صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

قائن کا سفر


بسم اللہ الرحمن الرحیم
قائن کا سفر

تحریر: سید بشارت حسین تھگسوی
thagasvi1992@gmail.com

سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد میں سے ایک فائدہ دنیا کے مختلف کونوں میں موجود محققین اور علمی لوگوں سے رابطہ ہونا بھی ہے ۔ گذشتہ دو تین سالوں میں بہت سارے صاحبان علم سے آشنائی ہوئی ہے ۔ انہیں محققین میں سے ایک جن سے سوشل میڈیا [فیسبک] کے ذریعے رابطہ ہوا سید محسن سعید زادہ صاحب ہیں ۔ آپ سے تعلقات کا محور حضرت میر سید محمد نوربخش قدس سرہ کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات تھیں ۔ جب راقم کا تھیسس “سید محمد نوربخش سے منسوب ادعای مہدویت کا تنقیدی جائزہ ” مکمل ہوکر اس کا ٹائٹل فیس بک پر دیا تو آقای سعید زادہ نے تحقیق کو پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جب راقم نے تحقیق ارسال کیا تو انہوں نے اظہار محبت فرماتے ہوئے سید محمد نوربخش اور ان کی اولاد سے متعلق مزید تحقیق کے لئے شاہ سید محمد نوربخش کی پیدائش کی جگہ شہر قائن آنے کی خصوصی دعوت دی۔ ایام نوروز کی چھٹیوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے راقم نے قائن کے سفر کا ارادہ کیا ۔لہذا سفر کے روداد سے پہلے شہر قائن کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے :
قائن
قائن ایران کے صوبہ خراسان جنوبی کا ایک اہم شہر ہے ۔ یہ مشہد مقدس سے ۴۱۱ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ دو سال پہلے کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی ۴۲۳۲۳ لوگوں پر مشتمل ہے ۔پوری دنیا میں ایران کا زعفر ان مشہور ہے لیکن خود ایران میں قائن کو پایتخت زعفران یعنی زعفران کا دارالحکومت کہا جاتا ہے ۔ یہ شہر جہاں زعفران اور زرشک کی پیدوار کے حوالے سے مشہور ہے وہاں آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی کافی معروف ہے ۔
مسجد جامع
یہاں پر مسجد جامع کی قدیم تعمیر ہے جس کی بنیاد ۷۹۶ ھ میں رکھی گئی تا ہم ۱۰۸۶ھ میں اس کی مرمت ہوئی ۔ وہاں پر نصب کتبے کے مطابق آٹھویں صدی ہجری میں امیر جمشید ابن قارن نایینی نامی ایک گورکانی سردار کے ذریعے اس کی تعمیر ہوئی تھی ، لیکن بعض تاریخی کتابوں میں یہ احتمال دیا گیا ہے کہ اس کی تعمیر پانچویں صدی ہجری میں ہوئی ۔
بزرگ مہر اور شیخ ابو المفاخرکے مقبرے
قائن کی جنوب کی طرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑ کے اوپر چوتھی صدی ہجری کے مشہور سیاستدان، عارف اور شاعر قسیم ابن براہیم منصور المعروف بزرگ مہر قائنی کی قبر ہے ۔ تاریخی شواہد کے مطابق چھٹی اور ساتویں صدی ہجری میں اس مقبرہ کی تعمیر ہوئی ہے ۔ اس مقبرہ کی عمارت شہر قائن کی خوبصورت اور دیدہ زیب عمارتوں میں سے ایک ہے ۔ بزرگ مہر کی اولاد اب بھی”نوری ابوذری” خاندان کے نام سے شہر قائن میں موجود ہیں ۔ایران کے مشہور حکیم اور دانشمند شیخ ابو المفاخر کا مقبرہ بھی ابولخیری قبرستان میں موجود ہے ۔ وہ اپنے زمانے میں عقلی اور نقلی علوم کے ماہر لکھاری سمجھے جاتے تھے ۔ان کا مقبرہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے ۔
قلعہ کوہ
شہر قائن سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی پر بنا یہ قلعہ” قلعہ حسین قائنی” یا عرف عام میں “قلعہ کوہ “کہلاتا ہے ۔ یہ قلعہ سلجوقیوں کی حکومت میں حسن صباح کے سردار قاضی حسین قائنی کے حکم پر بنایا گیا تھا ۔ یہ قلعہ شاہ دژ نہبندان کے بعد خراسان جنوبی کا دوسرا بڑا قلعہ ہے اور کئی سالوں تک قہستان کی حکومت کا مرکز رہا ہے ۔قلعہ کوہ تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں امیرکی رہائش ، فوجیوں کی جگہ اور گھوڑوں کا اصطبل شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ تیس مضبوط ستونوں کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں کے آثار قدیمہ میں، خانہ موسوی [موسوی گھر ]،خانہ سلطانی [سلطانی گھر]،غار خونیک اور قلعہ چہل دختر وغیرہ مشہور ہیں۔
قائن کی اہمیت
جیسا کہ اوپر عرض کیا قائن آثار قدیمہ اور زعفران اور زرشک کے پیداوار کے حوالے سے ایک با اہمیت شہر ہے لیکن میرے لئے اس کی اہمیت کا معیار کچھ اور ہے ۔ ہر ایک کی نگاہ الگ الگ ہوتی ہے ۔ میری نگاہ میں قائن اس لئے با اہمیت ہے کہ یہاں پیر و مرشدا ور مجتہد حضرت شاہ سید محمد نوربخش نور اللہ مرقدہ کی پیدائش ہوئی ہے اور قم سے خصوصی طور وہاں جانے کا مقصد بھی یہی تھا۔ شاہ سید محمد نوربخش رحمۃ اللہ علیہ پر اب تک تحقیق کرنے والے تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی جائے پیدائش شہر قائن ہی ہے ۔ قائن چاروں طرف پہاڑوں میں ڈھکا ہوا شہر ہے ۔کوہستانی اس سلسلے کو قہستان بھی کہلاتا ہے اسی لئے سید محمد نوربخش کے نام کے ساتھ بعض نے “قائنی ” اور بعض نے ” قہستانی ” کا لقب استعمال کیا ہے ۔
کلاتہ سعید گاوں
یہ گاوں شہر قائن کے شمال کی جانب تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد پہاڑوں کے درمیان موجود ہے ۔ اس گاوں میں شاہ سید محمد نوربخش کا بھانجا معروف ولی اللہ حضرت قطب الدین ابن علی کا مقبرہ موجود ہے ۔ سید قطب الدین کے حوالے سے شاہ سید محمد نوربخش نے رسالہ صحیفہ اولیاء میں خصوصی تذکرہ کیا ہے اور انہیں عارف اور ولی اللہ کی فہرست میں شمار کیا ہے ۔
باراز گاوں
کلاتہ سعیدسے اوپر تقریبا پانچ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاوں میں سب سے پہلے ہماری ملاقات سید علی اکبر نوربخش سے ہوئی ۔ پینسٹھ سالہ یہ بزرگ حضرت شاہ سید محمد نوربخش کی نسل سے ہیں ۔ اس گاوں میں ایک تاریخی مسجد بھی ہے جس کی بنیاد سید محمد نوربخش کی نسل سے آنے والے بزرگ میرزا یحیی نوربخش نے ۱۰۷۵ ھ میں رکھی ہے ۔ اس مسجد سے مزید تین کیلو میٹر آگے پہاڑِی پر “دوپیر” کے نام سے دو مقبرے زیر تعمیر ہیں ۔ قائن کے محقق ہمارے دوست سید محسن سعید زادہ کے مطابق ایک قبر سید محمد نوربخش کی بہنوی سلطان علی کی ہے جبکہ دوسری قبر شاہ سید کا بھانجا سید زین العابدین ابن علی کی ہے ۔
بلوار نوربخش
جیساکہ پہلے عرض کیا تمام محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت میر سید محمد نوربخش کی پیدائش قائن میں ہوئی ہے ۔ اسی مناسبت سے ابھی بھی معروف حکیم و شاعر بزرگ مہر کی قبر پر جاتے ہوئے ایک طویل سڑک سید محمد نوربخش سے منسوب ہے اس چوک پر شاہ سید کی حالت زندگی مختصر طور پر ان الفاظ میں مکتوب ہے :
مشہور عارف سید محمد نوربخش
آپ ۷۹۵ ہجری قمری میں شہر قائن میں پیدا ہوئے ، سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور انتہائی کم عرصے میں تمام علوم میں ماہر ہوگئے ۔ آپ کا نسب سترہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ملتا ہے ۔ تحصیل علوم کے لئے قائن سے عراق کے شہر حلہ کی طرف سفر کیا وہاں پر مشہور مجتہد و عالم احمد ابن علی المعروف علامہ حلی سے کئی سال کسب فیض کیا ۔ خواجہ اسحاق ختلانی نے ایک خواب کی بنیاد پر آپ کو “نوربخش ” کا لقب دیا۔ سید محمد نوربخش نے فرقہ نوربخشیہ کی بنیاد رکھیں آپ کے ارشاد و تبلیغ سے قائن کے ہزاروں لوگ اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار بنے ۔ آپ میرزا شارخ تیموری کے حکم پر کئی بار گرفتار ہوئے لیکن نے آپ نے تبلیغ دین سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ آج بھی ان کی تعلیمات ہندوستان ، پاکستان اور ایران میں باقی ہیں ۔ یہ مشہور عارف ۷۴ سا ل کی عمر میں جمعرات کے دن ۱۴ ربیع الثانی ۸۶۹ ہجری قمری کو سالقان میں اس دنیا سے چل بسے ۔ آپ کا آرامگاہ آج بھی بہت سارے عاشقوں کا زیارت گاہ ہے ۔

نوربخشی سادات کا مرکز
سید محمد نوربخش کی بعض اولاد باراز گاوں کے میں موجود ہیں جبکہ شہر قائن کے اندر ایک مسجد موجودہ نوربخشی سادات کا مرکز ہے اور اس مسجد کے انتظامات نوربخشی سادات کے ہاتھ میں ہیں ۔ جب راقم محقق سعید زادہ کے ساتھ اس مسجد میں پہنچا تو عشاء کی نماز ہورہی تھی ۔ نماز جماعت کے بعد وہاں کے لوگوں کے اصرار پر راقم نے مختصر تقریر میں ہندوستان و پاکستان میں موجود شاہ سید محمد نوربخش کے پیروکاروں کے احوال اور ان کی عملیات کے بارے میں بتایا تو وہاں پر موجود نوربخشی سادات نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ۔ وہاں پر خاندان نوربخشی کے بزرگ سید حسن نوربخش اور سید حسین نوربخش ہمارے ساتھ اردگرد کے تمام مقبروں پر بھی گئے ۔
دو اہم کتابوں کا حصول
اس سفر میں جہاں شاہ سید محمد نوربخش نوراللہ مرقدہ کی نسل موجودہ سادات ،ان کے خاندانی بزرگوں کے مقبرے ، میر سید محمد نوربخش رح سے منسوب سڑک اور دیگر اہم تاریخی مقامات دیکھنے کا موقع ملا وہاں پر ان بزرگوں کی حالات زندگی سے متعلق دو اہم کتابیں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا:
۱۔ بہارستان
یہ کتاب آیت اللہ حاج شیخ حسین آیتی کی لکھی ہوئی ہے ، یہ پہلی بار ۱۳۲۷ شمسی بمطابق ۱۹۴۸ ء میں منظر عام پر آئی ہے ، دوسری دفعہ یہ ۱۳۷۱ شمسی بمطابق ۱۹۹۲ ء میں فردوسی یونیورسٹی مشہد کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے ۔ یہ کتاب حقیقت میں قائن اور اس کے اطراف میں موجود شہروں اور ان علاقوں کی اہم شخصیات کے حوالے سے لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب میں شاہ سید محمد نوربخش، شاہ قاسم فیض بخش، شاہ سید کے بھائی سید احمد ، سید جعفر نوربخش ، سید شاہ رضا نوربخش کی حالات زندگی بھی درج ہیں ۔ یہ کتاب مجھے حجت السلام شیخ محمد کوہی نے تحفہ دیا۔
۲۔ بزرگان قائن
دوسری اہم کتاب “بزرگان قائن ” ہے اس کا مصنف ہمارے نہایت قابل احترام دوست اور قائن میں ہمارا میزبان اور معروف محقق جناب سید محسن سعید زادہ کی تصنیف ہے اور انہوں نے ہی ہمیں ہدیہ کیا ۔ یہ کتاب ۱۳۶۹ شمسی بمطابق ۱۹۹۰ء میں انتشارا ت ناصر قم ایران کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے ۔ اس کتاب میں بھی قائن کے بہت سارے بزرگان اور اہم شخصیات کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس میں شاہ سید محمد نوربخش کی اولاد سید جعفر نوربخش ، شاہ قاسم کے بیٹے ایران کے مشہور حکیم حسن بہاءالدولہ نوربخش، شاہ رضا نوربخش، شاہ شمس الدین نوربخش، صفی نوربخش، قوام الدین نوربخش، شاہ قاسم قوام الدین نوربخش کی حالات زندگی بیان ہوئی ہیں ۔
اس کے لئے سید محسن سعید زادہ نے اپنے پچیس سالہ تحقیقاتی کاموں کی روشنی میں “احوال ،آثار و اولاد سید محمد نوربخش ” کے عنوان سے فارسی میں ایک کتاب بھی تیار کررکھا ہے تا ہم یہ ابھی شائع نہیں ہوئی۔ لیکن انہوں نے راقم سے محبت فرماتے ہوئے غیر مطبوعہ نسخہ عنایت فرمایا۔

سفر کااختتام
تقریباً چھبیس گھنٹے سیر و سیاحت اور بزرگوں کی زیارت کے بعد بہت ساری یادیں اور تمنائیں دل میں لیے قائن سے مشہد مقدس کی طرف واپسی ہوئی ۔ یہاں پر بزرگان دین کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی زیارت سے فیض یاب ہونے کے بعد قم المقدسہ واپس آیا ۔
اظہار تشکر
اس اہم تحقیقی سفر کے لئے تاکید کرنے اور کمک کرنے والے ایک محترم ساتھی اور دوست کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، قائن کے محقق حجت السلام سید محسن سعید زادہ کی محبتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ۔ وہاں پر جناب سعید زادہ کے تحقیقی ساتھی حجت السلام محمد کوہی نے بھی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑِی ۔ دعا ہے کہ خدا ان کی تمام حاجتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے ۔ آمین