صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام


حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اﷲ تعالیٰ فی کتابہ المبین یوم ندعوا کل اناس بامامھم
۔ج پ ۱۵ ص بنی اسرائیل
ترجمہ: ۔ خداوند تعالیٰ قرآن شرف میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں بعض کہتے ہیں کہ نامہ اعمال مراد ہے بعض کے نزدیک لوح محفوظ اور بعض کے نزدیک تورات و قرآن ۔ مگر صاحب تفسیر ادبی و عرفانی کشف الاسرار میں خواجہ عبداﷲ انصاری ؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آئمہ دین اور اقتدائی اہل یقین ہیں اور تفسیر حسینی میں حضرت امام علی علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے کہ فرمایا کہ اس دن ہر قوم کو اپنے زمانے کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا اور تفسیر در منشور جلد ۴ ص ۱۹۲ تفسیر روح المعانی جل ۴ ص ۵۵۶ پر مرقوم ہے کہ امام حق کادامن تھا منے اور باطل امام بنانے کا اس دن فیصلہ ہوگا ۔ قولہ تعالیٰ و یوت کل ذی فضل فضلہ پ ۱۱ س یونس اور خدا ہر صاحب بزرگی و عزت و شرف کو اس کی بزرگی کی داد دے گا اس آیت کی تفسیر میں ارحج المطالب ص ۸۷ میں لکھا ہے کہ عن ابی جعفر ؑ قال ھو علی ؑ ( اخرجہ ابن مردویہ) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اس آیت میں ذی فضل سے مراد حضرت علی علیہ السلام مراد ہیں ۔
و عن عمر قال قال رسول اﷲ و اعلمو انہ لایتم شرف الابولایتہ علی بن ابی طالب علیہ السلام ۔ ابن حجر مکی صواعق محرقہ ۱۷۶
حضرت عمر ابن خطاب سے مروی ہے کہ فرمایا محبت رکھو شرفاء کے ساتھ اور بچاؤ اپنی عزتوں کو گھٹیا لوگوں سے اور جانو کہ شرافت مکمل نہیں ہوتی مگر ولایت علی علیہ السلام کے قبول کرنے سے ۔
و عن ابی لیلیٰ الغفاری قال قال رسول اﷲ ؐ ستکون من بعدی فتنۃ فاذا کان ذالک فالزموا علیا فانہ الفاروق بین الحق و الباطل کذا فی الفردوس۔مودۃ القربی ص ۲۱ ارحج المطالب ۲۳ السبعین فی فضائل امیرالمومنین ص ۵۰۷
ابو لیلیٰ غفاری ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایک فتنہ بر پا ہوگا جب وہ فتنہ وقوع میں آئے توتم علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرنا کیونکہ وہ حق و باطل کے در میان خوب فرق کرنے والا ہے زیرا کہ وہی ہادی دین ہے۔
انما انت منذر و لکل قوم ھاد ۔ سورہ رعد پارہ ۱۳
سوائے اس کے نہیں اے محمد ؐ آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک ہادی ہوتاہے ۔
علامہ جلال الدین سیوطی تفسیر در منشور جلد ۴ ص ۴۵ عبداﷲ امرتسری ارحج المطالب ص ۵۸ پر اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ منذر سے حضرت محمد رسول خدا ؐ مراد ہیں اور ہادی سے مراد شیر خدا حیدر کرار علی مرتضی علیہ السلام ہے ۔
عن ابن عباس قال لما نزل انما انت منذر و لکل قوم ھاد قال رسول ؐ انا منذر و علی الھادی و بک یا علی یھتدی المھتدون ۔ ینابیع المودۃ ص۲۳۸ کشف الحقیقت ج ۵ ص ۴۷ ٗ اسبعین ص ۵۱۵ ٗ روضات الجنان ج ۲ ص ۴۳۴ مجمع البیان ص ۸۱ ٗ در منشور ج ۲ ص ۴۵ تفر رازی ج ۵ ص ۲۶ ٗ احباب قلمی ص ۴۲ ٗ مشارب الاذواق ص ۵۳ ٗ تحفہ قاسمی قلمی ص ۳۵۶
ترجمہ: ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت انما انت منذر نازل ہوئی تو جناب رسول ؐ نے فرمایا کہ میں منذر ہوں اور علی علیہ السلام ہادی ہے اور تجھ سے اے علی علیہ السلام چاہنے والے ہدایت پائیں گے ۔
و عن علی ؑ قال قال رسول اﷲ ؐ یا علی ؑ انک سید المسلمین و امام المتقین و قائد الغرا لمحجلین و یعسوب الدین ۔ (کنز العمال جز السادس ص ۱۵۷ ریاض النضرۃ الخبر الثانی ص ۱۷۷ )
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جناب رسول خدا ؐ نے فرمایا یا علی ؑ تم مسلمانوں کے سردار متقین کے امام اور سفید منہ والوں ( نورانی) جنتی لوگوں کے حاکم امر دین کے سردار ہو ۔ نیز تفسیر کبیر جلد اول ص ۱۶۱ میں ہے۔
و من اتخذ علیا اماما لدینہ فقداستمسک بالعروۃ الوثقی ۔
یعنی جس نے دین میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا امام بنایا اس نے عروۃ الوثقی سے چنگل مارا ۔ اس حدیث کے تحت سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ نے اوراد فتحیہ میں رضامندی ظاہر کئے ہیں کہ
رضینا باﷲ تعالیٰ ربا و بالاسلام دینا بمحمد ؐ نبیا و رسولا و بعلی ؑ اماما۔(دعوات صوفیہ امامیہ)
طبرانی ابن عمر کنز العمال جلد ۶ ص ۱۵۶ میں یہ حدیث ہے کہ
عن عماد ؑ قال قال رسول ؐ یا عمار ان رایت علیا قد سلک وادیا و سلک الناس وادیا غیرہ فاسلک مع علی ؑ و دع الناس انہ لن یدلک علی ردیٰ و لن یخرجک من الھدی الدیلمی۔ (کنزل العمال جلد ۶ ص ۵۵ )
عمار بن یاسر ؓسے روایت ہے کہ سر کار دو عالم نے فرمایا اے عمار اگر تو دیکھے کہ علی علیہ السلام نے علیحدہ راستہ اختیار کیا ہے اور لوگوں نے علیحدہ تو علی علیہ السلام کا راستہ پکڑو اور لوگوں کو چھوڑ دے کیونکہ وہ کسی کو غلط راستے پرنہ لے جائے گا اور نہ ہدایت سے باہر نکال لے گا۔
عنہ قال النبی ؐ ان وصی علی بن ابی طالب ؑ و بعدہ سبطای الحسن ؑ و الحسین ؑ ثم تسعۃ الائمۃ من ذریتہ الحسین ؑ ۔ ۱
یعنی فرمایا رسول ؐ نے بے شک علی میرا وصی ہے اس کے بعد میرے دونوں نواسے حسن ؑ و حسین ؑ ہیں اور اس کے بعد نو امام جو کہ حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔جامع الاسرار ص ۲۲۹، و ص ۲۴۳ نص النصوص ص ۲۸۶ شرح اصطلاحات تصوف جلد ۲ ص ۱۲۶
جناب سید جلال الدین معصوم ابن میر مختار اخیارؒ نے مناجات بوسیلہ ائمہ میں لکھا ہے کہ
بان گلبن روضۂ سروری
کہ آمد بوجہ حسن عسکریؑ
دعوات صوفیہ امامیہ قلمی میر جلال الدین معصوم پیر طریقت سلسلۃ ا لذہب
ولادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام گیار ہویں جانشین رسول ؐ میں سے ہیں اور تیرہویں سلسلہ معصومین ؑ میں سے ہیں ۔ علمائے فریقین کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ آپ ؑ بتاریخ ۱۰ ربیع الثانی یا ۴ ماہ ربیع الاول و ۲۳۲ ھ یوم جمعہ بوقت صبح بطن حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے ہیں ۔ صواعق محرقہ ص ۱۲۴
آپ ؑ کو حضرت امام علی نقی ؑنے حضرت محمد مصطفی ؐ کے رکھے ہوئے نام حسن بن علی سے موسوم کیا ۔ ینابیع المودۃ
نقی ؑ کو قدرت نے عسکری ؑ دیا ولی کو پھر ولی ملا ٗ ہدایت مسکرائی ٗ اسلام میں پھر جان آئی۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں آپ اپنے آباؤ اجداد کی طرح امام منصوص ٗ معصوم ٗ اعلم زمانہ اور افضل کائنات تھے ۔ ارشاد مفید ص ۵۰۲ ۔
آپ کی فضیلت کے لئے بس یہ ایک فقرہ ہی بہت کافی ہے کہ آپ وہ امام ہیں جو امام آخر الزمان ؑ کے پدر عالی مقام ہیں ۔ مطالب السئول ص ۲۹۲ ہمارا گیار ھو اں امام ابھی گیارہ ہی سال کاتھا کا آپ کو اپنے پدر بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام کے ہمراہ سامرہ آناپڑا امام علی نقی علیہ السلام کی پوری زندگی کبھی قید کبھی نظر بندی میں گزری ۔ حضرت امام حسن عسکری ؑ تصویر حسن ؑ بن کر خاموش ادوار کی کروٹوںکا جائزہ لیتے رہے عمر کی بائیسویں منزل میں سایہ پدری سے محروم ہوئے توچھ سال امامت کے فرائض کبھی قید خانہ میں کبھی نظر بندی میں ادا کرتے رہے ۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون ؑ سے کردی جو قیصر روم کی پوتی شمعون وصی عیسیٰ ؑ کی نسل سے تھیں ۔جلاء لعیون ص ۲۹۸
شہادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
یوں تو ہر دور میں دشمنان اہل بیت ؑ نے اہل بیت ؑ رسول ؐ پر طرح طرح کی سختیاں کیں امام حسن عسکری علیہ السلام پر یہ سختیاں اس لئے زور پکڑیں کہ خلیفہ وقت معتمد کے پیش نظر رسول خدا ؐ کی وہ حدیث تھی کہ میرے بعد بارہ جانشین ہونگے جن کا بارہواں امام مہدی آخر زمان علیہ السلام ہوگا جو ظلم و جور کی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور ساری دنیا پر صرف اسی کی حکومت ہوگی لٰہذا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ انتہائی کوشش رہی کہ وہ وقت ہی نہ آنے دیا جائے اور امام کو قید تنہائی میں رکھ کر شہید کردیا جائے چنانچہ امام عالی مقام کو زہر دلوایا گیا افسوس آٹھ ماہ ربیع الاول بروز جمعہ ۲۶۰ ھ بمدت امامت ۶ سال ۲۸ سال کی عمر میں امام علیہ السلام نے اس دارفانی سے رحلت فرمائی ۔ اراکین سلطنت نے معتمد کو جا کر اطلاع دی ۔ یہاں عالم تنہائی میں ہونے والے امام قائم آل محمد ؐ نے تجہیز و تکفین اور نماز سے فراغت پائی ۔ شہادت کی خبر دم کے دم میں سارے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ سامرہ میں کہرام مچ گیا ۔ قیامت آگئی سامرہ کے بازار دکانیں سب بند ٗ کار و بار معطل لوگ سینہ زنان نوحہ کنان جوق در جوق آئے ۔ اپنے امام کا کفن اٹھا آخری دیدار کرتے وامحمد ٗ و اعلیا و سیدا کے فلک شگاف نعرے آسمان تک جاتے بڑے تزک و احتشام سے امام کا جنازہ اٹھا باپ کے پہلو میں دفن کیاگیا دوستداروں نے اسی کو غنیمت سمجھا اس لئے کہ ایک اور جنازہ کی تصویر ان کے سامنے تھی جو خاک کربلا پر چلتی ریت پر بے گور و کفن پڑا رہا ۔ بیٹا بھی موجود تھا مگر زنجیروں میں جکڑا ہوا باپ کی لاش سامنے پڑی تھی ۔ چلتے وقت ہاتھ اٹھا کر سلام بھی نہ کرسکا ۔ بیمار اور قیدی امام سجاد ؑ نے لاشہ کے قریب اپنے آپ ؑ کو گرادی آنسوؤں کے دریا بہہ گئے بیڑیوں کو سنبھال کر باپ کی لاش کا طواف کیا اور کانپتی ہوئی آواز سے کہا نفس رسول ؐ اے روح فاطمہ ؑ اے قیدی سجاد ؑکے بابا اپنے بیمار اسیر کا آخری سلام قبول فرمایئے۔ پھو پھی زینب ؑکی تنہائی کا خیال ہے ورنہ آپ ؑ کو تنہا چھوڑ کرنہ جا تا میری اس مجبور کو بابا معاف فرمایئے۔