صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام علی رضا علیہ سلام


بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اﷲ تعالیٰ انا نحن نحی الموتی و نکتب ماقدموا و اثارھم و کل شیء احصینہ فی امام مبین
۔ پ ۲۲ سورہ یاسین
ترجمہ : ۔ بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیجتے ہیں اور وجود آثار ان کے پیچہے رہ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امام مبین میں ( از روئے علم و شمار ) جمع کرلیا ہے ۔ تفسیر قمی و معافی الاخبار میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اپنے والد ماجد و جد امجد سے منقول ہے کہ جب جناب رسول اﷲ ؐ پر یہ آیات
و کل شی احصیناہ فی امام مبین
نازل ہوئی تو بزرگ اصحاب رسول عرض کرنے لگے کہ یا رسول اﷲ ؐ کہ آیا امام مبین سے مراد توریت ہے فرمایا نہیں ۔ انہوں نے عرض کی پھرا نجیل یا فرقان ہے فرمایا نہیں اتنے میں جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام تشریف لے آئے تو آنحضرت ؐ نے فرمایا دیکھو وہ امام ؑ جس میں خدا نے ہر چیز کے علم کا احصاء فرمادیا ہے ۔ جناب ابراہیم علیہ السلام کو نبوت رسالت اور خلت کے مناقب رفیعہ کے بعد منصب امامت سے سرفراز کیا گیا جو کہ آخری منصب ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ منصب ملا یعنی فرمایا ۔ اﷲ نے انی جاعلک للناس اماما کیونکہ آپ کل شی احصیناہ کے مصداق ہوگئے توانا نحن نحی الموتیکا اعجاز بھی قدرت کی طرف سے ملا ۔ حضرت ابراہیم ؑنے پرندوں کو مارا اور جلایا ۔ منصب امامت ذریت ابراہیم علیہ السلام میںظالموں سے بچتا رہا اور معصومین کو ملتا رہا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ٗ حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سب ہی امام ہوئے اور آخر میں یہ مرتبہ جلیلۂ امامت حبیب کردگار احمد مختار صلعم تک پہنچا ۔ سلسلہ نبوت ختمی مرتبت پر ختم ہو رہاتھا ۔ سلسلہ امامت اولاد ابراہیم ؑ میں تا قیامت باقی رہنے والا تھا لہٰذا نبوت ختم ہوئی خاتم النبین پر سلسلہ امامت باقی رہا قیامت تک معصومین میں امامت خلیل کو خدا نے عطا کی تھی ۔ اولاد خلیل کو بھی امامت عطا کرنے والا خدا ہی ہونا چاہئے ظالم امامت سے ہمیشہ محروم رہے گا ۔ امام مبین کی وضاحت امام مبین ؑ سے سنئے امام ثامن علی رضا علیہ السلام نے فرمایا سنو امام کسے کہتے ہیں ؟ اور امام کی کیا پہچان ہے ۔ امام وہ ہے جو اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عالم ٗ سب سے زیادہ پرہیزگار ٗ سب سے زیادہ عادل و عابد ہو ، بطن مادر سے مختون پیدا ہو اور جس طرح سامنے سے دیکھئے پشت سر سے بھی اسی طرح دیکھتا ہو آنکھیں خواب میں ہوں ۔ دل بیدار ہوں ۔ سیاہ نہ رکھتا ہو جس وقت پیدا ہو کلمہ شہادتین زبان پر ہو مخلوق پر ماں باپ سے زیادہ مہربان ہو لوگوں کے نفوسوں سے لوگوں پر ادنیٰ ہو رسول خدا ؐ کا زرہ اس کے قد پر ہم عمر میں صحیح آئے مخلوق کے تمام اعمال اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہوں مگر کھا نے پینے سونے جاگنے اور خوشی و غم انسانوں جیسا ہو اس لئے حضرت ابوبکر نے فرمایا
اقیلونی ولست بحیرکم و علی فیکم
امام غزالی و شیخ محی الدین عربی لکھتے ہیں کہ دینی علوم و حقائق الہٰی اور علم لدنی حضرت امام علی علیہ السلام میں اس طرح مخصوص تھا جس طرح نبوت اور خاتمیت حضرت رسول خدا ؐ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ حضرت رسول خدا ؐ سے ہوئے حقائق و اسرار حضرت امام علی علیہ السلام سے ان کی اولاد معصومین ؑ کو اور ان سے ان کے شاگردوں اور مریدوں کو دستیاب ہوئے جوان کی صلاحیت رکھتے تھے وہ سب صوفیاں ہیں اور ان سے یہی سر ولایت کی آگاہی ہوتی ہے ۔ جامع الاسرار ص ۲۲۶
صاحب کتاب فی التصوف الاسلامی تحریر کرتے ہیں کہ تصوف حقیقت میں علم باطن کا جز ہے اور یہ سب وہ علم ہے جو وارثت کے طور پر رسول خدا ؐ سے امام علی ؑ تک پہنچے ۔فی التصوف اسلامی ص ۷۴
ولادت امام علی رضا ؑ
تاریخ لکھتی ہے کہ حضرت امام علی رضا ؑ ذیقعدہ کی ۱۱ تاریخ ۱۴۸ ھ کو بروز جمعرات یا جمعہ حضرت ام حبیبہ ؓ کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔
گھر میں موسیؑ کے کلیم سخن آراء چمکا
آٹھویں برج امامت کا ستارہ چمکا
رضاؑ امامت کا جانشین آیا
قرآن نے کہا امام مبین آیا
تیس سال پدر بزرگوار کے سایہ عاطفت میں تربیت پائی ۔ ہارون کا جابرانہ دور دیکھا باپ کا قید خانہ میں جانا دیکھا دونوں فسانے ختم ہوئے تو ماموں کادور آیا سیاسی تقاضوں کے پیش نظر سلطنت جھکنی شروع ہوئی اپنی بیٹی ام حبیبہ کے ساتھ شادی کر کے رشتہ بڑھایا سوچا علی علیہ السلام کو داماد بنا کر شاید میری عزت بڑھ جائے اور امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے طلب کیا غریب امام ؑ قبر رسول اﷲ ؐ پر پہنچاد یر قبر سے لپٹ لپٹ کر روتے رہے نانا مامون مجھے آپ ؐ کی زیارت سے محروم کرنا چاہتا ہے ۔ آخری سلام کو حاضر ہواہوں شاید یہ میری زیارت بھی آخری ہو ۔ امام علی رضا علیہ السلام کا یہ سفر سفر کربلا سے بہت مشابہ تھا ۔ مدینہ رسول ؐ سے شہادت کے یقین کے ساتھ امام علی رضا علیہ السلام تنہا سفر کرتے ہوئے مروہ کے جانب روانہ ہوئے جب نشاپور سے گزرے تو ایک مخلوق زیارت امام علیہ السلام کو جمع ہوگئی علماء اور فضلاء کا مجمع تھا سواری کے چاروں طرف ہزاروں کا ازدھام تھا ان کی تمنا اور استدعا کے مطابق امام علیہ السلام نے حدیث رسول ؐ کی یوں ابتداء فرمائی
حدثنی ابی موسی ؑ بن جعفر علیہ السلام قال ابی جعفر بن محمد قال حدتنی ابی محمد بن علی ؑ قال حدثنی ابی علی بن الحسین ؑ قال حدثنی ابی حسین بن علیہ السلام قال حدثنی ابی علی ابن ابیطالب ؑ قال حدثنی اخی محمد رسول اﷲ ؐ قال حدثنی جبرائیل ؑ قال سمعت برب العزت سبحانہ تعالیٰ کلمہ لا الہ الا اﷲ حصنی و من قال لا الہ الا اﷲ قد دخلہ فی حصنی الا بشروطہا و انا من شروطہا۔
یعنی یہ کلمہ طیبہ حصار تو ہے مگر اس شخص کے واسطے جو رسول خدا ؐ اور آل رسول ؑ پر ایمان اعتقاد رکھتا ہو جس میں سے ایک میں ہوں۔
شہادت امام علی رضا علیہ السلام
تاریخ لکھتی ہے کہ مامون رشید خلیفہ بن بنی عباس نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو بلایا جب تشریف لائے دور تک استقبال کو گیا خادموں کی طرح پیچھے پیچھے چل کر تخت پر بیٹھایا اور کہا اے فرزند رسول ؐ انگور حاضر ہیں کھا یئے ایک خوشہ انگور اٹھا کردیا کہ دیکھئے کتنے عمدہ انگور ہیں آپ ؑ نے فرمایا ۔ بہشت میں اس سے کہیں بہتر انگور ہیں امام علیہ السلام تین انگور کھائے اور کھڑے ہوگئے مامون نے کہاکہاں تشریف فرما رہے ہو ؟ فرمایا جہاں بھیجنا چاہتا ہے ۔ سترہ ماہ صرف ۲۰۳ھ عمر شریف ۵۵ سال مدت امامت ۲۰ سال طوس میں بذہر مامون عباسی بدرجہ شہادت فائز ہوئے ابو صلت جو امام ؑ کے مخصوص خادم تھے کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام فرش پرلیٹ گئے مجھ سے فرمایا دروازہ بند کردو ۔ کوئی اس وقت تک نہ آئے جب تک میرا فرزند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام تمہارا امام نہ آجائے کچھ منٹ بعد میں نے دیکھا کہ ایک جوان خوش رو جس کانو دس سال کاسن ہے گھر میں داخل ہوئے مین نے سلام کیا اور کہا دروازہ بندتھا آپ کس طرح آگئے ؟ فرمایا جو مدینہ سے یہاں لایا وہ گھر میں نہیںلاسکتا میں سمجھ گیا کہ یہی میرے امام ہیں ۔ بیٹا امام ؑ کی خدمت میں گیا اور سینہ پر ہاتھ رکھ کر آداب بجا لایا امام علیہ السلام نے دیکھا گریبان چاک ہے ٗ رخسار آنسوؤں سے ترہیں تادیر سینہ سے لگا لیا اور کچھ کہتے رہے غریب امام ؑ پر عالم غربت میں سوائے بیٹے کے اور کوئی رونے والا بھی نہ تھا ابوصات کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ بیٹے نے ایک چیخ ماری اورہائے میرا بابا کہہ کر سینہ سے جدا ہوئے ۔ مجھے فرمایا غسل کو پانی لاؤمیں نے کہا مولا یہاں پانی نہیں ۔ فرمایا با ہر دیکھو با ہر دیکھا پانی موجود تھا غسل ہوا پھر فرمایا حنوط اور کفن لاؤباہر حنوط و کفن رکھا ہوا تھا لایا اور کفن دیا گیا فرمایا تابوت بھی لاؤامام نے باپ کو تابوت میں رکھا نماز جنازہ پڑھی اور دونوں ہاتھوں سے تابوت کو بلند کیا تابوت غائب تھا ۔ میں حیران ہوا فرمایا پریشان نہ ہو امام علیہ السلام رسول مقبول ؐکی زیارت کو گئے ہیں آتے ہیں کہ تابوت نظر آیا ۔ بیٹے نے تابوت سے نکال کر امام علیہ السلام فرش پر لٹایا اور روضہ اطہر میں دست اقدس سے دفن فرمایا میں نے چاہا کہ امام کو باپ کا پرسہ دوں بیٹا باپ ؑ کے قدموں کی طرف جھکا اور غائب ہوگیا۔
یہ سرزمین طوس ہے مقام احترام ہے
ہے مدفن رضا ؑ یہی یہ مشہد امام ہے
امام حقیقی نے امامت حقیقی و ولایت حقیقی اپنے پسر حقیقی امام محمد تقی علیہ السلام کو سپرد فرمایا اور سلسلہ ولی اضافی اور امامت اضافیہ اپنے شاگرد معروف کرخی قدس اﷲ سرہ کے حوالے کیا ۔)جامع الاسرار ص ۱۰۶ طرائق الحقائق اسرار الشہود شیخ اسیری لاہیجی ص ۳۷ الصلہ بین التصوف و تشیع ص ۲۳۴ ٗ مقدمہ شرح اصطلاحات تصوف ص ۴۹ تاریخ تصوف از ڈاکٹر قاسم غنی ص ۵۵ ٗ نابغہ علم و عرفان )