صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

قرآن پاک سمیت آسمانی کتابوں پر ایمان


اللہ کی جانب سے ضابطہ حیات کے طور پر نازل کردہ کتابوں پر عقیدہ رکھنا
ویجب ان تعتقدان القرآن والتوراۃ و الانجیل والزبور و الصحف کلھا کلام اللہ والقرآن باللفظ والمعنی امتاز من سائرالکتب السماویۃ و فاق علیھا وان کلام اللہ قدیم من حیث انہ صفۃ من صفاتہ و صفات اللہ ازلیۃ بالاجماع و محدث من حیث انہ نزل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فی وقت معین مسبوق بالازمنۃ ومن حیث انہ مقروء ومکتوب لما قال اللہ تعالی ’’مایا تیھم من ذکر من ربھم محدث الا استمعوہ و ھم یلعبو ن‘‘ فما کا ن من صفات اللہ وفی علم اللہ فی ازل الازال فلاخفاء فی قدمہ وما کان منزلا مقروء ملفوظا مکتوبا لاخفاء فی حدوثہ فمن قال بقدم القرآن محق من وجہ ومن قال بحدوثہ محق ایضا من وجہ وکل منھما لما قالوا بقدمہ من کل الوجوہ او حدوثہ من کل الوجو ہ فکلا ھما مبطلان۔
اس بات پر اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ قرآن پاک ،توریت ،انجیل ،زبوراور دیگر صحیفے سب کے سب اللہ کا کلام ہیں اور قرآن پاک لفظی ومعنوی دونوںلحاظ سے تمام آسمانی کتابوں سے ممتازہے اور ان سب پر قرآ ن پاک کو فوقیت حاصل ہے اور یہ کہ قرآن پاک اللہ کا قدیم کلام ہے اس طرح کہ یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور روزازل سے ہی اجماع طورپر اللہ کی صفت ہے اور یہ کہ کلام اللہ محدث ہے اس طرح کہ قرآن پاک کو محمد مصطفے ﷺ پرایک زمانہ گزرنے کے بعد ایک معین وقت میں نازل کیاگیا اوراس طر ح کہ اسے پڑھا جاتا ہے لکھا جا تا ہے چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ’’ان کے پاس کلام اللہ میںسے کوئی نصیحت آجائے تووہ سب سے لہو ولعب کی حالت میںہی سنتے ہیں‘‘ چونکہ قرآن اللہ کی صفات میںسے ہے اورازل لازل سے اللہ کے علم میں ہے لہذا اس کا قدیم ہوناکسی سے مخفی نہیں ۔ (دوسری جانب) چونکہ نازل کردہ ہے پڑھاجاتا ہے بولاجاتا ہے لکھا جاتاہے اس لیے اس کے محدوث ہونے میںبھی کوئی خفانہیں ہے چنانچہ (بظاہر ہو گیاکہ) جو کوئی قرآن کو قرآن پاک کو کلام محدث کہنا ہے و ہ بھی ایک طرح سے صیحح کہتاہے لیکن ان دونوںحیشیتوں کے بارے میںیوںکہے کہ ہر طرح سے کلام قدیم ہے یاہرطرح سے کلام محدث ہے تو دونوںقول باطل ہیں

قدوم وحدوث قرآن
فینبغی ان لا یتعرض بمثل ھذہ المسئلۃ الا من کا ن عارفا بحقائق الاشیاء من اکابر الانبیاء وکمل الاولیاء علیھم السلام واعلم ان من کفّر القائل بقدمہ ومن کفّرالقائل بحدوثہ فکلاھما جاھلان و جھلھما مرکب لان القرآن لیس کالجزء الذی لا یتجزی کی لایتصف بصفات متعددۃ متکثرۃ بل القرآن کا ن مرکب القوٰی ولہ صفات ظاہرۃ و صفات باطنۃ و منکل صفۃ و من کل صفۃ لہ وجہ اخر فلذالک کان قدیما من وجہ ومحدثا من وجہ اخر ـ واما القا ئل بالقدم والحدوث من کل الوجوہ فھوجاھل بحقیقۃ الاشیاء فعلیہ ان یقول اشھدان لاالہ الااللہ و اشھد ان محمدارسول اللہ ویقیم الصلوٰۃ و یصوم الرمضان و یزکی مالہ ان کان ذامال ویحج البیت ان استطاع الیہ سبیلا ولایتعرض للمسائل الا صولیۃ الکلامیہ حتی لا یتزندق لان من تکلم بلاعلم تزندق فی شانہ خاصۃ وما قال امیر المومنین واما م المتقین اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب علیہ السلام رحم اللہ امراء عرف قد قدرہ ولم یتعد طورہ اشارۃ الی ماقلت لک۔
لہٰذ ااس طرح کے اہم مسائل میں اکابرانبیاء علیھم السلام اور کامل شرع اولیائے عظام جو اشیاء کی حقائق سے مکمل باخبر ہیں کے علاوہ ہر کسی کو بحث کی جرات نہیں کرنی چایئے ۔واضح رہے کہ جو قرآن کو قدیم کہنے والے کو کا فر کہے یاجو قرآن کو محدث کہنے والے کو کافر کرے تو وہ دونوںجاہل ہیں اورجہل مرکب کاشکار ہیں کیونکہ قرآن اس جزء کی طرح نہیںکہ جس کی مزید تقیسم بندی ممکن نہیں تاکہ اس کی زیادہ تعداد میں صفات سے متصف نہ ہو سکے بلکہ قرآن پاک تو کئی قوٰی کا مرکب ہے اس ظاہری صفات بھی ہیںاور باطنی صفات اور ہر صفت کی وجہ بھی الک الک ہے اسی وجہ سے قرآن کسی وجہ سے قدیم ہے اور کسی اور وجہ سے محد ث ہے وہ شخص جو قرآن پاک کوہر طرح سے قدیم یامحدث ہو نیکا قا ئل ہو وہ اشیاء کی حقائق سے لا علم ہے اس کو چا ہیے کہ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد ا رسو ل اللہ پڑھے ۔ نماز قائم کرے رمضان کے روزے رکھے ، صاحب مال ہو نیکی صورت میں مال کی زکواۃ نکالے اور نیت اللہ تک جا نے کی استطاعت ہو نیکی صورت میں حج کر ے اور ان مسائل میں جرآت نہ دکھائے جن کا تعلق علم اصول وعلم کلام سے ہو تا کہ وہ زندیق نہ بن جائے ۔کیو نکہ جس نے کسی علم کے سہارے کے بغیر علم کلام کے اصول میںکو ئی کلام کیا تووہ خو دبخود زند یق بن جاتا ہے اور جو امیر المو ء منین وامام المتقین اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب علیم السلام نے فرمایاکہ اللہ اس شخص پر رحم کرے جو اپنی اوقات پہچا نے اور حددو سے تجا وز نہ کر ے یہ فرمان اسی کی طرف اشار ہ ہے جو میں تم سے کہا ہے