صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام علی نقی علیہ سلام


حضرت امام علی نقی علیہ السلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اﷲ تعالیٰ فی کتابہ المبین وجعلناھم آئمۃ یھدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات و اقام الصلوۃ وایتاء الزکواۃ و کانوا لنا عابدین
۔ پ ۱۷ س الانبیاء
ترجمہ:۔ اور ان کو ہم نے ایسا امام بنایا جو ہمارے حکم کے بموجب ہدایت کرتے ہیں اور ان کی طرف ہم نے نیکیاں کرنے کی اور نماز پڑھنے کی اور زکواۃ دینے کی وحی فرمائی اور وہ سب کے سب ہماری بندگی کرنے والے تھے اصول اربعہ کی کتاب الکافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہی کہ کتاب خدا میں دو قسم کے اماموں کا ذکر ہے ایک تو وہ ہیں جن کی نسبت خدا نے یہی ارشاد فرمایا ہے جس کایہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے حکم کے موجب ہدایت کرتے ہیں آدمیوں کے مقابل خدا کے حکم کو مقدم رکھتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے ۔
وجعلناھم آئمۃ یدعون الی النار۔
اور ہم نے ان میں ایسا امام بنایا ہے جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے حکم کو خدا کے حکم کے مقابل مقدم رکھتے ہی اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتے ہیں اور خدا فرما رہے ہیں کون آئمہ جن کو تم نے نہیں ہم نے بنایا ہے کون آئمہ جو تمہارے حکم سے نہیں ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور خیرات نماز و زکواۃ کی طرف ہم نے وحی کی یہ وہ وحی ہے جو مادر موسیٰ علیہ السلام اور شہد کی مکھی کی طرف بھی ہوسکتی ہے ۔ کون آئمہ جن کی گردنیں غیر خدا کی طرف کبھی جھکی ہی نہیں وہ ہماری عبادت کرتے ہیں ۔ آئمہ امام کی جمع ہے اور امام کے لغوی معنی پیشوا رہنما کے ہیں ۔ ہر گروہ اپنے قائد کو امام کہتا ہے مگر مذہب حقہ امامیہ صوفیہ نور بخشیہ میں خلیل خدا کے سلسلہ امامت کو امام حقیقی کہا جاتا ہے امام وہ منصوص من اﷲ ہو امام وہ جس کو رسول اﷲ ؐ بلند کرکے بتلائے
من کنت مولا فھذا علی ؑ مولا
سید العارفین سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ نے فقہ الاحوط باب جہاد میں بیان کیا ہے کہ
وللجھاد الاکبر ینبغی ان یکون الامام ولیا کاملا فی مقامات الولایۃ ۔ فقہ احوط
یعنی بڑے جہاد کی انجام دہی کے لئے چاہئے کہ امام کوئی ایسا ولی ہو جو ولایت کے مقامات میں کمال درجے پر فائز ہوالخ اگر ا تمام اوصاف کا جامع امام نہ پایا جاتا ہو تو جہاد اکبر کی انجام دہی کے لئے ضروری ہے کہ امام پرہیزگار ہو ریاضت کرنے والا ہو ۔ عالم ملکوت میں سیر کرنے والا ہو ۔ عالم جبروت میں پرواز کرنے والا مشاہد ہو خدا کی یکسوئی میں فنا ہونے والا ہو خدا ہی کی تصور کے ساتھ باقی رہنے والا ہو اور کسی کامل مرشد کی طرف سے بیعت لینے ٗ ذکر الٰہی کی تلقین کرنے والا اور طالبان راہ حق کہ ہدایت کرنے کا اجازت یافتہ ہو ۔ اسی طرح سے واضح ہے کہ اس امام کاسلسلہ کسی قسم کے انقطاع کے بغیر رسول اﷲ ؐ تک پہنچا ہو ۔
و ھٰکذا یجب ان یکون مسلسلاً الی رسول اﷲ ؐ ۔ فقہ احوط
و عن ابن عباس قال قال رسول اﷲ ؐ فلیتول علیا و ذریتہ من بعدی فانھم لن یخرجوکم من باب ہدی ولن یدخلو کم فی باب ضلالتہ ۔ کنز العمال ص ۲۱۷ جلد ۶ مسند احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۱۵۴ حلیتہ الاولیاء
ترجمہ: ۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد علی علیہ السلام اور ان کی ذریت سے دوستی رکھو بے شک وہ تمہیں ہدایت کے دروازے سے نہیں نکالیں گے اور گمراہی کے دروازے میں داخل نہیں کریں گے۔
پیر ماجلال الدین معصوم نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے شان میں فرمایا کہ اے اﷲ
بشمع شبستان اہل یقین
علی النقی ؑ قدوۃ المتقین

متقیوں کا قائد اہل یقین یعنی حقیقی صوفیوں کا شمع شبستان کے واسطہ ہمیں عفو فرما ۔ دعوات صوفیہ امامیہ بقلم سید جلال الدین معصوم قلمی ص ۳۴۶
ولادت حضرت امام علی نقی علیہ السلام
ابن عیاش سے مروی ہے کہ آپ ؑ نے ۵ یا ۱۲ ماہ رجب بقولے ۱۵ ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ ۲۱۲ ھ بمقام صریا حوالی مدینہ میں آنکھ کھولی ۔ یہ کہ یادگار محمد مصطفی ؐ جگر گوشہ علی المرتضٰی ؑ دل و جان شہید کربلا روح و ریحان علی رضا ؑ فرزند تقی ؑ امام الاتقیاء امام علی نقی علیہ السلام حجت خدا روح ایمان بن کر شمع عرفان بن کر تفسیر قرآن بن کر آیا ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ چھ سال تک مدینہ میں زندگی بسر کی ۔ معتصم سفاک کا دور حکومت تھا امام محمد تقی علیہ السلام کو بغداد و بلا کر زہر سے شہید کیا گیا ۔ امام علی نقی علیہ السلام نے امامت کی ذمہ داریاں سنبھالیں معتصم کے خاتمے کے بعد ادوار بدلتے رہے آخر متوکل کا زمانہ آیا ۔ امام مدینہ میں ہدایت کا آفتاب بن کر تشنگان ہدایت کوصراط مستقیم دکھا تے رہے ۔ متوکل کو خبریں پہنچی ۔ اس سے یہ چیزیں نہ دیکھی گئیں ۔ نبض عداوت پھڑکی دیرینہ دشمنی پھر سے سراٹھا نے لگی امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے سامرہ بلایا گیا ۔ امام علیہ السلام کو بغرض اہانت خانہ غربا و فقراء میں جگہ دے دی گئی ۔ ایک محب اہلبیت آپ سے ملنے آیا اور قیام اور مقام کو دیکھ کر رو دیا ۔ آپ ؑ نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا مولا یہ بھیک مانگنے والوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔ جہاں آپ کو ٹھہرایا گیا امام علیہ السلام نے فرمایا میری اس میں بھی ذلت نہیں فقراء کی ہمنشینی ہماری عزت ہے ۔ جدنا محمد نبی ؐ کی دعا ہی یہی ہے اللھم احینا مسکینا وامتنا مسکینا الخمگر تمہیں معلوم ہے میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں دیکھو یہ مقام کیا ہے ؟ اس نے اب جو دیکھا ایک سر سبز و شاداب باغ روکش جنت ہے ۔ صاف و شفاف پانی کی نہریں ہر قسم کے میوہ جات اور فرمان بردار خدام دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ امام ؑ کے معجزات کی شہرت ہوتی رہی متوکل گھبرایا اور امام علیہ السلام کو قید دوام کا حکم دیاگیا اور یہ برج امامت کادسواں تا جدار بارہ سال مسلسل قید و بند کی سختیاں جھیلتا رہا امام نے فرمایا متوکل ہم مشغول آخرت ہیں دنیا اور دنیا کی حکومت کا تو خیال بھی ہمیں کبھی نہیں آتاتوکیوں ہمارے بارے میں بد گمان ہے ۔ متوکل پر الٹا اثر ہوا سوچایہ تو کسی وقت بھی میری سلطنت پر قابض ہوسکتے ہیں طے کیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو زہر دے دیا جائے کہ دو سرے ہی روز اپنے پیٹے کی تلوار سے واصل جہنم ہوا ۔ معتز باﷲ کا زمانہ آیا اگر پدرنہ تواند پسر تمام کند ۔ اپنے بزرگوں کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔
شہادت حضرت امام علی نقی علیہ السلام
بالا تفاق مورخین ۳ ماہ رجب ۳۵۴ ھ بروز شنبہ عمر شریف ۴۲ سال مدت امامت کبریٰ ۳۳ سال بروایت دیگر معتمد عباسی برادر معتز باﷲ نے ۲۶ جمادی الثانی کو امام عالی مقام کو زہر دے کر شہید کیا ۔ امام حسن عسکری ؑ عالم غربت میں یتیم ہوگئے ۔ بیٹے نے باپ کو غسل دیا خود بیٹے نے کفن پہنایا دروازے پراپنے اور غیر دوست و دشمن امیر و فقیر حکومت کے اراکین سب ہی جمع تھے مسافر امام کا جنازہ بر آمد ہوا حضرت امام حسن عسکری گریبان چاک سربرہنہ تابوت کے ساتھ فریاد کناں باہر آئے کہ ابو احمد موفق باﷲ نے حکومت کی طرف سے مراسم تعزیت ادا کئے ۔ بڑھ کر امام ؑ کے گلے میں باہیں ڈال دیں حکومت کی اس تعزیت نے امام علیہ السلام کے زخمی دل پر نمک پاشی کی مگر صابر امام ؑ گردن جھکائے خاموش رہا ۔ نماز جنازہ حسن عسکری علیہ السلام نے پڑھائی بڑے دھوم سے جنازہ اٹھا سامرہ میں ایک قیامت بر پا تھی ہر آنکھ اشکبار تھی ٗ محبان کے دل سوگوار تھے علامہ مسعودی سے روایت ہے کہ جنازہ پر ایک بچی کچھ ایسے دلخراش بین کر رہی تھی کہ سننے والوں کا دل پھٹا جا تاتھا ٗ لوگ تسلیاں اور تشفیاںدے رہے تھے محبت اور صبر آموز باتوں سے سمجھا رہے تھے ہائے افسوس یاد آگئی آپ کو ایک کربلا کی لاڈلی بچی جب وہ باپ کے غم میں روتی تھی تو اس کو بھی تسلی دی جاتی تھی ۔ کبھی گوشوارے کانوں سے کھینچ کر کبھی گلے میں رسی باندھ کرکون سکینہ ؑ کو تسلی دیتا اور کون بے باپ کی بچی کے سرپر ہاتھ پھیر تا بڑے بھائی کے ہاتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ بچی باپ کی یاد میں کربلا سے کوفہ ٗ کوفہ سے شام روتی چلی گئی زندان شام میں رات ہوگئی ۔ نیندنہ آئی سکینہ ؑ کو باپ کا سینہ یاد آیا ۔ آنسوؤں کا دریا بہہ گیا ۔ آہ فریاد کی صدائیں آسمان سے ٹکرائیں ہائے بابا ہائے بابا کے دلخراش نالے کے ساتھ غش کھائے خواب میں باپ کاکٹا ہوا سر خواب میں خون آلود نظر آیا ہائے بابا کہا اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئیں ۔ بیٹے کے بارے میں تن سے جدا سرام المصائب ثانی زہرا ؑ کو فرمارہے تھے۔
چلتے چلتے فقط تم سے ہے ایک سوال
میری پیاری سکینہؑ کا رکھنا خیال
بن میرے زندہ رہنا ہے اس کا محال
میری بچی کو ہونے نہ دینا ملال
الا لعنۃ اﷲ علی القوم الظالمین۔
امام دھم کا اسم شریف علی تھا کنیت ابوالحسن اور ان کالقب نقی والد ماجد محمد تقی ؑ والدہ ماجدہ کا اسم شریفہ سمانہ معروفہ بہ سیدہ تھی ۔ قائم اللیل صائم النہار کے مالکہ تھی ٗ امام علیہ السلام کی اولاد کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے ۔ ابو محمد الحسن الامام و حسین ٗ محمد جعفر و غیرٗ