مختصر حالات زندگی حضرت امام سید محمد نوربخش ؒ


مختصر حالات زندگی
حضرت امام سید محمد نوربخش
نور اللہ مرقدہ اعلیٰ اللہ مقامہ
تحریر: اعجاز حسین غریبی
ابتدائی زندگی
نام :سید محمد ، لقب :نوربخش ، والد :عبدا للہ ، بروز جمعرات ۱۴ شعبان ۷۹۵ ھ ہجری قصبہ قائن میں پیدا ہوئے ۔ آپ سترہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام سے جاملتے ہیں ، آپکے والد بزرگوار نے دنیا سے قطع تعلق کرکے تجرد کی زندگی بسر کی ۔ سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ مختصرمدت میں علوم ظاہری وباطنی میں متبحر ہوگئے ۔علوم شریعت ظاہری علوم وقت کے بزرگ عالم دین حضرت شیخ احمد ابن فہد حلی علیہ الرحمہ  سے حاصل کیئے سلوک طریقت میں حضرت خواجہ اسحاق ختلانی کے دست حق پرست پر بیعت کی جوکہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی  رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے ۔
مرید کے مرشد بننے کا انوکھا واقعہ
قلیل مدت میں طریقت ،حقیقت ومعرفت کی منزلیں طے کیں اور اپنی قابلیت واستعداد کی بناء پر واصلین حق کی صفت میں شامل ہوگئے ۔آپ کے مرشد حضرت خواجہ کااسحاق ختلانی  علیہ الرحمہ نے اپنے ایک خواب کی بناء پر آپ کو ’’نوربخش‘‘کا لقب دے دیا۔ شیخ محمد لاہیجی نے اسرار الشہودمیں یو ں بیان کیا ہے ۔
آمدہ از غیب نامش نوربخش
بودچوں خور شید ذاتش نوربخش
ترجمہ :یعنی آپ کا لقب غیبی اشارے کے تحت نوربخش رکھا گیا ۔اس لئے کہ آپ کی ذات سورج کی طرح نوربخشنے والی تھی ۔
حضرت خواجہ اسحاق نے نوربخش کا لقب دینے کے بعد حضرت میر نوربخش کی بیعت کی ۔اپنے شاگردوں اور مریدوں کوبیعت کرنے کا حکم دیا اور سید علی ہمدانی  علیہ الرحمہ کا آخری خرقہ خود اپنے ہاتھ سے پہنا کر مسند ارشاد پر بٹھایا ۔امور خانقاہ وسالکین کو ان کے حوالے کردیا ۔اور فرمایا کہ جس کو دعویٰ سلوک ہو وہ حضرت میر نوربخش سے رجوع کرے ۔اگرچہ وہ ظاہر ا ہمارے مرید ہیں لیکن حقیقتا وہ ہمارے پیر ہیں ۔
تبلیغ رشد کی ابتداء
جمعہ  ۸۴۶؁ھ کو شہر ختلان کے کوہ تبری پر آپ نے طریقت کی رسم کے مطابق مخصوص لباس پہنا ،سیاہ عمامہ باندھااور دعوت حق دی لوگوں سے بیعت لینا شروع کی ۔ذکر واذکار ،ریاضت ومجاہدات کی تبلیغ کرنے لگے ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مرزاشارخ بن تیموراپنے باپ کی وسیع سلطنت کے ایک حصہ پر کئی برس سے قابض ہوچکا تھا ۔ آپ  علیہ الرحمہ  کے ہزاروں مریدین نے بیعت لینے کے بعد مرزا شاہ رخ کا رخ کیا اور انہیں دعوت حق دیدی۔
مرزا شاہ رخ کی معاندانہ کارروائیاں
 ختلان کا حاکم سلطان بایزید کو جب حضرت خواجہ اسحق ختلانی  علیہ الرحمہ  اور سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ  کی جانب سے بیعت لینے کی اطلاع ہوئی تو آپ  علیہ الرحمہ  کو ایک جماعت سمیت گرفتار کرکے ہرات روانہ کردیا ،  اسی دوران گرفتاری اور روانگی سے مرزا شاہ رخ کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا ۔ اس نے قاصد کو یہ حکم دے کر روانہ کیا کہ جہاں بھی کارواں سے ملاقات ہو جائے۔ حضرت خواجہ اسحق ختلانی  علیہ الرحمہ  ، ان کے بھائی اور حضرت میر نوربخش  علیہ الرحمہ تینوں کو اسی جگہ قتل کیا جائے ۔ اس حکم کے ساتھ ہی اس کے پیٹ میں ایک پراسرار درد نے آلیا ۔
دوسری بار گرفتاری
قتل کے ارادے کو بھانپ کر آپ  علیہ الرحمہ  کاروان سے بوجوہ الگ ہوئے اور مسلسل کئی دن تک پہاڑوں کا سفر کرنے کے بعد آبادان پھر خلخال پہنچے جہاں سے وقت کے گورنر نے دوبارہ گرفتار کرکے مرزا شاہ رخ کے پاس روانہ کردیا۔ حکم ہوا کہ جناب نوربخش علیہ الرحمہ  کو  تنگ وتاریک کنویں میں قید کیا جائے ۔۵۳دن کے بعدکنویں سے باہرنکالاگیااور قید لایا گیا ۔ ہرات پہنچے تو حکم دیا گیا کہ جمعہ کے دن منبر پر سے سر عام حکومت کے حصول سے اظہار برأت کرے۔ چنانچہ حضرت میر نوربخش  علیہ الرحمہ  اسی طرح پابہ زنجیرمنبر  پر آئے اور فصاحت و بلاغت کیساتھ خطبہ دیا اور  فرمایا کہ لوگ اس فقیر کے متعلق کچھ باتیں منسوب کرتے ہیں ۔اگر میں نے کہی ہیں تو بھی اگر نہیں تو بھی میں اللہ سے رحم کی درخواست کرتا ہوں۔  پھر سورہ فاتحہ پڑھ کر اتر آئے۔ آپ  کے پاؤں سے بیڑیاں اتار دی گئیں اور حکم دیا گیا کہ آج کے بعد :۱۔اپنے پاس لوگوں کو جمع ہونے نہ دے ۔ ۲۔آپ سیاہ عمامہ(پگڑی)نہیں باندھ سکتے۔ ۳۔درس کی مجالس میں طریقت کی تلقین نہیں کرسکتے ۔ ۴۔آپ صرف رسمی علم دے سکتے ہیں ۔
میر نوربخش علیہ الرحمہ  کا بڑھتا اثر و رسوخ
لیکن ان احتیاطی تدابیر کے باوجود حضرت میر نوربخش  علیہ الرحمہ کا اثر ورسوخ روز بروز بڑھتا گیا ۔یہاں تک کہ ایک لاکھ آدمی آپ کی صحبت میں پہنچ گئے ۔مرزا شارخ کو پھر ان سے اندیشہ پیدا ہوا تو عین رمضان المبارک میں تیسری بار گرفتار کرکے پابہ زنجیر تبریزبھیج دیا ۔ والی تبریز کو روم روانہ کرنے کا حکم دیا ، تبریز پہنچ کر جناب امام نوربخش علیہ الرحمہ  نے مرزا شارخ کو ایک خط لکھا اور یہ آیت مبارکہ تحریر کی کہ ’’ یہ لوگ اللہ کے چراغ کو پھونک کر بجھانا چاہتے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ اپنے نور اورروشن کریگا اگر مشرک نہ بھی چاہیں ‘‘  آپ تبریز سے روم کی بجائے شیروان تشریف لے گئے۔ وہاں سے گیلان جا کر مقیم ہوئے ایک مدت عبادات میں مشغول رہے اور کئی تصانیف کو مکمل کیا ۔
مرزا شاہ رخ کی موت
اسی دوران مرزا شاہ رخ مر گیا آپ علیہ الرحمہ  گیلان سے رے تہران تشریف لائے ۔وہاں ایک نفیس بستی سولغان آباد کی ، باغ بنایا اور ایک مسجد تعمیر کی ۔بقیہ زندگی یہاں عبادات وہدایت اور تصنیف وتالیف میںمشغول رہے ۔ ۷۳سال کی عمر میںبروزجمعرات بوقت چاشت ۱۴ ربیع الاول ۸۶۹ھ؁کو اس دار فانی سے دارلبقاء کے باغوں کی طرف انتقال کرگئے اور اسی باغ میں مدفون ہوئے۔ جہاں آپ کی زیارت گاہ اپنے ہاتھوں آباد شدہ باغ میں مرجع خلائق بنی ہوئی ہے۔
امام نوربخش  علیہ الرحمہ  بحیثیت فقیہ
مجتہد العصر غوث المتأخرین سید العارفین حضرت شاہ سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ  قرن نہم کے عظیم فقہاء میں سے ہیں۔ بلکہ جن القابات سے آپ  علیہ الرحمہ کو نوازا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فقہ وعرفان میں آپ علیہ الرحمہ  کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ یہ عکس کتاب فقہ الاحوط اور کتاب الاعتقادیہ سمیت آپ علیہ الرحمہ  کی دوسری سینکڑوں کتابوں میں جھلکتا ہے۔ فقہ بظاہر شرعی احکام کا مجموعہ ہونے کا تاثر ملتا ہے تاہم یہ اعتقادات، معاشرات، اقتصادیات، شماریات، فلکیات ، ملکوت، لاہوت، جبروت ، تصوف و عرفان ، عشق رحمانی و محبت الٰہی سمیت دیگر علوم و فنون کا خزانہ نظر آتی ہے۔
مؤرخین کہتے ہیں کہ سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ سترہ سال کی عمر میں تمام علوم سے بہرہ مند ہو چکے تھے اور اسی عمر میں ہی وہ اپنے تمام ہم عصر فقہاء پیچھے چھوڑ چکے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تصوف و عرفان کے اس مقام پر فائز ہو گئے کہ ان کے مرشد حضرت خواجہ اسحا ق ختلانی  علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ  کو اپنا مرشد تسلیم کیا اور انہیں ’’نوربخش‘‘ کے لقب سے نوازا۔ چنانچہ آپ علیہ الرحمہ  اسم بامسمی ثابت ہوئے اوررہتی دنیا کیلئے علم و عرفان کا نور خوب برساگئے۔
امام نوربخش  علیہ الرحمہ کے خلفاء وشاگرد
 نوربخش  علیہ الرحمہ کے خلفاء وشاگردوں میں آپ کے فرزند ارجمند حضرت شاہ قاسم  علیہ الرحمہ  وشیخ شمس الدین محمد لاہیجی  علیہ الرحمہ  کے علاوہ برہان الدین بغدادی ،محمد سمر قندی ، شیخ محی الدین اندلسی ، مولانا حسن ، سید محمد ہمدانی ،شیخ محمد الوندی ، حسین کوکئی، ، عمادالدین ، شیخ محمد بحری ، خلیل اللہ بغلانی  علیہ الرحمہ ، شیخ محمد غیبی و دیگر شامل ہیں آپ  علیہ الرحمہ  کا سلسلہ طریقت حضرت شاہ سید قاسم فیض بخش  علیہ الرحمہ سے چلاآرہا ہے جسے سلسلہ نوربخشیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ حضرت شاہ قاسم  علیہ الرحمہ  علوم ظاہری وباطنی باکمال اور زہد وتقویٰ سے مزین تھے ۔سات سال کی عمر میں اپنے والدبزرگوار اور مشائخ واصلین سے معنوی کمالات حاصل کیئے ۔حضرت شاہ سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی ہی میںان کو مسند ارشاد پر بٹھا کر اپنی جانشینی سے سر فرازکیا ، میر سید محمد نوربخش علیہ الرحمہ  کی اولاد میں تین بیٹے سید جعفر علیہ الرحمہ ،سید قاسم  علیہ الرحمہ اور سید سعد الحق اور دو بیٹیاں خیر النساء اور فخر النساء شامل ہیں۔
مہدویت کے دعوے کابے بنیاد الزام
بعض مؤرخین نے حضرت شاہ سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ پر یہ بہتان تراشی کی ہے کہ آپ  علیہ الرحمہ  نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔یا یہ کہ نوربخشی لوگ انہیں مہدی موعود مانتے ہیں ۔یہ دونوں باتیں لغو اور باطل ہیں شا ہ سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ نے کبھی بھی مہدی موعود ہو نے کا دعویٰ نہیں کیا ۔بلکہ آپ  علیہ الرحمہ نے نائب اما م مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔چنانچہ آپ  علیہ الرحمہ نے مرزا شاہ رخ گور گانی کے نام ایک خط لکھا تھا اس وقت کے بد خواہوں نے اس خط میں تحریف کی یعنی لفظ ’’نائب‘‘کو حذف کرکے یہ اعلان کیا گیا کہ سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ  نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ڈاکڑ سید اسد اللہ مصطفوی کے بیا ن کے مطابق یہ تحریف شدہ خط اب تک کتاب خانہ مجلس شمارہ ۴۔۴میں موجود ہے آپ  علیہ الرحمہ  کی تصانیف اس لغو الزام کی کھلے طور پر تر دید کرتی ہیں کاش اگر اس قسم کی چہ میگوئیاں کرنے والے آپ علیہ الرحمہ  کی کتابوں کا بغور مطالعہ کرتے توان کے دلوں میں کبھی بھی کسی قسم کا شائبہ تک نہ ہوتا ۔
امام نوربخش علیہ الرحمہ کا سلسلۂ طریقت
امام نوربخش علیہ الرحمہ سلسلۂ ذہب کے۲۸ ویں مرجع ہیں ۔ ان کا سلسلہ طریقت یہ ہے : ۱۔سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ ۲۔حضرت خواجہ اسحاق ختلانی علیہ الرحمہ ۳۔حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی  علیہ الرحمہ ۴۔حضرت شیخ محمود مزدقانی   علیہ الرحمہ ، ۵۔حضرت شیخ علاو الدولہ سمنانی  علیہ الرحمہ ۶۔حضرت شیخ عبد الرحمن اسفرانی  علیہ الرحمہ ۷۔حضرت شیخ احمد ذاکر جرجانی  علیہ الرحمہ ۸۔حضرت شیخ علی لالہ غزنوی  علیہ الرحمہ ۹۔حضرت شیخ نجم الدین کبری  علیہ الرحمہ ۱۰۔حضرت شیخ عمار یا سر بدیسی  علیہ الرحمہ  ۱۱۔حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی  علیہ الرحمہ  ۱۲۔حضرت شیخ احمد غزالی  علیہ الرحمہ ۱۳۔حضرت شیخ ابو بکر نساجی  علیہ الرحمہ  ۱۴۔حضرت شیخ ابو القاسم گور گانی علیہ الرحمہ  ۱۵۔حضرت شیخ ابو عثمان مغربی  علیہ الرحمہ ۱۶۔حضرت شیخ ابو علی کاتبی  علیہ الرحمہ ۱۷۔حضرت شیخ ابوذررود باری  علیہ الرحمہ ۱۸۔حضرت شیخ جنید بغدادی  علیہ الرحمہ  ۱۹۔حضر ت شیخ سری سقطی  علیہ الرحمہ  ۲۰۔حضرت شیخ معروف کرخی  علیہ الرحمہ ۲۱۔حضرت امام علی رضا علیہ السلام ۲۲۔حضرت امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام ۲۳۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ۲۴۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ۲۵۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ۲۶۔حضرت امام حسین علیہ السلام ۲۷۔حضرت امام حسن علیہ السلام ۲۸۔آدم اوالاولیا ء حضرت علی علیہ السلام ۲۹۔خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
امام نوربخش علیہ الرحمہ کا مسلک
امام نوربخش علیہ الرحمہ مسلک صوفیہ امامیہ کے عظیم صوفی اور فقیہ تھے ۔ وہ ایک ساتھ ولی الفقیہ، مجتہد اعظم اور مرشد اعظم کے عظیم مناصب پر فائز تھے۔ انہوں نے فقہ الاحوط ، کتاب الاعتقادیہ سمیت سینکڑوں کتابیں لکھیں جن میں عقائد اسلامیہ ، محبت اہلبیتؑ ، تصوف اور فقہ کو موضوع بنایا۔ ان کی تعلیمات کی روشنی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ تصوف کے اس راہ کو درست سمجھتے ہیں جو تعلیمات ائمہ معصومین  علیہم السلام  سے مطابقت رکھتا ہو۔
تصنیفات امام نوربخش  علیہ الرحمہ
امام نوربخش  علیہ الرحمہ در س وتدریس اور تبلیغ وا رشاد کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کے کام میں بھی مصروف رہے۔آپ کی عربی اورفارسی کی چھوٹی بڑی کتابیں ایک سو سے زیادہ ہیں ۔بعض رسالے خطوط کے ساتھ ہیں ۔اکثر کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔  بعض کتابیں قلمی نسخے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ  کی کتب رسائل کے موضو عات تصوف عقائد وایمان ،پندونصیحت ،فتوت وجوان مردی اور قرآن وحدیث نبویؐ کی تعلیمات ہیں ۔فقہ کی کتابوں میں امت محمدیہ ؐ کے درمیان فروعی اختلافات کو دور کرکے اتحاد بین المسلمین پید ا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تصنیفات میں سے چند ایک یہ ہیں ۔
۱۔تفسیر مزرعۃالاولیاء ، ۲۔تفسیر آیت فمن کان یر جو القاء ربہ ۳۔تفسیر منظوم،۴۔تفسیر سورۂ فاتحہ ،۵۔شرح حدیث عما ،۶۔رسالہ اربعینہ ،۷۔رسالہ دربیان یک حدیث ،۸۔رسالہ معراجیہ ، ۹۔الفقہ الاحوط ،۱۰۔کتاب رفع الاختلاف ،۱۱۔کتاب الاعتقادیہ ، ۱۲۔رشحات۔ ، ۱۴۔کشف الحقیقت فی بیان عوالم الکثرت والوحدت ، ۱۵۔مکارم الاخلاق ،۱۶۔صحیفہ ء اولیاء ، ۱۷۔حدائق السیاحہ ، ۱۸سلسلۃالاولیاء، ۱۹۔غزلیات سید محمد نوربخش  علیہ الرحمہ ، ۲۰۔معاش السالکین، ۲۱۔کتاب نوریہ ،۲۲۔انسان نامہ ، ۲۳۔کشف الحقائق ، ۲۴۔واردات نوربخش ، ۲۵۔نورالیقین ،۲۶۔دیوان فنائی ، ۲۷۔رسالہ نفس شناسی ، ۲۸۔بوستان اسرار، ۲۹۔اسرار نوریہ ، ۳۰۔ریاض اعظم ،۳۱۔شمس الضحیٰ،۳۲۔کشف وریاضت ،۳۳۔رباعیات اور اد فتحیہ ، ۳۴۔فراست نامہ ،۳۵۔رسالہ اقسام دل ۔، ۳۶۔ارشاد نامہ ۔، ۳۷۔رموز نوربخشیہ  علیہ الرحمہ ، ۳۸۔نالہ ہائے نوربخشیہ ، ۳۹۔رسالہ نفس ناطقہ ، ۴۰۔رسالہ وجود مطلق، ۴۱۔رسالہ قدم وحدوث، ۴۲۔ریاض نوربخشیہ ،۴۳۔کلیات در مدعطار  علیہ الرحمہ ، ۴۴۔تلویحات،۴۵۔رسالہ عرفانی ،۴۶۔سلسلہ ء نوربخشیہ، ۴۷۔کتاب نوربخشیہ ،۴۸۔مصائب عترت طاہرہ ،۴۹۔سرور صوفیا فی النوربخشیہ ۔