صوفیہ امامیہ نوربخشیہ

حضرت امام حسن علیہ سلام


حضرت امام حسن علیہ السلام
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔
قال اﷲ تعالیٰ فی القرآن المجید۔ الاان اولیاء اﷲ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ الذین امنو و یتقون۔ لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ۔ لا تبدیل لکلمات اﷲ ذلک ھو الفوز العظیم
۔ سورہ یونس پ ۱۱ آیت ۶۴
ترجمہ: آگاہ ہو کہ جو دوستان خدا ہیں ان کونہ کوئی خوف ہوگا اورنہ ہ محزون ہوں گے وہ وہی لوگ ہیں جوایمان لائے اور پرہیز گاری برتتے تھے ان کی زندگی دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی وہی تو بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر عیاشی اور تفسیر اسرار المصحف و غیرہ میں جناب امام محمد باقر ؑ سے منقول ہے کہ ہم نے علی بن حسین زین العابدین ؑ کی کتاب میں یہ لکھا ہوا پایا کہ آگاہ رہو اولیاء اﷲ وہ ہیں کہ نہ ان کو آئندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کا خوف ہے اور نہ گزشتہ کے متعلق وہ رنجیدہ ہوں گے جب وہ خدا کے فرائض ادا کرتے ہیں اور رسول خدا ؐ کی سنتوں سے مستمسک ہیں اور خدا نے جو چیزیں حرام قرار دی ہیں ان سے بچتے ہیں اور زینت دنیا سے اپنے آپ کو روکتے ہیں اور اﷲ کے پاس جو کچھ مہیا ہے اس کو لولگائے ہوئے ہیں اور خدا کے رزق میں سے حلال و طیب کھاتے ہیں اور ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ کسی کے مقابل فخر جتائیں یا کسی سے بڑھ جائیں پھرجو حقوق ان کے ذمے واجب کیے ہیں وہ سب حلال طریقے سے ادا کرتے ہیں پس وہی ہیں وہ لوگ جن کی کمائی میں خدا برکت دیتا ہے اور جو کچھ وہ اپنی آخرت کے لئے پہلے سے بھیج رہے ہیں اس پر ان کو ثواب دیا جائے گا ۔
حضرت امام بحق ناطق جعفر صادق ؑ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ ولی ا ﷲ کے کئی درجے ہوتے ہیں ان میں سے اعلیٰ درجہ کے اولیاء اﷲ کی شان یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں تو ان کی خاموشی یاد خدا سمجھی جائے اور کسی چیز کی طرف دیکھیں تو عبرت حاصل کرنے کی غرض سے ہو ۔ اگر بات کرین تو ان میں حکمت ہو اور چلیں پھریں تو ان کاچلنا پھرنا لوگوں میں باعث برکت ہو ۔ مکتب تصوف کی بہت ساری کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت علی ؑ کمل اولیاء میں سے ہیں
(انسان نامہ سید محمد نور بخش ص ۴۸ ٗ تلویحات قلمی نور بخش ص ۶ٗ اصول اعتقادیہ نور بخش ص ۵۲ٗ فقہ الاحوط باب جہاد خمخانہ وحدت علاء الدولہ سمنانی ؓ ص ۱۴۷ ٗ مکتوبات نور بخش ص ۵ٗ رسالہ در بیان حدیث نور بخش ص ۱ ٗ معراجیہ ص ۷ ٗ شرح گلشن زار ص ۱۳۱ ۔)
۱ ۔ تلوین ، ۲ ۔ تمکین ،۳ ۔ تکوین ۔ دو سرے الفاظ میں درجہ اول علم ٗ درجہ دوم حالت ٗ درجہ سوم فنایا درجہ اول تجریدٗ درجہ دوم تفرید ٗ درجہ سوم توحید ٗ کبھی درجہ اول کانام خوف ورجا ٗ درجہ دوم کا قبض ٗ درجہ سوم انس و ھیبت اور بعض اوقات درجہ اول کو علم الیقین’’ شریعت‘‘ درجہ دوم کو حق الیقین ’’طریقت‘‘ اور درجہ سوم کو عین الیقین ’’ حقیقت ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ (فواتح الجمال نجم الدین کبریٰ ص ۲۴۴)
قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
ولقد اخذ اﷲ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشر نقیباً۔ سورہ المائدہ ۴ آیت ۱۲
ترجمہ:۔ اور بیشک اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے مضبوط عہد لیا اور ان میں سے بارہ سرداران پر مامور کیے ۔ اس آیت کی تفسیر میں سید علی ہمدانی قدس اﷲ سرہ تحریر فرماتے ہیں۔
قال رسول اﷲ ؐ الائمۃ من بعدی بعدد نقباء بنی اسرائیل و اولھم علی و آخرھم مہدی ؑ ۔
مودۃ القربی ٰ ص ۹۳ ۔ ۹۴ مودت ۱۰، ینابیع مودت ص ۶۹۱ ،نور بخشیہ ص ۵ ، نور المومنین حمزہ ص ۱۵۶
امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں ۔
اللھم بلی لا تخلو الارض من قائم ﷲ بحجتہ اما ظاھرا مشہور او خائفا مغمور الئلا تبطل حجج اﷲ وبیناتہ۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ۱۴۷
ترجمہ: جی ہاں زمین کبھی دلیل و حجت کے ساتھ قیام کرنے والے کے وجود سے خالی نہیں رہتی چاہے وہ قائم ظاہر ہو اور آشکار یا مخفی اور پنہان ہو تا کہ خداوند عالم کی دلیلیں اور روشن دستاویزات ضائع نہ ہو جائیں اور بھلائی جائیں ۔ غوث المتاخرین سید محمد نور بخش ؓ نے کتاب الاعتقادیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ ۔
فی امۃ محمد ؐ اکثر من ثلاث مائۃ الف و العالم لایخلو من برکاتھم طرفۃ عین لما قال ؐلولا الابرار لھلک الفجار وادمھم علی و خاتمھم مہدی۔
کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش مرتبہ سید قاسم شاہ کھرکوی ص ۶۷ ۔ ۶۸ ٗ علامہ بشیر ص ۵۱ ۔ ۵۲
حضرت محمد ؐ کی امت میں ان اولیاء کرام کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے دنیا ان کے برکات سے ایک لمحہ کے لئے بھی خالی نہیں رہ سکتی جیسا کہ سرور کائنات ؐ نے فرمایا ’’ اگر نیکو کار لوگ موجود نہ ہوتے تو بدکار لوگ ہلاک ہو جاتے ‘‘ آدم الاولیاء حضرت علی ؑ ہیں اور خاتم الاولیاء حضرت امام محمد مہدی ؑ ہیں ۔ق۱
شیخ الاسلام خواجہ عبداﷲ انصاری ؓ نے زیر بحث آیت کی تفسیر میں یوں خامہ فرسائی کی ہے کہ اسرائیل میں بارہ نقیب تھے جو پوری قوم کے پیشروان اور ان کے مرجع تھے اسلام میں چالیس نفر ابدال ، سات نفرامین تین نفر خلیفہ اور ایک نفر قطب ہوتے ہیں جوکہ امام کے جانشین ہوتے ہیں۔(تفسیر کشف الاسرار ادبی ، عرفانی ج ۱ ص ۲۴۱)
خواجہ عبداﷲ انصاری نے آیۂ
اطیعواﷲ و اطیعو الرسول الخ
سورہ نساء آیت ۵۹ کی تفسیر میں بھی لکھا ہے کہ ان بزرگوں میں سے ۳۰۰ نفر اولیاء اﷲ ہیں جن میں سے چالیس نفر ابدال ٗ اور ان میں سے سات او تاد اور ان میں سے پانچ نفر نقباء اور ان میں سے تین نفر مختار اور ان میں سے ایک غوث ’’ قطب‘‘ ہوتاہے ۔تفسیر کشف الاسرار ادبی و عرفانی ج ۱ ص ۲۰۱ ۔ ۲۰۲
کتاب کشف المحجوب کے حوالے سے شرح اصطلاحات تصوف رقمطراز ہیں کہ ان اولیاء کرام کی تعداد چار ہزار ہے وہ ایک دو سرے کو اور خود اپنے حال کو بھی نہیں پہچانتے ہیں اور کل احوال میں اپنے سے اور دنیا کے لوگوں سے مستور ہوتے ہیں ان میں سے زیادہ بزرگ تین سو ہوتے ہیں کو اخیار کہاجاتا ہے ان میں سے چالیس کو ابدال کہا جاتا ہے اور ان میں سے سات ابرار اور انہی سات میں سے چار کو او تاد اور ان میں سے تین کو نقیب اور ان تین میں سے ایک کو قطب یا غوث کہا جاتا ہے اور یہ سب ایک دو سرے کو پہچانتے ہیں اور مذہبی امور میں ایک دو سرے کے محتاج بھی ہوتے ہیں ۔ (کشف المحجوب سید علی ہجویری چاپ تہران ص ۲۴۹ ،شرح اصطلاح تصوف ج ۲ ص ۱۴۰ (
معمولی اختلاف کے ساتھ درج ذیل کتابوں کے مطالب بھی یہی ہیں۔ (حلیتہ الاولیا ء ص ۸، شرح سطحیات ص ۵۲، انسان کامل نسفی ص ۳۱۹ ، امالی پیر ھرات ص ۸۰ ، شرح گلشن راز ص ۲۸۲ ، نص النصوص ص ۲۷۶ ، شرح سطحیات روز بھان ص ۱۰ ، تخفۃ العرفان ص ۷،شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۹ – ۱۶۱ (
علامہ نسفی نے سعد الدین حموی سے نقل کیا ہے کے جب محمد مصطفی ؐ کی نبوت ختم ہونے کو آئی تو آپ ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گاجو لوگوں کو دین خدا کی دعوت دے ۔ میرے بعد جو پیرومند اور حضرت خدا تعالیٰ کے مقرب ہوں گے ان کے نام اولیاء اﷲ ہیں ۔ یہ اولیاء خلق کو میرے دین کی دعوت دین گے ۔ محمد ؐ کے دین میں ولی کانام آیا خدا تعالیٰ نے محمد ؐ کے دین میں بارہ آدمیوں کو اپنا برگزیدہ و مقرب گرداناٗ اپنی ولایت سے مخصوص کیا اور انھیں حضرت محمد مصطفی ؐ کے نائبان مقررکیا ۔
العلماء ورثۃ الانبیاء ۔
(مکتوبات سید نور بخش ص ۱۲ ٗ جامع الصغیر ج ۲ ص ۱۹۱ ٗ آداب المریدین ص ۸۰ ٗ انسان کامل ص ۳۴۰ ٗ تمہیدات عین القضاۃ ص ۸۴ ٗ مناقب العارفین ص ۲۹۵ ٗ نسفاء السائل ص ۹۶ ٗ مناہج الطالبین ص ۳۸۶ ٗ جامع الاسرار ص ۴۲۱ ٗ مشارق الدرارمی ص ۴۵۶ ٗ نسائم گلشن ص ۸۶ ٗ مقدمہ رسالہ نفس شناسی سید نور بخش ص ۶ ٗ کتاب الاعتقادیہ نور بخش ص ۵۱ (
ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔
اور انہی بارہ اذوات مقدسات کے بارے میں فرمایا ۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۔ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء جیسے ہیں ۔
شیخ کے نزدیک امت محمد ؐ میں ان بارہ نفوس کے علاوہ کوئی بلند رتبہ والا ولی ہی نہیں اور ان اولیاء میں سے پہلا حضرت علی ؑ اور خاتم الاولیاء حضرت امام مہدی ؑ ہیں ۔(انسان کامل نسفی ص ۳۲۰ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۶۳) جامع الاسرار ص ۳۸۷ ٗ ۴۳۱ ٗ ۴۱۰ (
شیخ الاکبر ابن عربی ؓ کے حوالے سے ’’ فتوحات مکیہ ‘‘ میں شیخ حامد الغزالی نے اور شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی نے ’’ وصیت نامہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ ائمہ اثنا عشر اقطاب عالم ہیں ۔ (تصویر نجات ج ۱ ٗ ص ۶۶۷ مطبع لکھنؤ، نص النصوص ص ۲۷۴ ۔(
غوث المتاخرین سید محمد نور بخش ؒ نے حضرت امام محمد مہدی صاحب عصر و الزمان کے بارے میں لکھا ہے کہ ؎
اندرین دور او امام عالم است
قطب اقطاب است و غوث اعظم است
کشف الحقیقت ج ۱ ص ۷۹
اس لئے ہم سلسلہ ذھب کے متوسلین اپنے عملیات کے اختتام پر اولیاء اﷲ کے ان سات طبقوں یعنی
۱ ۔ طبقہ اول کو اخیار افراد کہاجاتا ہے جو کہ ۳۰۰ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
۲ ۔ طبقہ دوم کو ابدال کہاجاتاہے جو کہ ۴۰ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
۳ ۔ طبقہ سوم کو ابرار کہا جاتا ہے جو کہ ۷ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
۴ ۔ طبقہ چہارم کو اوتاد کہاجاتا ہے جو کہ ۵ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
۵ ۔ طبقہ پنجم کو مختار نجباء کہاجاتا ہے جو کہ ۴نفر پر مشتمل ہوتاہے
۶ ۔ طبقہ ششم کو نقیب کہاجاتا ہے جو کہ ۳ نفر پر مشتمل ہو تا ہے
۷۔ طبقہ ھفتم کو قطب غوث کہا جاتا ہے جو کہ ۱ نفر پر مشتمل ہو تا ہے ۔ جو کہ مجموعی طور پر ۳۶۰ نفر بنتے ہیں
۔(شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۶۱، فرہنگ نور بخش اصطلاحات تصوف ڈاکٹر جواد نوربخش ج ۳ ص ۳۰ ، ۳۵ ۔(
کے توسل سے دعا مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
ظاھرا باطنا دینا و دنیا نا بحرمۃ ھٰؤلاء کمل الاولیاء من الاقطاب الی الافراد ۔
دعوات صوفیہ امامیہ ص ۸۹
انہی اولیاء اﷲ کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔
ﷲ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمات الی النور۔ – سورہ بقرہ آیۃ ۲۵۷
ترجمہ : ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی اﷲ ہے وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لا تا ہے ۔ ایک دو سری آیت میں ارشاد ہو تا ہے ۔
ان اولیاء ہ الّا المتقون و لکن اکثرھم لایعلمون ۔سورۂ انفال آیت ۳۴
ترجمہ : ۔ اس کے اختیار والے تو وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں لیکن ان میں اکثروں کو اس کی خبر نہیں یعنی اس کے جائز متولی صرف اہل تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں ۔
امام المتقین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ ۔
اولیاء اﷲ قوم صفراء الوجوہ من السحر عمش العیون من العبر ٗ حمص البطون من الخوی و یبس الشفاہ من الدوی ۔(تفسیر کشف الاسرار ج ۴ ص ۳۰۹ ٗ شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۰(
ایک مشہور حدیث یہ بھی ہے کہ۔
اولیاء ئی تحت قبائی لا یعرفھم غیری۔
(شرح اصطلاحات تصوف ج ۲ ص ۱۵۴ ٗ کتاب نوریہ نور بخش ۔ مصنفات فارسی سمنانی ص ۲۳۸ ۔ ۴۰۴ ٗ کشف الحقیقت ج ۱ ص ۳۸ ٗ چہل مجلس سمنانی ص ۲۵۷ ٗ ذخیرۃ الملوک ہمدانی ص ۳۰۹ ٗ عبھر العاشقین ص ۵۹ ٗ کشف المحجوب ص ۷۰ ٗ تذکرۃ الاولیاء عطار ص ۹ ۱ ، رباب نامہ ص ۳۷ٗ العروہ سمنانی ص ۱۳۵ ٗ کشف الاسرار اسفرانی ص ۱۳۶ ٗ مناہج الطالبین ص ۳۵۹ ، مرصاد العباد ص ۱۳۶ ٗ رسالہ زکریہ ٗ سید علی ہمدانی ؒ ص ۱۰۲)
میرے اولیاء میری قباء کے نیچے ہوتے ہیں ان کو دو سرے نہیں پہچان سکتے ۔
ان تمام منابع کو مد نظر رکھتے ہوئے غوث المتاخرین حضرت سید محمد نور بخش نور اﷲ مرقدہ نے لکھا ہے کہ ۔
و یجب الایمان بالاولیاء فی الطریقۃ کما یجب الایمان بالانبیاء فی الشریعۃ۔ – (کتاب الاعتقادیہ ص ۳۵)
جس طرح شریعت میں انبیاء ؑ پر ایمان لانا واجب ہے اسی طرح طریقت میں اولیاء کرام پر رکھنا واجب ہے ۔ سید العارفین محمد نور بخش ؒایک اور کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ؎
ہم ولی راولی تواند دید
مصطفی را علی تو اند دید
انسان نامہ سید محمد نور بخش ص ۲۸ ٗ تلویحات قلمی سید محمد نور بخش ص ۷ ٗ مکارم الاخلاق سید نوربخشؒ ص ۴ ٗ خلاصتہ المناقب قلمی
اور یہ اولیاء اﷲ کون ہیں ؟ غوث المتاخرین ؒ تحریر فرماتے ہیں ۔
لانھم العالمون العاملون و العلماء الربانیون ۔
(کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش ص ۵۱)
اور اولیاء کرام عالمین شریعت ٗ عاملین طریقت اور علمائے ربانین ہوتے ہیں ۔
شیخ اسیرمحمد لاہیجی تحریر فرماتے ہیں ؎
گہ نبی بود گہے آمد ولی
گہ محمد گشت و گاہے شد علی
در نبی آمد بیان راہ کرد
در ولی از سر حق آگاہ کرد
ظہور کلی او شد بخاتم
بدو یا بد تمامی ہر در عالم
وجود اولیاء او را چو عضواند
کہ او کل است ایشان ھجو جز اند
شود او مقتدائے ہر دو عالم
خلیفہ گرد و از اولاد آدم
شرح گلشن راز ص ۱۳۸
قرآن مجیدمیں ایک اور جگہ ارشاد ہو تاہے ۔
انما ولیکم اﷲ و رسولہ و الذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ و یوتون الزکوٰۃ و ھم راکعون۔ – سورہ المائدہ آیت ۵۵ ۔ ۵۶
تمہارا ولی، اﷲ اور اس کا رسول ہے او روہ مومنین بھی تمہارے ولی ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت کمل الاولیاء حضرت علی ؑ کی شان میں اتری ہے
(۳)تفسیر در منشور ج ۲ ص ۳۹۳ ٗ تفسیر کبیر ر ص ۴۱۹ ٗ تفسیر خازن ج ۲ ص ۵۵ ٗ تفسیر فتح القدیر ج ۲ ص ۵ ٗ تفسیر عیاشی ص ۳۵ ٗ تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۴۰ ٗ تفسیر کشاف ج ۲ ص ۴۳۲ ٗ تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۶ ٗ تفسیر تبیان ج ۱ ص ۲۹۳ ٗ تفسیر کشف الاسرار ادبی و عرفانی ج ۱ ص ۲۵۳ ٗ تفسیر مجمع البیان ج ۲ ص ۲۱۰ ۔ ۲۱۱ ٗ تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۹۳ ٗ تفسیر عزائب القرآن ص ۶ ٗ تفسیر قرطبی ج ۹ ص ۲۲۱ ٗ تفسیر روح المعانی ج ۶ ص ۱۶۷ ٗ تفسیر سعارف القرآن ج ۳ ص ۱۲۹ ، تفسیر میزان ج ۲ ص ۲۳ ٗ تفسیر جامع البیان ج ۱۰ ص ۴۲۵ ٗ تفسیر حسینی مطبوعہ لکھنؤ ج ۱ ص ۱۰۰ ٗ شواہد التفریں حاکم حکانی ص ۱۶۱ ۔ ۱۶۹ ٗ ریحانتہ الادب ج ۵ ص ۳۱۱ ٗ کنز لایمان ج ۵ ص ۱۹۵ ٗ مناقب ابن مخار الی ص ۳۱۱ ۔ ۳۱۴
اسی کمل الاولیاء امام المتقین علی ؑ کے فرزند رشید امام حسن ؑ کے بارے میں ذکر ہے کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جار ہے تھے کہ راستے کے کنارے پر ایک شخص پڑا ہے جس کے ہاتھ پاؤں شل ہیں جب اس نے دیکھا کہ امام حسن ؑ آرہے ہیں تو اس کے دل میں افسوس ہوا کہ کاش میرے ہاتھ اس قابل ہوتے کہ اٹھا کر امام حسن ؑ کو سلام کرتا ۔ پاؤں صحیح ہوئے کہ تعظیم کو کھڑا ہو تا امام ؑ قریب تشریف لائے تازیانہ ہاتھ سے گرادیا اور اس شخص سے فرمایا بھائی ! ذرا ہمارا تازیانہ تو اٹھادو منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ وہ زمین گیر شخص فوراً تندرست ہوگیا ہاتھ سے سلام کیا تعظیم کواٹھا اور تازیانہ اٹھا کر پیش کیا یہ ہے شان ولایت مطلقہ کی ۔
تفسیر حسینی ص ۳۴۶ میں مرقوم ہے کہ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ نے فرمایا کہ ولی حق کے لئے دو بشارتیں ہیں (۱) دنیا میں سرور مجاہدہ اور آخرت میں نور مشاہدہ ٗ ادھر صفا و وفا اور ادھر رضا و لقا ۔ حضرت امام زین العابدین ؑ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن ؑ زبردست عابد ٗ بے مثل زاہد اور افضل ترین عالم تھے آپ ؑ نے ہمیشہ پیدل اور ننگے پاؤں حج فرمایا آپ اکثر موت ٗ عذاب ٗ قبر اور صراط کویا دکرکے رویا کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے تو آپ کے چہرے کارنگ زرد ہوجایا کرتا تھا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے توبید کی مثل کاننپے لگتے تھے ۔
روضۃ الواعظین ٗ بحار الانوار ٗ مشجر الاولیاء مرتبہ مولوی عبدالخلیل بلغاری ص ۲۷۶
ہر فرض کی نماز کے بعد پڑھنے والی دعا تشفع میں رب تعالیٰ سے گڑ گڑا کرہم التجا کرتے ہیں۔
وبامامۃ الحسن و ولایتہ
دعوات صوفیہ امامیہ
مجھے حضرت امام حسن ؑ کی امامت اور ولایت کا واسطہ …

ولا ٗ ولایت ٗ ولی ٗ مولیٰ ٗ اولیٰ اور ان سے مشابہ کئی دوسرے الفاظ مادہ ولی سے مشتق ہیں قرآن مجید میں یہ لفظ اور ان کے مشتقات مختلف شکلوں میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں کہاجاتا ہے کہ قرآن میں یہ الفاظ ۱۲۴ مرتبہ بطور اسم اور ۱۱۲ دفعہ بطور فعل استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ راغب اصفہانی نے { مفردات القرآن } میں لکھا ہے کہ اس لفظ کے اصلی معنی ایک چیز کے دو سری چیز کے پہلو میں اس طرح موجود ہونے کے ہیں کہ در میان میں کوئی فاصلہ باقی نہ رہے اسی مناسبت سے یہ کلمہ قرب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہ جسمانی ہویا روحانی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام مشتقات دوستی ٗ محبت ٗ حمایت ٗ سرپرستی اور تسلط و غیرہ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ان تمام الفاظ میں کسی نہ کسی قسم کے قرب اور اتصال کا تصور پایا جاتا ہے ۔ ولایت اور ولایت کے الفاظ کے استعمال کے بارے میں راغب کاکہنا ہے کہ ولایت کے معنی مدد اور ولایت کے معنی کسی کام کی ذمہ داری سنبھا لنے کے ہیں تا ہم در حقیقت دونوں لفظوں کے معنی ذمہ داری سنبھا لنے کے ہیں ۔ جبکہ ولا کی دو قسمیں ہیں ۔
( ۱ ) منفی ولا (۲) مثبت ولا اور مثبت ولا کی مزید چار قسمیں بتائی جاتی ہیں ۔
(۱) ولائے قربت (۲) ولائے امامت (۳) ولائے زعامت (۴) ولائے تصرف یا تکوینی ۔
اس مختصر مضمون میں ولایت کی ان تمام اضاف کا تفصیلی جائزہ ممکن نہیں ہے لہذا ضروری یہ ہے کہ ایک مرد مومن دعائے تشفع کے تمام تشریح طلب کلمات کے تمام کے تمام افکار کو مد نظر رکھتے ہوئے شرح لکھے یہاں پر ولایت امام حسن ؑ سے مراد وہ غیر مرئی حکومت ہے جو ظاہری حکومت چھوڑ نے کے با وجود امام حسن ؑ کے پاس موجود تھی یعنی خلافت حقیقی اور خلافت باطنی ۔ امام حسن ؑ نے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرکے اسلام کو بچایا ۔ صدر اسلام میں بھی صلح و جنگ دونوں ہوتی رہی ہے آنحضرت ؐ نے موقع صلح پر صلح حدیبیہ ۶ ھ کو کفار کے ساتھ کیا اور صلح نامہ حضرت علی ؑ نے لکھا اور موقع جنگ میں ان گنت غزوات کئے ۔ امام علی ؑ نے موقع صلح میں گوشہ نشین اختیار کرکے تلخ خاموشی کے دن گزارے اور موقع جنگ میں شجاعت حیدری کے کارنامے دیکھا ئے۔
امام حسن ؑ کے لئے جنگ ممکن نہ تھی اس لئے انہوں نے صلح کرلی اور امام حسین ؑ کے لئے صلح ممکن نہ تھی اس لئے انہوں نے جنگ کی اور از روئے حدیث اپنے مقام پر دونوں صحیح اور ممدوح ہوئے جیسا کہ فرمایا
عن سلمان فارسی قال رسول اﷲ الحسن و الحسی امامان قاما او قعدا
مجالس المومنین ص ۳۸۳ ٗ علل اشرائع ص ۲۰۰ ٗ زندگانی امام حسین ؑ عماد زادہ ص ۳۳۰ ٗ زندگانی امام حسن ؑ عماد زادہ ص ۲۰۹ ٗ جارج ۱۰ ص ۷۸ ٗ نزھتہ المجالس ج ۲ ص ۱۸۴ ٗ اتحاف بحب الاشراف ص ۱۲۹ ٗ
لہٰذا امام حسن ؑ کی ولایت و امامت پر اشتباہ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ العزیز کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے ۔ مکتب نور بخشیہ کی ان تمام کتابوں میں جہاں سلسلہ ذہب درج کیئے ہوں امام حسن ؑ کا اسم گرامی شامل ہے ملاحظہ فرمایئے ۔(سلسلۃ الذہب ٗ نور بخش قلمی ص ۱۴ ۔ ۱۷ ٗ رسالہ مکارم اخلاف ٗ نور بخش ص ۱۴ ۔ ۱۵ ٗ تحفہ قاسمی قلمی ص ۵۳۷ ۔ ۵۳۸ ٗ رسالہ امامیہ ٗ شاہ قاسم فیض بخش ص ۵۵ ۔ ۵۷ ٗ طرایق الحقائق ج ۲ ص ۱۴۳ ٗ ریاض سیاحہ ص ۳۳۸ ٗ مجالس المومنین ص ۳۰۶ ٗ فلاح المومنین ص ۳۲۶ ٗ دعوۃ صوفیہ مرتبہ آغا امیر حمزہ ص ۴۴ ۔ ۴۵ ٗ کشف الحقائق سید نور بخش ص ۲۰ ٗ واردات ٗ سید محمد نور بخش قلمی ص ٗ صحیفۃ الاولیاء قلمی ص۵۵، ۵۷ ٗ سید محمد نور بخش ص ۵۵، ۵۶ ٗ مجموعہ آثار فارسی شیخ احمد غزالی ص ۵۷۱ ٗ تحفتہ الاحباب قلمی ص ٗ دعوات صوفیہ قلمی ص ۷۰ ۔ ۱۱۳۱۷۱ھ)
اگر کسی نسخے میں امام حسن ؑ کانام نہ آئے تووہ تحریف ہے کیونکہ کتاب الاعتقادیہ سید محمد نور بخش قدس اﷲ سرہ کی روسے امامت حقیقی اور ولایت مطلقہ امام علی ؑ سے لے کر امام مہدی ؑ تک بارہ امام شامل ہیں جبکہ امام اضافی اور ولی اضافی میں حضرت معروف کرخی ؒاور اس کے بعد پیران پیر شامل ہیں۔ (کتاب الاعتقادیہ سید نور بخش ص ۴۹ ، ۵۲۔)

ولادت امام حسن ؑ
حضرت امام حسن ؑ ۱۵ ماہ رمضان شب سہ شنبہ ۳ ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔ حکم خدا سے رسول اﷲ ؐ نے ہمارے امام کانام ہارون ؑ کے بیٹے کے نام پر شبر رکھا ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ کوئی شخص حضرت امام حسن ؑ سے زیادہ رسول اﷲ ؐ سے مشابہت نہیں رکھتا تھا ٗ بخاری اور مسلم میں براء بن عاذب ؓ سے مرفوع روایت آئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ ؐ امام حسن ؑ کو کاندھوں پربٹھا رکھا تھا اور آپ فرماتے تھے اللھم احبہ واحب من یحبہ الٰہی میں حسن ؑ سے محبت کرتا ہوں اور اس سے بھی محبت کرتاہوں جو حسن ؑ سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت فرما ۔ روضۃ الشہداء
ایک اور حدیث مبارک ہے کہ
قال رسول اﷲ ( ص) الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ۔
(کنز العمال ح ۷ ص ۱۰۷ ٗ صواعق محرقہ ص۱۱۷ ٗ حلیتہ الاولیا ٗ ج ۴ ص ۱۹۰ ابن الہشیم ٗ زندگانی امام حسن ؑ ٗ عماد زادہ ص ۲۰۸ ٗ بحار ج ۶ ص ۵۸ ٗ رسول اﷲ (ص) ترمذی ج ۲ ص ۲۱۸ تاریخ الخلفاء ص ۱۳۲)
رسول اللہ ؐنے فرمایا: حسن ؑ اور حسین ؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔
شیخ فرید الدین عطار فرماتے ہیں کہ
امامے کوامامت راحسن بود
حسن آمد کہ جملہ حسن ظن بود
ھمہ حسن و ھمہ خلق و ھمہ علم
بش قائم مقام حوض کوثر
کہ بودے چشمہ لوش پیمبر
ز زہرش چوں جگر شد پارہ پارہ
زغصہ گشت خونین سنگ خارہ
پنجتن پاک ؑ کے بارے میں شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس اﷲ روحہ کے مرید حضرت نور الدین جعفر بدخشی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ؎
اگر حرمت و قدر وجاہ در عالم
کسی بماندی ماندی رسولؐ تا محشر
اگر بصدق کسی بماندی پس بودی زھراؑ
وگر بعدل کسی ماندی پس بودی حیدرؑ
بہ نسبت و شرف از دوجہاں کسی ماندی
بخاک تیرہ کجا می شد شبیرؑوشبرؑ
جعفر بدخشی خلاصہ المناقب قلمی ص ۸۱

شہادت امام حسن ؑ
مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضرت امام حسن ؑ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نشین ہوگئے تھے لیکن آپ ؑکے دشمن آپ ؑکے درپے آزار رہے انہوں نے بارہا آپ ؑکو شہید کرنے کی مذموم کوشش کی تاکہ یزید کی خلافت کے لئے راہ ہموار کی جائے چنانچہ پانچ دفعہ ذہر دلوا نے کے با وجود آپ کی شہادت نہیں ہوئی ۔ شاہ روم سے خاص قسم کا زہر منگوا کر آپ ؑکو شہید کردیا گیا ۔
تاریخ مروج الذھب مسعودی ج ۲ ص ۳۰۳ ٗ روضات الجنان ص ۴۲۵ ۔ ۴۲۶ ٗ مقاتل الطالبین ص ۵۱ ٗ ابوا الفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ٗ روضتہ الصفاء ج ۳ ص ۷ ٗ حبیب السیر ج ۲ ص ۱۸ ٗ تاریخ طبری ص ۶۰۴ ٗ استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴ ٗ تفسیر حسینی علامہ کاشفی ۔
امام حسن ؑ ماہ صفر کی اٹھا ئیس تاریخ بروز جمعہ ۵۵ ھ کو ۴۷ سال کی عمر میں شہید ہو کر مدینہ منورہ جنت البقیع میں سپرد خاک ہوئے ۔روضات الجنان ج ۲ ص ۴۲۶

امام حسن ؑکی اولاد و ازواج
آپ علیہ السلام نے مختلف اوقات میں ۹ بیویاں کیں اور آپؑ کی اولاد میں آٹھ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ (ارشاد مفید ص ۲۰۸ ٗ نور الابصار ص ۱۱۲ طبع مصر )
حضرت امام حسن علیہ السلام کے تین بیٹے کربلا میں شہید ہوئے ۔ ۱۔ حضرت قاسم ؑ ۲۔ حضرت عبداﷲ ۳۔ حضرت ابوبکر ؑ ۔ )(تاریخ عاشورا ڈاکٹر ابراہیم ص ۲۳۰ ٗ مشجر الاولیاء ص ۹۵ ۔ ۱۹۶ ٗ شہید انسانیت ص ۴۱۸ ٗ زندگانی امام حسین ؑ ص ۴۳۶)
علامہ طلحہ شافعی مطالب السئول کے صفحہ ۲۳۹ پر لکھتے ہیں کہ آپ کی نسل زید اور حسن مثنیٰ سے چلی ہے ۔ اموی دور میں محمد و آل محمد ؐ کے خلاف حد یثوں کے گڑھنے اور تاریخ کادھا را موڑنے کی کوشش ہوئی اور انہیں بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا امام حسن ؑ پر کثرت ازواج کا الزام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔