قربانی کے احکام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قربانی کا حکم
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ “پس تُو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر”۔
اِنحَر: یہ امر کا صیغہ ہے اور نحر کرنے کے حکم میں ہے۔
اس آیات مبارک کے نزول سے قبل حضور نبی اکرمﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو ارشاد ہوا کہ اپنے لخت جگر حضرت اسمٰعیل کو نحر کرے تبھی حضرت ابراہیم نے فرمایا
يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ”

میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے بیٹے نے جواب دیا کہ والد مجترم جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے”۔
یہاں ایک چیز کی وضاحت کروں کہ انبیاء کے خواب اور ہمارے خواب میں آسمان زمین کا فرق ہے۔انبیاء کی خواب وحی کی اقسام میں سے ایک ہے۔ کیونکہ انبیاء کی آنکھیں بند ہوتی ہیں مگر ان کی روح اور دل بیدار ہوتے ہیں۔ بہر حال انبیاء کے خواب کا وحی کی اقسام میں سے ہونے کی دلیل خود حضرت اسمٰعیل کا ارشاد ہے کہ اے میرے باپ آپ اس کام کو کرے “مَا تُــؤْمَرُ”جو آپ کو حکم ہوا ہے۔
یہاں لفظ امر استعمال ہوا ہے اور امر کی اطاعت واجب ہے۔یہاں ایک اہم قابل توجہ بات ہے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم سے آنکھوں کا نور، دل کا سرور، قوت بازو، لخت جگر، نبی ابن نبی کی قربانی کی بات کی ہے۔ اللہ کے حکم کے سامنے باپ، بیٹا ماں سبھی نے اطاعت الہٰی میں سر تسلیم خم کیا۔ کوئی ججھک اور تاخیر کا مظاہرہ نہیں کیا۔امنا و صدقنا کہا۔ اس صدق دل سے ادا ہونیوالی فرمانبرداری کو اللہ نے قبول کیا۔ رب کریم نے حضرت ابراہیم سے فرمایا اے ابراہیم تو نے اپنی خواب کی تعبیر کو سچ کر دکھایا۔
“وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ”
بس اس قربانی کے بدلے آپکی اولاد میں سے آخر میں قربانی لیا جائے گا۔ اس قسم کی قربانی انبیاء ہی دے سکتے ہیں یا وارث انبیاء(ائمہ)۔
وضاحت: اگر ہم انبیاء کی ملت پر قائم ہیں تو انبیاء جیسی قربانی نہ سہی لیکن اس سے کم ہلکی پھلکی قربانی تو دے سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں اللہ نے ہماری حیثیت، طاقت، ایمان، خلوص اور صدق دل کی مطابق قربان کا تقاضا کیا ہے۔ جو کہ مال مویشی کی قربانی ہےاسی کو سنت ابراہیمی قرار دیا گیا ہے۔ اس قربانی کے بارے میں اللہ نے خود ارشاد فرمایا
” قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ”
فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے”۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
” لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي”
اللہ تعالٰی کو قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا نہ ہی ان کا خون خدا تک پہنچتا ہے بلکہ اس ذات تک تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے”۔

تقویٰ ہی ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ کی قرب حاصل کرتا ہے پھر حیلہ و بہانہ چہ معنی دارد

لمحہ تفکر:
قارئین! اگر حضرت ابراہیم نے اللہ کے راہ میں حضرت اسمٰعیل کی قربانی دی ہے تو سوچنے کہ بات یہ ہے حضرت اسمٰعیل ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک تھے “کہہ دے کہ اللہ کی ذات بے عیب اور پاک ہے” اس لئے اللہ تعالیٰ پاک چیز کو پسند فرماتے ہیں۔ تو ہمیں چاہئے جو چیز اللہ کی خوشنودی کے لئے دی جا رہی ہو اسے پاک صاف اور بے عیب ہونی چاہئے۔ کیا ہی عجیب بات ہوگی کہ ہم نفیس، خوبصورت اور صاف ستھری بےعیب چیز اپنے لئے رکھے اور اللہ کی راہ میں نقص زدہ کھوٹی چیز دے۔ تو کیا ایسی قربانی قبول ہوگی؟

قربانی کے جانور کے حوالے سے ضروری وضاحت بحوالہ الفقہ الاحوط:
“قربانی کے لئے عیب والا جانور جائز نہیں ہے۔ مثلاً ہاتھ، پیر، کان، ہونٹ وغیرہ کٹا ہوا ہو۔ بینائی سے محروم، انتہائی کمزور، لنگڑا، کانا، خارش زدہ، شل اعضاء والا وغیرہ کا نہ ہونا لازم ہے۔ بہتر ہے قربانی کا جانور خوبصورت ہو، سینگ والا ہو جسم فربہ ہو۔ رسولﷺ ہمیشہ پرگوشت، تونا، سینگ والا ۲دو مینڈوں کا قربانی کیا کرتے تھے”۔

امتیازی حالت:

فقہ الاحوط کے مطابق بکری اور بھیڑ ایک سال کا جبکہ بکرا اور گائے دو سال کا اور اونٹ تین سال کا ہونا ضروری ہے۔اس سے کم عمر والے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔
باقی مسالک کی نسبت فقہ احوط میں بکرا دو سال کا کہا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ بھیڑ چھ

۶ مہینے کا ہو تو قربانی جائز ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے چاہے جسامت کے لحاظ سے کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو۔
تعداد مشارکت:
بھیڑ بکری کی قربانی صرف ایک شخص کی جانب سے ہو سکتی ہے جبکہ گائے میں سات ۷ افراد حصہ لے سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔
یہ بھی کہتے سنا ہے کہ کچھ نہیں ہے تو مرغی ذبح کرے جبکہ ایسا بھی جائز نہیں ہے۔ اگر قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ہے تو دو رکعت نماز بدل قربانی ادا کرے۔
اگر گائے قربان کرے تو اس میں مرد اور عورت دونوں شریک ہو سکتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ بھی کہتے سنا ہے کہ ایک اونٹ کی قربانی میں ستر ۷۰ افراد تک شریک ہو سکتے ہیں تو فقہ احوط اور دیگر نوربخشی کتابوں میں ستر ۷۰ والی بات کہیں نظر نہیں آیا ماسوائے فلاح المومنین کے۔ لیکن فلاح المومنین میں یہ بھی لکھآ ہوا ہے کہ قربانی کے لئے بکرا ایک سال کا ہو۔ جبکہ فقہ احوط کے مطابق بکرا دو سال کا ہونا ضروری ہے۔ تو فلاح المومنین اور فقہ احوط کا اس حکم میں تضاد ہے۔ ہمارے لئے فقہ الاحوط درست اور مستند ہے۔
اونٹ میں بھی سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں اس سے زیادہ جائز نہیں۔

تقسیم گوشت:
قربانی عید کی نماز سے پہلے جائز نہیں ہے۔ ایسا کیا تو قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ قربانی عید کی نماز کے بعد پروقار طریقے سے افراد کو جمع کر کے تکبیر پڑھتے ہوئے سنت ابراہیمی کے فرائض کو بجا لانا ہے۔ ذبح کرتے وقت دعا کرے۔ یہ وقت مستجاب دعا کا ہے۔
ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ عام ہے کہ قربانی کے جانور کے خون کو دیوار پر گرا کر سال بھر رکھا جاتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ ذبح کا خون ناپاک ہے ناپاک چیز گھر پر پڑا رہنے سے ثواب اور برکت کیسے آئے گی؟
اگر دسویں تاریخ کو قربانی کا جانور نہ ملے تو گیارہ اور بارہ تاریخ کو عصر تک قربانی ہو سکتی ہے۔
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا سنت ہے۔ ایک حصہ غریبوں کے لئے، ایک حصہ رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ گھر کے افراد کے لئے۔
بہر حال یہ دن بہت بڑا عظمت والا دن ہے۔ اس میں عبادات، تسبیح و تحلیل بکثرت کیا کرے۔
اللہ ہم سب کو اس عظیم سنت کو انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانی قبول ہو۔ آمین
تحریر: پروفیسر سید حسن شاہ شگری