گا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے راتوں کو شب قدر سے زینت دی ہے اور اس کے نام شب قدر یوں ہو اکہ اس میں تقدیریں رزق اور عمریں سال بھر کی لکھی جاتی ہیں پس لیلۃ القدر راتوں میں سب سے بزرگ اوربر تر رات ہے۔
اس طرح ایک شخص رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا رمضان المبارک کی پہلی رات میں سوگیا اور عبادت سے غافل ہوگیا ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ تو ستائیسویں شب میں بیدار رہ کیونکہ وہ رات خدا تک پہنچا نے والی رات ہے قسم ہے اس ذات کی جس کی ہاتھ میں میری جان ہے جس شخص نے اس رات کو ذکر اور اوراد کے ساتھ زندہ رکھا ،اس کیلئے ، حج ،عمرہ اور جہاد کا ثواب ہے اتنی تعداد میں جتنے کہ اس کے جسم پر بال ہیں۔
اس طرح نبی کریم ؐ شب قدر میں عبادت کے اجروثواب بیان کرتے ہو ئے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں رات بھر عبادت الٰہی میں مشغول رہے اس کو اللہ تعالیٰ ضرورجنت میں داخل فرمائے گا اور میں اس کی نجات کا ذمہ دار ہوں اس کو ستر برس کی عبادت کا ثواب ملے گا اور اس کے نامۂ اعمال میں سات ہزار سال کی عبادت لکھی جائے گی اور جنت میں اس کیلئے ایک محل تیار کیا جائے گا ۔ جس کے ہزار دروازے ہوںگے اور ہر ایک دروازے پر ہزار خادم ہوں گے اور اسی طرح شب قدر میں جو شخص رات کو قیام کرے، بیدار رہے ان کے بارے میں رسول اکرمؐنے فرمایا کہ تمام راتوں سے افضل شب قدر ہے اور سب راتوں سے برُی رات قبر کی پہلی رات ہے ۔نہایت خوش قسمت وہ شخص ہے جو شب قدر میں عبادت ونوافل اور درود پڑھنے میںمشغول رہے تاکہ اس پر سے اللہ تعالیٰ قبر کی پہلی رات کی سختیاں دور کردے جو شخص اپنی قبر کو قیامت تک روشن اور نورانی رکھنا چاہتا ہے تو چاہئے کہ شب قدر میںرات بھر نماز وعبادت میں مشغول رہے۔
(حوالہ: تذکرۃ الواعظین)
اور اسی طرح رسول اکرم ؐ فرماتے ہیںکہ جبرئیل امین اُمت محمدیہ کی مغفرت کیلئے روئے زمین پر تشریف لاتے ہیں کہ کتاب لمعہ نورانی کے حوالہ سے تذکرۃ الواعظین میں نقل ہوا ہے۔ حضرت خالد بن رافع ؒ نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ جب شب قدر آتی ہے تو حضرت جبرئیل ؑ حسب حکم خداوندی فرشتوں کی ایک فوج لے کر زمیں پر اترتے ہیں ان کے ہاتھ میں ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے جس کو لاکر کعبہ کی پشت پر نصب کرتے ہیں۔ حضرت جبرئیل ؑ کے ستر ہزار بازو ہیں جن میں دو بازو ایسے ہیں کہ ان کو شب قدر کے سوا کبھی نہیں کھولتے۔ جب وہ بازو کھلتے ہیں تو مشرق سے مغرب تک پھیل جاتے ہیں۔ پس اپنے پروں کو پھیلا کر تمام فرشتے امت محمدیہ کیلئے دعائے خیر کرتے ہیں۔
اور ان لوگوں پر سلام بھیجتے ہیں جو شب قدر میں بیٹھے یا کھڑے حالت میں عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور ذکر خدا اورنوافل میں مشغول رہتے ہیں ان لوگوں کی دعاؤں پر سب فرشتے آمین کہتے ہیں۔ جب صبح ہوتی ہے تو حضرت جبرئیل ؑ سب فرشتوں کو واپس آسمان پر جانے کا حکم دیتے ہیں۔ فرشتے پوچھتے ہیں کہ اے جبرئیل ؑ یہ تو بتائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان نیک بندوں کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔ حضرت جبرئیل ؑ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب پر اپنی نگاہ رحمت ڈالے اور تمام امت محمدیہ ؐ کے گناہ معاف فرمائے۔ البتہ نو قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ آج کی رات بھی ناخوش رہا اور ان کے گناہ معاف نہیں فرمائے گا، وہ نو قسم کے لوگ یہ ہیں۔ )۱( جولوگ مال کی زکوٰۃ نہیں دیتے (۲) جولوگ ناحق قتل کرتے ہیں (۳) رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے جو کہ ان سے کچھ سلوک نہیں کرتے (۴) قبر ستان میں جاکر ہنسنے والے (۵) لگائی بجھائی کرنے والے (۶) ظلم کرنے والے (۷) استاد کو تکلیف دینے والے (۸) نماز میں سستی کرنے والے (۹) تین دن سے زیادہ مسلمان بھائی کی طرف سے دل میں کینہ رکھنے والے۔
لیلۃ القدر کے معمولات:جس بندے کو لیلۃ القدر نصیب ہواور اس کے باوجود توبہ و استغفارو مناجات ،طلب مغفرت اور عبادت سے محروم رہ جائے ،اس سے بڑا کوئی محروم نہیں ہوسکتا ،حضرت انس بن مالک ارشاد فرماتا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پررسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا، وہ ساری خیر سے محروم رہا اور محروم کے علاوہ کوئی شخص اس خیر سے محروم نہیں ہوسکتا۔
(مشکوۃ ج۱،ص۱۷۳)
لیلۃ القدر میں تلاوت قرآن، نوافل کی ادائیگی، توبہ واستغفار، درود شریف، دعا ومناجات اور اوراد، واذکار میں مشغول رہتے ہوئے شب قدر کی رات بیداری میں مصروف رہنا چاہیے تاکہ لیلۃ القدر کا کوئی بھی لمحہ عبادت سے غفلت میں نہ گزرے، شب قدر کے حصول کا سب سے بہترین اور مؤثر ذریعہ اعتکاف ہے جو بندہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سعادت حاصل کرلے وہ یقینی طور پر لیلۃ القدر اور اس کے اجر و ثواب کو پالے گا ،شب قدر کے حصول کے لئے اعتکاف سے زیادہ حتمی اور یقینی ذریعہ اور کوئی نہیں ہے اور شب قدر کاآخری حصہ تجلیات الٰہی کے متوجہ ہونے کا خاص وقت ہے، یہ توبہ و مناجات ، دعا اور طلب مغفرت کے قیمتی لمحات ہیں دل کی سچی ندامت اور آئندہ کے لئے گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد توبہ کی حقیقت ہے ایسی توبہ بندگانِ خداکو گناہوں کے مہلک اثرات سے اس طرح پاک وصاف کردیتی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو، نبی صادق امین ؐ کا ارشاد گرامی ہے،
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ،
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔

رسول اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے : بے شک ،توبہ کا ایک دروازہ ہے جو اتنا بڑا ہے کہ اس کے دونوں کواڑوں کے درمیان مشرق ومغرب جتنا فاصلہ ہے، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیںہوتا، تب تک یہ دروازہ بند نہ ہوگا۔
(طبرانی المعجم الکبیر)
البتہ علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں توبہ کی قبولیت کے لیے چند شرائط ذکر کئے ہیں۔ ۱۔یہ کہ وہ گناہ سے فوراً باز آئے۔۲۔ کئے ہوئے عمل(گناہ) پر ندامت ہو۔ ۳ ۔مصمم ارادہ کرے کہ آئندہ یہ فعل انجام نہیں دوںگا۔ ۴۔ اگر کسی پر ظلم کیا ہے، یا اسکے ذمے کسی مظلوم کا حق ہو تو اسے چاہیے کہ اُسے معاف کرالے یا اس کا حق ادا کردے۔
رسول اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے، بے شک اللہ عزوجل رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلا تا ہے تاکہ دن کاگناہ گار توبہ کرلے (تاکہ وہ اسے قبول فرمالے)اور دن میں اپنا مبارک ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ گار توبہ کرلے (اللہ تعالیٰ ایسا جاری رکھے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
(نووی،شرح صحیح مسلم)
توبہ اور گناہوں پر ندامت کا اظہار لیلۃ القدر کی شب بیداری کیلئے بہترین رات ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ! آپؐ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جو اپنی جانوں پر (گناہ کرکے) زیادتی کر بیٹھے ہیں، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا، بے شک، اللہ تعالیٰ سب گناہ معاف فرمادیتا ہے، یقیناً وہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والاہے۔
(سورۃ الزمر)
البتہ توبہ کے لیے اظہارندامت اور ’’توبہ النصوح‘‘ سچی توبہ ہونا ضروری ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ تو گناہوںپر پردہ پوشی کرنے والا، بندوں کے لیے جائے پناہ، بہت زیادہ معاف کرنے والا، درگزرکرنے والا اور بندوں کی توبہ قبول کرنے والا اور بندے کے اس عمل سے راضی اور خوش ہونے والا ہے۔ شرط صرف اعتراف بندگی اور اظہار ندامت کی ہے بقول اقبال:
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
موجودہ حالات میں ہر شخص مضطرب ،پریشان اور بے چین نظر آتا ہے ،ملک و ملت کو آج بے پناہ مسائل ،آفات ارضی وسماوی کا سامنا ہے ، ایسے میںہمارے دکھوں ، تکلیفوں اور پریشانیوں کا حل صرف اورصرف اس پیغام رشد و ہدایت کی پیروی میں پوشیدہ ہے ، جو سراسر خیر اور سلامتی پر مبنی ہے، اسی نسخہ کیمیا قرآن کریم کی اتباع اور پیروی میں انسانیت کے لیے امن اور سلامتی کا راز پوشیدہ ہے جو خیر اور سلامتی کی بابرکت شب میں رحمۃ للعالمین ؐ پرنازل ہواہے۔

نماز شب قدر
رمضان المبارک کی چھبیسویں اور ستائیسویں کی درمیانی رات نماز شب برات کی طرح سو رکعت پچاس سلام کے ساتھ نماز شب قدرپڑھی جائے۔ ہر ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورہ قدر تین مرتبہ اور سورۂ اخلاص دس بار پڑھی جائے۔
اگر چار رکعات دو سلام کے ساتھ پڑھی جائے تو ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر تین مرتبہ ،سورۂ اخلاص پچیس مرتبہ پڑھیں۔ نیت یہ ہے
اُصَلِّیْ صَلوٰۃَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ رَکْعَتَیْنِ قُرْبَۃً اِلَی اللّٰہِ ۔
دعوات صوفیہ امامیہ، تحفہ نوربخشیہ، فلاح المومنین